|
|
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ جس کی کوئی رکعت جماعت سے رہ گئی ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ اپنی بقیہ رکعتیں اس طرح مکمل کرئے گا کہ قرات کے اعتبار سے وہ اس کی پہلی رکعت شمار ہوگی اور تشہد کے اعتبار سے رکعتوں کی تعداد کو دیکھا جائے گا اس طرح کہ
ایک رکعت جماعت سے رہ گئی ہوں اور اگر تین رکعتیں امام کے ساتھ پڑھیں تھیں ایک رکعت رہ گئی تھی تو قرات کے اعتبار سے پہلی ہے کہ جس طرح پہلی رکعت میں سب سے پہلے ثنا سبحا نک اللھم پڑھتے ہیں پھر فاتحہ اور سورت ملاتے ہیں تو اب یہ بھی اس رکعت کو اسی طرح پڑھے گا پہلے ثنا ء سبحانک اللھم پڑھے گا پھر فاتحہ و سورت ملائے گا اور تعداد کے اعتبار سے چوتھی ہوگی ۔ کہ تین امام کے ساتھ اور ایک تنہا لہذا چوتھی میں قعدہ اخیرہ التحیات و سلام کے لئے بیٹھا جاتا ہے لہذا یہ بھی بیٹھے گا اور سلام پھیرے گا
جس کی دو رکعتیں جماعت سے رہ گئی ہوں یعنی امام کے ساتھ دو رکعتیں پائی تھیں تو قرات کے اعتبار سے تو پہلی ہی ہے کہ پہلی رکعت میں جو قیام کی حالت میں پڑھتے ہیں یہ بھی پڑھے گا یعنی ثناء وفاتحہ و سورت مگر تعداد کے اعتبار سے تیسری کہ دو امام کے ساتھ پڑھی اور ایک تنہا پڑھی لہذا اب چار رکعت والی نماز میں قعدہ کےلئے نہیں بیٹھے گا بلکہ سیدھا کھڑا ہوجائےگا کیونکہ چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت میں التحیا ت کےلئے نہيں بیٹھا جاتا پھر قیام میں سورہ فاتحہ و سورت ملائے گا کہ جس طرح عام حالت میں دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورت ملائی جاتی ہے کہ قرات کے اعتبار سے دوسری رکعت ہے پھر رکوع و سجود کے بعد التحیا ت کے لئے بیٹھ جائے گا کہ تعداد کے اعتبار سے اس کی چوتھی رکعت مکمل ہوگئی ہے ہاں البتہ اگر یہ تین رکعت والی نماز ہو تو چونکہ تین رکعت والی نماز میں تیسری رکعت میں قعدہ اخیرہ کے لئے بیٹھا جاتا ہے لہذا یہ تیسری رکعت میں ہی بیٹھے گا اور سلام پھیرے گا ۔ جس کی تین رکعت جماعت سے رہ گئی ہوں یعنی امام کے ساتھ ایک رکعت ملی تھی تو قرات کے اعتبار سے پہلی ہے اور تعدا دکے اعتبار سے دوسری اس طرح کہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھی اور ایک ابھی تنہا پڑھی اور دوسری رکعت میں قعدہ اولی میں صرف التحیا ت پڑھنے لئے بیٹھا جاتا ہے لہذا یہ بھی قعدہ اولی میں بیٹھے گا پھر التحیا ت پڑھ کر کھڑا ہو جائے گا اب قرات کے اعتبار سے یہ اس کی دوسری رکعت ہوگی لہذقرات کرے گا اور رکوع و سجود کے بعد بیٹھے گا نہیں کہ تعداد کے اعتبار سے اس کی تیسری ہے لہذاسیدھا کھڑا ہوجائے گاپھر قرات کے اعتبار سے یہ اس کی تیسری رکعت ہے اورفرض نماز میں تیسری و چوتھی میں میں قرات فرض وواجب نہیں لہذا اب اس پر فاتحہ و سورت کو پڑھنا لازم نہیں بلکہ سنت و مستحب ہے پھر قرات و رکوع و سجود کے بعد تعداد کے اعتبار سے یہ اس کی چوتھی رکعت ہے لہذا چوتھی رکعت میں التحیات کے لئے بیٹھا جاتا ہے لہذا یہ التحیات و سلام کے لئے بیٹھے گا اور سلام پھیرے گا |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب اسلام علیکم۔ ایک شخص ایک یا اس سے زیادہ رکعتیں تاخیر سے جماعت میں شامل ھوا ۔امام کے خروج بصنعہ کے بعد وہ اپنی بقیہ رکعتیں پڑھنے کیلیئےکھڑا ھوگاتو کہاں سے پڑھنا شروع کریگا یعنی جماعت سے چھوڑی ھوئی رکعتوں کی تکمیل کس ترتیب سےکرنا ھے تفصیل سے بتائییےگا شکریہ۔ |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
May, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
جزاک اللہ مفتی صاحب آپ کے سلسلوں سے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے آپ اللہ کی طرف سے ہمارے لئے انعام کی مثل ہیں جس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے آپ سے جو بھی مسائل ہمیں سیکھنے کو ملتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں انہیں ہمیشہ یاد رکھنے اوراپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اتنے پیارے سلسلے کو مسلسل جاری رکھنے پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ |
|
|
By:
M.Arshad Madani,
Karachi
on
May, 27 2012
|
|
|
|
|