|
|
فقہ حنفی کی رو سے غروب آفتاب سے فرض مغرب پڑھنے تک نفل و سنتیں پڑھنا مکروہ ہے مگر فقہ حنفی کے مشہور فقیہ علامہ ابن ہمام صاحب فتح القدیر نے دور کعت خفیف کا استثناء فرمایا ہے لہذا اگر آپ کے علاقہ کی مسجد میں یہ طریقہ رائج ہے تو آپ بھی دو رکعت مختصر سی پڑھ لیا کریں مگر مسجد انتظا میہ کو چاہیے کہ پانچ منٹ کا وقفہ زیادہ ہے اسے دو سے تین منٹ کے دورانیہ میں تبدیل کر لیں نفل اور سنت میں کوئی خاص فرق نہیں علماء بہت سے مقام پر نفل بول کر سنت مراد لیتے ہیں ایسے مقام پر نفل سے مراد یہ ہے کہ جو چیز فرض و واجب نہ ہو اور جب نفل کو سنت کے مقا بل بولا جاتا ہے تو وہاں سنت سے مراد سنن الھدی یعنی سنت موکدہ کہ جس کے ترک کرنے کی عادت بنانا گنا ہ ہے اور نفل سے مراد یہ ہوتا ہے کہ وہ عمل جس کے جس کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر کوئی مواخذہ نہیں
امام بلکہ کسی منفردنمازی کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ درود ابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیرنا چاہیے لیکن اگر امام سلام پھیر دے اور مقتدی نے التحیات مکمل کرلی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بھی امام کے ساتھ سلام پھیر دے درود و دعا نہ پڑھے |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 08 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب اسلام علیکم ۔ یہاں عرب امارات کی تمام مساجد میں مغرب کی آذان کے بعد تقریبا پانچ منٹ کا وقفہ کیا جاتا ہے دو رکعت سنت یا نفل پڑھنے کیلیئے اسکے بعد جماعت کھڑی ہوتی ہے ۔آپ کیا فرماتے ہیں ان دو رکعت کی کیا اہمیت ہے یہ پڑھنی چاہئیں یانہیں نیز یہ کہ سنت اور نوافل میں کیا فرق ہے
سوال ٢ ۔یہاں اکثر امام صابان التحیات کے فورا بعد سلام پھیر دیتے ہیں درود شریف ودعا کو ضروری نہیں سمجھتے لیکن سب ایسا نہیں ہیں چند ایک ہی ایسا کرتے ہیں کبھی پورا بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیےشانکے ساتھ سلام پھیر دینا چاہیے یا اپنی نماز مکمل کر کے کچھ تاخیر کے بعد کیونکہ اسطرح سے کچھ تاخیر تو ضرور ہوتی ہے تو کیا اس سےنماز پر کچھ فرق نہیں پڑیگا۔ |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
Jun, 07 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام عابد بھائی سجدہ تلاوت میں قیام یعنی کھڑے ہونا فرض نہیں ہے بلکہ مستحب ہے لہذا جنہوں نے بیٹھ کر سجدہ تلاوت کیا ان کا سجدہ تلاوت ادا ہوگیا مسنون طریقہیہ ہے کہ کھڑا ہو کر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں جائیں اور تین بار تسبیح یا وہ دعائیں دو احادیث میں وارد ہیں انہیں پڑھیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیں نماز کے علاوہ اگر سجدہ تلاوت کو پڑھا جائے تو فورا سجدہ تلاوت کرنا ضروری نہیں ہے کسی بھی وقت کرسکتا ہے البتہ بہتر یہ ہی ہے کہ اگر وضو ہے تو اسی وقت سجدہ تلاوت ادا کرلیا جائے اور اگر نماز میں آیت سجدہ کی تلاوت کی تو فورا سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے علماء فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کام کے لئے ایک مجلس میں سجدہ تلاوت کی تمام آیات یعنی چودہ سجدہ کی آیات کی تلاوت کرئے اور اسی مجلس میں یہ چودہ سجدے بھی کرلئے اللہ تعالی اس کے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے گا۔
|
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 05 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب اسلام علیکم ۔ میں نے ایک شخص کوکئی بار دیکھا کہ تلاوت قرآن پاک کے دوران سجدہ تلاوت کیلیئے وہ کھڑا ہوا یعنی قیام کیا پھر دو سجدے کیئے اور پھر دائیں بائیں سلام بھی پھیرا۔ اسکے علاوہ کچھ لوگ سجدہ تلاوت کیلیئے کھڑا ہونا ضروری سمجھتے ہیں یعنی قیام کر کے پھر سجدہ کیا جائے اور کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہی سجدہ تلاوت کر لیتے ہیں انکے بفول سجدہ تلاوت کیلئے قیام نہیں ہے ۔برائے مہربانی سجدہ تلاوت کا صحیح طریقہ بتا دیں ۔اور یہ کہ دوران تلاوت سجدہ آجائے تو کیا اسی وقت سجدہ کرنا ضروری ھے یا بغیر کسی وجہ کےتلاوت کلام پاک کے اختتام پر سجدہ کر لیا جائے |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
Jun, 04 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ اعجاز بھائی جواب نمبر۱ :اگر سورۃ الفاتحہ کا اکثر حصہ پڑھنے کے بعد دوبارہ سورۃ الفاتحہ پڑھی تو سجدہ سہو لازم ہے ورنہ نہیں
جواب نمبر ۲: اگر کسی سورت کی کوئی آیت کسی مقام پر جاکر بھول جائے اور یاد نہ آئے تو دوبارہ پڑھنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہاں اگر آیت کو یاد کرنے میں تین تسبیح کا وقفہ ہو جائے تو سجدہ سہو لازم ہوجائے گا اللہ تعالی ہم سب کی بے حساب مغفرت فرمائے اور ہمیں دین اسلام کا حقیقی خادم بنائے آمین |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ عابد بھائی اگر یہ غالب گمان ہو کہ فجر کی سنتیں پڑھنے میں مشغول ہوگا تو جماعت نکل جائے گی تو اس صورت میں جماعت میں شامل ہوجائے اور فجر کے فرض پڑھنے کے بعد فجر کی سنتوں کی قضاء نہیں البتہ اگر پڑھنا چاہتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد پڑھے طلوع آفتاب سے پہلے پڑھنا بالاتفاق ناجائز ہے لہذا فجر کی نماز کے فورا بعد سنتیں پڑھنے کا طریقہ درست نہیں اور گر یہ غالب گمان ہو کہ فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد جماعت میں شمولیت ہوجائے گی اگرچہ کہ قعدہ اخیرہ میں سلام سے پہلے ہو گی تو فجر کی سنتیں پڑھیں البتہ ایسی صورت میں سنتیں اس طرح سے ادا کی جائیں کہ ثنا و تعوذ وتسمیہ نہ پڑھی جائے اور نہ لمبی قرات کی جائے اور رکوع و سجود میں بھی صرف ایک ہی تسبیح پر اکتفاء کیا جائے نیز آج کل عوام کو دیکھا گیا ہے کہ فجر کی جماعت قائم ہونے کے بعد وہ اسی صف میں یا اس کی پچھلی صف میں فجر کی سنتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں یہ جائز نہیں ہے اگر جماعت قائم ہوجائے تو سنتوں میں مشغول ہونا جائز نہیں سوائے فجر کی سنتوں کے اور فجر کی سنتیں مسجد کے باہر کی جگہ پر پڑھے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی ستون کی آڑ میں سنتیں ادا کریں |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
Jun, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
Salam Mufti sahib, kayam main Al hamd parh raha tha tu dirmiyan main bhool gia, ab us na dobara Al hamd sa phir parh kar mukamil kia, aap ke khadmit main sawal ha kia iss sorat main sajda sahaw karna ho ga ya nahain jabke ye sorat faraz ke pehli ya dosree rakat main ho Dosra swal isse trah agar fatha ka bad sorat parh raha tha, bhool gia aur alfaz yad nahain aa raha, tu phir usse sora ko start sa parh kar mukamil kia, aassee sorat main kia hukam ho ga? Jaza ka Allah khair, Allah aap ka ilm,amal aur umer main barkat aata fermai,Ameen
|
|
By:
Ijaz Ahmad Attari,
Jaranwala
on
Jun, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
| محترم مفتی صاحب اسلام علیکم ۔ فجر کی نماز کی سنتیں کتنی اہم ہیں اس کے بارے میں سوال ھے کہ اگر آدمی مسجد پہنچا اور جماعت کسی بھی حصے میں ہورہی ہو تی ہو تو کیا اسکے لئے یہ بہتر ھے کہ وہ جماعت میں شامل ہو جائےاور سنتیں بعد میں اشراق کے وقت پڑھ لے ۔یا ضروری ھے کہ سنتیں پہلے پڑھےاور یہ بھی معلوم ہو کہ بعد میں نماز جماعت سے نہیں ملے گی اور پھر فرض نماز اکیلا پڑھے ۔کیونکہ یہاں پر صرف ہمارے پاکستانی بھائی اسی طرح کرتے ہیں جماعت کی نماز کو چھوڑ دیتے ہیں اور سنتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔اور عرب لوگوں کا معمول ھے کہ تاخیر ہونے کی صورت میں جماعت سے مل جاتے ہیں اور جماعت ختم ہونے کےفورا بعد سنتیں پڑھ لیتے ھیں ۔ھمیں کیا کرنا چائے آپ ہی ھماری راہ نمائی فرمائیں۔ |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
Jun, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
جزاک اللہ فی الدارین۔ دعا مغفرت کی درخواست ہے۔ |
|
|
By:
Abu Hanzalah M.Arshad Madani,
Karachi
on
Jun, 02 2012
|
|
|
|
|