|
|
| طارق و بابر میاں کچھ مصروفیات و کمپیوٹر کے خراب ہونے کے باعث مجھے انٹر نیٹ استعمال کرنے اور آپ کے اعتراضات کے جوابات دینے کا موقع نہیں ملا بہرحال کچھ دنوں پہلے یہ کمنٹس میں نے پڑھ لئے تھے اب کمپیوٹر ٹھیک ہونے اور وقت میسر ہونے پر میں نے آپ کے اعتراضات کے جوابات دینے کا لئے ایک کالم لکھ دیا ہے اللہ تعالٰی کی رحمت سے امید ہے کہ کل تک اس کو پوسٹ کردوں گا تو آپ اس کو پڑھ کر رجوع فرمالیجیے گا بھائی بات ضد کی نہیں ہے آپ وسیلہ سے دعا نہ مانگو مگر مسلمانوں پر شرک کا حکم تو نہ لگاؤ لہذا میرا آپکو مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ وہ کالم پڑھنے سے پہلے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو دو رکعت نفل پڑھیں اور اپنے لئے اور میرے لئے اور تمام مسمانوں کے لئے دعا خیر کریں اور اتحاد مسلم کی دعا کریں اور حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی گڑگڑا کر دعا کریں اللہ تعالٰی ضرور رحم فرمائے گا آمین میں بھی آپ کے لئے دعا کروں گا اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو ایک بنائے آمیں کاش ہمارے یہ سب اختلافات ختم ہوجائیں |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
May, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
I am very much glad to read all these comments and I am totally agreed with Mr. Babar bhai and bother Mr. Tariq Mehmood. I really appreciate their idealistic approach with the references of Sahi Hadees regarding the subject. Takladeed in a sense of called Orthodox (Follower of establish opinion). According to the Messenger (SAW) of Allah the almighty; NO HADEES IN SAHA-SITTA about the Takleed . Why the Takleed is essential part of life? Yes.. It is absolutely permitted to follow (Takleed) the IMAM-E-AZAM HAZRAT MOHAMMAD SALLAH-O-ALAYHAYWASALAM ONLY.. “CALL THE PEOPLE THOSE HAVE ALREADY READ KALMA-E-HAQ TOAVOID SHIRK AND BIDDAT” Those Muslims who never bother to read the authentic books of Hadees and have curiosity to get some knowledge about the Islamic creeds they are in habit to attend the sermon where they don’t care who are preachers . Whether those preachers are profound and capable to quote some authentic Hadees relating to the subject or just to grab the heart of the audience by speaking articulately and fluently without correct references. Dear brother: peoples are so much sink went to depth of SHIRK and BIDDAT, where they could not even knows better what is right and what is wrong. The basic problems were created by school of thought. Well, it is our duty to bring them in to the right path. Allah the almighty will give courage to all my brothers those who are devoting their part for the sack of one and only Allah the almighty (Ameen).
|
|
By:
Sheikh Mohammad Danish,
Karachi
on
May, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
| باپر صاحب آپ کی موجودگی میں کچھ ڈھارس بندھی ہے کہ اس فورم پر میں اکیلا نہیں ہوں اللہ آپ کو جزاء خیر عطا کرئے۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
May, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
| جزاک اللہ خیرا بھائی طارق محمود اللہ تعالٰی ان دوستوں کو بھی حق پہجاننے کی توفیق عطا فرماۓ۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
May, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
| بھائی نعمان کے کے صاحب یہ سوال کئی بار کیا جا چکا ہے۔ جواب مختصرا سن لیجیۓ وہ یہ کہ میرے امام آعظم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں ان ہی کی اطاعت کرتا ہوں۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان ایسا نہیں ملا کہ جس میں مسلمانون کو کسی ایک امام کی تقلید کرنے کو واجب قرار دیا گیا ہو۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس بارے میں مزید کچھ تبصرہ کرنے کے بجاۓ متعلقہ موضوع پر آپ کے پاس کہنے کو کچھ ہے تو وہ تحریر کیجیۓ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
May, 19 2012
|
|
|
|
|
|
|
| محترم نعمان صاحب میں کسی بات کا برا نہیں مانتا کیونکہ یہ دین کا کام ہے اور اس میں جتنا صبر کیا جائے گا اللہ اتنا ہی اجر دے گا انشاء اللہ، آپ نے پوچھا ہم کس امام کے مقلد ہیں تو میں بابر صاحب اور اپنی طرف سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم صرف امام انبیاء محمد مجتبٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقلد ہیں اور اس کے علاوہ ہر انسان کی بات جو قرآن اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹکراتی ہے اسے نہیں مانتے چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا نہیں ہے اس لئے ہم صرف ان ہی کے مقلد ہیں اگر ان کا کوئی حکم ہے یا ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کوئی عمل ہے تو بتاؤ کہ انہوں نے کیا ان کے اصحاب نے کہاں کسی قبر پر جاکر دعا کی ہے اس لیے ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ کر صرف ایک صحیح روایت پیش کر دو۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
May, 19 2012
|
|
|
|
|
|
|
tariq bhai aur babar tanwer sahab aap kis maktaba e fikar sy taluq rakhty hain? chalo sirif itna btado kis imam ky muqalid hain aap log ya kisi ky nahi? bura many bageer jawab zaror dejega
|
|
By:
Nouman KK,
Tando alayar
on
May, 18 2012
|
|
|
|
|
|
|
| کیا ہوا علی رضا صاحب سورہ الحج کی تفسیر پڑھ لی اب مجھے بتاؤ مفسرین اور محدثین نے یہ واقعہ کیوں نقل کیا ہے کیا وہ یہ مانتے تھے کہ لات منات کی سفارش قبول ہوگی اور نہیں تو پھر اس کی نکیر کیوں نہیں کی ہے ابھی تو میں نے ابن کثیر اور طبری کا حوالہ دیا ہے اب دیگر محدثین کے حوالے نوٹ کرو اور ان میں سے کسی نے بھی نکیر نہیں کی ہے “ مسند بزار رقم ٥٠٩٦، طبرانی الکبیر رقم ٨٣١٦، احادیث المختارہ رقم ٨٤،اب جواب دو کیا جواب ہے اس واقعہ کے بارے میں اس کو کبار محدثین نے نقل کیا ہے کیا شرک سمجھ کرکیا ہے یا جائز سمجھ کر کیا ہے؟ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
May, 17 2012
|
|
|
|
|
|
|
میرے بھائی علی رضا صاحب، آپ کو بڑی غلط فہمی ہوئی ہے جو روایت اپ نے نقل کی ہے اے اللہ کے بندوں میری مدد کرو اس کو امام ہیثمی نے نقل کرکے معروف بن حسان کو ضعیف کہا ہے اور اس مفہوم کی جس روایت کے راوی کو ثقہ کہا ہے اس روایت میں فرشتوں کا ذکر ہے مردہ لوگوں کا نہیں اور اس میں بھی صواب یہی ہے کہ یہ ابن عباس کا قول ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں۔ اور ابن کثیر نے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے اس میں صحابہ کرام میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے اور میں نے صحابہ کرام سے ثابت کرنے کا کہا تھا اور وہ اعرابی صحابی نہیں ہے کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آیا ہے اور کسی اعرابی کا عمل ہمارے لیئے حجت نہیں ہے۔ بھائی طارق اس بارے میں ایک اور بنیادی بات عرض کردوں۔ اس روایت میں لکھا ہوا ہے کہ "ایک اعرابی" آیا۔ یہ کون تھا کہاں سے آیا اس کا نام کیا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں۔ اس کا مطلب یہی ہوا نا کہ وہ شخص مجہول ہے۔ اور مجھول شخص کی کی گي روایت کی کیا حیثت ہوتی ہے ذرا ان فاضل بھائیوں کو سمجھا دیجیے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
May, 16 2012
|
|
|
|
|
|
|
علی رضا صاحب، آپ نے استمداد اولیاء میں میرا کمنٹس کو غور سے نہیں پڑھا ہے اس میں لکھا ہے (صرف اللہ کو پکارو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اب اپ بتاؤ کسی تفسیر کی بات مانی جائے تفسیر صاوی یا تفسیر ابن کثیر اس لیے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی زندگی دیکھی جائے ان میں سے کسی ایک سے بھی کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے کسی قبر پر جا کر اس سے دعا کی ہو یا دعا کی درخواست کی ہو اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل دیکھو تو میں نے آپ کی تفسیر صاوی کے جواب میں یہ لکھا تھا کہ ابن کثیر تو کچھ اور کہہ رہے ہیں اس لیے صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا عمل پیش کرو اور میں شروع سے یہی کہتا آرہا ہوں اور اس میں دلیل بھی لے لو “ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ(صحیح بخاری کتاب المناقب رقم ٣٦٥٠) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا زمانہ بہتر ہے پھر اس کے بعد والوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کے دو ادوار کی ضمانت دی ہے اس کے بعد کو بہتر نہیں کہا ہے اور تو میں اس لے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے حوالے سے دلیل مانگتا ہوں کہ ان کے دور کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر فرمایا ہے اور اپ نے جن کے حوالے دیئے ہیں (١) ملا علی قاری (٢) عبدالحق (٣) اشرف علی تھانوی، یہ سب ١٠٠٠ ہجری کے بعد کے ہیں تو ان کے عمل کی ضمانت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دی ہے۔ اور جس روای کا میں نے ذکر کیا ہے (معروف بن حسان) جو اس حدیث کی سند میں ہے اس کو کبار محدیثن نے ضعیف اور کذاب کہا ہے مثلا امام ہیثمی نے ضعیف ابی حاتم نے مجھول اور ابن عدی نے منکر الحدیث تو کبار محدثین نے اس روای کو ضیعف کہا ہے اور جہاں تک ابن کثیر کا اعرابی والے واقعہ کو نقل کرنے کا تعلق ہے تو میرے بھائی واقعہ نقل کرنے سے نہیں سند سے صحیح ہوتا ہے ایسے بے شمار واقعات اور احادیث ہیں جو محدثین نے نقل کی ہیں مگر صرف ان کے نقل کرنے سے وہ صحیح نہیں ہوتی اور نہ نقل کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان کا عقیدہ ہے مثلا سورہ حج آیت ٥٢ کے تحت تفسیر طبری اور ابن کثیر نے یہ نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شیطان نے یہ الفاظ کہلوائے کہ لات منات کی سفارش قبول ہو گی تو اب اس واقعہ کو نقل کرنا کیا اس بات کی ضمانت ہوگئی کہ یہ امام طبری ،ابن کثیر ، اور دیگر محدثین نے اس کو نقل کیا ہے اور صرف ابن کثیر نے اس پر جرح کی ہے اس کے علاوہ کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے تو بقول اپ کے کبار محدثین اس واقعہ کو مانتے ہیں تو پھر کیا یہ صحیح ہے نہیں میرے بھائی روایت نقل کرنے سے نہیں سند سے صحیح ہوتی ہے اور اپ یہ بتاؤ یہ اصول کس کتاب میں ہے کے علماء کے عمل کرنے سے ضعیف روایت قابل قبول ہو جاتی ہے یہ کس محدث نے اصول بیان کیا ہے اور کہاں یا یہ اپ کی اپنی افتراء ہے جو اس واقعہ کی طرح اپ نے گھڑ رکھی ہے سورہ الحج کی آیت ٥٢ کی تفسیر کا مطالہ ضرور کرنا آپ کو پتا چلے گا کہ روایت کسی نقل سے نہیں سند سے صحیح ہوتی ہے ۔ اور اخر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کوئی ایک بھی روایت پیش کردو جس میں انہوں نے مردہ کی قبر پر جا کر دعا مانگی ہو قیامت تک نہیں کر سکتے کیونکہ میرے صحابہ کرام شرک سے نفرت کرتے تھے۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
May, 16 2012
|
|
|
|
|
|
|
| طارق میاں آپ سے میرے یہ سوالات ہیں آپ ان کے جوابات دیدو گے تو مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا آپ یہ بتاو کہ جنہوں نے اس مسئلہ کو لکھا جائز سمجھ کر لکھا یا شرک سمجھ کر لکھا ؟ دوم یہ کہ جس نے غیر اللہ سے مدد مانگی وہ مشرک ٹھرا یا نہیں ؟ سوم یہ کہ کیا صرف صحآبہ کا عمل ہی حجت ہے ؟ بعد کے مسلمانوں کا عمل حجت ہے یا نہیں اور جنہوں نے اس مسئلہ کو جائز سمجھ کر لکھا تو ان پر کیا حکم ہے اور اگر شرک سمجھا تو ممانعت کہاں لکھی اور حدیث کا انکار کس کبار محدث نے کیا ضعیف پر اگر محدث اور کبار علمائ عمل کریں ممانعت نہ کریں تو ان کا ضعف ختم ہوجاتا ہے |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
May, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
Ali raza aap ny thek frmaya jesa aap ny kaha wesa hi in hon ny kia aur is daleel ka bhi inkar kardia shirk shirk ki mashen mat chao tariq sahab or shirk ky mutalliq kuch jan lo Arshad bhai ky new kalam Momin aur Mushrik? main jakar phr akar shir ki baten karna
|
|
By:
Nouman KK,
Tando alayar
on
May, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
| بھائی جان علماء کا محدثین و مسلمانوں کا عمل حجت ہے اور آپ نے ملا علی قاری والی کے بارے میں نہیں بتایا اور ابن کثیر کو نہیں مانتے تو پھر ان کے حوالے کیوں دیتے ہو اور یہ بتاؤ کہ جس روایت کے بارے میں محدیثین کہیں کہ یہ ضعیف ہے اور پر کئی طرق سے ہو اور علماء عمل بھی کریں تو وہ حسن ہوجاتی ہے جیسے کہ ملا علی قاری نے فرما یا اور حسن حدیث قابل حجت ہے اور آپ اگر اس بات کو نہیں مانتے تو آپ کا کیا اعتبار جو حدیثیں ہم تک پہنچانے والے ہیں اور احآدیث کی اقسام بیان کرتے ہیں وہ خود تو عمل کر رہے ہیں اور ان کی حدیث پڑھنے والا کہتا ہے کہ میں اس حدیث کو نہیں مانتا عجیب بات ہے |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
May, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
| صحیح کہا آپ نے ارشد صاحب باطل چلا جاتا ہے اس لیے آپ نے میری بات کا جواب دینے کے بجائے بات گول مول کر دی حق تو اللہ نے صرف قرآن اور صحیح حدیث میں رکھا ہے اسے من گھڑت واقعات میں نہیں جن کی کوئی سند ہی نہیں ہے۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
May, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
ماشاء اللہ بہت خوب اب واقعی حق کے متلاشی کو جان لینا چاہئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ حق کے آتے ہی باطل چلا جاتا ہے۔ لیکن جس کو ماننا ہی نہیں ہو اس کے لئے حق کی آمد بے کار ہے۔ شاید کے دل میں اتر جائے میری بات۔۔۔۔۔۔
|
|
|
By:
M.Arshad Madani,
Karachi
on
May, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
| اور میں ابن کثیر کو نہیں قرآن اور صحیح حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل کو حجت مانتا ہوں اگر ابن کثیر اس کے مطابق بات کہیں گے تو سر آنکھوں پر وگرنہ ہم قرآن اور صحیح حدیث کو مانے گے تو اپ بھی ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے صحیح حدیث پیش کرو اور تاکہ میں اپ کی بات مان لوں |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
May, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
میرے بھائی علی رضا، اپ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اور امام ہیثمی کے حوالے سے لکھا ہے امام ہیثمی نے اس روایت کے راوی معروف بن حسان کو ضعیف کہا ہے لیجیے عبارت نوٹ کریں “وعن عبد الله بن مسعود أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا انفلتت دابة أحدكم بأرض فلاة فليناد : يا عباد الله احبسوا يا عباد الله احبسوا فإن لله حاصرا في الأرض سيحبسه رواه أبو يعلى والطبراني وزاد : " سيحبسه عليكم " . وفيه معروف بن حسان وهو ضعيف اور دوسری روایت جس کے راوی کہ ثقہ کہا ہے اس میں فرشتوں کا ذکر ہے مردہ لوگوں کا نہیں اور فرشتے زندہ ہوتے ہیں اور دوسری بات یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے صواب یہی ہے کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور جو واقعہ اپ نے ابو منصور کے حوالے سے نقل کیا ہے اس کی سند موجود نہیں ہے اور محمد بن حرب کے حوالے سو جو بیان کیا ہے اس کی سند میں عدی الطائی ہے جو متروک ہے اور جیسا اپ نے خود کہا کے محمد بن حرب ٢٢٨ میں فوت ہوا ہے تو یہ صحابہ کا دور نہیں تھا اس لئے یہ حجت نہیں ہوسکتا ہے اور دوسری بات جب ایک واقعہ ثابت ہی نہیں ہے تو اس کی نکیر کس طرح موجود ہو گی اور اپ نے جن کے حوالے سے کہا ہے کہ فلاں کا اس پر عمل تھا تو ان میں سے ایک بھی صحابی نہیں ہے اور میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ایک عمل بھی پیش نہیں کر سکو گے کیونکہ وہ شرک سے سخت نفرت کرتے تھے۔تو امید ہے بات اپ کو سمجھ ا گئی ہو گی اگر اور حوالاجات چاہیے تو وہ بھی مہیا کر دوں گا انشاء اللہ ۔ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
May, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
| میرے بھائی علی رضا صاحب، اپ کو بڑی غلط فہمی ہوئی ہے جو روایت اپ نے نقل کی ہے اے اللہ کے بندوں میری مدد کرو اس کو امام ہیثمی نے نقل کرکے معروف بن حسان کو ضعیف کہا ہے اور اس مفہوم کی جس روایت کے راوی کو ثقہ کہا ہے اس روایت میں فرشتوں کا ذکر ہے مردہ لوگوں کا نہیں اور اس میں بھی صواب یہی ہے کہ یہ ابن عباس کا قول ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں۔ اور ابن کثیر نے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے اس میں صحابہ کرام میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے اور میں نے صحابہ کرام سے ثابت کرنے کا کہا تھا اور وہ اعرابی صحابی نہیں ہے کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آیا ہے اور کسی اعرابی کا عمل ہمارے لیئے حجت نہیں ہے۔ |
|
|
By:
tariq,
karachi
on
May, 14 2012
|
|
|
|
|