امریکی سفارت خانے میں ایک مکروہ تقریب

(Naghma Habib, Peshawar)

پاکستان حالت جنگ میں ہے یہ جنگ خود ہمارے حکمرانوں کی منتخب کردہ ہے جو اسے بڑے زور و شور سے اپنی جنگ قرار دیتے رہے اور آخر کار اسے اپنا لیا۔ یہ جنگ ہم گزشتہ ایک دہائی سے لڑ رہے ہیں اور مسلسل جانوں کی قربانیاں دی جارہی ہیں شہری آبادی بھی اور فوجی بھی سب جنگ کی نذر ہورہے ہیں ۔ لیکن یہ تو صرف ایک محاذ ہے۔ دشمن طاقتیں کئی محاذوں پر برسرپیکار ہیں اُس نے پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی بھرپور کوشش کی اگر چہ وقتی طور پر کامیاب بھی ہوا لیکن خدا کا شکر ہے کہ وہ مذہبی خانہ جنگی نہ چھیڑ سکا ۔ کرپشن کو اُس نے یوں پھیلا یا کہ ہمارا ہر راشی جرم کرکے مغربی ممالک میں پناہ لے لیتا ہے ۔اِن طاقتوں نے امریکی چھتری تلے دہشت گردوں کی ہر قسم کی مدد جاری رکھی ہوئی ہے۔ اِن ساری جنگوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی جنگ بھی زور وشور سے لڑی گئی اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے بھی پاکستان پر دبائو ڈالا گیا۔ آئی ایم ایف کے جال میں پاکستان کو جکڑا گیا اور یوں حکومت اس کی خواہشات کے عین مطابق ٹیکسز اور مہنگائی سے عوام کی کمر توڑنے میں مصروف اور مجبور ہے۔ ان تمام حملوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی حملہ بھی ایک زور دار حملہ ہے جو مسلسل جاری ہے اور ہم سب جانے انجانے میں خود ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اب جو ایک حملہ پاکستان پر کیا گیا ہے وہ امریکی سفارت خانے میں منعقدہ ایک مکروہ تقریب تھی جس میں امرد یا ہم جنس پسندوں کو مدعو کیا گیا اور اُن کو یقین دلا یا گیا کہ واشنگٹن پاکستان میں ان کے حقوق کی حفا ظت کرے گا۔ عمل قوم لوط جس پر حضرت لوط(ع) کی قوم کو شدید عذاب کے ذریعے تباہ کیا گیا کی نہ صرف اسلام اور آسمانی مذاہب بلکہ دیگر مذاہب بھی اسکی شدید مذمت کرتے ہیں اور مہذب معاشروں میں یہ ہمیشہ ایک قابل نفرت فعل اور قابل سزا جرم رہا ہے اور اسلام تو ہر بے حیائی کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے۔ وہ جنسِ مخالف سے بھی نکاح کے رشتے کے بغیر کسی بھی ایسے تعلق کوناجائز اور قابل سزا سمجھتا ہے اور بعینیہ یہی حکم تورات نے دیا جس کو اسلام نے منسوخ نہیں کیا، بلکہ رجم کا ذکر قرآن میں نہیں ہے لیکن چونکہ تورات کے اس حکم کی تنسیخ بھی نہیں ہے لہٰذا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قائم رکھا اور عمل لواطت تو قابل سزا سے بھی آگے بڑھ کر قابل عذاب ہے ۔ مغرب کو تو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا ہی ہے لیکن امریکہ نے اب اس خطرناک ہتھیار کو استعمال کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے اوراس مکروہ فعل کو پاکستان میں کھلے عام کیا ہے اور اس گناہ میں مبتلا لوگوں کو مدد کی یقین دہانی کر وائی ہے۔ اس پر اگرچہ دفترخارجہ نے امریکی سفارت خانے کو تنبیہہ اور احتجاج ریکارڈ کروایا ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ یا کوئی دوسرا بے راہرو ملک چاہے اپنے سفارت خانے یا اپنے عملے کے کسی فرد کے گھر میں بھی ہو ایسی جسارت نہیں کرے گا اور اس تقریب کے کسی مقامی شریک کو اگر ہو؟ سزا ضرور دینی چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں اس مکروہ فعل کے مرتکب افراد نہیں ہونگے لیکن یوں سرعام انہیں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہماری زمین پر ہمارے مذہب اور ہماری روایات دونوں کی تو ہین ہے۔ 26 جو ن کو امریکی سفارت خانے نے (GLIFAA) جوان قبیح لوگوں کی تنظیم ہے اور امور خارجہ میں موجود ان لوگوں کے لیے کام کرتی ہے نے اس تقریب کا اہتمام بلا وجہ نہیں کیا بلکہ اِس کا مقصد ہمارے معاشرے پر ایک ایسا وار ہے جو ہماری تباہی پر مہر ہو۔

امریکہ نے اپنے مذموم عزائم اور دجالی شکنجے میں ہر طرح سے ہمارے معاشرے کو جکڑنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی۔ جیسا کہ مضمون کے شروع میں ذکر کیا گیا اُس نے ہم پر ہر حربہ آزمایا لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب تک ہم اپنی بقا کی جنگ میں کامیاب رہے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کو غالب کر کے رہے گا لیکن اس غلبے کے لیے وہ یقینا انسان کی ہمت کو آزماتا ہے۔ اُس نے حق کی فتح کے لیے ہی گھوڑے تیار اور صفیں درست رکھنے کا حکم دیاہے اور اس فتح کے وعدے کے باوجود احتیاط اور تدبیر کو ضروری قراردیا ہے۔ ورنہ احد کے میدان میں حاصل شدہ فتح کو درّے پر متعین تیر اندازوں کی بے تدبیری سے آزمائش میں نہ بدلتا اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑے پر باوجود کثرت تعداد کے حنین کے میدان میں مسلمانوں کو عارضی سہی ہز یمت سے نہ آزماتا۔ اس لیے یہ سوچنا کہ یہ ایک محدود فعل تھا جو کیا گیا اور پاکستانی احتجاج کے بعد دوبارہ ایسا نہیں ہوگا ایک غلط فہمی ہے امریکہ ہر طریقہ ،ہر چال ہم پر آزمارہا ہے اس کا مقصد ہمیں ہر طرح سے تباہ کرنا ہے اور اسی لیے وہ مختلف Strategies اپنا رہا ہے، جہاں ہر دوسرا حربہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہے اور اس حالیہ حربے کو کم از کم میں ذاتی طور پر گزشتہ تمام حملوں سے زیادہ خطرناک قرار دیتی ہوں کہ اس فعل نے تاریخ میں بہت سی عظیم الشان سلطنتوں کے حلیئے بگا ڑے ہیں۔ حضرت لوط(ع) کی قوم تو صرف ایک مثال ہے۔ حکومت پاکستان اگر چہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکی ہے لیکن اب امریکی سفارت خانے پر مزید کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ ہمارے معاشرے پر جس زوروشور سے ثقافتی حملہ جاری ہے اُس نے اسکے خدوخال کو پہلے بھی کچھ زیادہ محفوظ نہیں چھوڑا ہے۔ ہمارے کیبل آپریٹرز پیمرا کی اجازت سے ہر فحش انگریزی اور بھارتی چینل دکھا رہا ہے اور ہمارا نا خواندہ ، کم تعلیمیافتہ اور ماڈرن کہلانے والا،غرض ہر طبقہ بڑی حد تک اسکے اثرات قبول کر رہا ہے۔ اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور صرف ملکی اور قومی مفاد میں کریں۔ اگر ہم دیدہ دل واکر لیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم مسلسل قدرتی ﴿سیلاب ،زلزلے، طوفان وغیرہ﴾ اور انسانی ﴿دہشت گردی، مذہبی منافرت،ا قتصادی بدحالی ﴾ عذابوں سے گزر رہے ہیں۔ اب ہمارے پاس نہ تو کسی کوتاہی کی گنجائش ہے اور نہ کوئی اور عذاب سہنے کی ہمت ،اس لیے سخت سے سخت ترین رد عمل پابندی اور حکمت عملی کی ضرورت ہے اور اس رجحان اور اس کے پھیلانے کی کوشش کرنے والے ہر دو کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا یہی ہمارے رب کا حکم بھی ہے اور ہماری بقا کی ضمانت بھی۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
07 Jul, 2011 Total Views: 3646 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Naghma Habib

Read More Articles by Naghma Habib: 414 Articles with 206612 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
افسوس کہ مسلمان کہنے والوں نے اپنے بچوں کی تربیت نہیں کی ۔
By: M.N.Khalid, Islamabad on Aug, 05 2011
Reply Reply
0 Like
keep it up!
By: Tariq, Sargodha(Where Eagles Dare) on Aug, 04 2011
Reply Reply
0 Like
aik sinfe nazuk ka itne sanjeda mozo pe likha howa artical bilashuba buhat acha laga hmare mashray ka aik almia hi hai ye k yhan ache log aate me namak k barabar hote hen is lay agar koi is tarhan ksi plate farm pe koi bat krta hai to sarahne wale km or sunane wale ziada pay jate hen pr meri duua hai Allah se k Allah ap ko or ziada acha likhne ki himmat de
By: duua, karachi on Aug, 02 2011
Reply Reply
0 Like
Parh kar maloomat may izafa hua , Aur itminan hua k qaum ki betian, behnain kuch na kuch bedar hain, mujahid aur momin aurat hi peda karti hay, . Allah Sab Ko Eeman Par Istiqamat Dey. AMEEN
By: Mohammad Abid, Karachi on Aug, 01 2011
Reply Reply
0 Like
men Madam Naghma Habib sahiba ko zahne taklef uthana per unsa mazrat chahta hoon.
maloom nahen Ahmed sb na kia soch kar yah comment likha ha.
Muja Shadid sharmindage mahsoos ho rahe ha.hamen aik dosra ke respect karne chahe or hamen kise ko bhe underestimate nahen karna chahea, chaha wo mard ho ya aurat,yah GOD gifted abilities ALLAH pak kise ko bhe ata kar sakta ha, is men jins ke koe kad nahen ha.Hamen islam ka roshan usolon ko samghna chahe or orat ka us makam or martaba ka ihtram karna chahe jo usa muashra men hasil ha.
men aik dafa pir ap sa mazrat chahta hoon.
By: Aftab Kabir, Islamabad on Aug, 01 2011
Reply Reply
0 Like
مسٹر احمد ! میں نے شدید حیرت کے ساتھ ایک سنجیدہ فورم پر ایک انتہائی غیر سنجیدہ کمنٹ پڑھا ۔کبیر صاحب نے اپنا لنک دے کرکوئی غلط کام نہیں کیاتھا بلکہ یہ ایک معروف طریقہ ہے ورنہ میرے خیال میں انہیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں خواتین لکھاریوں کی کمی ہے لیکن جس طرح آپ نے اس چیز کو لیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔یہی ذہنیت ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور اس معاشرے میں نیکی اور بھلائی کو پنپنے نہیں دیتا بلکہ اسے روبہ زوال رکھے ہوئے ہے ۔ مسٹر احمد ! میں نہیں جانتی کہ آپ کی عمر کیا ہے کم از کم ایک پختہ ذہن سے اس طرح کی سوچ اور بات کی توقع نہیں کی جاسکتی جو آپ نے کی ہے۔ہو سکتا ہے آپ بالکل نوجوان ہوں اور میرے بچوں کی عمر کے ہوں اور یا آپ نے پہلی بار ہماری ویب کو دیکھا ہو، ورنہ میرے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ میرا مزاج ،میری عمر اور میرے موضوعات کیا ہیں اور کس قدر سنجیدہ ہیں وہ اگر مجھ سے اختلاف بھی کرتے ہیں تو انتہائی شائستہ، سنجیدہ اور مدلل ،اور وہ جانتے ہیں کہ میری طرف سے بھی ایسے ہی رویوں کا اظہار ہوگا ۔اور ہاں قومی سطح کے دس بارہ اخبارات میں لکھتے ہوئے مجھے کسی فرضی نام کے استعمال کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔بہرحال مجھے امید ہے کہ میرا جواب پڑھنے کے بعد آپ اپنے خیالات اور لکھے پر نظر ثانی ضرور کریں گے ۔بہت شکریہ
By: Naghma Habib, Peshawar on Jul, 29 2011
Reply Reply
0 Like
کبیر بھائی آپ بھی کوئی لڑکی کے نام سے لکھنا شروع کردیں پھر دیکھیے گا آپ کے فضول سے لکھے ہوئے بھی کتنے زیادہ پڑھے جائیں گے

By: ahmed, multan on Jul, 29 2011
Reply Reply
0 Like
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=14815
By: Aftab Kabir, Islamabad on Jul, 28 2011
Reply Reply
0 Like
bohat khoob dear Allah aap ko aajar day aamin or hum sab ko islam k asloon pay chalnay ke taufeeq day aamin
By: rizwan, lahore on Jul, 28 2011
Reply Reply
0 Like
AOA, yes we agree that all the ill is from US and we have solid proof of that in shape of so many incidents and happenings. My question from the people of Pakistan is; who is going to correct and devise a formula to get rid of all these miseries and hardships for a common man. We pray to Allah but on ground we have to shake up the things to things going in the right way. Please ask the people of Swat what they have been experiencing after Taliban left, they same cycle of corruption and misdeed are seen. Bow to Allah and ask forgiveness. Regards
By: zafar Masood, Nowshera,KPK on Jul, 17 2011
Reply Reply
0 Like
how we avoid these things , in current system, i think current system aloow these thing, a complete islamic system can remove these thing from our culture, we are muslims and islam not allow these, thing so rise for islam rise for khlifah.
By: Faisal, Karachi on Jul, 15 2011
Reply Reply
0 Like
hum jis mazhab kay mannay walay hay shahid uss ka name ISLAM hai aaghar may ghalat hoo to mafi chata hoon sub ek bat sun lo jb tak app aapnay DEEN per nahi aamal karaoo gai to har bagharat behuda ghaleez muashra hum per yunhee hamlay karta rahay ga wo is liya kai aap kay na deen ka pata na imaan ka to kyuna hum per paleet qoumin apna paleet culture hum ko simbol ki thra pash karay wo culture jis may bachay ko nahi pata us ka baap kon hay mari maa ghori to may kala kyon hoon hum sub janaty hay wo kon sa culture hay to uss culture kay rahay walay kis thrah muhazab ho saktay hay JAGO IS SAY PHALAY KAY SO JAOW
By: IMRAN, karachi on Jul, 14 2011
Reply Reply
0 Like
ye pakistan hai es me chalta hai sub koch
By: Sadiq Amin, Islamabad on Jul, 14 2011
Reply Reply
0 Like
It shows how America is being defeated in all the fields, everywhere, including the Western culture, which is about to collapse.
By: Anwar Wazir, Wana, South Waziristan on Jul, 11 2011
Reply Reply
0 Like
American are on the road which will lead them to their COMPLETE SELF DESTRUCTION very soon "INSHSHALLAH"
By: Shaheer, Kharian on Jul, 10 2011
Reply Reply
0 Like
Naghma Habib Saiba ! Assalam O Alaykom ! Aap Ka Mazmoon Par Kar Khushi Hooie Keh Pakistan May Aap Jesee Bayybak Aur Bahadr Khatoon Mowjood Hay. Aap Nay Jis Juraat Kaa Izahar Keya Hay Wo Qabil e Thaseen Hay. Mayree Duaa Hay Keh Aap Key Qalam May Aur Zoor Paida Hoo, Apny Mulk Key Hefazat Aur Thaafuz Kay Leyae. "ALLAH AAP KOO KUSH AUR SALAMAT RAKAIN & PAKISTAN ZINDABAD"
By: Habib Ullah Khan, Swat, Pakistan on Jul, 10 2011
Reply Reply
0 Like
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی امریکیوں پر اپنا عذاب نازل کرے اور دنیا کو ان کی شر، فساد اور اسباق بے راہ روی سے محفوظ رکھے آمین
By: Behram Khan, Malakand, Swat on Jul, 10 2011
Reply Reply
0 Like
آپ ایک بہت بہادر خاتون ہیں جنہوں نے خاتون ہو کر اس حساس موضو ع پر قلم اُٹھایا اور وہ کام کر دکھایا جو مرد بھی نہیں کر تے ۔ اکثر ہماری خواتین ایسے موضوعات پر بات کر نا مناسب نہیں سمجھتی ۔ اللہ آپ کو حق لکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور اسی طرح حق کی آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
By: Rais Khan , lahore on Jul, 09 2011
Reply Reply
0 Like
Good to identify the moles but who will take action? Now what should this nation do because those in position to do some thing are not willing to do anything and those want to do some thing are not in positionn to do some thing.
By: Zaveyer Khan, Rawalpindi on Jul, 08 2011
Reply Reply
0 Like
ماشااللہ بہت اچہا آرٹیکل ھے الله آپکو جزائے خیر عطا فرمائے آپ نے حق کی آو از بلند کی ھے۔۔
By: hafeez ur Rehman, oslo Norway on Jul, 08 2011
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 24)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB