|
|
Muhammad Parwiz ! Aameen ...Bahut shukriya Bro ..Khush rahye
|
|
By:
Prof Riffat Mazhar,
Lahore
on
Sep, 24 2012
|
|
|
|
|
|
|
Link ...........
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=25187
|
|
By:
Prof Riffat Mazhar,
Lahore
on
Sep, 24 2012
|
|
|
|
|
|
|
W/Salaam Farrukh bhai! W/Salaam Farrukh Waheed bhai ap ne yehi swaal "FB" n "unnpakistan" par bhi mere column pr uthaya hai .mera aaj ka column isee bare meiN hai ............................ oss ka Aakhri pera mlahza farmaye
جو لوگ اِس موقعے پراحتجاج کی بجائے اپنی زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی تلقین کرتے ہیں اُن کا فرمان بجا لیکن دست بستہ عرض ہے کہ اگر آج ہمارے اندر عشقِ رسول کی اتنی سی رمق بھی باقی نہیں بچی کہ ہم کسی شاتمِ رسول کی ناپاک جسارت پر تڑپ اُٹھیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے یہ بات آج کے ذہین و فطین اور فہیم دانشوروں کی سمجھ میں تو نہیں آئے گی لیکن یہ جذبہ عشق ہی تو تھا جس نے حضرت ابراہیم کو آگ میں کودنے پر مائل اور اپنے بیٹے کے حلقوم پر چھُری چلانے پر قائل کیا۔اِن لوگوں کے نزدیک تو ہر شئے کو ماپنے کا محض عقل ہی ایک پیمانہ ہے لیکن یہ بھی تو ہے کہ عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے عشق بیچارہ نہ مُلّا ہے نہ زاہد نہ حکیم ہمارا ایمان ہے کہ مسلمان خواہ کتنا ہی گُنہگار کیوں نہ ہو ، اُس کے اندر عشقِ رسول کی آگ بہر حال روشن رہتی ہے ۔دینِ اسلام پرپی ایچ ڈی کرنے والے ایک یہودی سکالر کا کہنا ہے کہ مسلمان خواہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ ہو وہ اپنے نبی کا نام سُنتے ہی تڑپ اُٹھتا ہے ۔اسی بنا پر دینِ اسلام کو کبھی زوال نہیں آ سکتا۔یہ الفاظ دینِ اسلام کے بد ترین دشمن کے ہیں لیکن حیرت ہوتی ہے ایسے مسلمان دانشوروں پہ جو اپنے ماں باپ کی شا ن میں گُستاخی پر تو مرنے مارنے پر اُترآتے ہیں لیکن جن پر ہماری جانیں ، مال ، اولاد اور والدین قُربان ، اگراُن کی شان میں کوئی گُستاخی کرے تو یہ پند و نصائح کے دفتر کھول بیٹھتے ہیں۔
Tafseeli jawaab k liye column ka link Hamari Web par hi hai ....
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=25187 |
|
|
By:
Prof Riffat Mazhar,
Lahore
on
Sep, 24 2012
|
|
|
|
|
|
|
| بہت اچھی بات ہے۔۔۔یہ مسلمان کی شان ہے۔۔اللہ ہمیں آپ !ﷺ کی ایک ایک ادا پہ مرمٹنے والے بنائیں۔۔۔ |
|
|
By:
Muhammad Parwiz,
Buner
on
Sep, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
السلام و علیکم ورحمۃ اللہ محترمہ پروفیسر رفعت صاحبہ عشق رسول ﷺ اپنی جگہ، مگر میں اسکے اظہار کے لئے مظاہروں کو کافی نہیں سمجھتا، بلکہ انہیں غیر ضروری سمجھتا ہوں۔
ویسے تو جب ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سنتیں یاد دلائی جاتی ہیں اور ان پر عمل کی تلقین کی جاتی ہے، تو ہم بہت آسانی کے ساتھ کسی نہ کسی بہانے سے ٹال جاتے ہیں یا نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر جوش میں آکر صرف چند دن کا شور اور احتجاج کر لینے سے کیا نبی ﷺ کا حق ادا ہو جاتا ہے؟ اور کیا ایسا کر کے سچے عاشق رسول ہونے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے؟؟؟
ہونا تو یہ چاہئے تھا، کہ فجر کے وقت خالی مسجدیں نبی ﷺ کی محبت میں بھری جاتیں۔ خواتین، امہات المومنین کی نقل کرنے لگتیں مرد اپنی شکلوں کو نبی ﷺ اور صحابہ اور اہل بیت رضوان اللہم اجمٰعین جیسی بنانے لگ جاتے زندگیوں میں قرآن و سنت پہلے سے زیادہ نافذ ہونے لگتا عالم کفر کی رسم و رواج کو ترک کرکے نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور قرآن کے احکام کواپنایا جاتا۔
اور پورے عالم کفر کو پتا چل جاتا کہ یہ قوم اپنے نبی سے کیسی محبت رکھتی ہے۔
مگر افسوس آج عاشق رسول محض نعرے لگانے، احتجاج کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے، حتٰی کہ فجر کی نماز کے لئے بھی نہیں اُٹھ سکتے ۔۔۔
افسوس، صد افسوس |
|
|
By:
فرخ وحید,
Islamabad
on
Sep, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
Bahut shukriya "Kamran " bhaii ... Khush rahye ..
|
|
By:
Prof Riffat Mazhar,
Lahore
on
Sep, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔۔۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔۔۔
بے شک یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں مکمل دینی حمیت و غیرت سے منانا چاہئے۔
بہت خوبصورت کالم ہے کہ جس کی سطر سطر سے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو آرہی ہے۔ |
|
|
By:
Kamran Azeemi,
Karachi
on
Sep, 20 2012
|
|
|
|
|