|
|
جناب افتخار الحسن رضوی صاحب۔
بہت سی حقیقتوں سے روشناسی کروانے کی اچھی کوشش کی ہے اور آپکا ساتھ عظیم صاحب نے بھی خوب دیا ہے میں ذرا سی جسارت کرنا چاہوں گا کہ۔۔ آج کے دور میں صرف چند ایک کو چھوڑ کر (کچھ اچھے بھی ہوتے ہیں پر ڈھونڈنے پر نہیں ملتے) چودھویں صدی کےملا جو اعلٰی ترین دین رب واحدہ لاشریک کا پسندیدہ دین کو دل میں بسانے اور عاجزی کمانے کے بجائے دین کو پیٹ کی پرورش کی خاطر صرف مرکوز کیئے بیٹھے ہیں کہ کہاں کہاں سے پیسے کس کس طرح سے اکھٹے کرنے ہیں کیونکہ یہی چودھویں صدی کےملا اسلام کے ٹھیکیدار بھی تو ہیں۔
اگر نماز پڑھیں گے تو احسان لوگوں پر اگر روزے رکھیں گیں تو احسان کے ساتھ راشن کی تباہی بھی ساتھ ساتھ یعنی جو بھی عبادت یا اچھا کام کریں گے رب واحدہ لاشریک کی رضا و خوشنودی کے لیئے نہیں بلکہ مکمل دکھلاوے کے واسطے سر انجام دیا جائے گا تاکہ لوگوں کے دل جیتے جائیں اور بوقت ضرورت اپنے نفس و شیطان جگر گوشے کی مکمل پیروی کرنے کے لیئے سادہ کم علم لوگوں کو ساتھ ملا کرکے اپنے ہر قسم کے مقاصد کے حصول کی تکمیل با آسانی ہو سکے۔ کیونکہ ہم لوگ امن محبت احترام انسانیت کی عملی تصویر تو بن نہیں سکتے کہ کم از کم اپنے محلے کے غیر مسلم مخلوق خدا کو تو متاثر کر نہیں سکتے اور ٹھیکہ پوری دنیا کا اٹھانے کی سوچوں میں گم ہیں۔ خود تو انسان بن نہیں سکتے اور نکلتے ہیں دنیا کو اسلام کی تبلیغ کرنے۔
منافقت کی کوئی حد ہوتی تو اس حد کے بعد انکا پہلا قدم ہوتا اور رنگ تو دنیا دیکھ ہی رہی ہے اور ہماری حالت سے محظوظ ہو رہی ہے کہ نہیں۔
ایسے کام چھوڑیں تو ڈالر ملنا بند ہوتا ہے اور ان منافقوں کو موقع ملا ہوا ہے لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کا۔ دوسروں کے اشاروں پے چلنا سیاسی عزائم سے یاری سادی مخلوق سے مکاری اور کہتے ہیں ہم بڑے دین دار ہیں؟
رب تعالٰی تو سب دیکھ رہا ہے بس ذرا رسی کھنچے کی دیر ہے۔ |
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Sep, 25 2012
|
|
|
|
| جزاک اللہ جناب عظیم صاحب۔ |
|
|
By:
افتخار الحسن رضوی,
Gujranwala
on
Dec, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
Thanks Anwar bhai.
|
|
By:
افتخار الحسن رضوی,
Lahore
on
Sep, 09 2012
|
|
|
|
|
|
|
great column, keep it up dear
|
|
By:
AnwarSaajd,
Muscat, Oman
on
Sep, 08 2012
|
|
|
|
|
|
|
| کامران عظیمی صاحب! آپ کا بہت شکریہ، آپ کے تبصرے نے بات کو اور بھی واضح کر دیا۔ جزاک اللہ خیرا |
|
|
By:
افتخار الحسن رضوی,
Hyderabad
on
Sep, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
جناب افتخار الحسن رضوی صاحب ،
بہترین دعوت فکر کے ساتھ اصلاحی پہلوؤں کو سمیٹے ہوئے ایک عمدہ کالم لکھنے پر مبارکباد ۔۔۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا
آپ کی طرف سے اٹھائے گئے نکات بے شک اپنی جگہ بہت گہرائی رکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ عظیم بھائی کی طرف سے دیا گیا پوائنٹ بھی نہایت قابل غور ہے یقیناً ہمارے اندر کی منافقت نے ہی ہمیں ذہنی طور پر بیمار مسلمان کا روپ دے دیا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی چار دیواری میں اپنا اپنا قانون رکھتا ہے۔ جہاں اسے ہر قسم کی غیر اخلاقی و غیر اسلامی آزادی حاصل ہے۔
ہمارے گھر میں روز اخبار آیا کرتا تھا اب ہم خود لاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وجہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اخبار والا ہزار منع کرنے کے باوجود اخبار پھینک کر جاتا تھا جس میں قرآنی آیات لکھی ہوتیں تھیں مگر اس بے رحم اور “بے علم“ شخص کو کبھی احساس ندامت نہ ہوسکا۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ راہ چلتے بہت سے مقدس اوراق ہمیں مل جاتے ہیں جو ہم لوگ صاف کرکے کسی بہتر جگہ یا پھر مخصوص ڈبوں میں ڈال دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ غور کیا جائے تو تمام راہ میں ملنے والے مقدس اوراق کسی نہ کسی مسلمان ہی کی غیر ذمہ داری اور دین دوری کا نتیجہ ہوتا ہے یا کم از کم “بے حسی و بے علمی“ نے یہ گل کھلایا ہوتا ہے۔
اکثر یہ بات بھی نوٹس میں آتی ہے کہ بہت سے لوگ جس زبان سے گالی یا ناشائستہ گفتگو کرتے ہیں اسی زبان سے اللہ عزوجل اور اس کے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی نام لیتے رہتے ہیں بلکہ اکثر تو اللہ عزوجل و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر معاذاللہ بہتان باندھتےہیں۔۔۔۔۔ کہ اللہ عزوجل نے یہ قرآن میں کہا ہے اور یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔
مذکورہ تمام معاملات ہماری روز مرہ زندگی کا مشاہدہ ہیں مگر “دین دوری اور انا پرستی“ کی نحوست نے اچھائی اور برائی کی تمیز بھی چھین لی۔ اور اب ان جیسی اور بھی کئی باتیں روزانہ ہمارے سامنے اتنی بار آتیں ہیں کہ قابل نوٹس بھی نہیں ہوپاتیں۔ اور مسلمان اپنے دینی تشخص سے گر کر بقول آپ کے ذہنی بیمار ہی بن جاتا ہے۔ الامان والحفیظ ۔۔۔
آخری بات ۔۔۔۔۔ میری اوپر بیان کردہ کسی بات کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی غیر مسلم اگر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلے تو اسے عام معافی صرف اس بنیاد پر دے دی جائے کہ ایسا تو مسلمان بھی معاذاللہ عزوجل کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ اوپر بیان کردہ تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنا منافقانہ خول اتاریں۔۔۔۔۔ بے حسی کی چادر اپنے تن سے کھینچ ڈالیں اور صحیح اسلامی تشخص کو اپنے افکار و کردار سے بھی ثابت کریں۔ اور گستاخی کا جو بھی مرکتب ہو اسے سخت ترین سزا دی جائے ۔۔۔۔۔ کہ ہماری اصل دولت ایمان ہے۔ اور ہمارا ایمان توحید و رسالت کی گواہی ، انبیاء علیھم السلام کی نبوت ، آسمانی کتابوں کی تصدیق و تعظیم اور غیب کی ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جس کا ہم نے اقرار کیا ہے ۔۔۔۔ لہذا ہم میں سے کوئی مسلمان اپنے ایمان کی دولت کو نہ اپنے ہاتوں برباد کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ |
|
|
By:
Kamran Azeemi,
Karachi
on
Sep, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
m not agreed with iftikhar sahab detail article , pakistan aor islami dunya ka masla sirf aor sirf munafqat hai aor kuch nahi , yeh khatam ho jaye gi to sab set ho jaye ga.malang aise hi nahi ban jata ,is ke peeche aik beqadri,behisi aor selfishness ki dastan chhupi hoti ha.hum khate peete log aaj kitne gharibo ki mali madad krte hai.pakistan main ameer ameer tar aor ghreeb ghreeeb tar ho raha hai.aor ghurbat hi sab maslo ki asal waja aor jar hai.khushhali ho gi to har banda dil aor damagh se mazhab ko study kre ga aor amal kre ga ,logon ko to rizaq kamane se hi fursat nahi hai.......... aor main kisi mazahab ke khilaf nahi hoon par dunya main sab se zyada zulm o sitam muslims par hi horaha hai aor is ka zimadar sirf aor sirf aalmi sazish hai.........aor is main naam ke muslman bhi shamil hain jo khud apne hum mazhab ko ghalat keh rahe hai aor islam ko mazeed badnam kar rahe hain.................
|
|
By:
azeem,
lahore
on
Aug, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
سبحان اللہ۔ افتحار بھائی بہت ھی اعلٰی پایہ کا کالم۔
بات سے بات نکلتے ہوئے کہاں سے کہاں جا پہنچے گی کہ یہ حال صرف ھمارے قبرستانوں میں نہیں بلکہ اولیا اللہ کے مزاروں پر بھی ھے ۔ اللہ جانے کون سی چیز ھمارے علماء اکرام کو روکے ہوئے ھے جو ان سب ھمارے قبرستان اور اولیا اللہ کے مزاروں کا پاک کرنے سے قاصر ھے۔۔ |
|
|
By:
Kashif Akram Warsi,
Kuwait
on
Aug, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
Iftekhar sb aj musalman ye sab kuch jante hen k ham is dunya men q aie hamara maqsad kya he ham ne zindgi kese guzarni he islam kitna bra awr azeem mazhab he ye sab kuch janne k bawjood musalman ba amal nehen q aj kal ka musalman to ulama se nafrat karta he ulama k qreeb tak koe nehen jata phir b bandooq ulama par he q tani jati he sochne awr smajne k bat he kissi par tanqeed karne ki bjae apne aamal drust karo
|
|
By:
Muhammad Sajjad,
Haripur
on
Aug, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
| سُبحان اللہ بُہت ہی عمدہ اور فکر انگیز تحریر ہے اگرچہ یہ آپکی ہماری ویب پر پہلی تحریر ہے مگر کہنا پڑے گا کہ نہایت کہنہ مشق و کمال کی دعوت فکر خود میں سموئے ہُوئے ہے |
|
|
By:
ishrat iqbal warsi,
Mirpurkhas
on
Aug, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
By:
jamil,
Karachi
on
Aug, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
| افتخار صاحب کی باتیں کڑوی ضرور ہیں۔ مگر حقیقت حال سے قریب تر ہیں۔ سب کو ضرور سوچنا چاہیے۔ |
|
|
By:
Abdullah Hashmi,
Karachi
on
Aug, 27 2012
|
|
|
|
|