|
|
وعلیکم السلام غضنفر بھائی اگر تبیر تحریمہ کے الفاظ مکمل ادا نہیں کیے تھے تو نماز شروع ہی نہیں ہوئی لہذا دوبارہ اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھیں اور ہاتھوں کو بھی اٹھائیں۔ ٢۔ فرائض کی ایک ہی رکعت میں ایک سے زائد سورتیں نہیں پڑھنی چاہیئں لیکن اگر یہ سورتیں متصل ہو یعنی ایک ساتھ ہوں تو کوئی کراہت بھی نہیں ہے اور اگر جدا جدا ہوں تو اس میں کراہت ہے اور اگر امام ایسا کرتا ہے تو مقتدی اس کو بوجھ سمجھے تو مکروہ تحریمی ہوگا۔ |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
السلام علیکم مفتی صاحب ١۔تکبیر تحریم کہتے ہوئے اوباہی،کھانسی یا کسی اور وجہ سے الفاظ پورے ادا نہ ہوں اور نمازی ہاتھ باندھ لے اس صورت میں نیت توڑ کر دوبارہ نیت کرنی پڑے گی یا پھر اسی حالت میں اللہ اکبر کہہ لیں۔ ٢۔فرض نماز اکیلے پڑھتے ہوئے کیا ایک ہی رکعت میں دو یا دو سے زیادہ سورتیں پڑھ سکتے ہیں۔ |
|
|
By:
Ghazanfar Ali,
Lahore,Pakistan
on
Jun, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام غضنفر بھائی مذکورہ شخص کا یہ کہنا غلط ہے کیونکہ امراض یہ موت کے اسباب میں سے ہیں اور اسباب کی طرف اگر نسبت کی جائے تو اس سے شرک لازم نہیں آتا تو اس طرح کہان شرک نہیں ہے ۔ ٢۔ سوال یہ معلم ہوتا ہے کے قلیل پانی کے متعلق سوال ہے لہذا اس صورت میں اگر بے وضو شخص کے اعضائے وضو میں سے کوئی حصہ بغیر دھلے اس پانی میں پڑ جاتا ہے تو اس پانی سے وضو نہیں کیا جاسکتا ہے یہ مستعمل ہو چکا ہے ۔ اور اگر ہاتھ دھو لیا تھا پھر حدث طاری ہوئے بغیر پانی میں جسم کا دھلا ہوا حصہ ڈالا تو پانی مستعمل نہیں ہو ا۔ اور اگر کوئی مجبوری کی صورت ہو تو اس کو بیان کریں تاکہ اس کی روشنی میں جواب دیا جائے |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
بہت بہت شکریہ مفتی صاحب
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
السلام علیکم مفتی صاحب ١۔آج ایک آدمی نے بتایا کہ یہ کہنا کہ فلاں شخص بیضہ،ٹی بی وغیرہ سے مر گیا ہے یہ کہنا شرک ہے۔ ٢۔ہمارے گھر میں پانی کا ڈرم ہے جس میں سے ڈبہ کے ذریعہ سے پانی نکالتے ہیں۔اس طرح پانی نکالتے ہوئے آدھا ہاتھ یا دو تین انگلیاں ڈبہ کے ساتھ پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔اس طرح سے نکالا ہوا پانی کیا مستعمل ہو جاتا ہے۔اور ایسے پانی کے ساتھ وضو ہو جائے گا۔ شکریہ۔ |
|
|
By:
Ghazanfar Ali,
Lahore,Pakistan
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام احمد بھائی اگر مقتدی نے اما م کو غلط لقمہ دیا اور اسے اس بات کا احساس ہو گیا کہ اس کے غلط لقمہ دینے کی وجہ سے اس کی نماز ٹوٹ گئی ہے تو اس کو صفوں سے نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ اس کا وضو تو قائم ہے التبہ نماز ٹوٹ گئی ہے لہذا واپس سے نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہتے ہوئےامام صاحب کے پیچھے نئے سرے سے نماز پڑھے اور یہ اس کی پہلی رکعت شمار ہوگی اور سابقہ اقتداء میں ادا کی گئی رکعتوں کو شمار نہیں کیا جائے گا |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
سوال نمبر 3 میں بیان شدہ صورت کی بناء پر اگر مقتدی کی نماز ٹوٹ گئی، اور اسے اس بات کا احساس بھی ہو گیا، تو اسے جماعت سے کس طرح خارج ہونا چاہئے؟ اور اس کے اخراج کی وجہ سے صف میں جو خلاء پیدا ہو، اسے پُر کرنے کا درست طریقہ کیا ہو گا؟
اللہ تعالیٰ دین کی اس خدمت پر آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Jun, 19 2012
|
|
|
|
|
|
|
اسلام علیکم نعمان بھائی عورت کا نکا ح ہوتے ہوئے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا حرام اشد حرام و زنا کا کام ہے اوراس فعل کو حلال جاننا کفر ہے لہذا کورٹ ہو یا والدین کی رضامندی سے خواہ کسی بھی طریق ہر یہ نکاح ثانی نہیں ہو سکتا تا وقتیکہ شوہر اول طلاق بائنہ یا مغلظہ نہ دیدے یا مرجائے پھر اس کی عدت کے بعد یہ نکاح ثانی کر سکتی ہے اس سے پہلے کوئی راہ نہیں |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 19 2012
|
|
|
|
|
|
|
Jazak Allah mufti sahab aik sawal ap ki Khdmat main arz hai nikah kisi ka hogaya lekin ruksati nahi hoi ab kot ky zarey nikah par nikah karna kesa ? Dua for me
|
|
By:
Nouman KK,
Tando alayar
on
Jun, 17 2012
|
|
|
|
|