|
|
ٹھیک ہے انتظار رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جن اصحاب سے گزشتہ کئی دنوں سے مذاکرہ ہو رہا تھا انھیں پیچھے دھکیل کر پھر ایک نئے شخص سے نئے سرے سے بحث کی جائے۔۔۔۔۔
بہتر تو یہ ہے کہ پہلے اسی آرٹیکل پر پرانے حساب کتاب برابر کئے جائیں ۔۔۔۔۔ پھر مجھ فقیر کو بھی موقع فراہم کیا جائے ۔۔۔۔۔
امید ہے پہلے آپ اسی آرٹیکل پر خود کو کلئیر کرائیں گے ۔۔۔۔ شکریہ ۔۔۔ |
|
|
By:
Kamran Azeemi,
Karachi
on
Jul, 31 2012
|
|
|
|
|
|
|
کامران صاحب، میں چند دن میں ایک کالم لکھ دوں گا جس میں شرک کو قرآن اور سنت سے پوری طرح واضح کر دوں گا انشاء اللہ اور اس پر اگر اپ کے اشکالات ہوئے تو پھر بات کریں گے لنک میں اپ کو بھیج دوں گا انشاء اللہ۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Jul, 25 2012
|
|
|
|
|
|
|
جناب طارق محمود صاحب ،
اسی لئے آپ سے مودبانہ عرض ہے کہ
توحید اور شرک کی مکمل تعریف اقوال اسلاف سے ثابت کردیں۔
کیونکہ جس عنوان پر آپ نے یہ کالم لکھا ہے وہ اسلاف کی طرف سے کی گئی “تفسیر“ کی روشنی میں واضح ہوسکے۔ جواب کا انتظار رہے گا۔ |
|
|
By:
Kamran Azeemi,
Karachi
on
Jul, 18 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم کامران صاحب، میں بھی یہی کہتا ہوں کہ صم بکم عم فہم لا یرجعون۔ مگر میرا کام ہے کہ جہاں قرآن اور سنت کے خلاف کوئی بھی بات ہو وہاں حق کو قرآن اور سنت کے مطابق بیان کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں اور یہ میں اپنی اخری سانس تک کرتا رہوں گا انشاء اللہ، |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Jul, 17 2012
|
|
|
|
|
|
|
امام دارمی نے ابولجوزاء اوس بن عبداللہ سے صحیح اسناد کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے جو کہ ان کتب کی بھی زینت بنی ہیں۔ “ سُنن الدارمی، ج١، ص ٤٣، رقم:٩٣، ۔۔۔ المواہب الدنیا، ج ٤، ص ٢٧٦،۔۔۔۔ شرح المواہب الدنیا، ج ١١، ص ١٥٠، ۔۔۔۔ الشفاء السقام فی زیارتِ خیرالانام، ص ١٢٨، ۔۔۔ الوفاء باحوال المصطفیٰ، ج ٢، ص ٨٠١“ اور یہ تمام کتب علماء عرب و عجم میں اتھینٹک مانی جاتی ہیں نہ کہ “جہلاء“ میں۔
منکرین نے سند مانگی تھی جو کہ انکی فطرت میں شامل ہے پر مانتے پھر بھی نہیں ہیں خیر “ وماتوفیقی االا باللہ“۔ “ابو نعمان نے سعید بن زید سے، اُس نے عمرو بن مالک سے، اُس نے ابولجوزاء اوس بن عبداللہ سے روایت کی ہے“
قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے “الشفاء (١٩:١)“ میں یہ حدیث بیان کی ہے اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے “ الخصائص الکبریٰ ( ٢٨١:٢)“ اور “ مناہل الصفا فی تخریج احایث الشفاء (ص ٣) میں یہ روایت ذکر کرکے لکھا ہے کہ ابن ابی اسامہ نے اپنی “مسند“ میں بکر بن عبداللہ المزنی اور بزار نے اپنی “مسند“ میں عبداللہ بن مسعود سے صحیح اسناد کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے ۔ اس بات کی تائید علامہ خفاجی علیہ الرحمہ اور ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے “الشفاء“ کی شروحات “ نسیم الریاض ( ١٠٢:١) اور شرح الشفاء لملاعلی قاری (٣٦:١) میں بالترتیب کی ہے۔ محدث ابن الجوزی نے بکر بن عبداللہ اور انس بن مالک سے یہ روایت الوفاء باحوال المصطفیٰ ( ٨٠٩:١٠:٢) میں بیان کی ہے علامہ تقی الدین سبکی علیہ الرحمہ نے یہ حدیث الشفاء السقام فی زیارتِ خیرالانام ( ص ٣٤) میں بکر بن عبداللہ المزنی سے روایت کی ہے۔ اور احمد بن عبدالہادی نے “الصارم المنکی (ص: ٢٦٦:٧)“ میں کہا ہے کہ اسکی اسناد صحیح ہیں۔ اور بکر ثقہ تابعین میں سے ہے۔ بزار کی روایت امام ابن کثیر نے بھی “ البدایہ والنہایہ (٢٥٧:٤) میں نقل کی ہے۔
طارق سے یہ سوال ہے کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ کیا اللہ عزوجل نے بتایا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا؟ کیا صحابہ نے بتایا؟ جواب عطا فرما دیں کہ کس نے بتایا؟ |
|
|
By:
Shamim Ahmed,
Karachi
on
Jul, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
| کامران بھائی آپ نے اچھی بات کی طرف مجھے متوجہ کیا میں کوشش کروں گا کہ اب ایسے لوگوں کے منہ نہ لگوں کہ ان کا کام ہی ہم جیسے عام بندوں کو الجھانا اور وقت برباد کرانا ہے اور طارق میاں میں نے آپ نے سوالات کے جوابات دیدئے ہیں اب آپ کو تسلیم نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں برے بڑے محدثین نے ان کو قبول کرلیا اور آپ جیسون نے قبول نہیں کیا اور اس میں میری غلطی نہیں میں اگر گدھے کو کتابیں ُپڑھانا چاہوں تو بھی نہیں پڑھا سکتا کیوںکہ اس میں سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jul, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
میرے بھائی شمیم اور علی رضا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ،
آپ کس بحث میں الجھ گئے ۔۔۔۔۔ جہاں اپنی سمجھ کو ہر ایک کی سمجھ سے بھاری مان لیا جائے ۔۔۔۔۔۔ جہاں گرفت کے ڈر سے ہر “بڑے“ کا انکار کردیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا جہاں اسناد طلبی کی رٹ لگا کر خود کی تیاری کے لئے وقت لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ایسوں سے مباحثہ اور وہ بھی علمی پیرائے میں ۔۔۔۔ تقریبا ناممکن ہے کیونکہ ان میں اصلاح کے تمام پہلووں کو بالائے طاق رکھ کر صرف انا ، ضد ، ہٹ دھرمی و خود پرستی کے عناصر نفس پرستوں کو گھیر لیتے ہیں۔۔۔۔ لہذا گونگے ، بہرے اور اندھے بمصداق قرآن عظیم اہل حق سے اپنے باطل نظریات پر مہر ثبت کرانا چاہتے ہیں جو کہ انشاءاللہ عزوجل انھیں کبھی حاصل نہ ہوسکے گی۔
مسٹر طارق محمود سے صرف اتنی گزارش ہے کہ
١- توحید اور شرک کی مکمل تعریف اقوال اسلاف سے ثابت کردیں۔
کیونکہ جس عنوان پر صاحب مضمون نے اپنا زور آزمایا ہے کم از کم اس کی بنیادی باتیں تو ہم تک پہنچیں۔ امید ہے مایوس نہیں کریں گے۔ شکریہ |
|
|
By:
Kamran Azeemi,
Karachi
on
Jul, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم علی رضا صاحب، آپ جس بات پر بحث میں مجھ سے الجھے ہیں ان کے جواب تو دیں یہاں پر آکر ان صاحب کو تسلی دینا چھوڑ دیں کیونکہ یہ بھی آپ ہی کی طرح جب کسی صحیح حدیث سے دلیل نہ دیں پائیں گے تب یہ آپ کی طرح کھمبا نوچیں گے فلحال ان کو چھوڑ کر آپ میر ے سوال کے جواب دیں تو مہربانی ہو گی جو آج تک آپ نے نہیں دیئے کہیں تو میں یہاں بھی دہرادوں (١) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے استمداد قبر ثابت کرو،یا تابعین اور ائمہ اربعہ کے اقوال پیش کرو۔ جواب نہیں آئے گا قیامت تک اس لیے دوسروں کے درمیان میں کودنا چھوڑ کر اپنے عقائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت کرو۔ اور وہہی جہاں آپ کی اور میری بحث چل رہی ہے۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Jul, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
شمیم صاحب، آپ کی بیان کردہ دونوں روایات ضعیف ہیں میں نے اپنے مضمون “وسیلہ اور ضعیف احادیث میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے اس کا لنک یہ ہے، http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=22994 http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=22589 آپ کو ان دونوں روایات کی مکمل تحقیق اس میں مل جائے گی یہ روایات کسی طرح بھی قابل حجت نہیں ہیں اور اس سے آپ کا یہ زعم ختم ہو جائے گا کہ اماں عائشہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ قبر پرستی تھا۔ اللہ آپ کو اور اپ کے ماننے والے(علی رضا اور دیگر) کو سمجھنے کی توفیق دے آمین۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Jul, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
| جناب شمیم صاحب یہ جو روایات آپ نے بیان کیں ہیں اس کی اسناد بیان کریں اور اگر آپ کے بس میں ہو تو ان پر کبار محدثین کا حکم بیان پیش کردیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Jul, 09 2012
|
|
|
|
|
|
|
:اگر آپکو امّاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بات ہی صرف سمجھ آتی ہے تو ملاحظہ فرمائیں. امام دارمی رحمہ اللہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں ایک سال مدینہ منورہ میں سخت قحط پڑالوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فریاد کی: آپ رضی اللہ تعالٰی عنہانے فرمایا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف پر حاضر ہو کر اس میں ایک روشندان آسمان کی طرف کھول دو تاکہ قبر شریف اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے، (انہوں نے ایسا ہی کیا، خوب بارش ہوئی اور گھاس اُگی اور اُنٹ ایسے فربہ ہو گئے کہ چربی سے پھٹنے لگے، اس سال کو عام الفتق کہتے تھے. (سنن الدارمی، باب مااکرم اللہ تعالی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد موت، ج1، ص 56
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرنے والا مسیلمہ کذاب نے سر اٹھایا. اس کے ساتھ 60 ہزار فوجی تھے. اس جنگ یمامہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور ایک موڑوہ آیاکہ مسلمان سخت مشکل میں مبتلا ہوئے پریشانی میں مسلمانوں کے سپاہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کے لیئے پکارا، ابنِ کثیر جنھیں دنیا محقق تسلیم کرتی ہے، البدایہ والنہایہ، جلد 6، صفحہ 24 پر وہ لکھتے ہیں" اُس وقت اُن صحابہ کرام کا یہ شعار تھا کہ وہ حضور کو مدد کے لیئے پکاررہے تھے" اب مجھے یہ بتائیں کہ صحابہ کرام سے بڑھ کر توحید کو سمجھنے والا اور کون ہو سکتاہے؟ اگر کسی کو مدد کے لیئے پکارنا شرک ہوتا تو صحابہ کرام ہرگز نہ پکارتے، ہاں اتنا عرض کردوں کہ جب ہم کسی سے مدد مانگتے ہیں تو یہ عقیدہ ہونا چاہیئے کہ انھیں جو طاقتیں ہیں وہ اللہ کی عطا سے ہیں، وہ اللہ کی اجازت سے مدد کرتے ہیں |
|
|
By:
Shamim Ahmed,
Karachi
on
Jul, 07 2012
|
|
|
|
|
|
|
| شمیم بھائی آپ نے درست بات کہی ہے مگر دعا کریں کہ خود کو سمجھ دار سمجھنے والے اس کو سمجھ جائیں |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jul, 06 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم شمیم صاحب، آپ کے لیے اماں عائشہ رضی اللہ عنھا اور قتادہ رحمہ اللہ سے بڑھ کر ابن تیمیہ کا قول ہو سکتا ہے میرے لئے نہیں میں امت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل کسی کو نہیں مانتا کیونکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہراست تعلیم لی ہے تو اپ ابن تیمیہ سے سکھیں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے سیکھو گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مردوں سے یا کہہ کر خطاب کیا وہ مخاطب کا صیغہ ہے ندا کا نہیں اپ جن کو یا غوث اعظم کہتے ہو تو بھائی اس جملے کو مکمل تو کرو چلو میں کر دیتا ہوں آپ کہتے ہیں یا غوث اعظم المدد یا رسول اللہ المدد یا خواجہ المدد تو یہ ندا کا صغیہ یا ہے اور وہ مخاطب کا اس کی مثال پیش ہے کہ چاند دیکھنے کی دعا آتی اس کے اخر میں الفاظ ہیں ربناو ربک اللہ “ہمارا اور تیرا رب اللہ ہے“ تو اب اس میں کیا چاند کو پکارتے ہیں یا چاند سنتا ہے نہیں یہ صر ف خطابت کا صیغہ ہے اور یہی ہم قبرستان میں جاکر بولتے ہیں اور جو امام ابن تیمیہ نے کہا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ جو ان کو اللہ سنواتا ہو وہ سن لیتے ہیں اور اللہ ان کو صرف سلام جوتوں کی آواز سنواتا ہےاس کے سوا کچھ نہیں اس لیے قران کی آیات حدیث سے متضاد بھی نہیں ہیں اور مردے اس کے سوا کچھ نہیں سنتے نہ حاجات اورنہ مناجات اس کی دلیل سورہ الاحقاف کی کی آیت ٥ اور ٦ میں موجود ہے اس کو پڑھ لینا۔ تو مردے وہی سنتے ہے جو اللہ سناتا ہے اس کہ علاوہ نہیں۔ تو ان سے مانگنا چھوڑ دو جو تمہاری حاجات نہیں سنتے بلکہ اس سے مانگو جو سب سنتا اور دیتا ہے اور کسی کا محتاج نہیں ہے۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Jul, 06 2012
|
|
|
|
|
|
|
اس سے معلوم ہوا کہ مُردے زندوں سے بھی زيادہ سنتے ہيں اور يہ بھی پتا چلا کہ فوت شدگان کو "يا" کے ساتھ نِداء کرنا شرک نہيں ورنہ نبی کريم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ان کفار کو "يا عتبة يا شعبة" کہہ کر ہرگز نہ پکارتے۔ وہ لوگ غور کريں جو "يا رسول الله، يا على، يا غوث اعظم (صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ، ورضی اللہ تعالی عنہما)" کہنے پر مسلمانوں کو کافر و مشرک کہتے نہيں تھکتے، کہ اب يہاں کيا فتوٰی لگائيں گے؟
يہاں ايک اِشکال پيدا ہوتا ہے کہ پھر ان آيات سے کيا مراد ہے جن ميں کہا گيا ہے: آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم مُردوں کو، قبر والوں کو نہيں سنا سکتے اور قبروں والے سنتے نہيں۔
اولاً يہ سوال تو ان سے پوچھنا چاہيے جو ان آيات سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہيں کہ وہ اس کا جواب ديں کہ کيا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کلام، قرآن اور نبی پاک صلی اللہ عليہ وآلہوسلم کی احاديث آپس ميں متعارض (ٹکراتی) ہيں، اور پھر ان کے امام پر کيا فتویٰ ہوگا، جو يہ فرماتے ہيں کہ بے شک مردے سنتے ہيں، کيا وہ مشرک ہوگيا؟ اور اس کا کلام قرآن سے متعارض ہے؟
اور خوش عقيدہ حضرات کی تشفی کے ليے اس کا جواب يہ ہے:
اولاً: يہ آيات مبارکہ کفار اور ان کے باطل خداؤں کے حق ميں نازل ہوئيں، انہيں مسلمانوں اور خاص طور پر انبياء کرام و اولياء عِظام کی مقدس ذوات پر چسپاں کرنا انتہاء درجہ ظلم اور بے ادبی ہے اور خوارج کا طريقہ ہے کہ جنہوں نے قرآنی آيات پڑھ کر مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکريم پر شرک کا فتویٰ لگايا تھا اور جن کے بارے ميں امام بخاری اپنی "صحيح " ميں حضرت سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول نقل فرماتے ہيں کہ وہ خوارج کو بد ترين مخلوق سمجھتے تھے اور فرماتے کہ يہ وہ لوگ ہيں جو کافروں کے حق ميں نازل شدہ آيات مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہيں۔ (صحيح البخاري، کتاب استتابة المرتدين، باب قتل الخوارج والملحدين…)
ثانياً: قطع نظر اس بات سے کہ يہ آيات کفار کے حق ميں نازل ہوئيں، پھر بھی ان آيات سے اہل قبور کے نہ سننے پر استدلال درست نہيں، آئيے ان آيات کی تفسير منکرین سَماع موتیٰ کے امام ابن تيميہ کی زبانی سنتے ہيں:
ابن تيميہ کہتا ہے:"إنك لا تسمع الموتى"، اے نبی صلی اللہ عليہ وآلہوسلم آپ مردوں کو نہيں سنا سکتے، سے مراد ايسا سننا ہے کہ جسے سننے کے بعد قبول کر ليا جائے اور اس پر عمل کيا جائے، اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ميت کی طرح کہا جو کہ پکارنے والے کا جواب نہيں ديتی، اور کافروں کو جانوروں کی طرح کا کہا، جو کہ آواز تو سنتے ہيں ليکن بات کا مطلب ومقصود نہيں سمجھتے، اور ميت اگرچہ کلام سنتی اور اس کا مطلب سمجھتی ہے ليکن اس کے ليے ممکن نہيں کہ وہ پکارنے والے کا جواب دے سکے اور اس کے امر و نہی کا امتثال کرسکے، ميت کو امر ونہی سے کچھ فائدہ نہيں ہوتا، اسی طرح کافر کو بھی امر ونہی کا کچھ فائدہ نہيں ہوتا اگرچہ وہ خطاب سنتا ہے اور اس کا معنی سمجھتا ہے، جيسا اللہ تعالیٰ نے فرمايا:"ولو علم الله فيهم خيراً لأسمعهم" يعنی اگر اللہ تعالیٰ ان ميں کچھ بھلائی جانتا تو انہيں سنا ديتا۔ (مجموع الفتاوی، کتاب الجنائز، باب زيارة القبور، ج:24، ص:364، دار الوفاء)
اس سے پتا چلا کہ يہاں مردوں سے مراد کافر ہیں اور ان سے بھی مطلقاً ہر کلام کے سننے کی نفی مراد نہيں ہے، بلکہ پند و موعِظت اور کلامِ ہدايت کے بسمعِ قبول سننے کی نفی ہے اور مراد يہ ہے کہ کافِر، مُردہ دل ہيں کہ نصيحت سے منتفع نہيں ہوتے۔ تو اس طرح كی آيات کے معنی يہ بتانا کہ مردے نہيں سنتے بالکل غلط ہے كيونكه صحيح احاديث سے مُردوں کا سُننا ثابت ہے، جيسا کہ ماقبل گزر چکا۔
|
|
|
By:
Shamim Ahmed,
Karachi
on
Jul, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
پھر تو بھئی جنکو مانتے ہو انہیں کی ہی مان لو !!!!!! ابن تيميہ لکھتا ہے کہ صحيحين ميں نبی کريم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم سے روايت ہے کہ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے قبروں والوں کو سلام کرنے کا حکم فرمايا، اور فرمايا : تم لوگ کہو: "السلام عليکم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين…" يہ ان مُردوں سے خطاب ہے اور خطاب اسی سے ہوتا ہے جو سن سکتا ہے۔ (مجموع الفتاوی، کتاب الجنائز، باب زيارة القبور، ج:24، ص:363، دار الوفاء)
|
|
|
By:
Shamim Ahmed,
Karachi
on
Jul, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم شمیم صاحب ، سوره فاطر کی آیت پر غور کریں اس میں مطلق سننے کے تصیح نہیں ہے اماں عائشہ رضی الله عنہا بھی اسی آیت کی بنا پر مردے کے مطلق سننے کی قائل نہیں تھی (بخاری کتاب الجنائز باب عذاب القبر ) اور جن احادیث میں سننے کا تذکرہ ہے ان میں بھی صرف وہی باتیں ہیں جو الله ان کو سنوا دیتا ہے مثلا جوتوں کی آواز تو جو لوگ مردے کی تدفین کے لئے آتے ہیں یا تو وہ کچھ بولتے نہیں ہیں یا وہ سب گونگے ہوتے ہیں نہیں بھائی مردے کو صرف جوتوں کی آواز ہی الله سنوادیتا ہے آنے والے لوگوں کی بات چیت نہیں سنواتا ہے اس لئے وہ صرف جوتوں کی آواز ہی سنتا ہے جیسا قتادہ رحمہ الله فرماتے ہیں کہ جب بدر کے مشرکین مردوں سے نبی صلی الله علیھ وسلم نے کلام کیا تو صرف اس وقت کے لئے ان کو سنوا دیا گیا تھا (فتح الباری حوالہ ایضا تحت الحدیث )تو مردہ ہر بات نہیں سنتا صرف وہی جو الله سنوا دیتا ہے تو اب اپ احادیث صحیح یا صحابہ کےصحیح اقوال سے ثابت کردو مردہ آنے والے کی ہر بات سنتا ہے وہ جو حاجت لیکر آتا ہے مردہ اس کو بھی سنتا ہے اور اس کو پورا کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے اور شرک کی تعریف عمیر سلفی نے بہت اچھی کی ہے اس لئے میں اس سے متفق ہوں اور جس حدیث حافظہ کا اپ نے ذکر کیا ہے وہ معجزات رسول صلی الله علیھ وسلم میں سے ہے اگر اس کو حاجت روائی اور مشکل کشائی پر محمول کیا جائے تو میں نے جو آیات نقل کی ہے ان کا رد ہوتا ہے اس لئے اس کی توجیہ یہی ہے کہ وہ معجزات رسول صلی الله علیھ وسلم میں سے ہے و الله اعلم |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Jul, 02 2012
|
|
|
|
|
|
|
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں پھر انہیں بھول جاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اپنی چادر پھیلاؤ" میں نے اپنی چادر پھیلا دی آپ نے دونوں ہاتھوں سے چُلّو بنا کر چادر میں کچھ ڈال دیا اور فرمایا اسے اپنے اوپر لپیٹ لو، میں نے چادر کو لپیٹ لیا اس کے بعد میں کوئی حدیث نہیں بھولا۔ (بخاری شریف، کتاب المناقب، ج1، ص 514۔۔۔۔۔ مسلم شریف، کتاب الفضائل، ج2، ص 301۔۔۔۔۔۔۔۔ مشکٰوۃ شریف، باب المعجزات، ص535)
|
|
|
By:
Shamim Ahmed,
Karachi
on
Jun, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
| طارق۔۔۔۔ ذیادہ نہیں صرف شرک کی تعریف بتا دیں۔ |
|
|
By:
Shamim Ahmed,
Karachi
on
Jun, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
سوال: کيا مردے سنتے ہيں؟ جواب: کثير صحيح وقوی احاديث اس بات پر دلالت کرتی ہيں کہ بعدِ موت مردے شعور رکھتے ہيں، اور انہيں جو کچھ سنايا جائے وہ اسے سنتے ہيں؟
صحيح بخاري ميں حضرت سيدنا ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:رسول کريم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا:جب ميت کو چارپائی پہ رکھا جاتا ہے اور اسے لوگ اپنے کندھوں پر اٹھا ليتے ہيں، اگر وہ مردہ نيک ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے جلدی آگے ليے چلو، ليکن اگر وہ نيک نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے: ہائے بربادی! مجھے کہاں ليے جارہے ہو؟ اس کی يہ آواز انسانوں کے سوا ہر مخلوقِ خدا سنتی ہے اور اگر يہ آواز انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے (صحيح البخاري، کتاب الجنائز، باب قول الميت وهو علی الجنازة: قدموني)
|
|
|
By:
Shamim Ahmed,
Karachi
on
Jun, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
جزاک اللہ خیرا بھائی طارق محمود صاحب۔ اللہ آپ پر اپنا فضل کرم نازل فرماۓ۔ بھائی علی رضا صاحب، جو اسلوب آپ اپنا رہے ہیں اس کا تجربہ مجھے ہماری ویب پر بارہا ہو چکا ہے۔ یہ مضمون اغلاط سے بھرپور ہے تو ہر غلطی کی نشاندہی فرمائیے تاکہ اس کا جواب دیا جا سکے۔ استمداد کے کالم میں میں نے بھی آپ کی ایک فاش غلطی کی نشاندھی کی تھی کہ آپ نے قران کی ایک آیت سے غلط استدلال کیا ہے جائیے وہاں جا کر اس کو جواب دیجیۓ۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Jun, 08 2012
|
|
|
|
|