|
|
| جزاک اللہ مفتی صاحب بہت ہی اہم مسائل سہکھنے کو مل رہئے ہیں۔ |
|
|
By:
mohammad sadiq shahid ,
Karachi
on
Mar, 30 2013
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام غضنفر بھائی کسی کی بھی برائی نہیں کرنی چاہیے تو امام صاحب کی برائی کرنا بدرجہ اولی منع ہے اور جو برائی کرتے ہیں وہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں لہذا ایسوں کو سمجھایا جائے۔ دوسرا سوال یہ مجمل اور مبہم ہے کن وجوہات پر کہا جاتا ہے کہ امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اس کی وضآحت فرمادیں اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ امام کی برائی کرنے کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی ہے تو نظریہ باطل ہے امام کی اگر کسی نے برائی کی تو یہ فعل گناہ کبیرہ ہے مگر اس کی وجہ سے اس امام کی اقتداء میں نماز ادا ہوجائے گی |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 16 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب السلام علیکم جواب دینے کا شکریہ مگر دو چیزیں رہ گی ہیں براہ کرم ان کا بھی جواب دے دیں۔ ١۔ اگر امام صاحب مقتدی کی برائی کرتے ہوں تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے۔ ٢۔امام صاحب کے پیچھے کن صورتوں میں نماز نہیں ہوتی۔ کیونکہ لوگ ذرا ذرا سی بات پر کہہ دیتے ہیں ک تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ذرا تفصیل سے جواب دیجئے گا بندہ آپ کا بہت مشکور ہوگا۔ |
|
|
By:
Ghazanfar Ali,
Lahore,Pakistan
on
Jun, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام غضنفر بھائی سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب تکبیر تحریمہ میں آواز بلند تو کرتے ہیں مگر اللہ اکبر کے آخری دو لفظ سنائے نہیں دیتے تو امام کے لئے تکبیرات میں جہر یعنی آواز کو بلند کرنا مسنون ہے فرض و واجب نہیں ہے تو آپ لوگوں کی نماز ہوجاتی ہے البتہ جب امام کا یہ عمل تنفیر عوام کا باعث بن رہا ہے تو امام کو تنہائی میں اس کے مرتبہ و مقام کا لحاظ رکھتے ہوئے احسن انداز میں سمجھا یا جائے کسی بھی مسلمان کی برائی نہیں کرنی چاہیے تو امام کی تو برجہ اولی نہیں کرنی چاہیے مگر کسی نے امام کی برائی کی تو بہرحال اس کی اس امام کے پیچھے نماز ہوجائے گی لیکن اس فعل سے توبہ کرنا لازم ہے اور یہ بات یاد رہے کہ اگر مام نماز میں کوئی ایسا عمل کرتا ہے کہ جس سے عوام اس تشویش میں مبتلاء ہو کہ آیا ہماری نماز ہوتی ہے یا نہیں اور پھر وہ اس بات کو آپس میں کرنے کے بجائے عالم دین یا مفتی سے کریں تاکہ مسئلہ واضح ہو تو یہ غیبت نہیں اور نہ ہی اسے برائی کرنا کہیں گے لیکن آپس میں بلاوجہ امام کی ان باتوں پر تبصرہ کرنا کے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ ضرور امام کی برائی کرنا ہے لہذا بجائے آپس میں باتیں کرنے کے ایسے مسئلہ کو کسی عالم دین یا مفتی سے معلوم کریں |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام عابد بھائی ١۔جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ ٢۔ہیجڑا اس کو کہتے ہیں کے جس میں عورتوں کی سی چال چلن ہو اور بولنے کا انداز بھی عورتوں جیسا ہو یعنی نرم لہجہ ہو یعض لوگ قدرتی ایسے ہوتے ہیں اور بعض بناوٹی تو ایسی بناوٹ ناجائز وحرام ہے البتہ ہیجڑے وہ مرد ہی ہوتے ہیں لہذا وہ تنہا سفر کر سکتے ہیں اور ایک اور قسم ہے جس کو خنثی یا خنثی مشکل یا تیسری جنس بھی کہا جاتا ہے یہ وہ ہو تے کہ جن میں مرد اور عورت دونوں کی علامتیں پائی جاتی ہو ان کی دو شرم گاہیں ہوتی ہیں ایک مرد کی سی اور ایک عورت کی سی یا پھر اس کی کوئی شرمگاہ ہی نہیں ہو نہ مردانہ اور نہ زنانہ بلکہ آگے ایک سوراخ ہو کہ جس سے وہ قضائے حاجت کرتا ہو وہ بھی خنثی ہے اب جو مردانہ عضو سے پیشاب کرئے وہ مرد کےحکم میں ہوگا اور جو زنانہ عضو سے پیشاب کرئے وہ عورت کے حکم میں ہے اور جو دونوں عضو سے پیشاب کرے تو جس سے پہلے پیشاب آتا ہواس کا اعتبار کریں گے اگر مردانہ عضو سے پہلے پیشاب آتا ہو تو مرد کے حکم میں اور اگر زنانہ عضو سے پہلے تو عورت کے حکم میں اورا گر دونوں سے بیک وقت پیشاب آئے یا مردانہ وزنانہ عضو ہی نہ ہو تو پھر بلوغت میں دیکھا جائے گا کہ اب کس کی علامتیں پائی جارہی ہیں اگر مردانہ علامتیں ظاہر ہو مثلا داڑھی نکل آئی تو مرد کے حکم میں اور اگر زنانہ علامتیں ظاہر ہو جہسے پستان ابھر جانا تو عورت کے حکم میں اور اگر دونوں ہی کی علامتیں پائی جائیں تو خنثی مشکل ہے کہ جو نہ مرد کے حکم میں اور نہ عورت کے حکم میں ہے تو عابد بھائی آپ یہ معلومات لے لیجیے گا کہ وہ آیا کہ وہ ہیجڑے ہیں یا خنثی اگر تو وہ ہیجڑے ہیں یعنی صرف عورتوں جیسی چال اور انداز ہے تو ان کے ساتھ کیا تنہا بھی سفر کرسکتے ہیں اور اگر وہ خنثی ہیں تو پھر یہ معلوم کریں کہ وہ خنثی کی کونسی قسم میں ہیں اگر مرد کی علامتیں ہوں اور مرد کےحکم میں ہو تب بھی جا سکتے ہیں اور اگر وہ عورت کے حکم میں ہو یا خنثی مشکل ہو تو وہ ان کے ساتھ نہیں جاسکتے
|
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
مفتی صاحب السلام علیکم ہماریے امام صاحب تکبیر تحریمہ جب ادا کرتے ہیں تو آواز پوری طرح سے نہیں پہچتی چاہے آپ ان کے عین پیچھے ہی کھڑے ہوں۔یعنی اللہ اک تک ہی سنائی دیتا ہے اور یہ حالت سپیکر میں بھی ایسی ہی ہے۔ ایک دو دفعہ انہیں سمجھایا بھی ہے مگر مسئلہ وہیں پر ہی ہے۔ لہذا ایسی حالت میں مقتدی حضرات کی نمازوں پر تو اثر نہیں پڑے گا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امام کی برائی نہ کرو اس طرح ان کے پیچھے تمہاری نماز نہیں ہوتی۔براہ کرم یہ ضرور واضح کردیں کہ کن صورتوں میں امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ اگر امام صاحب اپنے ہی مقتدیوں کی برائی کرتے ہوں تو ایسے امام کے لئےکیا حکم ہے۔ |
|
|
By:
Ghazanfar Ali,
Lahore,Pakistan
on
Jun, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب اسلام علیکم ۔ قرآن شریف یا قرآن شریف کا کچھ حصہ موبائل میں محفوظ رکھنا جائز ہے کہ نہیں جبکہ موبائل ساتھ رکھتے ہوئے آدمی باتھ روم وغیرہ میں بھی جاتا ہے ۔ ٢۔۔ ہیجڑا یعنی خواجہ سرا بظاہر عورت کے مشابع لیکن عمر رسیدہ اپنے چچا زاد بھائی اور چچی کے ہمراہ حج کیلئیے جاسکتاہے کہ نہیں یا اسکے لیئے محرم کے کیا احکامات ہیں ۔ |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
Jun, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
جزاک اللہ مفتی صاحب بہت ہی خوبصورت سلسلہ ہے جس کے ذریعے ہمیں بہت ہی اہم مسائل سہکھنے کو مل رہئے ہیں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو |
|
|
By:
Abu Hanzalah M.Arshad Madani,
Karachi
on
Jun, 09 2012
|
|
|
|
|