|
|
کامران عظیمی صاحب! آپ کا مؤقف بالکل درست ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں مافی الضمیر سمجھانے میں پوری طرح سے کامیاب نہی ہو سکا۔ ورنہ میرا تو لکھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ عاشق اور گستاخ میں فرق کیا جا سکے۔ آپ کے تبصرے کا بہت کا شکریہ۔ اللہ آپ کو سلامتی عطا فرمائے۔ جزاک اللہ خیرا |
|
|
By:
افتخار الحسن رضوی,
Lahore
on
Sep, 25 2012
|
|
|
|
|
|
|
میرے دونوں بھائی جناب افتخارالحسن رضوی اور کاشف اکرم وارثی ۔۔۔۔ السلام علکیم ورحمتہ اللہ
مجھے بڑی شدت کے ساتھ یہ بات محسوس ہورہی ہے کہ ھم کہیں اپنے اور غیر ، صحیح اور غلط ، کھرے اور کھوٹے ، عاشق و باغی میں موجود واضح فرق کو بھولتے تو نہیں جارہے !!!!!
ہمیں قرآن عظیم و احادیث صحیحہ سے یہ واضح ثبوت ملتا ہے کہ نیک و بد ایک ہو نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔ اچھائی کو برائی چھپا نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر آخر ہم کیوں یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں ملوث برائی کے حاملین کا ذکر عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہ گویا وہ سب ایک ہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کچھ دیر قبل نعرے لگائے عشق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہاریں لٹائے چلے آرہے تھے مگر پھر اچانک نفس پرستی کی ہولناکیوں میں گھر گئے اور سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔
کسی بھی سیاسی یا مذہبی اجتماع میں ہونے والے دھماکے میں ملوث افراد کو ہم دہشت گرد کہہ کر ایسے برے لوگوں کو ہم ایک نئی پہچان دیتے ہیں ۔ مگر کبھی کسی نے انھیں اسی سیاسی و مذہبی جماعت کا کارکن نہ کہا ۔ البتہ نامعلوم دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے۔
پچھلے سال محرم کے جلوس میں دھماکے کے بعد لائٹ ہاؤس (کراچی) و بولٹن مارکیٹ وغیرہ میں ہونے والی ظالمانہ کاروائی کو ہم کسی دہشت گرد گروپ کی کاروائی قرار دیتے ہیں ۔ مگر کبھی کسی نے عزاداران حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کہہ کر انھیں مخاطب نہ کیا ۔ بلکہ دہشت گرد کا نام دیا گیا۔
اور بھی بہت سے مواقع پر کسی بھی جماعت یا گروہ کے ہونے والے نقصانات کو دہشت گردوں کی کاروائی کہہ کر ان موقع پرستوں کو دہشت گرد کا نام دے دیا جاتا ہے مگر کبھی بھی اسی گروہ سے جس کا نقصان ہوا ہو ایسے برے لوگوں کا ناطہ جوڑا نہیں جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر
یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا بیان کچھ اس انداز میں کیوں کیا جارہا ہے کہ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جیسے یہ سب عشاقان مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ہو۔ یعنی دعویٰ محبت کا کرتے ہوئے اپنوں ہی کے ساتھ لوٹ مار و قتل و غارت گری کرگئے۔
پھر آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ صرف چار بڑے شہروں میں ہونے والی دہشت گردی پر پورے ملک کے عشاق کو یرغمال بنالینا کیا غیروں کے ایجنڈے پر عمل نہیں۔ کیا اب ایسا نہیں ہوگا کہ عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بھی قسم کے احتجاج پر ڈرے و سہمے رہیں گے کہ کہیں کوئی بد بخت کچھ کاروائی کرگیا تو نام سیدھا ہمارا آئے گا چاہے ان ڈائریکٹ ہی سہی۔
آپ تمام افراد اخبارات سے لیکر ٹی وی تک اور زبانی بیانات سے لیکر کسی بھی سوشل فورم تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کریں گے ہمارے ذہنوں میں عاشقوں اور بدبختوں کی معاذاللہ عزوجل ایک ہی صورت بنادی گئی ہے۔ ایک رخ میں ایک شخص عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لگتا ہے اور دوسرے رخ پر دہشت گرد۔۔۔۔۔۔ افسوس صد افسوس ۔۔۔
کیا آنکھوں والوں نے کالعدم تنظیموں کے جھنڈوں سمیت اسلام آباد کی سڑکوں پر دندناتے دہشت گردوں کو نہیں دیکھا۔ ہر خبر پر نطر رکھنے والا ، امن کی آشا کا راگ الاپنے والا یا خبر کی دنیا میں تیز چلنے والا میڈیا کیا یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر سہراب گوٹھ و ٹاور پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث لوگوں کی پہچان نہیں رکھتا۔ کیا میڈیا یہ نہیں جانتا کہ کون کون سے اجتماعات و جلوس پر امن تھے اور کہاں کہاں دہشت گردی ہوئی۔ اگر میڈیا کچھ نہیں جانتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہمیں تیار رہنا چاہئے اپنوں کے ذریعے سے ہی اپنے ایمان کا سودا ہوتے ہوئے دیکھنے کو ۔۔۔۔۔
میرا اختلاف ہے تو یہ کہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کو بے معنی تبصروں و تجزیوں سے تولا نہ جائے اور نہ ہی عشاق کے ساتھ ایسا امتیازی سلوک ہو کہ اسے اور دہشت گردوں اور فتنہ پرستوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے اور ایک ہی لہجہ سے مخاطب کیا جائے۔ کیونکہ نیکو کار ، نیکوکار ہی ہے اور بد کا ، بد کار ہی ہے۔ جنہوں نے پرامن جلوس نکالے اور احتجاج کیا وہ صرف اور صرف عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں
اور جن بد بختوں نے فساد برپا کیا وہ قطعی ان جلوسوں کے شریک کار نہیں تھے بلکہ موقع تاک کر یا تو آئے تھے یا پھر لائے گئے تھے۔ اللہ کریم ان کو ھدایت عطا فرمائے اور ہمیں تمام شریروں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ |
|
|
By:
Kamran Azeemi,
Karachi
on
Sep, 24 2012
|
|
|
|
|
|
|
| شکریہ کاشف بھائی۔ اسی لئیے تو اس کا عنوان شتر بے مہار رکھا تھا۔ غلطی سے شتر کو ط کے ساتھ شطر لکھ دیا۔ اللہ کریم قوم کو وحدت اور اتحاد عطا کرے۔ ہمیں انفرادی کوشش کی بھی ضرورت ہے۔ |
|
|
By:
افتخار الحسن رضوی,
Lahore
on
Sep, 23 2012
|
|
|
|
|
|
|
جزاک اللہ خیر۔ افتخار صاحب بہت ہی اچھے طریقے سے آپ نے آئینہ دیکھایا ۔ لیکن کسی نے محاورہ بہت خوب کہا “ شرم ھم کو مگر نہیں آتی۔“ مسلمانیت کا تو ایک لیبل ھم اپنے ماتھے پر سجایا ہوا ہے ورنہ منافقیت ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ھے۔ یہ کہاں کا احتجاج ہے کہ کسی غریب کی کٹیا میں آگ لگا دینا ۔ روزی کے اڈا کو تباہ و برباد کردینا۔ ناجانے کتنے معصوم آج اللہ رب العزت کے سامنے اپنی دھائی دے رہے ہوں گے اور مخاطب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہوں گے کہ کیا مسلمانوں کے اصلی چہرے یہ ھیں جو اپنے آپ کو آپ کا عاشق کہلواتے ہیں ۔ بڑی بڑی محفلیں نعت خوانی کروانے کے لیے لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کردیے جاتا ھیں کہ شاید آقا کی بارگاہ میں قبول ہوجائے لیکن دوسری جگہ وہی لاکھوں روپوں کی پراپرٹی کو تباہ کردیا جاتا ھے ۔کیا آقا نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ۔۔۔
آج وہ بے غیرت یہودی بھی ھم پر خوب کھل کھلا کر ہنس رہے ہوں گے اور کہتے ہوں گے “ یہ ہیں وہ مسلمان جو اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عاشق کہلواتے ہیں - دیکھو ان کو اپنے ھی گھر کو اگ لگا رہے ہیں اپنے ھی چراغ سے ۔۔۔۔۔ دعا ہے اللہ عزوجل سے کہ ھم سب حقیقی محب ء رسول صلی اللہ علیہ وسلم بننے کے توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا رب العالمین۔۔۔۔ |
|
|
By:
Kashif Akram Warsi,
Kuwait
on
Sep, 22 2012
|
|
|
|
|