|
|
MashAllah Haseen sahib ALLAH apki umer Lambi farmaye ap ne mera dil khush kardiya apne jis tarah se wazih likha he me ap ko salam karta ho, nice man just keep doing . Ap apna ye article mujhe send karde me is ko apne risale me lagana chahta ho... Allah Hame sedhi rah ki tofeeq de...Ameeen
|
|
By:
Azmat,
Karachi
on
Jul, 06 2012
|
|
|
|
|
|
|
نہایت ہی محترم ارشد مدنی بھائی وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ آپ بھائیوں کی محبتیں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ رب کریم رؤف الرحیم نے اپنی شان ستاری سے کیسے کیسے نا اہلوں کے عیوب پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ ورنہ اس حقیر نے اییا پذیرائی کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ باقی جہاں تک مخالفین کی بات ہے تو آپ کا تجزیہ بالکل درست ہے اور مجھے بھی یہ توقع ہرگز نہیں کہ یہ لوگ بات چیت کے ذریعے یا دلائل کی بنیاد پر ہمارا موقف تسلیم کر لیں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ شاید اس سعی کی وجہ سے ہمارے وہ بھائی بہن ان لوگوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رہ سکیں جو ان اختلافی معاملات میں خود زیادہ تحقیق نہیں کر پاتے۔ آپ دوستوں کی دعائیں شامل حال رہیں تو شاید ایک دن میدان تحریر میں بھی قدم رکھ ہی لوں، فی الحال تو حوصلہ نہیں پڑتا۔ اپنی دعاؤں میں خصوصی طور پر یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Jun, 04 2012
|
|
|
|
|
|
|
سبحان اللہ احمد بھائی اسلام علیکم میں آپ کو سلام عاجزانہ اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں آپ جیسے لوگوں کی موجودگی سے دل میں بے انتہاء خوشی ہوتی ہے ہر عقیدے پر بہترین جوابات دے رہئے ہیں جہاں اختلافی موضوع دیکھتا ہوں طارق،خالد،ناصر کے تعاقب میں آپ کو پاتا ہوں میرا تجربہ یہ ہے کہ یہ لوگ مانتے نہیں بس اعتراضات کی بارش کرتے ہیں اور جب لاجواب ہوتے ہیں تو چپ ہوکر پتلی گلی ناپتے ہیں آپ کے لئے ناقص مشورہ ہے آپ ان کے تعاقب میں اپنا قیمتی وقت برباد کئے بغیر مدلدل کالمز لکھنا شروع کر دیں۔ اور اگر میں غلط ہوں تو کوئی ایک تجربہ پیش کردیں جس سیہ ثابت ہو کہ فلاں شخص نے اپنے بد عقیدگی سے رجوع کرلیا؟ اللہ آپکا حامی و نصر ہو۔ ان کا مقصد ختم ہوتا جائیگا۔ |
|
|
By:
Abu Hanzalah M.Arshad Madani,
Karachi
on
Jun, 03 2012
|
|
|
|
|
|
|
| ارے ارے عبداللہ صاحب! اتنا جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں جناب۔ جن لوگوں کو میری بات درست محسوس ہوئی انہوں نے اس کا اظہار کر دیا، اگر آپ کو حسین صاحب کا موقف درست معلوم ہوتا ہے تو آپ ان کی تعریف میں بیشک زمین و آسمان کے قلابے ملا دیجئے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اتنی سی بات پر دل نہیں جلایا کرتے۔ |
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
May, 31 2012
|
|
|
|
|
|
|
| ارے ارے عبداللہ صاحب! اتنا جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں جناب۔ جن لوگوں کو میری بات درست محسوس ہوئی انہوں نے اس کا اظہار کر دیا، اگر آپ کو حسین صاحب کا موقف درست معلوم ہوتا ہے تو آپ ان کی تعریف میں بیشک زمین و آسمان کے قلابے ملا دیجئے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اتنی سی بات پر دل نہیں جلایا کرتے۔ |
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
May, 31 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
wah bhai wah ap logo ko sirf apne point ki bat hi nazar ati he halan k Haseen sahib ne jo jawabat diye he me nahe samjhta k koi b yaktarfa faisla kare ga.pura article parh kar pata chalta he k ap itne khilaf q ho or hr koi Ahmad sahib ka shukria ada kar raha he, halan k dono k comments ka baghor study karo to pata chale ga k kya haqeqat he, article dobara paraho tab samjh me ayege ye haqeqt kya he... bat dalil ki bunyad pe howe he, Or dalil to Haseen sahib k mazboot he halan k jo comments k jawabat b osne diye wo b ap k ibarat k mutabiq diye, zra apne comments to dekho swal kya he or jwab kya...bus har sab ko hidayat ki ankhen de....
|
|
By:
Abdullah,
Karachi
on
May, 29 2012
|
|
|
|
|
|
|
نہایت ہی قابل احترام زبیر بھائی! اس حقیر کی آپ نے اوقات سے بڑھ کر پذیرائی فرما دی۔ آپ مجھ گنہگار کے ہاتھ چومنے کی بات کرتے ہیں، میں تو اہل حق کی قدم بوسی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتا ہوں۔ باقی میں نے کیا لاج رکھنی ہے، لاج تو رب ذوالجلال نے اس ناچیز کی رکھی ہے، کہ ایک طرف مخالفین نے خاموشی اختیار کی تو دوسری طرف آپ جیسے بھائیوں کی محبتیں اور دعائیں حاصل ہو گئیں۔ اور کیا چاہیے۔ ویسے آج کل "علم غیب" کے موضوع پر گفتگو چل رہی ہے، دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے راہ مستقیم پر قائم رکھے اور حق بیان کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔ اور رہا لکھنا لکھانا، تو وہ اپنے بس کی بات نہیں، یہ تو محض چند ٹوٹے پھوٹے فقرے بطور تبصرہ پیش کرنے کی جرأت کبھی کبھار کر لیتا ہوں۔ باقی سب آپ بھائیوں کی ذرہ نوازی ہے۔ دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
May, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
جیو احمد بھائی! جیو.... اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آپ نے تو ہم اہلِ حق کی لاج ہی رکھ لی۔ ماشاءاللہ آپ نے بھرپور دلائل اور ثبوتوں کی روشنی میں عید میلادالنبی کی مخالفت کرنے والوں کا رد و ابطال کیا ہے۔ اور اس قدر ٹھنڈے انداز میں مخالف کا جواب دیا ہے کہ آپ کے ہاتھ چومنے کو جی کرتا ہے۔ آپ اپنے تمام جوابات کو مربوط مضمون کی شکل میں ہماری ویب اور دیگر ویب سائٹس پر پوسٹ کردیں، تاکہ مخالفین کا جواب بھی ہوجائے، اور اہلِ حق اہلِ سنّت کے بھولے بھالے نوجوان اہلِ باطل کی گمراہیت سے بچ سکیں۔ اسی طرح آپ دیگر عقائد و معمولات پر بھی لکھیں۔ اللہ نے آپ کو بہت اچھی صلاحیت دی ہے کہ آپ بھرپور استدلال سے مخالفین کو خاموش کرسکتے ہیں اور عام افراد کو بھی بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ اللہ اپنے حبیب کے صدقے آپ کو مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین محمد زبیر قادری (مدیر اعلیٰ مسلک) ممبئی، انڈیا
|
|
|
By:
zubair qadri,
Mumbai, India
on
May, 24 2012
|
|
|
|
|
|
|
| ما شا اللہ احمد بھائی آپ نے بڑے ہی مدلل انداز میں بات کی ہے۔ اور یقینا آپ نے بھی اس سلسلے میں وقت نکال کر مطالعہ بھی کیا ہوگا۔ یقینا آپ نے ساری محنت پیارے نبی کی عظمت و شان کے دفاع میں صرف کی اور مخالفیں کی بدنصیبی کہ انکا وقت رسول اعظم کی شان کو گھٹانے کی کوششوں میں صرف ہوا۔ فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے کہ کون خوش نصیب ہے اور کون بد نصیب۔ اور جو لا حاصل بحث تاریخ کے حوالے سے کی ہے راقم صاحب نے، اسکو یوں ختم کرلینا چاہیے کہ آپ کو جو تاریخ اچھی معلوم ہو آپ اس پر میلاد النبی منالیں ہم سنی تو حقیقت میں سارا سال ہی ہر غمی و خوشی کہ موقع پر محفل میلاد کرتے ہیں۔ یعنی ہم شکر خورے ہیں-ہم شکر کھانے کے مواقع ڈھونڈتے ہی رہتے ہیں۔ شادی ہو تو محفل میلاد، عقیقہ ہو، جالیسواں ہو یا یوم پاکستان ہم میلاد کی محفل سجا ہی لیتے ہیں۔ اور اللہ کی بارگاہ سے پرامید بھی ہیں اللہ بے حد اجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔ کیوں کہ اسی میلاد منانے کی برکت سے آقا کے سب سے بڑے دشمن ابو لہب بھی محروم نہیں رہا تو عاشقآن رسول کیسے ثواب نہ پائیں گے۔ |
|
|
By:
Mujtaba,
Karachi
on
Apr, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
اس کے بعد آپ چند ایک حوالہ جات پیش کر کے لکھتے ہیں
"اس طرح کی حوالہ جات تو میرے پاس بھی ہیں۔ مگر میں نے وقت ضائع نہیں کیا اور آپ ہو کہ مسلسل وقت ضائع کررہے ہو۔۔۔۔"
تو کیا حوالہ جات پیش کرنا آپ کے نزدیک وقت ضائع کرنا ہے؟ حیرت ہے۔ بہرحال آپ نے جو حوالے پیش کیے ان میں سے بعض کتب تک میری فی الحال رسائی نہیں ہے، لہذا ان پر کچھ عرض کرنے سے ابھی قاصر ہوں اور متعلقہ کتابوں کو دیکھنے کے بعد ہی اپنا تجزیہ پیش کر سکوں گا۔ البتہ دو حوالوں پر کچھ عرض کر دیتا ہوں۔
آپ نے شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے لکھا کہ وہ اپنے فتاویٰ میں اس میلاد منانے کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ لیکن آپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کس میلاد کے منانے کی مذمت کرتے ہیں، مزید یہ کہ آپ نے مکمل حوالہ بھی نہیں دیا۔ تو اس سے آپ کا مقصد کیسے پورا ہوا؟ کیونکہ یہی شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں "اگر محفل میلاد کے انعقاد کا مقصد تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو اس کے کرنے والے کے لیے اجر عظیم ہے۔ (اقتضاء الصراط المستقیم۔ 297) اب فرمائیے کہ شیخ ابن تیمیہ کا موقف کس کے موافق ہے؟
اس کے علاوہ آپ لکھتے ہیں کہ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد حنفی علیہ الرحمہ اپنے مکتوبات حصہ 5 میں اس میلاد منانے کی پر زور تردید کرتے ہیں۔ یہاں بھی آپ نے ایک مبہم عبارت لکھ کر دیانتداری کا نہایت عمدہ مظاہرہ کیا ہے۔ میں یہاں حضرت مجدد علیہ الرحمہ کی مکمل عبارت لکھ دیتا ہوں تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے اور حقیقت پورے طور پر عیاں ہو جائے۔ مکتوبات ربانی حصہ ہشتم دفتر سوم مکتوب 72 میں حضرت مجدد کا مندرجہ ذیل قول تحریر ہے
"اچھی آواز سے صرف قرآن مجید اور نعت و منقبت کے قصائد پڑھنے میں کیا حرج ہے۔ منع تو یہ ہے کہ قرآن مجید کے حروف کو تبدیل و تحریف کیا جائے۔ اور مقامات نغمہ کا التزام کرنا اور الحان کے طریق سے آواز کو پھیرنا اور اس کے مناسب تالیاں بجانا جو کہ شعر میں بھی جائز نہیں ہے۔ اگر ایسے طریقہ سے مولود پڑھیں کہ قرآنی کلمات میں تحریف واقع نہ ہو اور قصائد پڑھنے میں شرائط مذکورہ متحقق نہ ہوں اور اس کو بھی صحیح غرض سے تجویز کریں تو پھر کونسی رکاوٹ ہے۔ میرے مخدوم! فقیر کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ جب تک اس دروازہ کو پوری طرح بند نہ کریں گے بوالہوس باز نہ آئیں گے۔ اگر تھوڑا سا ناجائز کرو گے تو وہ زیادہ ہو جائے گا۔ مشہور مقولہ ہے کہ تھوڑی چیز سے زیادہ بن جاتی ہے۔ والسلام"۔
ذرا غور کیجئے، حضرت مجدد کے بقول مذکورہ قباحتیں نہ ہوں تو محفل میلاد میں نہ تو کوئی حرج ہے اور نہ رکاوٹ۔ لہذا آپ علیہ الرحمہ اسے مطلقاً ناجائز و بدعت نہیں کہتے بلکہ ان میں نامناسب باتوں کے شامل کیے جانے کو برا سمجھتے ہیں۔ اور حضرت مجدد کا اس سے منع فرمانا اس کے ناجائز ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس اندیشے کی بناء پر ہے کہ عام اجازت سے بوالہوس لوگ کہیں ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ ایک اور بات عرض کر دوں کہ اگر آپ کو حضرات نقشبندیہ رحمہم اللہ کے طریقہ کار سے کچھ بھی واقفیت حاصل ہے تو حضرت مجدد علیہ الرحمہ کا موقف سمجھنے میں آپ کو کوئی دقت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ کسی سمجھدار شخص سے لحن اور خوش الحانی کا فرق بھی ضرور پوچھ لیجئے گا۔
اب آپ فرمائیے کہ کیا آپ کا موقف حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے موافق ہے یا آپ مطلقاً میلاد النبی کے ناجائز ہونے کے قائل ہیں؟
یہ تو تھا آپ کے پیش کیے گئے دو حوالوں کا مختصر تجزیہ۔ اگرچہ اسی سے آپ کے بقیہ حوالہ جات کی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے، لیکن بلا تحقیق میں ان کے بارے میں فی الحال کوئی رائے نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ راہ ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع ہر اس شخص کے دل میں روشن رکھے جو اس کا متمنی ہے۔ آمین۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
اس کے بعد امام قسطلانی علیہ الرحمہ والے حوالے پر آپ لکھتے ہیں
jo bate apni zikar ki kiya ye b ap karte ho ap logo ki waja se jo takleef logo ko hote he wo mujhe maloom he rastoo ko band karna, parosi ko parehsani ka samna ye kiya he kiya ye melad he???? is waqat huzor k baqi ahadis kahan chali jate hain...?
میں کیا کرتا ہوں کیا نہیں یہ بات اہم نہیں، اور نہ میرا کوئی عمل قابل تقلید ہے۔ اگر میں کچھ غلط کرتا ہوں تو اس کی سزا خود بھگتوں گا (اللہ تعالیٰ ہر برے عمل سے اپنی پناہ میں رکھے)۔ یہاں بات ہو رہی ہے میلاد النبی کے جواز یا عدم جواز کی۔ آپ یہ بتائیں کہ امام قسطلانی علیہ الرحمہ نے جو کچھ لکھا، کیا اس سے آپ اتفاق کرتے ہیں یا اب بھی اپنے بدعت کے قول کو ماتھے کا جھومر بنائے رکھنے پر مصر ہیں؟
پھر ملا علی قاری علیہ الرحمہ کے حوالے کے ذیل میں لکھتے ہیں
barakat ka hosol ta na k logo ko tang karna maqsood ta ....
جی بالکل، لوگوں کو تنگ کرنا ہرگز مقصود نہیں تھا۔ لیکن کیا آپ کو تسلیم ہے کہ حضرت علی قاری علیہ الرحمہ کا میلاد مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے موضوع پر کتاب لکھنا تو بہرحال حصول برکت ہی کے لیے تھا، یا پھر ان کے اس عمل پر بھی آپ قول بدعت ہی کو ہرز جاں بنائے رکھیں گے؟
اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں
khali ye khene se kuch nhe hota kuch to is tarah ka b kar k dekhaw zubani jama kharch apni pas rakho kam aye ga zra is ki trah karne ki try karo...
واہ حسین صاحب! یہ تو آپ نے کمال ہی کر دیا۔ ذرا غور کیجئے اپنے الفاظ پر۔ آپ نے لکھا "کچھ تو اس طرح کا بھی کر کے دکھاؤ" اور آخر میں لکھا کہ "ذرا اس کی طرح کرنے کی ٹرائی (کوشش) کرو"۔ آپ کا یہ دعوت دینا خود ہی ثابت کرتا ہے کہ اگر یہ کام کیے جائیں تو پھر محافل میلاد پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ دیکھئے آپ ہی کے الفاظ ہیں، اور وہ بھی لکھے ہوئے، کوئی زبانی جمع خرچ نہیں۔ چنانچہ ان سے مکرنا اب عقلی طور پر آپ کے لیے ممکن نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان الفاظ کے لکھنے پر ضرور آپ کا جی دیواروں سے سر ٹکرانے یا اپنا چہرہ نوچنے کو چاہ رہا ہو گا، لیکن جناب یہ الفاظ کمان سے نکلے ہوئے اس تیر کی طرح ہیں جس کی واپسی ممکن نہیں ہوا کرتی، لہذا اب صبر کیجئے۔
ایک بات اور عرض کر دوں، میرے پیش کیے گئے حوالہ جات میں سے ہر ایک میں "امر" کا ثبوت تو ہے ہی، ساتھ ہی کئی ایک "اعمال" کا بھی جائز ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ انفرادی طور پر جس جس عمل کے بارے میں آپ چاہیں، میں گفتگو کرنے پر تیار ہوں۔ اور اس انتظار میں ہوں کہ حسب وعدہ آپ میری بات کو تسلیم کرتے ہیں یا پھر آپ کا ذوق سلیم (ہوائے نفس) آپ کو کچھ اور ہی دعوت دیتا ہے۔
اس کے بعد آپ فرماتے ہیں
in sari dalilon ko apne pas rakho q k apka ye pesh karna or is k khilaf karna hamare liye dalil nahe ban sakte ...
wo pesh karo jis tarah ap karte ho os k muwafiq ho.
ab b smjh nahe aye to dobara puch lena koi masala nahe...
حسین صاحب! آپ جس قلبی اذیت سے اس وقت گزر رہے ہیں مجھے اس کا پورا احساس ہے۔ لیکن حضرت اتنا طیش میں آنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ شدید غصہ تو اچھے بھلے سمجھدار انسان کی مت مار دیتا ہے، اور آپ کی ذہنی حالت تو پہلے ہی کچھ زیادہ قابل رشک نہیں۔ لہذا دماغ کو ذرا ٹھنڈا رکھیے۔ اور میرے عمل کو چھوڑیے، آپ میلاد کے جواز یا عدم جواز پر بات کیجئے۔ یہ بتائیے کہ جن بزرگوں کا میں نے حوالہ دیا، اگر ان کے طریقے پر میلاد کی محافل منعقد کی جائیں تو پھر آپ کا کیا موقف ہو گا؟
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
اس کے بعد فرماتے ہیں
wah janab wah me jo jwab ta wo to ap ne mazaq me urha liya zara apni kitabain to dekho os me pata chale ga na k ye deen ka hissa he ya nahe, mera matlab ye ta k ap zra ik sal na manaw to pata chale ga k ye deen ka hissa he k nahe...tajob he ap ultha jawab dene k bajaye ye kehna k tuhmat ki saza he ?? apsos ki bat he..
حسین صاحب، جواب کے نام پر جو مذاق آپ نے کیا تھا، کیا اس کے بعد آپ کوکسی سنجیدہ بات کی توقع کرنی چاہئے؟ ویسے مجھے لگا تھا کہ یہ جو ایک سال میلاد نہ منانے والی انتہائی مضحکہ خیز دلیل آپ نے پیش کی، اس پردل ہی دل میں آپ کو خود بھی شرمندگی محسوس ہو رہی ہو گی، لیکن شرمندگی کجا، آپ نے اسی بات کو دوبارہ دہرا کر مجھے حیران ہی کر دیا۔ بلکہ میرے لیے تو ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میری بات مانئے، کسی سے اس بات کا ذکر نہ کر دیجئے گا، ورنہ سب ہی ہنسیں گے۔ اور یہ بھی کس قدر عجیب ہے کہ ایک طرف تو اپنی بے پناہ مصروفیت کی دہائیاں دی جاتی ہیں، اور دوسروں سے توقع یہ کہ وہ آپ کی بات کے ثبوت کے لیے سال بھر انتظار کریں۔ فیاللعجب۔ دوسری بات یہ کہ میں نے اپنی کافی کتابیں دیکھ رکھی ہیں، لیکن مجھے تو ابھی تک کسی ایک سے بھی یہ ثبوت نہیں ملا کہ میلاد ضروریات دین سے ہے۔ چونکہ دعوی آپ نے کیا تھا، بلکہ باقاعدہ الزام دھرا تھا، تو اصولی طور پر اس کا ثبوت پیش کرنا بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے، اور اگر ثابت کرنے میں ناکام رہیں تو اسی کو کہتے ہیں جھوٹی تہمت لگانا، جس کی یقیناً شریعت مذمت کرتی ہے۔ تو جناب، کف افسوس ملنا بند کیجئے اور لائیے ثبوت اگر سچے ہیں، ورنہ قبول کر لیجئے کہ آپ کا یہ الزام یا تو محض کم علمی کی وجہ سے تھا یا پھرصریح جھوٹ۔
اس کے بعد آپ فرماتے ہیں
apki pesh kardo dalil aphi k khilaf jarahe hain ahmad shaib zra dekho k ap logo k han kya hota he ye chezain hote hain jo ap ne likha he ?????? hargiz nahe q k qumqume lagana, zor zor se dhun wali music k sath bare deghon me naten chalana jalse ki shakal me jana waghera kiya ye ap k liye dalil ban sakte hain???
حسین صاحب، مقام تو رونے کا ہے لیکن مجھے اس پر بھی ہنسی آ رہی ہے، اور ہنسی بھی ایسی شدید کہ آنکھوں سے بے اختیار پانی چھلک پڑے۔ کیا میں نے یہ دلیل "میوزک" کے ساتھ کی جانے والی نعت خوانی وغیرہ کے حق میں دی تھی؟ بلکہ میں نے تو کئی مرتبہ یہ کہا ہے کہ محفل میلاد میں اگر کوئی نامناسب عمل کیا جائے تو میں بھی اس کی تائید نہیں کرتا۔ اور یہ دلیل تو میں نے مطلقاً میلاد (یعنی امر) کے حق میں دی تھی، اور وہ بھی آپ کے پرزور اصرار پر، تو پھر یہ میرے خلاف آخر کس طرح جاتی ہے؟ اب آپ یہ بتائیں کہ اگر محفل میلاد میں اجتماع، تلاوت قرآن، حیات طیبہ کے واقعات کا بیان وغیرہ ہو، جیسا کہ حضرت سیوطی علیہ الرحمہ فرما رہے ہیں، تو کیا اس صورت میں محفل میلاد آپ کے نزدیک جائز ہو گی، یا تب بھی آپ بدعت ہی کی رٹ جاری رکھیں گے؟
پھر آپ میرے ایک اور حوالے پر اس طرح اظہار خیال فرماتے ہیں
ratoo sadqa waghera k ihtimamm waqiaat kiya yahi ap k han hota hain??? zra greban me jhnkho...
میں تو اپنے گریبان میں جھانک ہی لوں گا، آپ صرف یہ بتا دیجئے کہ صدقہ اور وہ دیگر امور جن کی نشاندہی شیخ محقق علیہ الرحمہ نے کی، کیا ان کو آپ جائز سمجھتے ہیں یا پھر آپ کی تان اب بھی بدعت پر آ کر ہی ٹوٹے گی؟ آپ کے جواب کے بعد میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ بھی اپنے گریبان میں جھانکیں اور ایک انتہائی کریہہ منظر کا لطف اٹھائیں۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
اس کے بعد آپ فرماتے ہیں
( kiya ye deen se ziyada waqif te ya hum ???) is ka jwab me do martaba de chuka ho agar ap zara ghor or tori c muzahmat karte to achi bat te chalo me khud dobara bata deta ho q k mujhe pata he agli martaba ye sawal duhraya jata ...
حسین صاحب، غور تو میں بارہا کر چکا، البتہ "مزاحمت" نہ کر سکا کیونکہ میرے علم میں نہیں تھا کہ "مزاحمت" بھی بات کو سمجھنے کا کوئی طریقہ ہوا کرتا ہے۔ اور ہاں، جب تک آپ واضح جواب نہیں دے دیتے، سوال کے دہرانے کے خدشے سے کیسے خود کو آزاد کر سکتے ہیں؟
پھر فرماتے ہیں
is ibrat ka mtlab he k hum ziyada deen se waqif hain ya sahaba karam ( raziyallah) or tabyeen.... or maqsad is ka ye ta k wahan se sabit nbahe to ap kese karte ho.. agar ab b samjh me nahe aye to dobara puch lena koi masla nahe...
بلاشبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان دین سے زیادہ واقف تھے۔ لیکن جو حضرات آج یہ کام کریں ان کا یہ ہرگز دعوی نہیں کہ ان کا یہ عمل دین سے زیادہ واقف ہونے کی بناء پر ہے۔ چنانچہ دین سے واقفیت کے تقابل کا تو کوئی سوال ہی نہیں تو پھر آپ کا یہ طرز استدلال کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ ہاں، اگر آپ صرف اتنا کہیں کہ چونکہ انہوں نے یہ عمل نہیں کیا لہذا اب بھی نہیں ہونا چاہئے، تو یہ ایک مناسب صورت بنتی ہے بحث کی۔ اس پر میں نے عرض کیا تھا کہ آپ صراحت کے ساتھ بیان فرما دیں کہ آپ کے نزدیک ہر وہ عمل مطلقاً ناجائز و بدعت ہے جو ان حضرات نے نہیں کیا، اور اس میں کسی بات کی کوئی تخصیص نہیں۔ لیکن جواب ہنوز ندارد۔ تو پھر فیصلہ کیونکر ممکن ہے اور وقت کے ضیاع کا شکوہ کرنا کس قدر بے معنی؟
herat he yar ap dhoka dene k liye kehna k mera jawab nahe diya zara apni ibarat jis k neche me ne ye jawab diya ta dobara parho phir mera jwab parho to samjh aye ga na jab parhte hi nahe to khak samjh me aye ga.. ap ka swal ta k ap apna muqif pesh karo to me ne pesh kiya ab kis chez ka izhar chahiye ???? khair ap ka ye kehna to baja he q k ap ko ye dekh bara dukh howa hoga k jawab to mila magar hamare muwafiq nahe to sun lo k me apni mawafiq jwab donga na k ap k muwafiq...
جی محترم، آپ کی نصیحت کے مطابق میں نے دوبارہ، بلکہ کئی بار پڑھا، لیکن یقین کیجئے بار بار پڑھنے کے باوجود بھی خاک سمجھ میں نہیں آیا۔ مثلاً آپ نے لکھا تھا کہ
deen e islam hame sahaba k tawasut se mila he wo hamare liya mashale rah he, jb hum koi chez k sobot dhonte hain to sab se pehle Quran , phir Hadis, phir Sahaba k adwar me, phir isi trah taibyen k adwar me, agar ab ik chez hamare pas hain to hum in sab Quran, Hadis, Sahaba waghera k adwar me dekhte q k ye hamare liye mashail e rah he....
یہ تھا آپ کا جواب۔ آپ نے جو لکھا کہ صحابہ کرام یا تابعین کا دور یا عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے، تو یہ بات تو میں بھی جانتا ہوں اور اس پر تو میرا کوئی سوال ہی نہیں، بلکہ درحقیقت میرا سوال تو شروع ہی اس کے بعد ہوتا ہے۔ یعنی اگر کسی کام کا ثبوت خیر القرون میں بعینہ نہ ملے تو کیا آپ جھٹ سے اسے بدعت قرار دے ڈالیں گے؟ اس بات کی وضاحت تو ہنوز باقی ہے جناب اور درحقیقت اسی کا تو اظہار مطلوب ہے۔ کچھ آیا سمجھ میں؟ لہذا جان لیجئے کہ دھوکہ میں نے نہیں، بلکہ آپ کی فہم نے آپ کو دیا۔ دوسری بات یہ کہ میں آپ سے ہرگز نہیں کہتا کہ آپ میرے موافق جواب دیں۔ بلکہ میری تو آپ سے انتہائی مودبانہ گزارش ہے، بلکہ منت سماجت ہے، بلکہ لیجئے میں چشم تصور میں آپ کے پیر پکڑ کر انتہائی عاجزی سے عرض گزار ہوں کہ خدا کے واسطے آپ اپنے موافق ہی اپنا نظریہ بیان کر دیں، لیکن کم از کم بیان تو کریں۔ یہ نہیں کہ سوال گندم، جواب چنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
اس کے بعد آپ اپنی ہی ایک عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں
ye meri ibarat te magar pata nahe q ap ko samjh me nahe aye magar is ka jawab nahe mila q k me janta hon k ap k pass dalil nahe magar bat ko apne dosri taraf pher diya likin koi masala nahe ap k oper udhar he.... jawab k muntizir rahonga..
گزارش یہ ہے حسین صاحب کہ ایک ہوتا ہے قاعدہ یا قانون، اور ایک ہوتا ہے عمل یا نظریہ۔ اور اصول یہ ہے کہ قاعدے یا قانون کی روشنی میں عمل یا نظریے کا حکم بیان کیا جاتا ہے۔ آپ نے ایک قاعدہ ذکر کیا کہ جو کام خیر القرون میں نہیں ہوا وہ آپ کے نزدیک حجت نہیں۔ چنانچہ آپ کے مطابق اس قاعدے کی روشنی میں میلاد کا اہتمام جائز نہیں۔ میرا کہنا ہے کہ اسی قاعدے کی روشنی میں ایام شیخین کا اہتمام بھی منع ہونا چاہئے اور آپ کو اس کا اقرار کرنے میں کسی قسم کا تردد نہیں ہونا چاہئے۔ اس سے پتا یہ چلے گا کہ آپ کے ہاں جس طرح قاعدے اور قانون کا اطلاق دوسروں پر ہوتا ہے، اسی طرح خود آپ حضرات پر بھی ہوتا ہے اور آپ کو اس سلسلے میں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ کیا آپ اتنی سیدھی سی بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں؟ اور یہ جو فرما رہے ہیں کہ اس طرح بات دوسری طرف پھر جاتی ہے یا اصل مقصد فوت ہوتا ہے، تو حسین صاحب، اس طرح مقصد فوت نہیں ہوتا بلکہ شاید آپ ہی کے کسی نظریے کی موت واقع ہوتی ہے، لہذا یہ بظاہر چھوٹی سی بات اب تک آپ کے گلے کی پھانس بنی ہوئی ہے اور ایک سادہ سے سوال کے جواب کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ادھار مجھ پر ہے، شاباش ہے آپ پر بھی۔ اور ہاں، اگر ابھی تک صرف ایک عمل کے بارے میں رائے دینے سے آپ قاصر ہیں، تو جناب اس کے بعد جو ایک لمبی فہرست ہے ان افعال کی جو اس قاعدے کی رو سے ناجائز ٹھہرتے ہیں، ان کا جواب تو آپ سے قیامت تک نہ ہو سکے گا۔
اس کے بعد آپ اپنی ایک اور عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں
ye meri ibarat he socha ap ko to apni ibarat samjh nahe ati chalo apne ibarat se ap ko smjhaw.... me ne sobot manga ta apne bat ko gool mool kardi magar afsoos k sath k waqat k ziya ap kar raho...phir ye kehna k samjhne wale samjh jaye ge is se bat hal nahe hote ap pesh karo jo mera maqsood he magar mujhe maloom he k pesh karna ap k bas ki bat nahe sirf lafazi se kam liya jaraha he zara mere waqt ka khiyal rakho me itna farigh nahe jitna ap idhar udhar bat ko le ja zaye karehe ho...
اس کج بحثی کا میں کیا جواب دوں؟ میں تو صرف دعا ہی کر سکتا ہوں۔ ویسے آپ کا یہ کہنا بھی خوب ہے کہ آپ کا مقصود پیش کرنا میرے بس کی بات نہیں۔ جناب، اگر آپ کی مراد اس سے میلاد کا ثبوت ہے تو وہ تو میں اپنی تحریر میں علمائے اسلام کے حوالے سے پیش کر چکا۔ البتہ اگر آپ کا "مقصود" کچھ اور ہے تو وہ بھی بتا دیں تاکہ مجھے بھی پتا چلے کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟ اور ہاں، روز روز اپنی مصروفیت کے یہ قصے مجھے سنانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مجھے اس کی کوئی پروا ہے۔ ایسی ہی وقت کی قلت ہے تو بند کر دیجئے یہ سلسلہ، آپ کو کوئی مجبور تھوڑا ہی کر رہا ہے اس بے سر و پا گفتگو پر۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
جناب حسین صاحب! آپ فرماتے ہیں کہ
wah ahmad sahib wah, her bar ik hi bat karna mera swalon ka jawab nahe diya to kiya jo me ne ap ki ibarat pe tajziya kiya he kiya ye me ne kahi or se uthaye he.is liye to me ne ap ki ibarat naqal karta ho ta k ap ko shak na hojaye k pata nahe kaha se utaya he...
ارے حضرت ناراض کیوں ہوتے ہیں؟ میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ نے کسی ایک بات کا بھی جواب نہیں دیا۔ بلکہ صورتحال یہ ہے کہ میرے بعض سوال اب تک جواب طلب ہیں اور بعض کے جوابات یا تو ادھورے ہیں یا پھر بالکل ہی لاتعلق، کیونکہ آپ کا محض میری عبارت نقل کر دینا کافی نہیں، جب تک کہ آپ کا جواب اس عبارت کے مطابق نہ ہو۔ اگر آپ کو اس میں شک ہے تو ساری بحث کا دقت نظری سے مطالعہ فرما لیں، اور پھر بھی تشفی نہ ہو تو مجھے حکم دیجئے گا، میں بتا دوں گا۔
پھر آپ فرماتے ہیں
ahmad sahib apna falsafa apne sath raho kisi or moqe pe kam aye ga....alfaz ko ulat pulat kar pesh karne se asal maqsood hasil nahe hota baraye mehrabani jo asal maqsod he os ki taraf aw me barha keh chuka ho k jo maqsood e asli he os pe bat ki jaye to acha he magar har dafa waqat k zaya hone k ilawa kuch nahe milta or pir tanqeed b mujh pe k ap waqat zaya karte ho...q ap k ibarat pe tajziya karna ye waqat ka ziya he to phir kiya kare or ye k ye ziya ap k han se mere han nahe bul k mere han to waqat ka ziya ap karte ho likin khair asal maqsod ki taraf ate hain....jis se ap pata nahe q door bhagte ho...
حسین صاحب! میں جب آپ کی کسی بات پر اعتراض اٹھاتا ہوں، یا تنقید کرتا ہوں تو باحوالہ بات کرتا ہوں اور ان باتوں کی نشاندہی کرتا ہوں جن پر تنقید کرنا مقصود ہوتا ہے۔ آپ کو میری جس عبارت پر اعتراض ہے اس کی نشاندہی کریں اور اپنا اعتراض پیش کریں، یوں بے پر کی اڑانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس طرح کی اندھا دھند تنقید میں بھی کر سکتا ہوں، لیکن یوں بے بنیاد باتیں کرنا میرے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ خیر، اپنا اپنا طریقہ ہے۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
علامہ عبدالرحمن مغربی اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں کہ میلاد منانا بدعت ہے۔ (الشرعہ الالھبہ)
علامہ احمد بن محمد مصری مالکی لکھتے ہیں کہ چاروں مذاہب کے علما اس عمل میں میلاد کی مذمت پر متفق ہیں۔ (القول المعتمد)
علامہ ابن امیر لکھتے ہیں کہ مجلس میلاد بدعت ہے۔(مدخل ابن الحاج ج 1) مزید یہ کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ حنبلی نے اپنے فتاوی ج 1 اور امام نصیر الدین شافعی نے رشاد الخیار ص 20 اور حضرت الف ثانی شیخ احمد حنفی نے اپنے مکتوبات حصہ 5 میں اس میلاد منانے کی پرزور تردید کی ہے۔
اس طرح کی حوالہ جات تو میرے پاس بھی ہیں۔ مگر میں نے وقت ضائع نہیں کیا اور آپ ہو کہ مسلسل وقت ضائع کررہے ہو۔۔۔۔
اللہ ہمیں صحیح راہ پے چلنے کی توفیق دے۔۔ امین mujhe ap k jawabat ka intizar rahe ga |
|
|
By:
Haseen,
Karachi
on
Mar, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
(9۔ امام جلیل جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع، تلاوت قرآن، حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات طیبہ کے مختلف واقعات اور ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے) apki pesh kardo dalil aphi k khilaf jarahe hain ahmad shaib zra dekho k ap logo k han kya hota he ye chezain hote hain jo ap ne likha he ?????? hargiz nahe q k qumqume lagana, zor zor se dhun wali music k sath bare deghon me naten chalana jalse ki shakal me jana waghera kiya ye ap k liye dalil ban sakte hain???
(۔ شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی ولادت با سعادت کے مہینہ میں محفل میلاد کا انعقاد، تمام عالم اسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ اس کی راتوں میں صدقہ خوشی کا اظہار اور اس موقع پر خصوصاً آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی ولادت پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خصوصی معمول ہے)
ratoo sadqa waghera k ihtimamm waqiaat kiya yahi ap k han hota hain??? zra greban me jhnkho....
(شارح بخاری امام محمد قسطلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ربیع الاول چونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت با سعادت کا مہینہ ہے لہذا اس میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات اور اچھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں۔ خصوصاً ان محافل میں آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی میلاد کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ عزوجل کی رحمتیں حاصل کرتے ہیں۔ محفل میلاد کی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر اپنا فضل و احسان کرے جس نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے میلاد مبارک کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض ہے۔ (المواب الدنیہ۔ جلد1، صفحہ) jo bate apni zikar ki kiya ye b ap karte ho ap logo ki waja se jo takleef logo ko hote he wo mujhe maloom he rastoo ko band karna, parosi ko parehsani ka samna ye kiya he kiya ye melad he???? is waqat huzor k baqi ahadis kahan chali jate hain...? (یجئے حسین صاحب! میں نے یہاں اہل حق سے 12 ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ اگر نظر انصاف سے دیکھا جائے تو قبول حق کے لیے یہ 12 ہی کافی و وافی ہیں، اور ضد کا علاج 12،000 سے بھی نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کاذوق سلیم آپ کو کس طرف مائل کرتا ہے) khali ye khene se kuch nhe hota kuch to is tarah ka b kar k dekhaw zubani jama kharch apni pas rakho kam aye ga zra is ki trah karne ki try karo... (ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری فرماتے ہیں کہ تمام ممالک کے علماء اور مشائخ محفل میلاد اور اس کے اجتماع کی اس قدر تعظیم کرتے ہیں کہ کوئی ایک بھی اس کی شرکت کا انکار نہیں کرتا۔ ان کی شرکت سے مقصد اس مبارک محفل کی برکات کا حصول ہوتا ہے) barakat ka hosol ta na k logo ko tang karna maqsood ta ....
in sari dalilon ko apne pas rakho q k apka ye pesh karna or is k khilaf karna hamare liye dalil nahe ban sakte ... wo pesh karo jis tarah ap karte ho os k muwafiq ho.
ab b smjh nahe aye to dobara puch lena koi masala nahe....
|
|
By:
Haseen,
Karachi
on
Mar, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
wah ahmad sahib wah,her bar ik hi bat karna mera swalon ka jawab nahe diya to kiya jo me ne ap ki ibarat pe tajziya kiya he kiya ye me ne kahi or se uthaye he.is liye to me ne ap ki ibarat naqal karta ho ta k ap ko shak na hojaye k pata nahe kaha se utaya he... ahmad sahib apna falsafa apne sath raho kisi or moqe pe kam aye ga....alfaz ko ulat pulat kar pesh karne se asal maqsood hasil nahe hota baraye mehrabani jo asal maqsod he os ki taraf aw me barha keh chuka ho k jo maqsood e asli he os pe bat ki jaye to acha he magar har dafa waqat k zaya hone k ilawa kuch nahe milta or pir tanqeed b mujh pe k ap waqat zaya karte ho...q ap k ibarat pe tajziya karna ye waqat ka ziya he to phir kiya kare or ye k ye ziya ap k han se mere han nahe bul k mere han to waqat ka ziya ap karte ho likin khair asal maqsod ki taraf ate hain....jis se ap pata nahe q door bhagte ho...
(ap apne ibarat pe khud ghor karo k meri ap se bat horahi he milad pe, os pe dosron ka qol pesh karna k wo log b to is tarah karte hain waghera ye bat munasib nahe he q k asal maqsad fot hota he,ap se sobot manga ta k wo log ziyada qreb te agar milad itna iham hota to mujhe yaqeen he k wo zaror os ko karte, magar unho ne nahe kiya matlab sirf ye he pata nahe ap meri ibarat ko q nahe samjh rehe...)
ye meri ibarat te magar pata nahe q ap ko samjh me nahe aye magar is ka jawab nahe mila q k me janta hon k ap k pass dalil nahe magar bat ko apne dosri taraf pher diya likin koi masala nahe ap k oper udhar he.... jawab k muntizir rahonga..
(zara tawaja do me ne kaha ta in hazarat ne ye kam nahe kiye ,,, ye alg jumla he phir me ne kaha k ap sobot do me man jawanga magar afsos k ap haq bat ki taraf ane k bajaye ibarat ko idhar udhar kar rehe ho, chalo me likh deta ho ap in kamo ka sobot do ya milad ka sobot do me man jawnga ....) ye meri ibarat he socha ap ko to apni ibarat samjh nahe ati chalo apne ibarat se ap ko smjhaw.... me ne sobot manga ta apne bat ko gool mool kardi magar afsoos k sath k waqat k ziya ap kar raho...phir ye kehna k samjhne wale samjh jaye ge is se bat hal nahe hote ap pesh karo jo mera maqsood he magar mujhe maloom he k pesh karna ap k bas ki bat nahe sirf lafazi se kam liya jaraha he zara mere waqt ka khiyal rakho me itna farigh nahe jitna ap idhar udhar bat ko le ja zaye karehe ho...
( kiya ye deen se ziyada waqif te ya hum ???) is ka jwab me do martaba de chuka ho agar ap zara ghor or tori c muzahmat karte to achi bat te chalo me khud dobara bata deta ho q k mujhe pata he agli martaba ye sawal duhraya jata ... is ibrat ka mtlab he k hum ziyada deen se waqif hain ya sahaba karam ( raziyallah) or tabyeen.... or maqsad is ka ye ta k wahan se sabit nbahe to ap kese karte ho.. agar ab b samjh me nahe aye to dobara puch lena koi masla nahe...
( me ne apna muqif likha ta magar shayed apne parha nahe... me naye andaz me bata deta ho k deen e islam hame sahaba k tawasut se mila he wo hamare liya mashale rah he, jb hum koi chez k sobot dhonte hain to sab se pehle Quran , phir Hadis, phir Sahaba k adwar me, phir isi trah taibyen k adwar me, agar ab ik chez hamare pas hain to hum in sab Quran, Hadis, Sahaba waghera k adwar me dekhte q k ye hamare liye mashail e rah he....ye mera muqif he age ap pe k ap is ko kis tarah smjhte hain.) herat he yar ap dhoka dene k liye kehna k mera jawab nahe diya zara apni ibarat jis k neche me ne ye jawab diya ta dobara parho phir mera jwab parho to samjh aye ga na jab parhte hi nahe to khak samjh me aye ga.. ap ka swal ta k ap apna muqif pesh karo to me ne pesh kiya ab kis chez ka izhar chahiye ???? khair ap ka ye kehna to baja he q k ap ko ye dekh bara dukh howa hoga k jawab to mila magar hamare muwafiq nahe to sun lo k me apni mawafiq jwab donga na k ap k muwafiq...
( سبحان اللہ۔ بہت ہی خوب۔ تو گویا اب آپ کے موقف کی حقانیت جاننے کے لیے مجھے ایک سال انتظار کرنا پڑے گا، اور اگر میں اگلے سال میلاد نہیں مناتا تو اچانک مجھ پر وہ تمام پوشیدہ راز عیاں ہو جائیں گے جن کا اظہار آپ کے لیے آج ممکن نہیں۔ کیا شاندار طریقہ ہے اپنے نظریے کو ثابت کرنے کا، اور کیسی صحیح، صریح، قطعی، ناقابل ردّ دلیل پیش فرمائی آپ نے۔ میں تو عش عش کر اٹھا۔ اور یہ جو فرمایا کہ بات میری نہیں ہو رہی بلکہ میری جماعت کی ہو رہی ہے، تو جناب میری جماعت سے کوئی صریح مستند حوالہ بھی پیش فرما دیجئے کہ میری جماعت اس کو دین کا حصہ یا لازم شرعی سمجھ کر کرتی ہے۔ اور اگر آپ ایسا نہ کر سکیں تو پھر اپنی جماعت سے پوچھ لیجئے گا کہ جھوٹا بہتان باندھنے والے پر شریعت مطہرہ میں کیا حکم بیان ہوا ہے؟ امید کرتا ہوں کہ اپنے اس دعوے کو ضرور بالضرور ثابت کریں گے اور حسب معمول اسے بھی گول نہیں کر جائیں گے۔) wah janab wah me jo jwab ta wo to ap ne mazaq me urha liya zara apni kitabain to dekho os me pata chale ga na k ye deen ka hissa he ya nahe, mera matlab ye ta k ap zra ik sal na manaw to pata chale ga k ye deen ka hissa he k nahe...tajob he ap ultha jawab dene k bajaye ye kehna k tuhmat ki saza he ?? apsos ki bat he...
|
|
By:
Haseen,
Karachi
on
Mar, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
پھر آپ فرماتے ہیں کہ:
bara zabardast falsafa he apka me kehraha ta k jin chezon k behas se taluq nahe ose darmiyan me la kar waqat sarf karne ki zarorat nahe.or me ne jo likha he k ye bahas se kharij se to oski me ne wazahat b kardi k q kharij he...
میں آپ کی بات سے پوری طرح متفق ہوں، واقعی غیر متعلقہ باتوں کو درمیان میں لا کر وقت برباد نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یہ پابندی صرف میرے لیے نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کا اطلاق کسی حد تک، بلکہ اگر گستاخی پر محمول نہ فرمائیں تو، یکساں طور پر آپ پر بھی ہونا چاہئے۔ چنانچہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں ایک چیز کے بارے میں بات نہ کروں، تو آپ اس پر سوال بھی نہ کیا کیجئے، کیونکہ بعد میں کی گئی وضاحت اس سلسلے میں کارآمد نہیں ہوتی۔ مزید برآں، اگر ثابت ہو جائے کہ ایک چیز کا تعلق موضوع کے ساتھ بنتا ہے تو پھر اس پر اظہار خیال کرنے میں پس و پیش بھی نہیں ہونا چاہئے۔
آخر میں جو فرمایا کہ اگر سمجھ میں نہیں آتا تو میں دوبارہ پوچھ لوں اور آپ ہر وقت جواب کے لیے تیار ہیں، تو اس شفقت بے پایاں پر آپ کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔ بلکہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ آپ کی اس وسعت قلبی پر آپ کو خراج تحسین پیش کر سکوں۔ خوش رہئیے۔
واللہ الہادی والمستعان
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 11 2012
|
|
|
|
|
|
|
7۔ امام الحافظ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میلاد اور اذکار کی محافل جو ہمارے ہاں منعقد ہوتی ہیں، اکثر خیر پر ہی مشتمل ہیں کیونکہ ان میں صدقات، ذکر الٰہی اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ درود و سلام عرض کیا جاتا ہے۔ (فتاوی حدیثیہ ۔ 129)
8۔ ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری فرماتے ہیں کہ تمام ممالک کے علماء اور مشائخ محفل میلاد اور اس کے اجتماع کی اس قدر تعظیم کرتے ہیں کہ کوئی ایک بھی اس کی شرکت کا انکار نہیں کرتا۔ ان کی شرکت سے مقصد اس مبارک محفل کی برکات کا حصول ہوتا ہے۔ (المورد الروی فی المولد النبوی )
9۔ یہی ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری فرماتے ہیں کہ میرے مالی وسائل ایسے نہیں کہ میں میلاد کے موقع پر لوگوں کی مہمان نوازی کر سکوں۔ مگر میں میلاد کے موضوع پر کتاب لکھ رہا ہوں تاکہ لوگ رہتی دنیا تک اس سے سیراب ہوتے رہیں۔ اور اس کتاب کا نام انہوں نے المورد الروی فی المولد النبوی رکھا۔
10۔ امام نصیر الدین ابن الطباح علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص شب میلاد اجتماع، صدقہ و خیرات اور خرچ کرے اور ایسی روایات صحیحہ کے تذکرے کا انتظام ہو جو آخرت کی یاد کا سبب بنیں، اور یہ سب کچھ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کی خوشی میں ہو، اس کے جواز میں کوئی شبہ ہی نہیں اور ایسا کرنے والا مستحق اجر و ثواب ہوتا ہے، جب اس کا ارادہ ہی محبت اور خوشی ہو۔ (سبل الہدی ۔ جلد1، صفحہ441)
11۔ امام جلال الدین الکتانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کا دن نہایت ہی معظم، مقدس اور محترم و مبارک ہے۔ آپ علیہ الصلوۃ و السلام کا وجود پاک اتباع کرنے والے کے لیے ذریعہ نجات ہے۔ جس نے بھی آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اس نے اپنے آپ کو عذاب جہنم سے محفوظ کر لیا۔ لہذا ایسے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا اور حسب توفیق خرچ کرنا نہایت مناسب ہے۔ (سبل الہدی ۔ جلد1، صفحہ441)
12۔ شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی ولادت با سعادت کے مہینہ میں محفل میلاد کا انعقاد، تمام عالم اسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ اس کی راتوں میں صدقہ خوشی کا اظہار اور اس موقع پر خصوصاً آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی ولادت پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خصوصی معمول ہے۔ (ما ثبت من السنہ ۔ 102)
لیجئے حسین صاحب! میں نے یہاں اہل حق سے 12 ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ اگر نظر انصاف سے دیکھا جائے تو قبول حق کے لیے یہ 12 ہی کافی و وافی ہیں، اور ضد کا علاج 12،000 سے بھی نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کاذوق سلیم آپ کو کس طرف مائل کرتا ہے۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Mar, 11 2012
|
|
|
|
|