|
|
846 / 46. عَنْ کَثِيْرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رضي الله عنهم قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الدِّيْنَ (أَوْ قَالَ : إِنَّ الإِسْلَامَ) بَدَأَ غَرِيْبًا وَسَيَعُوْدُ غَرِيْبًا کَمَا بَدَأَ فَطُوْبَي لِلْغُرَبَاءِ قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! مَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ : الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا عِبَادَ اﷲِ. رَوَاهُ الْقُضَاعِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.
الحديث الرقم 46 : أخرجه القضاعي في مسند الشهاب، 2 / 138، الرقم : 1052. 1053، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 / 117، الرقم : 205، والسيوطي في مفتاح الجنة، 1 / 67.
’’حضرت کثیر بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک دین (یا فرمایا : اسلام) کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور غریبوں میں ہی لوٹے گا جس طرح کہ اس کا آغاز ہوا تھا، سو غریبوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! غرباء کون ہیں؟ فرمایا : وہ لوگ جو میری سنتوں کو زندہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ان کی تعلیم دیتے ہیں۔ ‘‘
842 / 42. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَدْنَي الرِّيَاءِ شِرْکٌ وَأَحَبَّ الْعَبِيْدِ إِلَي اﷲِ تَبَارَکَ وَتَعَالَي الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ الَّذِيْنَ إِذَا غَابُوْا لَمْ يُفْتَقَدُوْا وَإِذَا شَهِدُوْا لَمْ يُعْرَفُوْا أُوْلَئِکَ أَئِمَّةُ الْهُدَي وَمَصَابِيْحُ الْعِلْمِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَاحَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
الحديث الرقم 42 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 303، الرقم : 5182، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 163، الرقم : 4950، وفي المعجم الکبير، 20 / 36، الرقم : 53، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 252، الرقم : 1298، والبيهقي في کتاب الزهد، 2 / 112.
’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : معمولی سا دکھاوا بھی شرک ہے اور بندوں میں سے محبوب ترین بندے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک متقی اور خشیت الٰہی رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو موجود نہ ہوں تو تلاش نہ کیے جائیں اور موجود ہوں تو پہچانے نہ جائیں، وہی لوگ ہدایت کے اِمام اور علم کے چراغ ہیں۔ ‘‘ |
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
736/ 88. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُولُ : إِنَّ يَسِيْرَ الرِّيَاءِ شِرْکٌ، وَ إِنَّ مَنْ عَادَيﷲِ وَلِيًّا، فَقَدْ بَارَزَ اﷲَ بِالْمُحَارَبَةِ. إِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ، الَّذِيْنَ إِذَا غَابُوْا لَمْ يُفْتَقَدُوْا، وَإِنْ حَضَرُوْا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُعْرَفُوْا. قُلُوْبُهُمْ مَصَابِيْحُ الْهُدَي يَخْرُجُوْنَ مِنْ کُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
الحديث رقم 88 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الفتن، باب : من ترجي له السلامة من الفتن، 2 / 1320، الرقم : 3989، والحاکم في المستدرک، 1 / 44، الرقم : 4، 4 / 364، الرقم : 7933، والطبراني في المعجم الصغير، 2 / 122، الرقم : 892، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 548، الرقم : 9049، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 34، الرقم : 49.
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : بے شک معمولی دکھاوا بھی شرک ہے اور جس نے اولیاء اللہ سے دشمنی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ سے اعلان جنگ کیا، بے شک اللہ تعالیٰ ان نیک متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو چھپے رہتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو انہیں تلاش نہیں کیا جاتا اور اگر وہ موجود ہوں تو انہیں (کسی بھی مجلس میں یا کام کے لئے) بلایا نہیں جاتا اور نہ ہی انہیں پہچانا جاتاہے، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں ایسے لوگ ہر طرح کی آزمائش اور تاریک فتنے سے (بخیر و عافیت) نکل جاتے ہیں۔‘‘
737 / 89. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَيُّ جُلَسَائِنَا خَيْرٌ؟ قَالَ : مَنْ ذَکَرَکُمُ اﷲَ رُؤْيَتُهُ وَزَادَ فِي عِلْمِکُمْ مَنْطِقُهُ وَذَکَرَکُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ. رَوَاهُ أَبُوْيَعْلَي وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَنَحْوَهُ أَبُوْنُعَيْمٍ.
الحديث رقم 89 : أخرجه أبو يعلي في المسند، 4 / 326، الرقم : 2437، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 213، الرقم : 631، وأبونعيم في حلية الأولياء، 7 / 46، وابن المبارک في الزهد، 1 / 121، الرقم : 355، وابن أبي الدنيا في الأولياء، 1 / 17، الرقم : 25، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 63، الرقم : 163، والهندي في کنز العمال، 9 / 28، 37، الرقم : 24764، 24820، والحسيني في البيان والتعريف، 2 / 39، الرقم : 994، والزرقاني في شرحه، 4 / 553، والمناوي في فيض القدير، 3 / 467.
’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! ہمارے بہترین ہم نشین کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایسا ہم نشین جس کا دیکھنا تمہیں اﷲ تعالیٰ کی یاد دلائے اور جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔‘‘
842 / 42. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَدْنَي الرِّيَاءِ شِرْکٌ وَأَحَبَّ الْعَبِيْدِ إِلَي اﷲِ تَبَارَکَ وَتَعَالَي الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ الَّذِيْنَ إِذَا غَابُوْا لَمْ يُفْتَقَدُوْا وَإِذَا شَهِدُوْا لَمْ يُعْرَفُوْا أُوْلَئِکَ أَئِمَّةُ الْهُدَي وَمَصَابِيْحُ الْعِلْمِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَاحَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
الحديث الرقم 42 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 303، الرقم : 5182، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 163، الرقم : 4950، وفي المعجم الکبير، 20 / 36، الرقم : 53، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 252، الرقم : 1298، والبيهقي في کتاب الزهد، 2 / 112.
’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : معمولی سا دکھاوا بھی شرک ہے اور بندوں میں سے محبوب ترین بندے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک متقی اور خشیت الٰہی رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو موجود نہ ہوں تو تلاش نہ کیے جائیں اور موجود ہوں تو پہچانے نہ جائیں، وہی لوگ ہدایت کے اِمام اور علم کے چراغ ہیں۔ ‘‘ |
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
733 / 85. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما، قَالَ : سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم عَنْ أَوْلِيَاءِ اﷲِ؟ فَقَالَ : الَّذِيْنَ إِذَا رُؤُوْا ذُکِرَ اﷲُ عزوجل. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَوَثَّقَهُ.
الحديث رقم 85 : أخرجه النسائي في السنن الکبري، سورة يونس، 6 / 362، الرقم : 11235، وابن المبارک في کتاب الزهد، 1 / 72، الرقم : 217، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 10 / 108، الرقم : 105، والحکيم الترمذي في نوادر الأصول، 2 / 39، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 78.
’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اولیاء اﷲ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ (اولیاء اﷲ ہیں) جنہیں دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔‘‘
734 / 86. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيْحُ لِذِکْرِ اﷲِ إِذَا رُؤُوْا ذُکِرَ اﷲُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَابْنُ أَبِي الدُّنْيَا.
الحديث رقم 86 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 205، الرقم : 10476، والبيهقي في شعب الإيمان، 1 / 455، الرقم : 499، وابن أبي الدنيا في کتاب الأولياء، 1 / 17، الرقم : 26، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 78، وَصَحَّحَهُ.
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کنجیاں ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ یاد آجاتا ہے۔‘‘
735 / 87. عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لَا يُحِقُّ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الإِيْمَانِ حَتَّي يَغْضَبَِﷲِ وَيَرْضَيﷲِ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِکَ، اسْتَحَقَّ حَقِيْقَةَ الإِيْمَانِ، وَإِنَّ أَحِبَّائِي وَأَوْلِيَائِي الَّذِيْنَ يُذْکَرُوْنَ بِذِکْرِي وَأُذْکَرُ بِذِکْرِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ.
الحديث رقم 87 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 203، الرقم : 651، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 430، الرقم : 15634، وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 365، وابن أبي الدنيا في کتاب الأولياء، 1 / 15، الرقم : 19، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 152، الرقم : 7789، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 14، الرقم : 4589، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 58.
’’حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہی (کسی سے) ناراض اور اللہ تعالیٰ کے لئے ہی (کسی سے) راضی نہ ہو (یعنی اس کی رضا کا مرکز و محور فقط ذاتِ الٰہی ہو جائے) اور جب اس نے یہ کام کر لیا تو اس نے ایمان کی حقیقت کو پا لیا، اور بے شک میرے احباب اور اولیاء وہ لوگ ہیں کہ میرے ذکر سے ان کی یاد آجاتی ہے اور ان کے ذکر سے میری یاد آ جاتی ہے (یعنی میرا ذکر ان کا ذکر ہے اور ان کا ذکر میرا ذکر ہے)۔‘‘ |
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
729 / 81. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ قَالَ : مَنْ عَادَي لِي وَلِيّاً، فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيِ بِشَيئٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي، يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّي أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحَْبَبْتُهُ : کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِها، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وإنْ سَأَلَنِي، لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي، لَأُعِيْذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيئٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ، يَکْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَهُ مَسَاءَتَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
الحديث رقم 81 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : التواضع، 5 / 2384، الرقم : 6137، وابن حبان في الصحيح، 2 / 58، الرقم : 347، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 219، باب (60)، وفي کتاب الزهد الکبير، 2 / 269، الرقم : 696.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اُس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو اور میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں۔ میں نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی اس طرح متردد نہیں ہوتا جیسے بندۂ مومن کی جان لینے میں ہوتا ہوں۔ اسے موت پسند نہیں اور مجھے اس کی تکلیف پسند نہیں۔‘‘
730 / 82. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اﷲِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَکَانِهِمْ مِنَ اﷲِ. قَالُوْا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟ قَالَ : هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوْا بِرُوْحِ اﷲِ عَلَي غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطُوْنَهَا، فَوَاﷲِ إِنَّ وُجُوْهَهُمْ لَنُوْرٌ وَإِنَّهُمْ لَعَلَي نُوْرٍ، لَا يَخَافُوْنَ إِذَا خَافَ النَّاسُ، وَلَا يَحْزَنُوْنَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ، وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : (أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَآءَ اﷲِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَo). (يونس، 10 : 62). رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
الحديث رقم 82 : أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : البيوع، باب : في الرهن، 3 : 288، الرقم : 3527، والنسائي في السنن الکبري، سورة يونس، 6 / 362، الرقم : 11236، والبيهقي في شعب الايمان، 6 / 486، الرقم : 8998.
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اﷲ تعالیٰ کے کچھ ایسے برگزیدہ بندے ہیں جو نہ انبیاء کرام ہیں نہ شہداء، قیامت کے دن انبیاء کرام علیھم السلام اور شہداء انہیں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ مقام دیکھ کر اُن پر رشک کریں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ ہمیں ان کے بارے میں بتائیں کہ وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ ایسے لوگ ہیں جن کی ایک دوسرے سے محبت صرف اﷲ تعالیٰ کی خاطر ہوتی ہے نہ کہ رشتہ داری اور مالی لین دین کی وجہ سے۔ اﷲتعالیٰ کی قسم! ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور (کے منبروں) پر ہوں گے، انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا جب لوگ خوفزدہ ہوں گے، انہیں کوئی غم نہیں ہوگا جب لوگ غم زدہ ہوں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ’’خبردار! بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے۔‘‘
|
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Jun, 18 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
very nice
|
|
By:
saqib khan,
Karachi
on
Jun, 16 2012
|
|
|
|
|