|
|
طارق میاں ہر جگہ فالتو کی بے معنی لڑائی کرتے ہوئے نظر آتے ہو کبھی تو کسی کو کام کرنے دیا کرو اچھا یہ بتاؤ کہ جو یہ کہے کہ بھول کر کھانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو کیا وہ فاسق ہے گناہگار ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر فضول کا فساد مت پھیلاو |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Aug, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم نعمان صاحب، آخری بات رہ گئی آپ نے کہا کہ “ اصل چیز پیٹ میں کسی چیز کا چلا جانا ہے علاوہ بھول کے یاد ہونے کی صورت میں کسی نے پلایا یا خود پیا روزا جاتا رہا اس پر احناف کا اتفاق ہے “ اور حدیث میں یہ موجود ہے
16- بَابُ طَلاَقِ الْمُكْرَهِ وَالنَّاسِي 2043- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ ، وَالنِّسْيَانَ ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ.(سنن ابن ماجہ رقم ٢٠٤٣) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “میری امت سے اللہ نے درگزر کیا ہے بھول چوک اور جو اس پر زبردستی کی گئی ہو تو آپ کے مطابق کوئی پیٹ میں چیز ڈال دے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو اگر کوئی زبردستی کچھ کھلا دے تو آپ کے مطابق تو اس کا روزہ ختم جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی معافی کا اعلان کیا ہے تو اگر اب آپ کے پاس اپنے موقف کو ثابت دلیل ہے تو پیش کریں کہ احناف نے کس حدیث سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ بس چیز حلق سے اتری چاہے کسی نے زبردستی اتر دی ہو تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے امید ہے اپ اس بات کو واضح کریں گے ورنہ میں یہی سمجھوں گا احناف مقدم ہے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 10 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم روحیل صاحب، آپ کے مشورے کا شکریہ مگر میرے بھائی آپ خود فرمارہے ہیں کہ احادیث کو حنفی اکابر علماء کی تشریحات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو کم از کم ان احادیث کا حوالہ ہی نقل کر دیا جائے جن سے اس قسم کے مسائل اخذ کیے گئے ہیں اور میں نے یہی بات کی تھی کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کو بتا دیا جائے جہاں تک آپ کا یہ کہنا کہ فتنہ کا باعث تو بھائی قرآن اور سنت سے فتنہ نہیں پیدا ہوتا ہے اگر آپ ان مسائل کو احادیث صحیح کے حوالے سے نقل کر دیتے تو پھر کسی حجت کی گنجائش باقی نہٰیں رہتی اور اب بھی اگر اپ اس بارے میں نصوص قرآنی اور احادیث صحیح سے دلائل عنایت فرمائیں تو میں اسی کالم پر اپنے ان الفاظ جو شاید اپ کو معیوب محسوس ہوئے ہیں ارشد مدنی صاحب سے معزرت بھی طلب کروں گا ان سے بھی یہ درخواست کروں گا کہ کم از کم جو مسائل بیان کریں وہ قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ نقل کریں تاکہ مجھے بھی یہ علم حاصل ہو کہ احناف اکابر نے جو مسائل بھی اخذ کیے ہیں ان کی نصوص موجود ہے چاہے تشرحات میں فرق ہو وہ تو ہر اہل علم کا حق ہےکہ وہ حدیث کی کیا تشریح بیان کرتا ہے امید ہے اپ ان باتوں کے جواب عنایت فرمائیں گے جزاک اللہ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 10 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم نعمان صاحب، وضو کے بارے میں نصوص حدیث موجود ہے سوتے ہوئے پانی چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے یہ کس حدیث سے استدلال ہے برائے مہربانی حدیث عنایت کریں اور دبر میں پانی جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس پر احناف اکابر نے کس حدیث سے دلیل لی ہے صرف یہ کہہ دینا کہ احناف اکابر کا اتفاق ہے تو میرے خیال سے آپ نے احناف اکابر کو اتنا بڑھا دیا کہ وہ اس بات سے بھی بری الزمہ ہو گئے کہ انہوں کسی مسئلے کو بتانے کہ لئے قرآن اور حدیث کی ضرورت ہی نہیں ہے یا آپ نے ان کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ آپ کے لیے ان کا فرمان صرف ماننا ہے اس کے پیچھے کیا دلیل ہے اس کی کوئی حاجت نہیں رہی ہے حالانکہ اس فقہ کے امام (ابوحنیفہ رحمہ االلہ ) فرماتے ہیں کہ میں نے جو مسئلہ بیان کیا ہے اس پر آگے بڑھانا جائز ہی نہیں جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ میں نے یہ مسئلہ کہاں سے اخذکیا ہے۔ تو امام کا تو یہ فرمانا ہے اور ان کے مقلدوں کا یہ حال کے کہ وہ گوارہ ہی نہیں کرتے کہ کسی سے پوچھا جائے کہ یہ مسئلہ کس قرآن کی آیت یا حدیث سے اخذ کیا گیا ہے ایسے اندھے پن سے اللہ کی پناہ۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 10 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم طارق صاحب آپ کے انداز گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ فقہ حنفی کے معتمد و اکا بر علماء کی احادیث طیبات کی تشریحات سے اختلاف رکھتے ہیں اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہے مگر اس مقام پر آپ کا اس طرز پر تبصرے فتنہ کے داعی ہیں آپ کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ یوں تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے موقف کو کالم کی زینت بنائیں کسی کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ نہ بنائیں یہ ایسے مسائل نہیں کہ جن پر مسلمان اپنے اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا جائے اس وقت پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت احادیث مبارکہ کو فقہ حنفی کے اکابر علماء کی تشریحات میں دیکھتے ہیں لہذا محترم ارشد مدنی صاحب نے بھی فقہ حنفی کی معتمد علماء کی تشریحات کو اس کالم میں بیان کیا ہے اور پاکستان کے حنفی مسلک کی تشریحات کو قبول کرنے والوں کے لئے اس کالم میں کوئی غلط بات نہیں تو میں آپ سے امید کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کسی مسلک کے متفقہ مسائل پر الجھنے کے بجائے اپنے موقف پر کالم تحریر کریں گے شکریہ |
|
|
By:
Rohial Khan,
al atta
on
Aug, 09 2012
|
|
|
|
|
|
|
جناب طارق محمود صاحب آپ اپنی عادتوں سے بعض نہیں اسکتے کیوں کہ۔۔۔۔۔۔۔ اور جناب دبر سے پانی پینے کا کہاں لکھا ہے؟ غور سے مسئلہ پڑھو پینا الگ چیز ہے اور استنجاء کے وقت پانی اندا داخل ہونا الگ چیز ہے۔ اور اگر سوتا ہو آدمی مرفوع القلم ہے تو وضو بھی نہیں ٹوٹنا چاہئے؟ایسا نہیں ہے تو عقل کے ناخن لو اللہ تمیں ھدایت دے لوگوں کو گمراہ مت کرو۔ اور اصل چیز پیٹ میں کسی چیز کا چلا جانا ہے علاوہ بھول کے یاد ہونے کی صورت میں کسی نے پلایا یا خود پیا روزا جاتا رہا اس پر احناف کا اتفاق ہے آپ کے نزدیک الگ ہے تو جیسا چاہو کرو ۔۔۔۔۔۔اور ہماری ویب انتظامیہ اس طرح کے فتنے فساد سے عوام کو بچائے۔۔۔اللہ ہم کو ھدایت پر قائم رکھے |
|
|
By:
Nouman Kk,
Tando Alayar
on
Aug, 09 2012
|
|
|
|
|
|
|
ًمحترم عبدالغفار صاحب، آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا ہے روزے کی اصل حقیقت ختم ہوتی جارہی ہے اور لوگ ظاہری احکام کو دیکھتے ہیں اگر روزے کا اصل فلسفہ ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہی ہے کہ بدکاری حرام مال(چاہے وہ کسی طریقے سے بھی کمایا ہو یا ظاہری اشیاء جو حرام کی گئ ہیں) سے بچنا اور اخلاقیات کی تعلیم بس یہی روزہ ہے ۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 08 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم ارشد صاحب، آپ نے مسئلہ ٩ میں لکھا ہے سوتے میں اگر میں کھلا رہ گیا اور پانی حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ گیا“ بھائی حدیث میں نصوص سے موجود ہے کہ تین افراد مرفوع قلم ہے ان میں سے ایک سوتا ہوا آدمی بھی ہے (ترمذی) حدیث کے خلاف مسائل تو نہ بیان کیا کریں۔ اللہ آپ کو سمجھ دے ۔ اور ٨ میں آپ نے لکھا ہے روزہ دار کی طرف کسی نے چیز پھینکی وہ اس کے حلق میں چلی گئی تو روزہ جاتا رہا، کمال کی بات ہے قرآن کہتا ہے “کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہ اٹھائی گی“ اور اپ کسی کے فعل سے کسی اور کا روزہ فاسد کروارہے ہیں اعوذ باللہ من ھذہ جھل ۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 08 2012
|
|
|
|
|
|
|
jo log sara din joot ghibat gaali gandi guftagu karte ,mehngi cheze frokht karte hae ,rishwat lete aur dete aur mukhtalif tareeko se dosro ko tang karte aur tv ,mobile computer ka ghalt istamal karte hae ,farad aur larai jagra (TAMAM MAASHRTY BORAIAN) karte ,un ka bi roza toot jatahae .
|
|
By:
abdulghaffar,
islamabad
on
Aug, 08 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم ارشد مدنی صاحب، دبر سے کون پیتا ہے جس سے روزہ فاسد ہو جائے گا ایسے خود ساختہ مسائل سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے اگر ایسی کوئی بات واقعی موجود ہے تو پھر قرآن اور سنت یا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اقوال سے ثابت کرو۔ جب سنت سے اعراض ہوگا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ کر ایک امتی کی بات مانی جائے گی تو دین کا یہی حال ہو گا کہ دبر سے پانی پیا جائے گا۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 08 2012
|
|
|
|
|