Hamaeiweb.com
 
Urdu keyboard
(ali raza, karachi)

Rate it:
Total Views: 401
About the Author: ali raza

Visit 10 Other Articles by ali raza »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Share Comments Share Comments
Email to a Friend
Print Article Print Article
Read Article in Text
Reviews & Comments Reviews & Comments
ماشاءاللہ علی رضا بھائی، کیا مفّصل اور مدّلل آرٹیکل لکھا ہے، اللہ عزّوجل آپکے علم، عمل، عمر اور رزق میں آقا صلی اللہ عیلہ وآلہ وسلم کے صدقے میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔
By: Shamim Ahmed, Karachi on Jan, 19 2013
ReplyReply to this Comment
کامران بھائی وعلیکم السلام آپ کا بہت شکریہ کے آپ نے میری حوصلہ افزائی فرمائی ۔اور مخالف سامنے والے کو موضوع تبدیل کرنے اور خود سے کیے گئے سوالات کے جوابات سے چھٹھکارا حاصل کرنے کی خاطر اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں اللہ استقامت دے کہ ان کو بہتر سے بہتر جوابات دے سکو اور یہ بھی حق کی جانب مائل ہوجائیں
By: Ali Raza, karachi on Jan, 03 2013
ReplyReply to this Comment
انشاءاللہ عزوجل
By: Kamran Azeemi, Karachi on Jan, 04 2013
طارق جی اس سوال کا تو جواب دیدو
ابو الجوزاء
قال أبو حاتم : ثقۃ رضی .
و قال البزار : بصری ثقۃ مأمون .
و ذکرہ ابن حبان فی " الثقات " . کان عابدا فاضلا .
ابو حاتم ، امام بزار نے ابو الجوزاء کو ثقہ فرمایا اور ابن حبان نے اس کو ثقہ راویوں میں شمار فرمایا

فہذہ الکلمۃ من البخاری لیس فیہا جرح لذات الرجل، لما تقدم، نیؤکدہ: أنہ قال فی أبی خداشزیاد بن الربیع الیحمدی
1685): " فی إسنادہ نظر "، ومع ذلک فقد احتج بہ فی " صحیحہ ".
انظر " الکامل " 3: 1052، و " المیزان " 2 2937).

امام بخاری کاابو الجوزاء کے لئے یہ فرمانا کہ اس کی اسناد میں نظر ہے یہ کلمات کسی شخص کی جرح کے لئے نہیں ہیں کہ امام بخاری نے أبی خداشزیاد بن الربیع الیحمدی کے بارے میں بھی کہا کہ اس کی اسناد میں نظر ہے اس کے باوجود اپنی کتاب بخاری میں اس سے دلیل پکڑی ہے

فہذا ظاہرہ أنہ لم یشافہہا ، لکن لا مانع من جواز کونہ توجہ إلیہا بعد ذلک فشافہہا ، علی مذہب مسلم فی إمکان اللقاء
امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں
پس یہ اس کا ظاہر ہے کہ اس نے حضرت عائشہ سے بالمشافہ ملاقات نہیں کی لیکن یہ بات اس چیز کے جواز میں مانع نہیں ہے کہ اس نے اس کے بعد حضرتت عائشہ سے ملاقات نہ کی ہو پس اس نے حضرت عائشہ سے امام مسلم کے مذہب پر ملاقات کے امکان پربالمشافہ ملاقات کی ہے

اور امام مسلم نے ابوالجوزاء کی روایت کو مسلم میں لیا بھی ہے جو کہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ چقہ راوی تھا نیز اس کے علاوہ بھی دیگر صحاح ستہ کے محدثین نے اس کی روایت کو لیا ہے ۔
وقال فی جامع الأصول: أبوالجوزاء سمع من عائشۃ، فارتفعت العلۃ رأساً.

جامع الاصول میں ہے کہ ابو الجوزاء نے حضرت عائشہ سے سماع کیا ہے پس وہ علت مرتفع ہوگئی

اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ یہ حدیث درست ہے اور قابل حجت ہے اور اور اس کے راوی صحیح ہیں۔
By: Ali Raza, karachi on Jan, 02 2013
ReplyReply to this Comment
محترم علی رضا صاحب،
امام ذہبی کا حوالہ دے کر غائب ہو گئے ان کے تبصرے کا جو میں نے جواب دیا ہے اس پر آپ کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا کیا آپ میری بات سے متفق ہیں ؟ کہ اس روایت میں انقطاع ہے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Jan, 21 2013
محترم علی رضا صاحب،
یہ میری ہی دلیل ہے، اپ نے یہ نقل کیا ہے “ فتبين من هذا: أن معنى قول البخاري " في إسناده نظر ": في الاسناد الموصل إلى المترجم نظر، ترجمہ پس اس سے یہ واضح ہوا کہ امام بخاری کے قول “فی اسنادہ نظر“ کا معنی یہ ہے اس روایت کے وصل(یعنی ملاقات ) میں نظر ہے۔
تو بھائی امام ذہبی خود اس کے معنی یہ کر رہے ہیں کہ بقول امام بخاری کے اس میں انقطاع ہے اور میں بھی یہی کہہ رہا ہوں اور جمہور محدثین بھی یہ کہہ رہے ہیں جن کا ذکر میں کر چکا ہوں تو بھائی اس روایت میں انقطاع ہے اور جمہور اور مقدمین محدثین نے اماں عائشہ رضی اللہ عنھا کا سماع کا انکار کیا ہے ۔
By: tariq mehmood, Karachi on Jan, 15 2013
فعجبت من ابن عدي كيف يقول: مراد البخاري أنه لم يسمع من مثل ابن مسعود وعائسشة وغيرهما، والنص صريح أمامه: أقمت مع ابن عباس وعائشة اثنتي عشرة سنة...! ونظرت في " مقدمة الفتح فرأيته أخذ هذا التفسير بالتسليم ! ثم نظرت في " التهذيب " ترجمة أوس فازاح الاشكال، قال " وقول البخاري: في إسناده نظر ويختلفون فيه: إنما قاله عقب حديث رواه له في " التاريخ " من رواية عمرو بن مالك النكري، والنكري ضعيف عنده "، ثم حكى كلام ابن عدي: لم يسمع من مثل ابن مسعود...فتبين من هذا: أن معنى قول البخاري " في إسناده نظر ": في الاسناد الموصل إلى المترجم نظر،
طارق صاحب علامہ ذہبی نے الکاشف میں کیا لکھا ہے اس کا بھی مطالعہ کرلیں
By: ali raza, karachi on Jan, 11 2013
محترم علی رضا،
آپ نے پوچھا کہ وسیلہ زندہ کا جائز اور مردہ سے ناجائز کیوں،
بھائی حلال جانور زندہ ہے تو مردار ہو گیا تو حرام کیوں، جس طرح آپ اس کیوں کا جواب میں صرف یہ کہہ سکتے ہیں اللہ نے یہ حکم رکھا ہے اسی طرح میرا بھی یہ جواب ہے اللہ نے یہ حکم رکھا ہے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Jan, 10 2013
محترم علی رضا ،
میری دلیل تو آپ نے خود دے دی ہے پھر بھی مجھ سے پوچھ رہے ہیں آپ کی دلیل کوڈ کر رہا ہوں “ ولي الدين أحمد بن عبد الرحيم بن الحسين أبي زرعة العراقي
قلت روايته عن عائشة في صحيح مسلم ذكره في كتاب الصلاة وذكر ابن عبد البر في التمهيد انه لم يسمع من عائشة وحديثه عنها مرسل“
ابن عبدالبر، حافظ عراقی ، اس روایت میں انقطاع مانتے ہیں اور انقطاع روایت ضعیف ہوتی ہے پھر بھی آپ مجھ سے دلیل مانگ رہے ہیں اور ابن حجر نے بھی یہی بیان کیا ہے کہ ابوالجوزاء کی روایت اماں عائشہ سے انقطاع ہوتا ہے دوبارہ آپ کے لیے کود کر رہا ہوں۔
قلت قال بن أبي حاتم في المراسيل أبو الجوزاء عن عمر وعلي مرسل وقال العجلي بصري تابعي ثقة وقال بن حبان في الثقات كان عابدا فاضلا وقول البخاري في إسناده نظر ويختلفون فيه إنما قاله عقب حديث رواه له في التاريخ من رواية عمرو بن مالك البكري والبكري ضعيف عنده وقال بن عدي حدث عنه عمرو بن مالك قدر عشرة أحاديث غير محفوظة وأبو الجوزاء روى عن الصحابة وأرجو أنه لا بأس به ولا يصح روايته عنهم أنه سمع منهم وقول البخاري في إسناده نظر يريد أنه لم يسمع من مثل بن مسعود وعائشة وغيرهما الا أنه ضعيف عنده وأحاديثه مستقيمة قلت حديثه عن عائشة في الافتتاح بالتكبير عند مسلم وذكر بن عبد البر في التمهيد أيضا أنه لم يسمع منها وقال جعفر الفريابي في كتاب الصلاة ثنا مزاحم بن سعيد ثنا بن المبارك ثنا إبراهيم بن طهمان ثنا بديل العقيلي عن أبي الجوزاء قال أرسلت رسولا إلى عائشة يسألها فذكر الحديث فهذا ظاهره أنه لم يشافهها لكن لا مانع من جواز كونه توجه إليها بعد ذلك فشافهها على مذهب مسلم في إمكان اللقاء والله أعلم (تھذیب التھذیب ٦١٩) ابن حجر کا پورا تبصرہ میں نے نقل کر دیا ہے آپ پڑھ سکتے ہیں ان کے مطابق وہ امام مسلم کے مذہب پر اس کے ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے مگر ابن حجر نے خود تقریب تھذیب میں ابو الجوزاء کو ارسال کرنے والا راوی بتایا ہے جس طرح امام نووی نے مقدمہ مسلم میں فرمایا کہ امام مسلم کے مذہب کا جمہور نے رد کیا ہے اور ابن حجر نے روایت نقل کی ہے کہ ابو الجوزاء ایک ادمی کو بھیجتا تھا جو اس کے سوالات کرتا تھا تو بھی ابن عبدالبر کا حوالہ آپ نے دیا حافظ عراقی کا حوالہ آپ نے دیا ابن حجر اس سے ارسال کرنے کے قائل ہے اور امام بخاری نے اس کی اسناد کے بارے میں کہا کہ اس کی روایت اماں عائشہ سے ضعیف ہوتی ہے جس کو میں نے ابن حجر کے حوالے سے اوپر نقل کیا ہے اس کے بعد بھی آپ مجھ سے دلیل مانگ رہے ہیں کہ یہ روایت ضعیف کیسے ہے۔ اتنے معتبر محدثین کا قول ہے کہ اس روایت میں انقطاع ہے اگر آپ کو نظر نہ آئے تو میرا کیا قصور۔ اللہ ہدایت دے آمین
By: tariq mehmood, Karachi on Jan, 10 2013
طارق صاحب ابن حجر نے ابن ابو الجوزاء کی حضرت عائشہ سے روایت کو ضعیف نہیں فرمایا اب جب اتنے بڑے بڑے محدثین اس کی بیان کردہ رویات کو درست مانتے ہیں تو آپ کس شمار میں آتے ہیں؟
اور بحث کو طول دینے کے بجائے فقط ایک حدیث اس بات پر پیش کردیں کہ وسیلہ بعد الممات ناجائز ہے ؟ زندہ کو وسیلہ بنانا یہ مردے کے وسیلہ بنانے کے ناجاہز ہونے پر دلیل نہیں ہے
اور جب زندہ کا وسیلہ جائز ہے تو مرنے کے بعد اس کاوسیلہ کیونکر ناجائز ہوا؟
By: ali raza, karachi on Jan, 08 2013
ولي الدين أحمد بن عبد الرحيم بن الحسين أبي زرعة العراقي
قلت روايته عن عائشة في صحيح مسلم ذكره في كتاب الصلاة وذكر ابن عبد البر في التمهيد انه لم يسمع من عائشة وحديثه عنها مرسل انتهى
تحفة التحصيل في ذكر رواة المراسيل
قال ابن أبى حاتم فى " المراسيل " : أبو الجوزاء عن عمر ، و على ، مرسل .
طارق صاحب میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں جو آپ نے مرسل کی تعریف بیان کی وہ درست ہے مگر میں نے اس روایت کو مرسل اس قول کے پیش نظر کہی ہے باقی رہا بحچ برائے بحث کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اآپ کسی ایک حوالے سے اس حدیث کے ضعیف ہونے پر دلیل دیں
By: ali raza, karachi on Jan, 08 2013
بھائی طارق محمود اصل بات یہی ہے جو کہ آپ نے اپنے کمنٹس کے آخر میں بیان کی ہے۔ میں ذاتی طور پر اس طرح کے کمنٹس کے حق میں نہیں ہوں مگر یہ حضرات دوسرے کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اس طرح کے الفا‍ظ استعمال کرے۔ بہر حال اللہ انہیں ہدایت عطا فرماۓ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jan, 06 2013
محترم علی رضا صاحب،
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے یہ روایت مرسل نہیں ہے اس میں انقطاع ہے مرسل روایت اس کو کہتے ہیں جس میں تابعی بغیر صحابی کا نام لئے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرے ،بھائی میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ جس گلی معلوم نہیں وہاں جانا کیوں جس کو مرسل کی تعریف نہیں معلوم وہ مجھ سے راویوں پر بحث کر راہا ہے اللہ مہربان تو گدھا پہلوان۔
By: tariq mehmood, Karachi on Jan, 05 2013
طارق صاحب جب آپ نے ابو الجوزاٰ کو ثقہ مان ہی لیا ہے تو ذرا یہ بھی بتا دیں کہ ثبہ راوی کی مرسل جمہور کے نزدیک قابل قبول ہے یانہیں؟
By: ali raza, karachi on Jan, 04 2013
محترم علی رضا صاحب،
میں نے پہلے بھی کہا تھا جس گلی معلوم نہیں وہاں گذر کیوں،
بھائی میں نے ابوالجوزاء کے ثقہ ہونے کے بارے میں کوئی بات نہیں اس کا ثقہ ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ہے میرا مدعا فقط یہ ہے کہ اس کا سماع اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے نہیں ہوا ہے اور یہ میں اس سے پہلے بھی دلیل سے بتا چکا ہے دوبارہ پیش کرتا ہوں
امام بخاری فرماتے ہے اس کی روایت میں نظر ہے (میزان الاعتدال ترجمہ ١٢٢٤ ) اور ابن حجر فرماتے ہے " وہ کثرت سے ارسال کرتا تھا (یعنی درمیان میں راوی چھوڑ دیتا ) (تقریب التہذیب ترجمہ ٦١٩ ) اور فرماتے ہیں " اس نے ابن مسعود اور اماں عائشہ رضی الله عنھما سے کچھ نہیں سنا ہے اور (امام بخاری ) کے نزدیک اس کی روایت ان سے ضعیف ہے .( تہذیب التہذیب ترجمہ ٦١٩ ) اور ابن عبدالبر فرماتے ہے ابو الجوزا نے اماں عائشہ رضی الله عنہا سے کچھ نہیں سنا (اکمل تہذیب الکمال جلد ٢ ص ٢٩٤ ) اور اس کے بارے میں یہ واضح موجود ہے کہ اس نے اماں عائشہ رضی الله عنہا سے نہیں سنا اور وہ ایک آدمی کو بات مسائل پوچھنے کے لئے بھیجتا تھا .چنانچہ امام ابن عبدالبر فرماتے ہے کہ ابو الجوزا کہتے ہیں میں اماں عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک شخص کو بھیجتا تھا جو ان سے سوال کرتا تھا (حوالہ ایضا )
تو بھائی اس کے ثقہ ہونے پر نہیں کوئی آپ سے کوئی اختلاف نہیں ہے اس کے سماع کو ثابت کریں ثقہ ہونے کو نہیں ،
امام مسلم نے جو اس سے روایات لیں ہے تو وہ اگر اماں عائشہ سے بھی ہوئی تو ان کا دوسری سند سے ثابت ہیں مگر یہ روایت اسی سند سے ہے اور اس میں سعید بن زید بھی ہے جو منفرد ہے اور دوسرا اس میں انقطاع ہے ،
تیسرے یہ کہ امام مسلم کا اصول ملاقات جمہور کے خلاف ہے اس لئے اس کو قبول نہیں کیا گیا امام نووی نے اس مقدمہ مسلم کی شرح میں بیان کیا ہے تو بھائی ابوالجوزاء کا ثقہ ہونا ثابت ہے مگر اس کا اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے سماع ثابت نہیں ہے تو ابوالجوزاء کے سماع کو ثابت کریں جس کا انکار جمہور محدثین نے کیا ہے ابن جوزی ٩٠٠ ہجری ہے ہیں اور ان کا اکیلا قول مقدمین محدثین کے اجماع کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے آپ ابو الجوزاء کا سماع محدثین سے ثابت کر دیں میں اس روایت کو صحیح مان لوں گا۔
By: tariq mehmood, Karachi on Jan, 03 2013
میرے عزیز میرے بھائی ۔۔۔۔۔ علی رضا السلام علیکم ورحمتہ اللہ ،

ماشاءاللہ عزوجل بہت احسن انداز میں آپ مسٹر بابر تنویر و خالد محمود وغیرہ سے گفتگو فرمارہے ہیں۔ اللہ کریم آپ کو استقامت عطا فرمائے۔ اور بابر تنویر صاحب نے نئے سوالات کا شوشہ چھوڑا ہے اس کی پرواہ مت کیجئے گا ۔۔۔۔ پہلے فیصلہ ہوجائے راوی کا پھر بات مزید کیجئے گا۔

اللہ کریم اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہم تمام اہل مھبت و عقیدت کا حامی و ناصر ہو۔

والسلام
By: Kamran Azeemi, Karachi on Jan, 03 2013
محترم بابر بھائی ،
مجھے امام ابو حنیفہ کا وسیلہ والا قول آن لائن کتاب سے مل گیا ہے اس کا لنک یہ ہے
http://archive.org/stream/kitbalfiqhalakba00abanuoft#page/73/mode/2up
جس کو شوق ہے دیکھ لے کہ ان کے امام کا عقیدہ کیا تھا
اور علی رضا صاحب عربی میں بحق کا مطلب آپ بتا دیں اس کا مطلب وسیلہ ہوتا ہے اگر آپ کی نظر میں اس کا مطلب کچھ اور ہے تو اس کو بیان کریں اور اس لنک کو آپ بھی ضرور دیکھے گا، کافی خوش فہمیاں دور ہو جائیں گی۔
By: tariq mehmood, Karachi on Jan, 02 2013
ReplyReply to this Comment
شکرا لک و جزاک اللہ خیرا اخی العزیز طارق محمود۔ آپ نے بر وقت لنک فراہم کر دیا۔ ان شاء اللہ یہ ہمارے امام اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے مقابلے میں اپنے امام اعظم کا ایک بھی قول نہیں پیش کر سکیں گے۔ میں ان کے مضون کے حوالے سے ہی ان سے چند باتیں دریافت کیں ہیں۔ چونکہ ان کے جوابات ان کے اپنے ہی نظریات کو باطل قرار دیں گے۔ ان شاء اللہ اس لیۓ یہ جوابات سے پہلو تلی اختیار کر رہے ہیں۔۔ اور یہ وہی کامران عظیمی صاحب ہیں جو کہ تصوف والے کالم سے عبد العظیم صاحب سمیت راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔ اور انشاء اللہ یہاں بھی منہ کی کھائیں گے۔ کیونکہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور سنت رسول ہیں اور ان کے پاس ضعیف اور باطل روایات۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jan, 04 2013
جناب علی رضا صاحب بھائی میری جو حیثیت ہے اسے چھوڑیۓ آپ نے تو اس میدان میں شائد ڈاکٹریٹ کی ڈگری کر رکھی ہے۔ آپ کے کالم کے حوالے سے چند استسفارات ہیں امید ہے کہ دلائل کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں گے۔
1- بھائی یہ بتا دیجیۓ کہ کیا نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل ہمارے لیۓ حجت ہے کہ نہیں۔
2- آپ کسی مردہ انسان کے وسیلے سے دعا کو فرض یا واجب نہیں سمجھتے تو کیا سمجھتے ہیں
3- کیا آپ کی نظر سے یہ حدیث گذری ہے کہ "دعا عبادت ہے؟
4- یہ بتائیں کہ کیا قران نبی کریم کے زمانے میں بغیر اعراب یعنی زیر زبر کی پابندی کے بغیر پڑھا جاتا تھا یا پابندی کے ساتھ۔
5- کیا نبی کریم کی حیات مبارکہ میں ہی آپ کے فرامین کو لکھنے کا اہتمام شروع کر دیا گیا تھا کہ نہیں۔
6-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامیں کی توثیق کا سلسلہ صحابہ کرام کے زمانے میں ہی شروع کر دیا گیا تھا کہ نہیں۔
7- کیا یہ کھڑکی کھولنے کا سلسلہ صرف ایک ہی سال کیا گیا۔ کھڑکی ہمیشہ کے لیۓ ہی کیوں نہ کھول دی گئ تاکہ قحط سالی کا امکان ہی باقی نہ رہتا۔
8- حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تو بارش کے لیۓ آپ صلی اللہ علیہ کی وفات کے بعد آپ کے چچا کو بارش کی دعا کے لیۓ آگے کیا اور سب صحابہ نے آمین کہا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کیوں نہ مانگی۔
9- اگر آپ کی پیش کردہ روایت سے وسیلہ بعد الممات ثابت ہوتا ہے۔ امان عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے صحابہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنے کا مشورہ کیوں نہیں دیا۔
آپ کے شکریہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jan, 01 2013
ReplyReply to this Comment
1- تفسیر عزیزی ( مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب رح حنفی) بلا کے دور ہونے کے واسطے غیر اللہ کو پکارنا اور نفع نقصان کا ان کو صاحب اختیار وسمجھنا شرک ہے۔
2-فوز الکبیر ( مولانا شاہ ولی اللہ حنفی فقیہ و محدث دہلوی ر ح) مشرکین بتوں کو روحوں کی توجہ کا قبلہ سمجھتے تھے، مسلمان بجائے بتوں کے قبروں کو سمجھتے ہیں۔
3-مجمع البحار ( علامہ محمد طاہر حنفی گجراتی ر ح) قبور انبیاء اور اولیاء پر مدد چاہنے اور حاجت مانگنے کی نیت سے جانا کسی عالم اہل اسلام کے نزدیک جائز نہیں۔ طلب حاجت اور استعانت صرف اللہ وحدہ لا شریک کا حق ہے۔
4-حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کے چند اقوال۔
1-اپنے دلوں کو غیر اللہ سے پاک کرو، اس کے سوا نفع نقصان کی توقع کسی سے نہ رکھو۔
2- جو شخص غیر اللہ سے نفع و نقصان کی امید رکھے وہ اللہ تعالیٰ کا عابد نہیں بلکہ وہ اس کا بندہ ہے جس سے یہ توقع رکھتا ہے ( الفتح الربانی)
3- اپنی کل حاجتوں کو خدا پر چھوڑ دو۔ تمام خلقت سے منہ پھیر کر اللہ کی طرف جھک جاؤ ( فتوح الغیوب)
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 29 2012
ReplyReply to this Comment
بابر میاں شاید اوپر اعتراض آپ نے ہی ذکر کیے ہیں تو کتابوں کا نام لکھا ہے تو مکمل صفحہ بھی بتا دو جہاں آپ نے دیکھا تھا؟ یا کہیں آپ نے سنی سنائی بات پر عمل تو نہیں کیا؟
By: ali raza, karachi on Jan, 02 2013
محترم جناب علی رضا صاحب مجھ سے پوچھنے کے بجاۓ اپنی ہی کسی لائبریری میں جائیۓ اور ان سب کی تصدیق یا تردید کجییۓ۔ باقی باتین آپ سے بعد میں ہوں گی۔ ان شاء اللہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jan, 01 2013
جناب مکمل حوالے اور عبارتیں نقل کریں اور جس کتاب سے حوالہ دیں تو کس مکتبہ والوں نے چھاپا ہے اس کو بھی ذکر کریں پھر گفتگو کرین گے تاکہ آگلی پچھلی عبارتوں کا ربط بھی دیکھا جائے
By: ali raza, karacha on Dec, 31 2012
ابو الحسین قدوری اپنی کتاب " بشرح الکرخی " کے باب الکراہتہ میں لکھتے ہیں " بشیر بن ولید کہتے ہیں کہ مجھ سے امام یوسف نے بیان کیا کہ امام ابو حنیفہ نے کہا کہ کسی کے لیے اللہ تعالیٰ سے بجز اس کی ذات اور صفات کے حوالہ دے کر دعا کرنا جائز نہیں ہے اور میں ناجائز سمجھتا ہوں کہ کوئی یوں کہے کہ بحق تیری مخلوق کے اور یہی قول امام ابو یوسف کا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں یہ بھی ناجائز سمجھتا ہوں کہ کوئی یوں کہے کہ بحق تیرے نبیوں کے، بحق تیرے رسولوں کے یا بحق بیت الحرم یا بحق مشعر الحرام۔ اسکے بعد امام ‍قدوری کہتے ہیں کہ خدا سے اسکی مخلوق کا واسطہ دے کر سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ مزید سنیے۔ احناف کی کتاب "ہدایہ" کی کتاب الکراہتہ میں اسکے الفاظ یہ ہیں " اور جائز نہیں کہ کوئی دعا میں یہ کہے کہ بحق فلاں یا اپنے انبیا اور رسولوں کے حق کے طفیل یا صدقہ میں" کیونکہ خالق پر مخلوق کا کوئی حق نہیں ہے"

بھائیوں یہ دوسری کتاب ہے ( غرایب فی تحقیق المذاہب) " امام ابو حنیفہ نے ایک شخص کو کچھ نیک لوگوں کی قبروں کے پاس آکر یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے قبر والوں! تم کو کچھ خبر ہے اور کیا تم پر اسکا کچھ اثر ہے کہ میں تمہارے پاس مہینوں سے آ رہا ہوں اور تم سے میرا سوال صرف یہ ہے کہ میرے حق میں دعا کر دو. ابو حنیفہ رح نے اس کا یہ قول سن کر اس سے دریافت کیا کہ قبر والوں نے کچھ جواب دیا؟ وہ بولا نہیں۔ امام ابو حنیفہ نے یہ سن کر کہا کہ تجھ پر پھٹکار ۔ تیرے دونوں ہاتھ گرد آلود ہو جائیں تو ایسے جسموں سے کلام کرتا ہے جو نہ جواب دے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز کے مالک ہیں اور نہ ہی آواز سن سکتے ہیں پھر امام ابو حنیفہ نے سورہ فاطر کی آیت نمبر 22 تلاوت فرمائی " کہ اے نبی تم ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں کچھ نہیں سنا سکتے"
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 29 2012
ReplyReply to this Comment
بابر صاحب شاید آپ ابھی علم کی دنیا میں بچے کی سی حیثیت رکھنے والے معلوم ہوتے ہیں آپ نے بحق والے عبارت سے وسیلہ کا انکار سمجھا یہ آپ کی کم عقلی جاکر دوبارہ اس عبارت کو سو بار پڑھیں تو آپ کو شاید سمجھ آجائے کہ وہاں معنی یہ ہے کہ اللہ پر کسی کا حق نہیں ہے اس لئے مکروہ فرمایا اور ناجائز کہنا یہ بھی سراسر باطل ہے فقہ حنفی سے بالکل نا بلد معلوم ہوتے ہو تو بحق سے لَا حَقَّ لِلْمَخْلُوقِ عَلَى الْخَالِقِ
مراد ہے اور بھی کمال کرتے ہو اپنے مطلب کی عبارت اٹھالی آگے کی عبارت اور تشریح ذکر نہیںکی ؟ کیوں ؟ کیا آپ کا بھید کھل جائے گا؟
By: ali raza, karachi on Dec, 31 2012
طارق صاحب آپ یہ بتا دو کہ جو اصول آپ نے بیان کیا خواہ امام بخاری نے بنایا ہو یا کسی اور محدث نے بقول آپ کے آپ تو صرف قرآن اور حدیث کی بات مانتے ہو تو یہ کس حدیث سے بنائیں ہیں؟
اور طارق میاں صرف ابن جوزی نے ہی اس روایت کو صحیح نہیں کہا بلکہ دیگر نے بھی کہا ہے تین مرتبہ اچھی طرح کالم پڑھو پھر سمجھ آجائے گی
By: Ali Raza, karachi on Dec, 28 2012
ReplyReply to this Comment
tariq sahab shayad ap nay quran ki us ayat ko sahi tor par nhi parha hai ik baar dobara parho us mai wazeh likha hai k jb koi fasiq khaber lay to ayat say to fasiq k khaber lany ki tehqiq ka hukm sabit hota hai saleh ki khaber ki tasdeek ka hukm to sabit nhi hai? or is ayat say sirif tehqiq sabit hai mgr jo usool muhaddesiin nay banai hain wo is ayat say kaha sabit hity hain ? zara usool e hadees kis ayat ya hadees say banai hain ye to bata do?
By: ali raza, karachi on Jan, 02 2013
محترم علی رضا،
دیگر لوگ بھی ابن جوزی کے بعد کے ہیں مقدمین میں امام بخاری، عبدالبر ،ابن عدی،ابن حجر نے اس روایت کے روای ابو الجوزاء سے انقطاع نقل کیا ہے اپ اس کا سماع ثابت کر دو۔یا جن کے آپ حوالے دے رہے ہو کہ انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے ان کی تحقیق پیش کر دو، جواب کا منتظر،
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 31 2012
محترم علی رضا صاحب،
دوبارہ آمد مبارک ہو،
میں نے جو اصول بتائے ہیں وہ قرآن سے ہی بتائے ہیں جس کی ایک دلیل میں دے چکا تھا“ جب کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کر لو“ جب عام خبر کا یہ حال ہے تو خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حق رکھتی ہے کہ اس کی تحقیق کر لی جائے ۔ اور کوئی سوال ہو تو بتائیں گا انشاء اللہ جواب ضرور ملے گا۔
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 31 2012
محترم علی رضا،
پہلے ایک بات مکمل کر لیں پھر دوسری کی طرف آتے ہیں میں کہیں بھاگنے والا نہیں ہوں آپ نے کہا کہ امام بخاری نے کہاں لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے تو ان الفاظ کا کیا مفہوم ہے اپ سمجھا دو “ میں اب حجر کہتا ہوں ابن عدی فرماتے ہیں ابو الجوزاءکی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات میں کوئی حرج نہیں ہے مگر ان سے اس کا سماع ثابت نہیں ہے اگرچہ اس میں سماع کی تصریح بھی موجود ہو کیونکہ امام بخاری کا قول ہے کہ اس کی اسناد نظر چاہتی ہے کہ اس کا سماع ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ابن مسعود اور عائشہ رضی اللہ عنھما ان کے نظر میں ان سے اس کی روایت ضیعف ہے باقی اس کی روایات صحیح ہوتی ہیں ۔ اس میں واضح موجود ہے کہ امام بخاری ابو الجوزاء کی اماں عائشہ رضی اللہ عنھا حدیث کو انقطاع اور ضعیف مانتے ہیں اور انہوں نے یہ اصول بیان کیا ہے اب جہاں جوبھی حدیث ابوالجوزاء نے اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے بیان کی ہیں سب ضعیف ہوں گی سوائے ان کے جو دوسری سند سے ثابت ہوں جائیں جیسا آپ نے امام جوزی کے قول سے یہ اصول ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے اس ک سماع ثابت ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے اور میں واقعی امام جوزی سے بڑا نہیں ہوں مگر امام بخاری ضرور امام جوزی سے بڑے ہیں اور یہ ان کا فیصلہ ہے کہ ابو الجوزاء کی حدیث اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقطع اور ضعیف ہے اور اس پر ابن عدی ابن حجر ابن عبدالبر وغیرہ نے بھی یہی کہا ہے تو یہ سب بھی امام جوزی سے اونچے ہی ہے تو میری نہیں ان سب کی بات مان لیں کہ یہ روایت ضعیف ہے امام بخاری سے بڑی شہادت اصول حدیث کے بارے میں کوئی دے نہیں سکتا ہے تو انا ہور ہٹ دھرمی چھوڑ کر عاجزی اور انکساری اختیار کرو اور ان تمام محدثین کی بات مان لو صرف ابن جوزی پر نہ اٹکو اور ویسے بھی اصول حدیث میں جمہور محدثین کا قول معتبر ہوتا ہے صرف ایک (ابن جوزی ) کا نہیں۔
By: tariq mehmood, Karachi on Aug, 14 2012
ReplyReply to this Comment
کیا انا الفاظ سے اس راوی کی روایات ضعیف ہوجاتی ہیں یہ کہاں لکھا ہے؟ اور خدارا کالم پورا پڑھا کرو کتنی بار بولو اور جو اعتراضات آپ سے کالم میں کئے گئے ہیں ان پر بھی تبصرہ کرو نظریں نہ چراو اور اس حدیث کے بارے میں امام بخاری نے کہاں لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ؟ گول مول بات کرتے ہو کیا ابن جوزی نے اس حدیث کی سند کو صحیح نہیں کہا کیا تم ابن جوزی سے بڑھ کر ہو اور اوپر پڑھ لو کہ کس کس نے اس کی اسناد کو صحیح کہا ہے فضول لا یعنی باتیں کرنا چھوڑو
By: ali raza, karachi on Aug, 13 2012
ReplyReply to this Comment
محترم علی رضا،
آپ کو حدیث اور اصول حدیث میں امام بخاری کا بھی اعتبار نہیں ہے وہ خود فرمارہے ہیں اس کی سند میں نظر ہے اس کے بعد بھی آپ مجھے سے کہہ رہے ہو کسی معتبر کتاب کا حوالہ دوں ، جب امام بخاری اس کی سند کو صحیح نہیں مان رہے تو اب بھی کسی معتبر کتاب کا حوالہ دینا باقی ہے ہنسی آتی ہے مجھے آپ کی کم فہمی اور کم نظری پر۔
By: tariq mehmood, Karachi on Aug, 12 2012
ReplyReply to this Comment
بحث پر بحث میں لکھ لکھ کر تھک گیا میں تو مصروف ہو آپ کو تو اسی کام کے لے فارغ رہتے ہو چلو خیر ہے ویسے یہاں ان تمام کے جوابات دینے سے پہلے طارق میاں
یہ بتا دو کہ پھر آگے چلیں گے ورنہ بحث فضول ہے
کیا حدیث وسیلہ کی روایات کے بارے میں محدثین نے یہ نہیں فرمایا کہ صحیح الاسناد؟ اگر فرمایا تو حدیث درست ہے اور آپ کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ؟
اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے تو پھر کسی معتبر کتاب کا حوالہ دیدو ورنہ بات نہ کرو
By: ali raza, karachi on Aug, 11 2012
ReplyReply to this Comment
.
(١) سعید بن زید : اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال درج ہیں .
ابو حاتم اور امام النسائی فرماتے ہیں وہ قوی نہیں ہے جوزجانی فرماتے ہیں اس کی روایت ضعیف ہے یہ حجت کے قابل نہیں ہے ،دارقطنی : ضعیف ہے ، امام بزار: اس کے حافظہ خراب تھا ،ابن حبان : سچا تھا مگر اپنی روایت میں غلطیاں اور وہم کرتا تھا یہاں تک اگر یہ کسی منفرد ہو تو اس کی روایت قبول نہیں ہے .( تہذیب التہذیب ترجمہ ٢٣٨٦ ) اور اپ نے جو اقوال اس کے ثقہ ہونے کے حوالے سے نقل کیے ہیں تو جرح مقدم ہوتی ہے تعدیل پر اگر مفسر ہو اور اس کے بارے میں تو یہ کہا گیا ہے کہ اگر یہ منفرد تو اس کی روایت قبول نہ کی جائے
اور یہ روایت اسی سند سے منقول ہے اس لئے اس روایت میں یہ راوی منفرد ہے اس بنا پر اس روایت میں ضعف ہے .
(٢) ابو الجوزا بن اوس بن عبدالله : امام بخاری فرماتے ہے اس کی روایت میں نظر ہے (میزان الاعتدال ترجمہ ١٢٢٤ ) اور ابن حجر فرماتے ہے " وہ کثرت سے ارسال کرتا تھا (یعنی درمیان میں راوی چھوڑ دیتا ) (تقریب التہذیب ترجمہ ٦١٩ ) اور فرماتے ہیں " اس نے ابن مسعود اور اماں عائشہ رضی الله عنھما سے کچھ نہیں سنا ہے اور (امام بخاری ) کے نزدیک اس کی روایت ان سے ضعیف ہے .( تہذیب التہذیب ترجمہ ٦١٩ ) اور ابن عبدالبر فرماتے ہے ابو الجوزا نے اماں عائشہ رضی الله عنہا سے کچھ نہیں سنا (اکمل تہذیب الکمال جلد ٢ ص ٢٩٤ ) اور اس کے بارے میں یہ واضح موجود ہے کہ اس نے اماں عائشہ رضی الله عنہا سے نہیں سنا اور وہ ایک آدمی کو بات مسائل پوچھنے کے لئے بھیجتا تھا .چنانچہ امام ابن عبدالبر فرماتے ہے کہ ابو الجوزا کہتے ہیں میں اماں عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک شخص کو بھیجتا تھا جو ان سے سوال کرتا تھا (حوالہ ایضا )
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سعید بن زید کی منفرد روایت ضعیف ہوتی ہے اور ابو الجوزا کا سماع اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے ان دونو وجوہات کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے .

تو میرے بھائی ان دونوں جرح کا جواب دے دیں اور ان ابوالجوزاء کا سماع محدثین کے اقوال سے ثابت کردیں اس کا ثقہ ہونا نہیں کونکہ اس کے ثقہ ہونے میں کوئی جرح نہیں ہے کہ ثقہ ہے مگر اس کے سماع نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے تو اس کا سماع ثابت کر دیں اور دوسرا اس روایت کو سعید بن زید اور ابو الجوزاء کے علاوہ کسی اور سند سے ثابت کردیں کیونکہ سعید بن زید جب منفرد ہوگا تو اس کی روایت قبول نہیں ہے ۔
اب اس روایت کے الفاظ پر کچھ روشنی ڈالنا چاہتا ہے اس روایت میں اماں عائشہ فرماتی ہیں “ جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ کے روضہ کے اوپر ایک روشن دان بنا دو جبکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ امام عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے میں ہی تھا تو وہ کس ان کو روشن دان بنانے کہاں بھیج رہی تھی اور دوسری بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں حجرے کی چھت آدھی کھولی ہوئی تھی اور یہ مروان بن حکم کے دور تک ایسی ہی رہی ہے بعد میں اس نے اس حجر کو مسجد نبوی میں شامل کر لیا تھا (الرد علی البکری ٦٨-٧٤) تو جب چھت کھلی ہوئی ہے تو اس کی چھت میں روشن دان کیسے بن سکتا ہے تو اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے اور اس کے الفاظ بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے کسی روشن دان بنانے کا حکم نہیں دیا ہے ۔
تو اب اس روایت پر میں نے جو جرح کی ہے اس کو غلط ثابت کردو میں اپ کی بات مان لوں گا کہ یہ روایت صحیح ہے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Aug, 07 2012
ReplyReply to this Comment

محترم علی رضا،
خود ہی جواب لکھ کر خوش ہو گئے اگر لنک شیئر کر دیتے تو مجھے پہلے معلوم ہوجاتا کہ اپ نے کیا لکھا ہے اور اس بھنڈے مضمون پر داد وصول کر رہے ہیں ان کی جو اصول حدیث سے نابلد ہیں ابو الجوزا کی روایت بخاری میں موجود ہے مگر اس نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت نہیں کیا ہے اور امام بخاری نے اس کے ثقہ ہونے پر نہیں بلکہ امام عائشہ رضی اللہ عنھا سے انقطاع ہی کی وجہ سے کہا ہے کہ اس کی روایت میں نظر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے "قلت (ابن حجر) ابن عدی : ابو الجوزا روی عن الصحابۂ ارجو انہ لا با س بہ ، ولا یصح روایتہ عنھم انہ سمع منھم قول البخاری فی اسنادہ نظر یرید انہ لم یسمع من مثل مسعود و عائشہ رضی اللہ عنھما وغیرھما الا ضعیف عندہ و احادیثہ مستقیمہ (تھذیب التھذیب ترجمہ ٦١٩) میں اب حجر کہتا ہوں ابن عدی فرماتے ہیں ابو الجوزاءکی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات میں کوئی حرج نہیں ہے مگر ان سے اس کا سماع ثابت نہیں ہے اگرچہ اس میں سماع کی تصریح بھی موجود ہو کیونکہ امام بخاری کا قول ہے کہ اس کی اسناد نظر چاہتی ہے کہ اس کا سماع ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ابن مسعود اور عائشہ رضی اللہ عنھما ان کے نظر میں ان سے اس کی روایت ضیعف ہے باقی اس کی روایات صحیح ہوتی ہیں ۔
تو علی رضا صاحب یہ روای ثقہ ہے اس کی روایت بھی قبول ہے مگر اس کی روایت اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے ضعیف ہوتی ہیں اور اور علامہ علاء الدین الکمل تھذیب الکمال میں ابو الجوزاء کے ترجمہ میں نقل کیا ہے کہ “ وقال ابن عبدالبر فی (التمھید) لم یسمع الجوزاء من عائشہ رضی اللہ عنھا وقال فی (الانصاف) یقولون: ان ابا الجوزاء لا یعرف لہ سماع من عائشہ رضی اللہ عنھا وحدیثہ عنھا ارسال ولما رواہ ابوبکر الفریانی فی الکتاب (الصلاہ) تالیفہ مسند صحیح ،قال ثنا مزاحم بن سعید ثنا ابن مبارک ثنا ابرہیم بن طھمان ثنا بدیل العقیلی عن الجوزاء قال ارسلت رسولا الی عائشہ رضی اللہ عنھا لیسالھا من شئ(الکمال تھذیب الکمال جلد ٢ ص ٢٩٤) ترجمہ : ابن عبدالبر (التمھید) میں فرماتے ہیں ابو الجوزاء کا سماع اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے ثابت نہیں ہے اور اسی طرح (الانصاف) میں فرماتے ہیں ابو الجوزاء کا سماع اماں عائشہ سے نہیں جانا جاتا ہے اور ان سے اس کی حدیث میں ارسال ہے جیسا کہ ابوبکر الفریانی نے اپنی کتاب الصلاٰہ میں نقل کیا ہے کہ ابو الجوزاء کہتا ہے کہ میں اماں عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس ایک شخص کو بھیجتا تھا جو ان سے سوال کرتا تھا۔
اور ابن حجر نے بھی یہی کہا ہے کہ یہ اپنی روایات میں ارسال کرتا ہے (یعنی درمیان سے راوی چھوڑ دیتا ہے )(تقریب التھذٰب ترجمہ ٦١٩) تو اس پرمقدمین محدثین کا اجماع ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے اس کی روایت انقطاع اور ضعیف ہے اور امام مسلم کے حوالے سے جو اپ نے نقل کیا ہے تو میرے بھائی امام مسلم دو راویوں کی ملاقات میں صرف ہم زمانہ ہونے کے قائل تھے مگر جمہور محدثین جس میں امام بخاری ، ابن المدینی وغیرہ اس کے قائل ہے کہ ایک بار ملاقات ہونا لازمی ہے اور امام مسلم کا قول شاذ ہے اس کو امام نووی نے مقدمہ مسلم کی شرح نقل کیا ہے (مقدمہ امام مسلم شرح نووی) تو اصول یہی ہے کی ایک بار ملاقات ثابت ہونا ضروری ہے اور ابن حجر بھی اسی کے قائل ہیں . اور جامع الاصول کی جو عبارت آپ نے نقل کی ہے تو میرے بھائی اس کا حوالہ تو دو اور یہ بھی نقل کرو کہ یہ قول کس محدث کا ہے جامع الاصول امام سیوطی کی ہے اگر یہ ان کا اپنا قول ہے تو وہ قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ امام سیوطی متخرین میں سے ہیں اور مقدمین نے اس کے امام عائشہ کے سماع کا انکار کیا ہے امام سیوطی تو حسن بصری کے علی رضی اللہ عنہ سے سماع کے قائل ہے جبکہ اس پر بھی محدثین کا اجماع ہے کہ ان کا سماع ثابت نہیں ہے تو اگر یہ امام سیوطی کا اپنا قول ہے تو یہ بے اعتبار ہے کیونکہ یہ اجماع محدثین کے خلاف ہے اور اس کی کوئی ٹھوس دلیل بھی نہیں ہے جیسا میں نے ابوبکر الفریانی کے حوالے سے خود ابوالجوزاء کا قول نقل کیا ہے کہ وہ خود کبھی امام عائشہ سے نہیں ملا ہے بلکہ کسی شخص کو بیجھتا تھا وہ کون تھا اس کا کچھ پتا نہیں ہے اور مجھول کی روایت ویسی ہی ضیعف ہوتی ہے اب اس کا دوسرا راوی سعید بن زیداس کے بارے میں اقوال درج ہیں .
By: tariq mehmood, Karachi on Aug, 07 2012
ReplyReply to this Comment
عظیم صاحب اسکا بھی نیو کالم بن سکتا تھا
By: Nouman Kk, Tando alayar on Jul, 17 2012
ReplyReply to this Comment
نعمان صاحب، (ٹنڈو الہ یار)

میں تو کچھ بھی نہیں ہوں- بس ایک کوشش میں رہتا ہوں کہ قرآن پاک میں تو بنی نوع انسان کے لیئے رہنمائی عام طرح سے ہے ہی “کہ سب کو آسانی سے سمجھ آ جائے“ اور سب اس پر چل کر کم از کم بخشش کے قابل ہو سکیں کہ رب تعالی ان سب پے آسانیاں فرما دے- امین- لیکن اسی کتاب حکمت میں حکمت ہی حکمت پوشیدہ ہے کہ جسکا ایک خاص الخاص حصہ میرے اوپر والے کمنٹ میں واضح تحریر ہے۔

مقصد یہ ہے کہ عبادات بھی ایک واسطہ ہیں کہ جسکی منزل بخشش ہی کی طرف ہے و لیکن جو بخشش کرنے والی ذات پاک جو واحدہ لاشریک ہے اسکی رضا و قرب کے حصول اور پھر اسی کی رضا پر راضی بر رضا ہو کر چلنے والوں کے نشاں بھی سبھی پے عیاں ہیں کا فرق بھی واضح ہے کہ اپنی اپنی محنت اور جد و جہد کی منزل بھی مختلف ہے،،،،اب جو جسکا دل مانتا ہے میدان کھلا ہے،،،،،،،،،،،،،،

وضو کرکے عبادت کرنا بہت ہی آسان ہے، کہ نہیں، لیکن اس زمانے کے گھمبیر اندھیروں میں حق کے علمبردار کی تلاش کرنا او اگر وہ ہستی مل بھی جاتی ہے (اگر نصیب میں ہو تو) اور پھر اس ملا ازم ے دور میں بزرگی کمانا اور ساتھ ساتھ زمانے کے دستور ،،،،،، جیسا کہ

جے کر دین علم وچ ہوندا، سر نیزے کیوں چڑھدے ہُو
اٹھاراں ہزار جو عالم آہا، اگے حسین(رض) دے مردے ہُو
جے کر مندے بعیت رسولی(ص)، پانی کیوں بند کردے ہُو
عاشق صادق جیہڑے باہو، سر قربانی کردے ہُو

پھر ذرا آگے بڑھیں تو ،،،،،،

شاہ شمس تبریز رحمتہ الله علیہ جن کی کھال اتاری گئ تھی ،،،،،، حضرت منصور رحمتہ الله علیہ جن کو سولی پے لٹکایا گیا تھا،،،،،،،،،، ان ہستیوں کو ایذا دینے والے کون لوگ تھے مشرک تھے یا پھر اپنے، جو اپنے آپ کو اسلام کا ٹھیکیدار کہلوانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور آج بھی ایسوں کا ذور چل رہا ہے اور انکے پیرو کاروں کابھی یہیں کہیں پتہ چلتا رہتا ہے۔

مقصد یہ نہیں کہ کسی کو نیچا دیکھایا جائے نہیں بلکہ مقصد اس بزرگی کا حصول ہے جو رب واحدہ لاشریک کے قریب تر کرے اور جس پے رب راضی ہو ،،،،،،،،،،،،،،،،، کیا کوئی ہے ان راستوں کی تلاش میں کہ جس کاپہلا پتہ عشق حقیقی کی تپش ہے- یہاں ملا ازم نہی چلتا بلکہ سر جھکا کے عشق کے گہرے سمندر میں اترنا پڑتا ہے، جیسا کہ،،،،،

کی محمد (صلی الله علیہ وآلہ وسلم) سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں-

اسلام زندہ باد ۔ صوفی ازم زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد
By: azeem, rwp on Jul, 16 2012
ReplyReply to this Comment
کامران صاحب ،نعمان صاحب اور عظیم صاحب آپ تینوں کا بہت شکریہ اور آپ لوگوں نے اس ناچیز کے لئے اتنے اچھے کلمات کہے
اس میں میر اکوئی کمال نہیں بس اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وبارک وسلم کے وسیلہ سے مجھ پر کرم فرمایا
By: ali raza, karachi on Jul, 14 2012
ReplyReply to this Comment
very Nice Tehqeq Ali Raza Sahib
aap ki as kawish par Bohat bohat Mubark ho.
Ali raza Sahaib Aap ny bohat Hi lajawab Koshish ki hai
Aehle Sunnat ko kabi mayosi nahi Karni Chahey BiHamdillah Hamary aaqaid 100% Durst Aur Haq hain.
Hamary Ulma Kiram Ny Aqaid par by intiha Kam kia hai Bas Koshish kar ky un mawad ko jama karny ki Hajat hai. Hamary Aqaid Roz e roshan Ki tarh Zahir o Bahir hain
Hamary aslaf Ilmi Samandar Hamary ley Chor kar gaye Hain Bus Ab Dekhna ye Hota hai ky kis ko kitni Teraqi Aati hai jo jitna gota lagay ga wo utny Moti Chun kar awam ky samny laega.
Main Dil Sy Ali raza Bhai Ko Mubark Bad Pesh Karta Hon Jin Ki Mehnat Rang Lai Aur Haq ka is Form Par bhi Zahor Hova.
Thanks Allot For Yours Beautiful Articles
Geo Sir Utha Ky Dost...
By: Ubaid Ashraf, Mirpurkhas on Jul, 13 2012
ReplyReply to this Comment
عظیم مکین پنڈی صاحب بہت ہی خوب
آپ کے تجزیہ ماشاء اللہ اتنے دلچسپ اور خوب تر ہوتے ہیں کہ ان کو جمع کر کے ایک مستقل کالم بن جائے
آپ سے کالم نہ لکھنے کا گلہ نہیں کرونگا کیوں کے آپ تو اسی طرح یہ حق بھی ادا کر رہئے ہیں
خوب لگے رہو بھائی حق کی پرچھار سر عام کرو
دنیا و آخرت میں کامیابی پاؤ گے
اللہ تعالی تمام مسلمانوں پر اپنا خصوصی کرم فرمائے۔
By: Nouman Kk, Tando alayar on Jul, 13 2012
ReplyReply to this Comment
علی رضا بھائی السلام علیکم ورحمتہ اللہ ،

جزاک اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ

بہت ہی خوب تحریر اور کیا لاجواب تحقیق ہے ۔۔۔ اللہ کریم اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے آپکی اس محنت کو قبول فرمائے۔

بے شک حق آگیا اور باطل مٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور انشاءاللہ حق اسی طرح غالب اتا رہے گا ۔۔۔۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Jul, 13 2012
ReplyReply to this Comment
Displaying results 1-20 (of 23)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
Recent Religion Articles

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)


Article Categories
Politics (8991) سیاست
Society and Culture (4683) معاشرہ اور ثقافت
Religion (4510) مذہب
Other/Miscellaneous (1286) متفرق
Literature & Humor (1067) ادب و مزاح
Education (764) تعلیم
Famous Personalities (661) مشہور شخصیات
Health (578) صحت
Science & Technology (559) سائنس / ٹیکنالوجی
True Stories (278) سچی کہانیاں
Sports (219) کھیل
Books Intro (202) تعارفِ کتب
Kids Corner (181) بچوں کی دنیا
Poetry (173) شعر و شاعری
Entertainment (155) انٹرٹینمنٹ
Career (109) کیریر
Novel (91) افسانہ
Travel & Tourism (91) سیر و سیاحت
Arts (32) ہنر
Samaa TV Live at Hamariweb.com
Election 2013 Results

Recently Commented Articles
Jadu Ka Asar Khatam Kerne K Liye
100 Questions/Answers on Holy Quran
Most Commented Articles (Last 30 Days)
Jadu Ka Asar Khatam Kerne K Liye
More On Hamariweb
News Home
Latest News
Student News
Science & Technology
Sports
Entertainment
World News
Dictionary
English Urdu Dictionary
Arabic Urdu Dictionary
Spanish Urdu Dictionary
Hindi Urdu Dictionary
French Urdu Dictionary
German Urdu Dictionary
Cricket
Live Cricket
Cricket Highlights
Dream Team
Player Profiles
Sports News
Sports Games
Mobiles
Mobile Phones
Ringtones
Mobile Games
Mobile Softwares
SMS Messages
Web2SMS
Directories
Web Directory
Edu Directory
Important Phone No.
Postal Codes
Country Codes
City Codes
Islam
Online Audio Quran
Quran Recitation
Online Naats
Islamic Names
Islamic Articles
Islamic Wallpapers
Finance
Biz News
Stock Exchanges
Business Directory
Forex Rates
Gold Rates
Prize Bonds
Classifieds
Mobile Phones
For Sale
Vehicles
Real Estate
Matrimonial
Jobs
Articles
Politics
Society and Culture
Religion
Other/Miscellaneous
Literature & Humor
Education
Poetry
Love / Romantic
Sad
General
Life
Religious
Humorous
Other Sections
Urdu Search
My Report
Food & Recipes
Blogs
Forum
Academic Results

Career Counseling
Weather Updates
Free Softwares
Desktop Wallpapers
Greeting Cards
Urdu Editor
About us | Contact Us | Feedback | Advertising | Privacy Policy | Site Map | Jobs @ Hamariweb
Copyright © 2013 HamariWeb.com All Rights Reserved.


X
Post Article