|
|
| آپ نے بالکل حق لکھا اور سچ لکھا۔ ہر قوم کو اپنی سمت کا تعین کرنے کا پورا حق ہے اور ممبئی حملے را اور سی آئی اے کا ٹوپی ڈرامہ تھا جس سے ابھی تک ان دونوں کا منہ کالا ہورہا ہے۔ حافظ صاحب کی کہیں ایک دہشت گرد سرگرمی بھی ثابت ہوجاتی تو ہندی اور امریکی ان پر صرف بھونکنے پر ہی اکتفا نہ کرتے بلکہ کب کا کاٹ بھی چکے ہوتے۔ |
|
|
By:
Asad Jee,
Khanewal
on
May, 08 2012
|
|
|
|
|
|
|
TEHRER KA MAQSOOD BEHTER HY LAKIN ANDAZ QABLE GHOOR HY.KION K SBE HE LOG AGENCY KE MILE BAGAT MAIN AINGE TO BAQE KON BCHA.ULAMA ALLAH KA DEEN PERTE HAIN.HAQEQE MANO ME DEEN K ROH KO JANANE WALE KBE BE DOLAR URO,OR TAQTON K AGE SIR NAGON NAE HOE .JISKE TABINDA MISAL ALLAMA SHAH AHMED NORANE HAIN.HAFIZ SAEED K SIR KE QEMAT LGANE WALE APNE TAREEKH BE AIK NAZER DAIK LAIN. DR ZAHOOR AHMED DANISH NAKYAL DOTHILA AZAD KASHMIR
|
|
By:
DR ZAHOOR AHMED DANISH,
KOTLE AK
on
May, 05 2012
|
|
|
|
|
|
|
حافظ سعيد پر انعام کا اعلان اور امريکی موقف
ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم حافظ سعيد کی جگہ کی تعين کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، اگرچہ، ہم قابل اعتماد معلومات کے ليۓ کوشاں ہيں جس کے نتيجے ميں اسکی گرفتاری يا سزا عمل ميں آۓ اور اسے انصاف کے کٹہرے ميں لايا جاۓ ہم اس بات پر پختہ يقين رکھتے ہيں کہ حافظ سعید نے بمبئ کے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد میں حصہ لياجس کے نتيجےمیں چھ امریکی شہریوں سمیت 160 معصوم افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لہذا، امریکی حکومت کو اپنے شہریوں کے قتل کے ذمہ دار شخص کے خلاف مقدمہ چلانے میں بہت خاص دلچسپی ہے. ہم ان لیڈز کی تحقیقات کرنے کے طرف ديکھ رہے ہيں جو اس اعلان سے پيدا ہونے کی توقع ہيں يہ نوٹ کرنا نہايت ضروری ہے کہ لشکرطيبہ اور جماعت الدعوۃ دونوں تنظیموں پر پاکستان ميں پابندی عائد ہے۔ اس کے علاوہ، حافظ سعید اور ان کی تنظیموں (لشکر طیبہ / جماعت الدعوة) پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت اور ايسے کئی اور قراردادوں کے مطابق پابندياں عائد ہیں۔ جو اقوام متحدہ کی تمام رکن ریاستوں سے ان تنظیموں اور افراد پر پابندی عائد کرنے، ان کے اثاثے منجمد کرنے، ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے، اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکنے کے لئے تقاضہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، پر تشدد انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کرنے پر ہم سب ممالک متفق ہيں. امریکی حکومت لشکر طیبہ اور اس کی قیادت کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے ایک خطرے کے طور پرتصورکرتی ہے ،اور اسی طرح يہ جنوبی ایشیا کے خطے اور امریکہ کے ليے بھی ايک خطرہ ہے۔ ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم، شعبہ امریکی وزارت خارجہ – تاشفين
ای میل : digitaloutreach@state.gov |
|
|
By:
Tashfin Khan,
Columbiana
on
May, 04 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
Allah apko khush rkhe..ameen. bohat umda likha he..
|
|
By:
zai.,
karachi.
on
May, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
zillat o ruswai mil hi is wajah se rahi hai ke hum ne Allah ko chhor dia aur kuffar ke hath mazboot karne men lag gaye Allah hum ko seedha rasta dikhae ameen
|
|
By:
maaroof,
lahore
on
Apr, 17 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
it is very true
|
|
By:
Bilal Ishaq,
sialkot
on
Apr, 05 2012
|
|
|
|
|
|
|
| بہت عمدہ اور ایسا کہ فوری متفق ہونا پڑا |
|
|
By:
Dr Qamar Siddiqui,
Gujranwala
on
Apr, 04 2012
|
|
|
|
|