Hamaeiweb.com
 
Urdu keyboard
(افتخار الحسن رضوی, سعودی عرب)

Rate it:
Total Views: 148
About the Author: افتخار الحسن رضوی

A freelance writer, religious and social activist and Marketing Consultant.
My facebook Page: https://www.facebook.com/iftikharulhassan.rizvi
.. View More

Visit 34 Other Articles by افتخار الحسن رضوی »
Share Comments Share Comments
Email to a Friend
Print Article Print Article
Read Article in Text
Reviews & Comments Reviews & Comments
کامران عظیمی صاحب!
آپ کا مؤقف بالکل درست ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں مافی الضمیر سمجھانے میں پوری طرح سے کامیاب نہی ہو سکا۔ ورنہ میرا تو لکھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ عاشق اور گستاخ میں فرق کیا جا سکے۔
آپ کے تبصرے کا بہت کا شکریہ۔ اللہ آپ کو سلامتی عطا فرمائے۔ جزاک اللہ خیرا
By: افتخار الحسن رضوی, Lahore on Sep, 25 2012
ReplyReply to this Comment
میرے دونوں بھائی جناب افتخارالحسن رضوی اور کاشف اکرم وارثی ۔۔۔۔ السلام علکیم ورحمتہ اللہ

مجھے بڑی شدت کے ساتھ یہ بات محسوس ہورہی ہے کہ ھم کہیں اپنے اور غیر ، صحیح اور غلط ، کھرے اور کھوٹے ، عاشق و باغی میں موجود واضح فرق کو بھولتے تو نہیں جارہے !!!!!

ہمیں قرآن عظیم و احادیث صحیحہ سے یہ واضح ثبوت ملتا ہے کہ نیک و بد ایک ہو نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔ اچھائی کو برائی چھپا نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر آخر ہم کیوں یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں ملوث برائی کے حاملین کا ذکر عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہ گویا وہ سب ایک ہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کچھ دیر قبل نعرے لگائے عشق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہاریں لٹائے چلے آرہے تھے مگر پھر اچانک نفس پرستی کی ہولناکیوں میں گھر گئے اور سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔

کسی بھی سیاسی یا مذہبی اجتماع میں ہونے والے دھماکے میں ملوث افراد کو ہم دہشت گرد کہہ کر ایسے برے لوگوں کو ہم ایک نئی پہچان دیتے ہیں ۔ مگر کبھی کسی نے انھیں اسی سیاسی و مذہبی جماعت کا کارکن نہ کہا ۔ البتہ نامعلوم دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے۔

پچھلے سال محرم کے جلوس میں دھماکے کے بعد لائٹ ہاؤس (کراچی) و بولٹن مارکیٹ وغیرہ میں ہونے والی ظالمانہ کاروائی کو ہم کسی دہشت گرد گروپ کی کاروائی قرار دیتے ہیں ۔ مگر کبھی کسی نے عزاداران حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کہہ کر انھیں مخاطب نہ کیا ۔ بلکہ دہشت گرد کا نام دیا گیا۔

اور بھی بہت سے مواقع پر کسی بھی جماعت یا گروہ کے ہونے والے نقصانات کو دہشت گردوں کی کاروائی کہہ کر ان موقع پرستوں کو دہشت گرد کا نام دے دیا جاتا ہے مگر کبھی بھی اسی گروہ سے جس کا نقصان ہوا ہو ایسے برے لوگوں کا ناطہ جوڑا نہیں جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر

یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا بیان کچھ اس انداز میں کیوں کیا جارہا ہے کہ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جیسے یہ سب عشاقان مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ہو۔ یعنی دعویٰ محبت کا کرتے ہوئے اپنوں ہی کے ساتھ لوٹ مار و قتل و غارت گری کرگئے۔

پھر آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ صرف چار بڑے شہروں میں ہونے والی دہشت گردی پر پورے ملک کے عشاق کو یرغمال بنالینا کیا غیروں کے ایجنڈے پر عمل نہیں۔ کیا اب ایسا نہیں ہوگا کہ عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بھی قسم کے احتجاج پر ڈرے و سہمے رہیں گے کہ کہیں کوئی بد بخت کچھ کاروائی کرگیا تو نام سیدھا ہمارا آئے گا چاہے ان ڈائریکٹ ہی سہی۔

آپ تمام افراد اخبارات سے لیکر ٹی وی تک اور زبانی بیانات سے لیکر کسی بھی سوشل فورم تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کریں گے ہمارے ذہنوں میں عاشقوں اور بدبختوں کی معاذاللہ عزوجل ایک ہی صورت بنادی گئی ہے۔ ایک رخ میں ایک شخص عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لگتا ہے اور دوسرے رخ پر دہشت گرد۔۔۔۔۔۔ افسوس صد افسوس ۔۔۔

کیا آنکھوں والوں نے کالعدم تنظیموں کے جھنڈوں سمیت اسلام آباد کی سڑکوں پر دندناتے دہشت گردوں کو نہیں دیکھا۔ ہر خبر پر نطر رکھنے والا ، امن کی آشا کا راگ الاپنے والا یا خبر کی دنیا میں تیز چلنے والا میڈیا کیا یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر سہراب گوٹھ و ٹاور پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث لوگوں کی پہچان نہیں رکھتا۔ کیا میڈیا یہ نہیں جانتا کہ کون کون سے اجتماعات و جلوس پر امن تھے اور کہاں کہاں دہشت گردی ہوئی۔ اگر میڈیا کچھ نہیں جانتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہمیں تیار رہنا چاہئے اپنوں کے ذریعے سے ہی اپنے ایمان کا سودا ہوتے ہوئے دیکھنے کو ۔۔۔۔۔

میرا اختلاف ہے تو یہ کہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کو بے معنی تبصروں و تجزیوں سے تولا نہ جائے اور نہ ہی عشاق کے ساتھ ایسا امتیازی سلوک ہو کہ اسے اور دہشت گردوں اور فتنہ پرستوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے اور ایک ہی لہجہ سے مخاطب کیا جائے۔ کیونکہ نیکو کار ، نیکوکار ہی ہے اور بد کا ، بد کار ہی ہے۔ جنہوں نے پرامن جلوس نکالے اور احتجاج کیا وہ صرف اور صرف عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں

اور جن بد بختوں نے فساد برپا کیا وہ قطعی ان جلوسوں کے شریک کار نہیں تھے بلکہ موقع تاک کر یا تو آئے تھے یا پھر لائے گئے تھے۔ اللہ کریم ان کو ھدایت عطا فرمائے اور ہمیں تمام شریروں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Sep, 24 2012
ReplyReply to this Comment
شکریہ کاشف بھائی۔ اسی لئیے تو اس کا عنوان شتر بے مہار رکھا تھا۔ غلطی سے شتر کو ط کے ساتھ شطر لکھ دیا۔ اللہ کریم قوم کو وحدت اور اتحاد عطا کرے۔ ہمیں انفرادی کوشش کی بھی ضرورت ہے۔
By: افتخار الحسن رضوی, Lahore on Sep, 23 2012
ReplyReply to this Comment
جزاک اللہ خیر۔ افتخار صاحب بہت ہی اچھے طریقے سے آپ نے آئینہ دیکھایا ۔ لیکن کسی نے محاورہ بہت خوب کہا “ شرم ھم کو مگر نہیں آتی۔“

مسلمانیت کا تو ایک لیبل ھم اپنے ماتھے پر سجایا ہوا ہے ورنہ منافقیت ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ھے۔
یہ کہاں کا احتجاج ہے کہ کسی غریب کی کٹیا میں آگ لگا دینا ۔ روزی کے اڈا کو تباہ و برباد کردینا۔ ناجانے کتنے معصوم آج اللہ رب العزت کے سامنے اپنی دھائی دے رہے ہوں گے اور مخاطب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہوں گے کہ کیا مسلمانوں کے اصلی چہرے یہ ھیں جو اپنے آپ کو آپ کا عاشق کہلواتے ہیں ۔ بڑی بڑی محفلیں نعت خوانی کروانے کے لیے لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کردیے جاتا ھیں کہ شاید آقا کی بارگاہ میں قبول ہوجائے لیکن دوسری جگہ وہی لاکھوں روپوں کی پراپرٹی کو تباہ کردیا جاتا ھے ۔کیا آقا نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ۔۔۔

آج وہ بے غیرت یہودی بھی ھم پر خوب کھل کھلا کر ہنس رہے ہوں گے اور کہتے ہوں گے “ یہ ہیں وہ مسلمان جو اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عاشق کہلواتے ہیں - دیکھو ان کو اپنے ھی گھر کو اگ لگا رہے ہیں اپنے ھی چراغ سے ۔۔۔۔۔ دعا ہے اللہ عزوجل سے کہ ھم سب حقیقی محب ء رسول صلی اللہ علیہ وسلم بننے کے توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا رب العالمین۔۔۔۔
By: Kashif Akram Warsi, Kuwait on Sep, 22 2012
ReplyReply to this Comment
Post your Comments Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Recent Politics Articles

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)


Article Categories
Politics (8969) سیاست
Society and Culture (4675) معاشرہ اور ثقافت
Religion (4506) مذہب
Other/Miscellaneous (1274) متفرق
Literature & Humor (1065) ادب و مزاح
Education (760) تعلیم
Famous Personalities (660) مشہور شخصیات
Health (576) صحت
Science & Technology (556) سائنس / ٹیکنالوجی
True Stories (278) سچی کہانیاں
Sports (219) کھیل
Books Intro (202) تعارفِ کتب
Kids Corner (181) بچوں کی دنیا
Poetry (172) شعر و شاعری
Entertainment (155) انٹرٹینمنٹ
Career (108) کیریر
Novel (90) افسانہ
Travel & Tourism (90) سیر و سیاحت
Arts (32) ہنر
Samaa TV Live at Hamariweb.com
Election 2013 Results

Recently Commented Articles
Most Commented Articles (Last 30 Days)
P.M.L. N Ka New Fake Manshoor
More On Hamariweb
News Home
Latest News
Student News
Science & Technology
Sports
Entertainment
World News
Dictionary
English Urdu Dictionary
Arabic Urdu Dictionary
Spanish Urdu Dictionary
Hindi Urdu Dictionary
French Urdu Dictionary
German Urdu Dictionary
Cricket
Live Cricket
Cricket Highlights
Dream Team
Player Profiles
Sports News
Sports Games
Mobiles
Mobile Phones
Ringtones
Mobile Games
Mobile Softwares
SMS Messages
Web2SMS
Directories
Web Directory
Edu Directory
Important Phone No.
Postal Codes
Country Codes
City Codes
Islam
Online Audio Quran
Quran Recitation
Online Naats
Islamic Names
Islamic Articles
Islamic Wallpapers
Finance
Biz News
Stock Exchanges
Business Directory
Forex Rates
Gold Rates
Prize Bonds
Classifieds
Mobile Phones
For Sale
Vehicles
Real Estate
Matrimonial
Jobs
Articles
Politics
Society and Culture
Religion
Other/Miscellaneous
Literature & Humor
Education
Poetry
Love / Romantic
Sad
General
Life
Religious
Humorous
Other Sections
Urdu Search
My Report
Food & Recipes
Blogs
Forum
Academic Results

Career Counseling
Weather Updates
Free Softwares
Desktop Wallpapers
Greeting Cards
Urdu Editor
About us | Contact Us | Feedback | Advertising | Privacy Policy | Site Map | Jobs @ Hamariweb
Copyright © 2013 HamariWeb.com All Rights Reserved.


X
Post Article