|
|
جناب عبداللہ! پاکستانی ریاست کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں اور سب سے بڑا حق یہی ہے کہ فرد اس کے قوانین کا احترام کرے ۔ اگر میں ملکی قوانین کی بات کرتا ہوں تو اسے غلط فہمی ہرگز نہ گردانا جائے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایک ایسی مثال پیش کی ہے کہ کوئی بھی فرد ریاستی اداروں کے بالا بالا کسی غیر ملکی ادارے سے رابطہ کرکے اپنے ملک کے لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا شروع کردے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ لندن میں کسی کو خط لکھنا چاہیں تو کیا آپ خود لندن کے لندن پوسٹ آفس کے پوسٹ ماسٹر کو درخواست کریں گے کہ وہ براہ راست آپ سے چٹھی وصول کرلے۔ بلکہ ہوتا یوں ہے کہ آپ پاکستان پوسٹ کو وہ خط دیتے ہیں جواسے اپنے ذرائع سے لندن کے محکمہ ڈاک کو پہنچاتا ہے ۔ پھر لندن پوسٹ آفس اپنے سٹاف کے ذریعے مذکورہ چٹھی کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ عالمی اداروں کے درمیان معاملات کایہ رخ جو بالکل جائز اور مناسب ہے آپ کو کیوں سمجھ میں نہیں آرہا۔ آپ اپنی غلط فہمی کو درست کیجئے!
|
|
|
By:
Amjad,
Islamabad
on
Jul, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
مسٹر امجد: کیا آپ کو علم ہے کہ پاکستانی قانون آپ کو اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ آپ خود کسی ڈکیت ،چور اور مجرم کو خود گرفتار کر سکتے ہیں۔ اسامہ بن لادن تو ایک بین الاقوامی مجرم اور قاتل تھا اور اس کو پکڑوانا ،ایک بڑا احسن کام ہے جو کہ ڈاکٹر آفریدی نے کیا ہے۔ خود پاکستانی سرکار بھی اس کی تلاش میں تھی۔ لہذا ایسی صورتحال میں کسی کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہ تھی۔میرے خیال میں آپ کے کمنٹس غلط فہمی کی بنیاد پر لکھے گئے ہیں۔ |
|
|
By:
Mohammad Abdullah,
Lahore
on
Jul, 09 2012
|
|
|
|
|
|
|
| مسٹر عبداللہ! اگر آپ کو کوئی چورڈکیت اسلام آباد میں پکڑ لیں تو کیا آپ امریکی پولیس کو فون کریں گے؟؟؟؟ اگر آپ کو کسی سے کوئی خطرہ ہو تو کیا آپ بھارتی سیکورٹی کو مدد کے لئے پکاریں گے؟؟؟ یہ درست ہے کہ اسامہ بن لادن ایک مجرم تھا، مگر ڈاکٹر شکیل آفریدی چونکہ پاکستانی شہری ہیں اور پاکستان میں رہتے ہیں اور پاکستان کا قانون ان پر لاگو ہوتا ہے لہٰذا ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ پاکستانی حکام کو اعتماد میں لے کر اسامہ کے بارے امریکہ کو آگاہ کرتے۔ اس طرح پاکستان کا بھی عالمی سطح پر وقار بلند ہوتا۔انہوں نے براہِ راست ایک غیرملک کو اسامہ کے بارے میں معلومات فراہم کرکے ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے اس کا درجہ غدار سے کم نہیں ہونا چاہئے اور نہ اسے رہا کرنا چاہئے تاکہ آئندہ کسی کو پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کا موقع نہ مل سکے۔ |
|
|
By:
Amjad,
Islamabad
on
Jun, 26 2012
|
|
|
|
|
|
|
| امید واثق ہے کہ نئے وزیراعظم کے آنے پر پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس پر نظر ثانی کرلے گا اور آفریدی کے انسانی حقوق کے ضمن میں آفریدی کے ساتھ جو انسانی حقوق کی زیادتیاں روا رکھی گئی ہیں، ان کی تلافی کرتے ہوئے اس کو ایک ہیرو کی حثیت سے باعزت بری کر دیا جائے گا اور اس کو ہیرو کا جائز مقام جس کا آفریدی استحقاق رکھتا ہے دیا جائے گا کیونکہ آفریدی نے اسامہ کو جوکہ ہزاروں بے گناہ لوگوں اور انسانیت کا قاتل تھا ، کے مروانے میں بین الاقوامی برادری کی مدد کی ہے۔ |
|
|
By:
Mohammad Abdullah,
Lahore
on
Jun, 24 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
Dr Afridi is proved to be enemy of Pakistan. He is just like Polio Virus, who have had paralyzed Pakistan.
|
|
By:
Amjad,
Islamabad
on
Jun, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
So true
|
|
By:
Anwar,
Rawalpindi
on
Jun, 22 2012
|
|
|
|
|