|
|
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ عابد بھائی میرے نظر سے ایسی کوئی حدیث پاک نہیں گزری ہے جو منع کرتا ہے اس سے حدیث کا حوالہ معلوم کریں وگرنہ اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ اعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ یعنی اے عورتوں تم انگلیوں کے پوروں پر تسبیحات کو شمار کرو کہ بے شک یہ سوال کی جائیں گی اور گویائی عطا کی جائیں گی ۔ بحوالہ سنن ترمذی حدیث نمبر۳۴۰۸ لہذا اس روایت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا بغیر کسی قید کے انگلیوں پر تسبیحات شمار کرنے کا حکم دیا ہے الٹے ہاتھ پر شمار کرنے کی ممانعت نہیں فرمائی لہذا الٹے ہاتھ پر تسبیح کو شمار کرنا جائز ہے جو منع کرے وہ دلیل قائم کرے ۔ |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب اسلام علیکم۔ بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح حساب کرن کیسا ھے اکثر عربوں کا کہنا ھے کہ بائیں ہاتھ سے استنجاء کیا جاتا ھے اسئے تسبیح کرنا جائیز نہیں ۔میں یہ سوچتا ہوں کہ کلام الله توہم دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہیں بائیاں ہاتھ حروف پر بھی مس ہوتاہے وہ منع نہیں تسبیح زبان سے پڑھتے وہ کیوں منع ہے ۔ایک صاحب کہنے لگے کہ حدیث میں بائیں ہاتھ پر تسبیع کرنے سے منع کیا گیاھے ۔کیاایسی کوئی حدیث ھے ۔آپ ہی میری راہنمائی فرمائیں |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
May, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
اسلام علیکم غضنفر بھائی آپ اپنے امام صاحب کو فتویٰ دیکھائیے گا ان شاء اللہ عزوجل وہ بھی مان جائیں گے آپ ahkameshariat@gmail.com پر اپنا سوال تحریر کر کے ای میل کریں آپ ے ایمیل ایڈریس پر فتوی کی صورت میں جواب موصول ہوجائے گا |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
| ہمارے امام صاحب تو کرسی پر نماز پڑھنے والوں کو خود کہہ کر کھڑا کردیتے ہیں۔اب آپ کے کالم کی وجہ سے بات سمجھ میں آگئی ہے مگر امام صاحب کو کیسے سمجھایا جائے تاکہ وہ برا بھی نہ منائیں اس کا حل بتا دیں۔ شکریہ۔ |
|
|
By:
Ghazanfar Ali,
Lahore,Pakistan
on
May, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
Asalam alykom warah matollahe SUBHAN ALLAH Buhat he khoob
|
|
By:
maan,
khi
on
May, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
جواب نمبر ۳ نما زکے دوران اگر چوتہائی ستر تین سبحان اللہ کی کہنے مقدار تک کھلا رہے تو نماز فاسد ہوجائے گی یعنی ٹوٹ جائے گی دوبارہ سے نماز پڑھنی ہوگی ۔ تو بہن اگر چادر سر سے سرک گئی اور سر کا چوتہائی حصہ کھل گیا تو فورا اس کو ڈھانپ لیا جائے کہ اگر تین سبحان اللہ کی مقدار کھلا رہے تو نماز ٹوٹ گئی اور اگر چوتہائی سے کم کھلا ہے یا چوتہائی ستر کھلا مگر تین سبحان اللہ کہنے کی مقدار سے پہلے ہی ڈھانپ لیا تھا تو نما ز ہو گئی ۔
|
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
جواب نمبر ۲ اگر لباس و اسکارف ایسا ہے کہ جس سے ستر چھپا ہوا ہے تو نماز ہوجائے گی اور اگر ایسا لباس پہنا ہوا ہے کہ ہتھیلی کے علاوہ ہاتھ کا کوئی چوتہائی حصہ کھلا ہوا ہے تو اگرچہ اسکارف سے بال و گردن تو چھپ گئے مگر مکمل ستر نہیں ہوالہذا اس صورت میں نماز نہیں ہوگی ۔ اور اگر ہاتھ کا کوئی حصہ کھلا ہوا بھی نہیں ہو تب بھی منا سب یہ ہے کہ چادر پہن کر نماز پڑھی جائے کہ اس میں زیادہ ستر ہے لہذا چادر میں نماز پڑھنا اسکارف میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ جس طرح عورت کو حکم یہ ہے کہ وہ گھر کے سب سے اندورنی کمرے میں نماز پڑھے کیونکہ اس میں زیادہ ستر ہے لہذا اس وجہ سے زیادہ ستر والا لباس پہن کر نما ز ادا کی جائے ۔یعنی چادر اوڑھ کر نماز اد ا کریں
|
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام بہن انسہ جواب نمبر ۱ نماز میں وسواس ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ مختلف سورتوں کو ترجمہ کے ساتھ یاد کرلیں اور نماز کی تسبیحات کا معنی بھی یاد کرلیں پھر جب نماز پڑھنے کھڑی ہوں تو اپنے گناہوں کا تصور اور رب کریم عزوجل کے رحم وکرم پر نظر کرتے ہوئے نماز کی ابتداکریں اور جو کچھ پڑھیں ان الفاظ کے معنی کی طرف متوجہ ہو اللہ کے فضل سے ذہن ادھر ادھر بھٹکنے سے محفوظ رہے گا اورنماز کی حلاوت بھی محسوس ہوگی اور جب بھی نماز پڑھیں توسورتیں بدل بدل کر قرات کیا کریں کہ ایک ہی سورت کو زیادہ بار پڑھنے سے اس کے معنی کی طرف التفات مشکل ہوجاتا ہے نیز جب کبھی بھی کوئی خیال آئے تو فورا ہی اس کو جھڑک دینا چاہیے اس کے علاوہ وسوے اور اس کا علاج نامی رسالے کا مطالعہ مفید رہے گا
|
| |