|
|
| طارق میاں اب آپ مجھ سے میرے لکھے کالم کے اس میں ہی بحث کریں اور لوگوں کو یہاں جواب دیکر گمراہ نہ کرنا وہاں پر بھی آپ سے جواب نہیں بن رہا تو کالم ہی لکھ دیا میرے سوالون کے جواب دیں اور اگر کسی اور کو مزید بحث کو پڑھنا ہو تو میرے اور طارق جی کا اسی موضوع پر مباحثہ ہو رہا ہے اگر کسی کو کچھ سمجھنا ہو تو اس کالم استمداد اور صحابہ کے عمل پر پڑھ لیں |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
چنانچہ ابن کثیر نے لکھا ہے وقد ذكر جماعة منهم: الشيخ أبو نصر بن الصباغ في كتابه "الشامل" الحكاية المشهورة عن لعُتْبي، قال: كنت جالسا عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء أعرابي فقال: السلام عليك يا رسول الله، سمعت الله يقول: { وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا } وقد جئتك مستغفرا لذنبي مستشفعا بك إلى ربي ثم أنشأ يقول:يا خيرَ من دُفنَت بالقاع (1) أعظُمُه ... فطاب منْ طيبهنّ القاعُ والأكَمُ ...نَفْسي الفداءُ لقبرٍ أنت ساكنُه ... فيه العفافُ وفيه الجودُ والكرمُ ... ثم انصرف الأعرابي فغلبتني عيني، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم فقال: يا عُتْبى، الحقْ الأعرابيّ فبشره أن الله قد غفر له یعنی ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ایک جماعت نے عتبی سے مشہور حکایت رویت کی ہے جس کو شیخ ابو نصر بن صباغ نے اپنی کتاب الشامل میں بھی تحریر کیا ہے عتبی نے کہا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور پر حاضر تھا کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا اسلام علیک یا رسول اللہ میں نے اللہ تعالی کا یہ فرمان سنا ہے پھر سورہ نساء آیت ۶۴ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا کی تلاوت کی اور کہا کہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے لئے اور آپ کو سفارشی پیش کرنے کے لئے آیا ہوں پھر اس نے یہ اشعار پڑھے اور چلا گیا عتبی کہتے ہیں کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا پس میں نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عتبی اس اعرابی نے حق کہا اسے جا کر یہ خوشخبری سنا دو کہ اس کی مغفرت کردی گئی ہے حوالہ جات تفسیر ابن کثیر سورۃ النساء آیت ۶۴ تفسیر ثعلبی سورۃ النساء آیت ۶۴ الوسیط لسید طنطاوی سورۃ النساء آیت ۶۴ المغنی لابن قدامہ جلد ۷صفحہ ۴۲۰ امام نووی کتاب الاذکار ص ۱۸۵ طبع مصری تقویم النظر جلد ۲ صفحہ ۷۵۱ مکتبہ الرشد علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی تفسیر مدارک علامہ تقی الدین سبکی نے شفا السقام صفحہ ۶۴ اور شیخ عبد الحق نے جذب القلوب میں صفحہ ۱۹۵ میں اور علامہ بحر العلوم عبد العلی نے رسائل الارکان ص۲۸۰ طبع لکھنو میں نقل کیا ہے عتبی کی حکایت مشہور ہے اور تمام مذاہب کے مصنفین نے مناسک کی کتابوں میں اس کو نقل کیا ہے اور سب نے ہی اس کو مستحسن فرمایا ہے مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں کہ مواہب میں بسند ابو منصور صباغ اور ابن النجار اور ابن عساکر اور اب الجوزی نے محمد بن حرب ہلالی سے روایت کیا کہ قبر میں قبر مبارکہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور زیارت کر کے عرض کیا یا خیر الرسل اللہ تعالی نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ارشاد ہے وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا اور میں آپ کے پاس اپنے گناہوں سے استغفار کرتاہوا اور اپنے رب کے حضور آپ کے وسیلے سے شفاعت چاہتا ہوا آیا ہوں پھر دو شعر پڑھے اور اس محمد بن حر ب کی وفات ۲۲۸ میں ہوئی غرض زمانہ خیر القرون کا تھا اور کسی سے اس وقت نکیر منقول نہیں بس حجت ہوگیا نشر الطیب صفحہ ۲۵۴ نیز اسی طرح کا مفہوم مولانا رشید احمد گنگوہی نے بھی لکھاہے |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
32665- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مَالِكِ الدَّارِ , قَالَ : وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ عَلَى الطَّعَامِ , قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ , فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ , اسْتَسْقِ لأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا , فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلامَ , وَأَخْبِرْهُ أَنَّكُمْ مُسْتَقِيمُونَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْك الْكَيْسُ , عَلَيْك الْكَيْسُ , فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبَكَى عُمَرُ , ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ لاَ آلُو إلاَّ مَا عَجَزْت عَنْهُ. مصنف ابن ابی شیبہ مالک بن دینار جو کہ حجرت عمر کے وزیر خوراک تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک بار لوگوں پر قحط آگیا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ اپنی امت کے لئے بارش کی دعا کیجیے کیونکہ وہ ہلاک ہورہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخس کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ عمر کے پاس جاو ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقینا بارش ہوگی اور ان سے کہو کہ تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے پھر وہ حضرت عمر کے پاس گئے اور ان کو خبر دی حضر ت عمر رونے لگے اور کہا کہ اے اللہ میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں کہ جس سے میں عاجز ہوں منف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر 32665 اس روایت کو حافظ ابن کثیر نے بھی روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ روایت صحيح ہے البدایہ والنہایہ ج۷صفحہ۹۱ دار الفکر بیروت اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس روایت کو صحیح فرمایا ہے اور فرمایا کہ وہ خواب دیکھنے والے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ تھے فتح الباری جلد ۲ صفحہ۴۹۵نشر الکتب اسلامیہ اسی طرح امام طبرانی ایک طویل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی کام سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور نہ اس کے کام کی طرف دھیان دیتے تھے ایک دن اس شخص کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے اس بات کی شکایت کی حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا کہ تم وضو خانہ جاکر وضو کرو اور پھر مسجد میں جاو اوردو رکعت نماز اد اکرو پھر یہ کہو کہ اے الہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روائی کرے اور اپنی حاجت کا ذکر کرنا پھر میرے پاس آنا حتی کہ میں تمہارے ساتھ جاوں وہ شخص گیا اور اس نے اس پر عمل کیا پھر وہ حضرت عثمان بن عفان کے پاس گیا دربان نے ان کےلئے دروازہ کھولا اور انہیں حضرت عثمان بن عفان کے پاس لے گیا حضرت عثمان نے انہیں اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیا اور پوچھا کہ تمہارا کیا کام ہے اس نے اپناکام ذکر کردیا حضرت عثمان نے اس کا کام کردیا اور فرمایا کہ تم نے اس سے پہلے اپنے کام کا ذکر نہیں کیا تھا اور فرمایا کہ جب بھی تمہیں کوئی کام ہو تو تم ہمارے پاس آجانا پھر وہ حضرت عثمان کے پاس سے چلاگیا اور جب اس کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خير عطا فرمائے حضرت عچمان میری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی حضرت عثمان بن حنیف نے کہا بخدا میں نے ان سے کوئی سفارش نہیں کی لیکن ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نےاپنی نابینائی کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس پر صبر کرو گے اس نےکہا یا رسول اللہ مجھے راستہ دیکھا نے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے بڑی مشکل ہوتی ہے تو رسول اللہ نے فرمایا کہ تم وضو خانے جاو اوروضو کرو پھر دورکعت نماز پڑھو پھر ان کلمات سے دعا کرو حضرت عثمان بن حنیف فرماتے ہیں کہ ہم الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی زیادہ باتیں ہوئی تھیں کہ وہ نابینا شخص اس حال میں آیا کہ اس میں بالکل نابینائی نہیں تھی المعجم الکبیر للطبرانی حدیث نمبر ۸۳۱۱ حافظ زکی الدین عبد العظیم نے الترغیب والترہیب میں او رحافظ الہیثیمی نے مجمع الزوائد میں اس حدیث کو بیان کرکے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے بلکہ امام تیمیہ نےکہ جو غیر مقلدین کے امام ہیں اس حدیث کی سند کو فتاوی ابن تیمیہ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳ مطبوعہ با مر فہد بن عبد العزیز آل السعود میں صحيح فرمایا ہے میرے دوست حق واضح ہو گیا ہے اب اگر آپ ان احادیث کا رد پیش کرنا چاہتے ہیں تو صحابہ کے عمل سے رد پیش کیجیے گا کیونکہ آپ کے نزدیک تو صرف صحابہ کی بات و عمل ہی حجت ہے نیز میرے بھائی یہ مت کہنا کہ صحابہ یوں عمل کرتے تھے وغیرہ کیونکہ ایک عمل کرنے سے دوسرے عمل کی نفی نہیں ہوتی خا ص کر وہ عمل کہ جو کسی دوسرے صحابی سے منقول ہو |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
طارق میاں آپ کے بقول آپ کے نزدیک صرف صحابہ کا عمل حجت ہے اور ان کے بعد والوں کا کوئی اعتبا ر نہيں تبھی تو جب بھی ہم کسی محدث یا مفسر کا قول پیش کرتے ہیں تو آپ یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کے صحابہ کا عمل دیکھاو حالانکہ ہم نے جن کے حوالے آپ کو دیے ہو تے ہیں آپ بھی ان کی کتابوں سے اکتساب کرتے ہیں اب جب ہم حوالا جات پیش کیے تو آپ نے انہیں لوگوں کے حوالے دیکر یہ کہا کہ یہ راوی ضعیف ہیں وغیرہ تو پھر ہم نے آپ سے یہ سوال کیا کے اب آپ ان حضرات کی بات کو حضت کیوں مان رہے ہو حالانکہ آپ کے نزدیک ان کی بات حجت نہیں تو آپ نے یہ کہہ کر سوال کو ٹالنے کی کوشش کی کے جناب ہم ان کی بات کو حجت نہیں مانتے ہیں بلکہ ہم کو تو ان سے کسی راوی کے طریق کا علم ہوتا ہے پھر آپ نے اس پر دلیل قرآن کی آیت سے دی جس کے مفہوم ہے کے جب کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تصدیق کر لینی چاہیے تو جناب آپ نے جو دلیل دی ہے اس میں فاسق کی خبر کی تحقیق کا حکم ہے ثقہ اور غیر فاسق کی خبر کی تصدیق کا نہیں کہا گیا ہے تو لہذا میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ اصولیین نے جو احادیث کے قوانین مرتب کیے ہیں وہ کونسے صحابہ یا قرآن سے ثابت ہیں جواب دیں لہذا آپ کے نزدیک تو یہ اصول مسلم نہیں ہونے چاہیے کیونکہ صحابہ سے جو ثابت نہیں پھر اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ جس راوی کو کسی محدث نے مدلس کہا یا یہ کہا کے یہ جھوٹ گھڑتا تھا تو آپ پر لازم ہے کے خبر کی تصدیق کریں لہذا آپ یہ معلوم کریں کے اس نے کس مقام پر تدلیس کی اور جس نے جھوٹ بولا تو کن لوگوں نے بتایا کے یہ شخص جھوٹ بولتا تھا اور یہ خبر دینے والے کیا اس کے ساتھ رہتے تھے اور یہ سچے بھی ہیں یا نہیں اس کی بھی تحقیق کریں بھاگ مت جانا
اور اس اصول کو بھی قرآ ن حدیث سے ثابت کرو کہ اگر کسی شخص کا ایک بار جھوٹ بولنا ثابت ہوجا ئے پھر وہ توبہ بھی کرلے تو اس کی حدیث کو قبول نہیں کیا جاتاہے حالا نکہ شریعت ہی کا اصول ہے کے جب کوئی تو بہ کرلے تو اس کی بات قابل قبول ہے اس کو گواہی پر آپ قیاس مت کرنا کیونکہ گواہی پر قیاس کرنے کے لئے آپ کو قیا س کو بھی ماننا پڑے گا اور اس پر کوئی دلیل بھی دینی پڑے وہ بھی صحابہ سے
بدعت بدعت کرتے ہو اور بدعت کی لغوی اور شرعی تعریف میں ہم جیسوں کو الجھانا چاہتے ہو سیدھے سیدھے بتا کیوں نہیں دیتے ڈر لگتا ہے کیا سچ بولتے اور یہ تو بتاو کے مساجد و ں کو خوبصور ت بنانا کس صحابی سے ثابت ہے اور کیا احادیث میں اس کی ممانعت ثابت ہے یا نہیں ؟ ہم کوتو آئمہ محدثین نے ان احآدیث کی تشریح بیان کردی ہے آپ کو کس نے ان احادیث کی تشریح بیان کی ہے جواب دو؟ طارق جی بقول آپ کے آپ کو ۱۰۰۰ ہجری کے علماء یعنی شاہ عبد الحق اور ملا علی قاری وغیرہ کی یہ بات قابل قبول نہیں کے کونسی حدیث صحيح ہے یا کونسی ضعیف علماء نے اصول بنا دیے ہیں اب یہ کچھ اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے طارق جی اتنی شدت اور غصہ اچھی بات نہیں خیر آپ ہی کے اصول کو ہم تسلیم کر لیتے ہیں اب اس کی روشنی میں آپ بھی کسی حدیث کو ضعیف یا صحیح نہیں کہہ سکتے ہیں نا تو آپ مفسر ہیں اور نہ محدث اب آپ نے جن روایتوں کو ضعیف کہا ہے ان پر مستند علماء محدثین کے حوالے پیش کریں کے انہوں نے کہا ہو کے یہ حدیث ضعیف ہے اگر آپ کے پاس ان کے حوالے نہیں تو آپ کی بات قابل قبول نہیں اب آپ یہ بتا و کے کسی حدیث کو محدث عظیم حافظ ابن کثیر ، حافظ ابن حجر عسقلانی صحیح فرما رہے ہوں جو اتنے بڑے محدث ہوں میں ان کی بات مانو ں یا آپ کی کے جس کو ۱۰۰۰ ہزار حدیثو ں کا بھی علم نہیں ہوگا اور نہ ہی اصول حدیث میں ان کے پائے کے آپ ہیں تو مجھے ان کے توثیق پر اعتماد ہے آپ کی توثیق کی کسی کو حاجت نہیں طارق میاں آپ نے اتنی ساری احادیث جمع کیں اور بھی کئی احادیث استمداد اور وسیلہ کے جواز پر ہیں ان میں سے کچھ کے بارے میں میں نے آپ کو محدثین جن میں ملا علی قاری ، شاہ عبد الحق محدث دھلوی حافظ ابن کثیر جو کے آپ کے نزدیک بھی معتبر ہیں اور امام ابن حجر عسقلا نی کے حوالاجات اپنے کالم میں دیے کے انہوں کے کچھ اھادیث کے بارے میں فرمایا کے یہ صحیح ہیں بلکہ امام ابن تیمیہ نےبھی عثمان بن حنیف والی روایت کی صحت کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی اصول ابن حجر عسقلانی نے تحریر کیا ہے کہ اگر کسی مختلط ۔ یا مدلس یا مستور کی حدیث کا کوئی متا بع یا شاہد مل جائے تو وہ حدیث بھی صحیح ہو جاتی ہیں اس کے علاوہ جب امت کسی ضعیف حدیث کو قبول کرلے تو اس کا ضعف چلا جاتا ہے یہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے النکت میں تحریر کیا ہے اور علامہ سکاوی نے امام شافعی کے حوالے سے بھی اس کو فتح المغیث میں اور امام شافعی نے الرسالہ میں لکھا ہے اس کے علاوہ طارق جی اہل علم و علماء کسی ضعیف حدیث پر عمل کر لیں تو اس کا ضعف ختم ہو جاتا ہے لہذا اتنی ساری رواتیں ہونے اور اہل علم کے عمل سے اور جب خود بڑے بڑے محدثین نے فرمادیا کہ یہ حدیث صحيح ہے تو اب آپ کا انکار بے جا اور ہٹ دھرمی ہے آپ کوئی محدث نہیں آپ نے تو بڑۦ بڑے محدثین کو معاذ اللہ مشرک ٹہرا دیا ہے امام غذالی ، شاہ ولی اللہ ، شاہ عبد الحق ۔ امام نووی اور ملا علی قاریاب میں آپ سے کیا بات کر سکتاہوں کیونکہ جس کو ماننا ہی نہیں اس سے بحث کرنا فضول ہوتا ہے میں آپ کی طرح فارغ نہیں کہ جب چاہا نیٹ پر آکر کتابوں سے آُپ کے بے تکے سوالوں کے جوابات دوں جب اتنے بڑے بڑے محدثین کے جن کو لاکھوں احادیث یاد تھیں لوگ آج بھی ان کے گیت گاتے ہیں وہ اس کو شرک نہیں ٹہرا رہے وہ ان احآدیث کو قابل حجت جا نتے ہیں اور ایک آپ ہیں کے جن کو صرف بخآری کی تمام تو چھوڑیں آدھی کی آدھی احادیث بھی یا نہیں ہونگی جن کے اصول حدیث کا عالم یہ ہوگا کے تما م اصول ازبر بھی نہیں ہونگے میں آپ کی بات مانوں یا محدثین کی |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|