جہد مسلسل

(Syed Asif Jalal, Faisalabad)

اس کی عمر اس وقت اٹھارہ برس تھی، وہ اپنی کلاس کے طالبعلموں کے ساتھ گرجا گھرمیں بیٹھا بظاہر تو لیکچر سن رہا تھا لیکن درحقیقت اس کی نظر گرجے کے ہال میں لٹکے لیمپ پر تھی، لیکچر ختم ہوا طلبا اور پادری ہال سے باہر آئے لیکن یہ اپنی سیٹ پر بیٹھا اس لیمپ کے مشاہدے میں مصروف عمل تھا ، وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور ایک بینچ پر چڑھ کر لیمپ کو ہلایا جس سے اس کا جھولاو کم ہو گیا‘دراصل وہ اس مشاہدہ میں مگن تھا کہ ہال میں لٹکے ہوئے لیمپ کے جھولاو سے اس کی رفتار پر کیا اثر پڑتا ہے، اس نے جھولاو کے فاصلہ کی رفتار کم کی تو لیمپ کے لیمپ کی رفتار بھی کم ہو جاتی، لیکن جونہی اس نے لیمپ کی فاصلہ زیادہ کیا اس کی رفتار بھی بڑھ گئی، اس سے اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ لیمپ کے جھولاو کا وقت ایک مستقل شے ہیں جس پر جھولاو کے فاصلہ کے کم یا زیادہ کرنے کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔

گللیو گللی ۱۵ نومبر ۱۵۶۴ ؁ میں اٹلی کے شہر پیسا میں پیدا ہوا.اس نے پہلی بار پینڈولم کے متعلق یہ مشہور قانون دریافت کیا کہ پینڈولم کے جھولاو کا عرصہ ایک مستقل شے ہے جس پر جھولاو کی لمبائی اور چوڑائی کا کوئی اثر نہیں پڑتا، گلیلو نے پینڈولم کے متعلق یہ دریافت ایسے وقت میں کی جب اس کی عمر محض ۱۸ سال تھی اور وہ یونیوورسٹی میں طب کا طالبعلم تھا۔

محترم قارئین معاشروں کی ترقی کا انحصار ایسے اذہان پر ہوتا ہے جو کہ ملکی و قومی ترقی کے لیے اپنی زندگیاں تحقیق ، غور و فکر اور معاشرتی فلاح میں صرف کی، تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی اجتہاد ، فکر و تدبر، اور تشکیکاتِ کائنات اور علمی میدانوں میں جدوجہد کو اپنا شیوہ بنایا اللہ تعالیٰ نے انہیں انکی محنت کا صلہ دیا اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا، آج مغرب میں سائنسی ایجادات کا دور ہے، ان کی ان سائنسی ایجادات کی بنیاد انہی مفکرین نے کیا ، اور اُن کے اسلاف کی عنایت کر دہ بنیادی نظریات پر انہوں نے شایان شان عمارت قائم کر دی ہے، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عسکری سیاسی، سماجی، اور معاشی حوالے سے ہمارے معاشروں یا ممالک سے آسودہ حال ہیں۔اقبال نے کیا خوب کہا:
بھلا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو ان خطوط پر استوار کریں جس کے ذریعے طلباکے اندر تحقیق اور اکتشافات کا جذبہ پیدا ہو اور اپنی جہان عالم میں وہ تحقیق کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں، ہمارے ہاں قابلیت کی فقدان ہر گز نہیں بس ضرورت ایسے تعلیمی ماحول کی فراہمی کی جس سے ملک کے طلبا اپنے صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ایک کارآمد شہری اور ایک محب وطن پاکستانی بن سکیں۔

For read my weekly Column Visit on http://sadaemuslim.blogspot.com
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
04 Aug, 2011 Total Views: 214 Print Article Print
About the Author: Syed Asif Jalal

i am a Muslim.. View More

Read More Articles by Syed Asif Jalal: 6 Articles with 1431 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB