ہم رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟ حصہ اول

(Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore)

اہلسنّت وجماعت(احناف)اور غیر مقلد حضرات کے مابین بنیادی اختلاف تو ان کے عقائد ونظریات کی وجہ سے ہے۔علاوہ ازیں کچھ فروعی مسائل کا اختلاف بھی ہے۔اس دوسری قسم کے حوالہ سے جن مسائل میں اختلاف جاری ہے ان میں ایک مسئلہ نماز میں’’رفع یدین‘‘ کرنے کا بھی ہے۔

جسے اس وقت ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بنا دیا گیاہے اورمخالفین کی طرف سے اس پر یوں اودھم مچایا جاتا ہے ،جیسے ’’اسلام اورکفر‘‘ کا فیصلہ ایک اسی مسئلہ پر ہو،حالانکہ وہابی حضرات کے اپنے ’’جید‘‘ اور ’’اجل‘‘ قسم کے ’’علماء وفضلاء‘‘ نے بھی اس حقیقت کو اب چاروناچار تسلیم کرہی لیا ہے کہ ’’رفع یدین‘‘نہ کرنا بھی سنت ہے،اور اگر کوئی نمازی ساری عمربھی ’’رفع یدین‘‘ نہ کرے تو اس پر کوئی ملامت اور اعتراض نہیں ہے بلکہ انہوں نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اس مسئلہ میں لڑنا جھگڑنا تعصب اور جہالت سے خالی نہیں ہے۔

ہم سب سے پہلے اس مسئلہ پر اپنا مؤقف اور اس پرقرآنی آیت، چند احادیث مبارکہ اورجلیل القدر صحابہ کرام ث تابعین اوردیگر ائمہ دین و علماء کے اقوال وآراء پیش کریں گے،پھر آخر میں وہابی لوگوں کی ’’عبارات‘‘ پیش کرکے روزروشن کی طرح واضح کردیں گے کہ اہل سنت وجماعت کا عمل برحق اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے،جبکہ مخالفین کا شور وغل بے معنٰی وبے مقصد ہے۔واللہ ولی التوفیق، علیہ توکلنا والیہ المصیر۔

اہلسنّت کا مؤقف:
حضرت امام محمد رحمہٗ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
السنۃ ان یکبر الرجل فی صلاتہ کلما خفض وکلما رفع واذا انحط للسجود کبر واذا انحط للسجود الثانی کبر فامارفع الیدین فی الصلوٰۃ فانہ یرفع الیدین حذوالاذنین فی ابتداء الصلوٰۃ مرۃ واحدۃ ثم لایر فع فی شئی من الصلوٰۃ بعد ذلک وھذاکلہ قول ابی حنیفۃ رحمہٗ اللہ وفی ذلک اٰ ثار کثیرۃ۔
(مؤطا امام محمد ص۹۰،۹۱)
یعنی سنت یہ ہے کہ آدمی اپنی نماز میں ہر اونچ نیچ پر اللہ اکبر کہے، جب سجدہ کرے اور دوسرے سجدے کے لیے جھکے تو تکبیر کہے۔پس نماز میں رفع یدین کا مسئلہ،تو وہ یہ ہے کہ (نماز ی کا)نماز کے شروع میں صرف ایک بار کانوں کے برابر ہاتھ اٹھانا ہے،اس کے بعد نماز میں کسی مقام پر بھی رفع یدین نہیں کرے گا۔یہ امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا مؤقف ہے اوراس بارے میں کثیر آثار ہیں۔

ژ… حضرت امام طحاوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
فانھم قد اجمعواان التکبیرۃ الاولیٰ معھا رفع وان التکبیرۃ بین السجدتین لارفع معھا واختلفوا فی تکبیرۃ النھوض وتکبیرۃ الرکوع فقال قوم حکمھا حکم تکبیرۃ الافتتاح وفیھما الرفع کما فیھا الرفع وقال اٰخرون حکمھما حکم التکبیرۃ بین السجدتین ولارفع فیھما کما لا رفع فیھا…وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اللہ تعالیٰ۔
(شرح معانی الآثار ج۱ص۱۴۸)یعنی اس بات پر ان کا اتفاق ہے کہ پہلی تکبیر کے ساتھ رفع یدین ہے اور سجدوں کے درمیان تکبیر کے ساتھ رفع یدین نہیں ہے اور انہوں نے جھکنے کے لیے اور رکوع والی تکبیر کے رفع یدین کے متعلق اختلاف کیا ہے۔پس ایک قوم نے کہا کہ ان دونوں کا حکم افتتاح والی تکبیر کے حکم کی طرح ہے جس طرح وہاں رفع یدین ہے تو ان دونوں مقامات پر بھی رفع یدین ہوگا ۔جبکہ دوسری جماعت نے کہا ہے کہ ان دونوں تکبیروں کا حکم سجدوں کے درمیان والی تکبیر کے حکم کی طرح ہے جس طرح سجدوں کے وقت رفع یدین نہیں ہے ایسے ہی رکوع کے وقت بھی رفع یدین نہیں کیا جائے گا۔ اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ، قاضی ابویوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم تینوں کا ہے(کہ رفع یدین صرف نماز کے شروع میں کیا جائے گا رکوع اور سجود کے وقت نہیں) ۔

ژ…حضرت ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمہٗ فرماتے ہیں:
ولیس فی غیر التحریمۃ رفع یدین عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ لخبر مسلم عن جابر بن سمرۃ۔
(مرقاۃ ج۲ص۲۷۵،حاشیہ نسائی ج۱ص۱۶۱)
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہٗ اللہ کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرنا چاہیئے،اس کی دلیل سیدنا جابر بن سمرہ ص والی روایت ہے۔ جسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔

ژ…مولانا عبدالحی لکھنوی نے لکھا ہے:
قول ابی حنیفۃ ووافقہ فی عدم الرفع الامرۃ الثوری والحسن بن حیی وسائرفقھا ء الکوفۃ قدیما وحدیثاوھو قول ابن مسعود واصحابہ…الخ
یعنی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کامؤقف ہے کہ رفع یدین صرف ایک بار کرنا چاہیئے۔اور امام سفیان ثوری ،حسن بن حیی اور تمام متقدمین اور متاخرین فقہائے کوفہ اور حضور عبداللہ بن مسعود اور آپ کے اصحاب کا بھی یہی مؤقف ہے۔(التعلیق الممجد ص۹۱)

قرآن مجید کا فیصلہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قد افلح المؤمنون الذین ھم فی صلوٰتھم خاشعون۔
(المؤمنون،۱،۲)
ترجمہ:تحقیق وہ ایمان والے کامیاب ہوگئے،جو اپنی نمازوں کو خشوع وخضوع سے ادا کرتے ہیں۔

محدثین کی وضاحت:
اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت امام حسن بصری تابعی ص بیان کرتے ہیں:
’’خاشعون الذین لایرفعون ایدیھم فی الصلوٰۃ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ‘‘ ۔(تفسیر سمر قندی ج۲ص۴۰۸)
ترجمہ:خشوع وخضوع کرنے والے وہ لوگ ہیں جو نماز کی ابتداء میں صرف ایک بار رفع یدین کرتے ہیں۔

یعنی بار بار رفع یدین کرنا نماز میں خشوع وخضوع کے منافی ہے اس لیئے صرف ایک بار شروع میں ہی رفع یدین کرنا چاہیئے۔ اس کے بعد رکوع وسجود کے وقت رفع یدین کرنا درست نہیں۔

ژ… امام بیہقی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں:
جماع ابواب الخشوع فی الصلوٰۃ والاقبال علیما ۔قال اللہ جل ثناؤہ،قد افلح المؤمنون الذین ھم فی صلوٰتھم خاشعون…عن جابر بن سمرۃ…قال دخل علینا رسول اللہا ونحن رافعی ایدینا فی الصلوٰۃ فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوٰۃ۔
(السنن الکبریٰ ج۲ص۲۸۰،۲۷۹)
ترجمہ:نماز میں خشوع وخضوع کرنے کا بیان۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تحقیق وہ ایماندار فلاح پاگئے جو اپنی نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں…

سیدنا جابر بن سمرہ ص…بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے،اس حال میں کہ ہم نماز میں رفع یدین کررہے تھے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں،جیسے وحشی گھوڑے اپنی دمیں ہلاتے ہیں۔نماز سکون سے ادا کرو

ژ…شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
عدم رفع راجح ست بآں کہ وے از جنس سکون ست کہ مناسب ترست بحال صلوٰۃ کہ خضوع وخشوع است ۔
ترجمہ:رفع یدین نہ کرنا راجح ہے اور اس کا تعلق سکون سے جو نماز کے مناسب ہے کہ اس میں خضوع وخشوع ہونا چاہئیے۔(اشعۃ اللمعات ج۱ص۳۵۸)

ان حوالہ جات سے واضح ہوگیا کہ:
ژ… نماز میں صرف ایک مرتبہ ،شروع میں ہی رفع یدین کرنا چاہیئے۔
ژ… باربار رفع یدین کرنا نماز میں خشوع وخضوع اور سکون کے خلاف اور ناپسندیدہ ہے۔
ژ… اللہ تعالیٰ نے نماز میں خشوع وخضوع کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
ژ… جو لوگ نماز میں صرف ایک بار رفع یدین کرتے ہیں وہ دونوں حکموں کو مانتے ہیں ۔
ژ… صرف ایک بار رفع یدین والی نماز اللہ ورسول دونوں کو پسند ہے۔
ژ… صرف ایک بار رفع یدین کرنے والے کا میاب اور بامراد ہیں۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Jun, 2011 Total Views: 3951 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Saqib Raza Qadri

Read More Articles by Muhammad Saqib Raza Qadri: 147 Articles with 91261 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
حضرت عبداللہ ابن مسعود کی حدیث مذکور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو جس سند کے ساتھ ملی ہے اس کو سلسلۃ الذہب (سونے کی لڑی) کہا جاسکتا ہے۔ اس کی سند کتنی زیادہ مضبوط ہے اس کا اندازہ رفع یدین کے تعلق سے امام اوزاعی اور امام ابوحنیفہ کے ایک مباحثہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ امام اوزاعی اور امام ابوحنیفہ کا مباحثہ: سفیان بن عینیہ نے بیان فرمایا کہ ایک موقع پر مکہ میں گیہوں کی منڈی میں ابوحنیفہ اور اوزاعی نے ابو حنیفہ سے کہا : کیا وجہ سے آپ لوگ رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین نہیں کرتے ؟ تو ابوحنیفہ نے کہا: اس لئے کہ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں۔ اوزاعی نے کہا : کیسے نہیں حالانکہ مجھ سے زہری نے روایت کی انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد (عبداللہ ابن عمر)سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہ آنحضرت ﷺ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے تھے ابوحنیفہ نے کہا : ہم سے حدیث بیان کی حماد نے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ اور اسود سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ ﷺ صرف نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کو اٹھاتے تھے اور پوری نماز میں دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ۔ یہ سن کر اوزاعی نے کہا : میں آپ کے سامنے یہ سند پیش کر رہا ہوں۔ زہری ، سالم ، عبداللہ ابن عمر اور آپ اس کے مقابل یہ سند پیش کر رہے ہیں۔ حماد ابراہیم بھلا میری سند کے مقابل آپ کی سند کہا؟ اس کے جواب میں ابوحنیفہ نے اوزاعی سے کہا : میری سند میں حماد آپ کی سند کی زہری سے زیادہ حدیث کی فقہ و سمجھ رکھنے والے ہیں اور میری سند میں ابراہیم ہیں وہ آپ کی سند کے سالم سے بڑے فقیہ ہیں۔ میری سند میں علقمہ اور اسود ہیں وہ بھی علم فقہ میں بڑا رتبہ رکھنے والے ہیں اور میری سند میں عبداللہ ابن مسعود ہیں اور عبداللہ تو پھر عبداللہ ہی ہیں ( ان کے رتبے کو ابن عمر کہاں پہنچ سکتے) یہ سن کر اوزاعی خاموش ہوگئے۔ (مسند ابوحنیفہ صفحہ ۹۰ ذیل حدیث نمبر ۹۶ ، جامع المسانید ج ۱ ص ۳۵۵
By: Farooq, Saudi Arabia. on Nov, 25 2012
Reply Reply
3 Like
محترم جناب فاروق صاحب امام ابو حنیفہ کے بارے میں یہ روایت بیہقی میں ملتی ہے۔ ذرا پڑھیۓ اور اپنی راۓ سے نوازیۓ۔ آپ کا شکریہ
مام بیہقی فرماتے ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَطَّابِ السُّلَمِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَكِيعٌ قَالَ: " صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَإِذَا أَبُو حَنِيفَةَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ لَا يَرْفَعُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ، أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ قَدْ رَأَيْتُكَ تَرْفَعُ يَدَيْكَ حِينَ افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ " قَالَ وَكِيعٌ فَمَا رَأَيْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللهِ، لِأَبِي حَنِيفَةَ
[السنن الكبرى للبيهقي 2/ 117 رقم 2538]

امام وکیع فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں‌ نماز پڑھی تو وہاں ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی نماز پڑھ رہے تھے اوران کے بغل میں امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے تو عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ نماز میں جب بھی رکوع میں جاتے اوررکوع سے اٹھتے تو رفع الیدین کرتے تھے، اورابوحنیفہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے جب یہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوحنیفہ نے امام ابن المبارک رحمہ اللہ سے کہا: اے ابوعبدالرحمان (ابن المبارک) ! میں‌ نے تمیں نماز میں بکثرت رفع الیدین کرتے ہوئے دیکھا کیا تم نماز میں اڑنا چاہ رہے ہو؟ اس پر امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو جواب دیا کہ : اے ابوحنیفہ ! میں نے دیکھا تم نے نماز کے شروع میں رفع الیدین کیا تو کیا آپ اڑنا چاہ رہے تھے؟ اس جواب پر ابوحنیفہ خاموش ہوگئے ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 26 2012
0 Like
محترم و مکرم جو روایت آپ نے آخر میں پیش کی ہے اس پر محدثین کے اقوال پیش خدمت ہیں۔
(۱) عن علقمہ قال قال عبداللہ ابن مسعود الا اصلی بکم صلوة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرة ۔

( جامع الترمذی ۔کتاب الصلوة۔ باب رفع الیدین عند الرکوع)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :

ََ”میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاﺅں پھر آپ نے نماز پڑھی اور ہاتھ نہیں اٹھائے سوائے پہلی دفعہ کے “۔

مندر جہ ذیل ائمہ و محدثین کرام نے اسے ضعیف قرارد یا ہے ۔

عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے کہا

ابن مسعو د رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ثابت نہیں ہے ۔( سنن ترمذی۱/59)

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا کہ یہ ثابت نہیں ہے ۔ ( فتح الباری ص۰23ج۱)

امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ۔(التمہید ابن عبدالبرص217ج۹)

امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ ثابت نہیں ہے ۔( تلخیص الجبیر ص222ج۱)

ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ روایت حقیقت میں سب سے زیادہ ضعیف ہے ۔ ( تلخیص الجبیر ص222ج۱)

ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے اس روایت کو خطاءقرار دیا ۔( نیل الاو طار ص202ج۲)

امام ابو داﺅد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ روایت ثابت نہیں ۔ ( سنن ابی داود نسخہ حمصیتہ ج1ص478‘748)

یحییٰ بن آدم ‘ ابو بکر احمد بن عمر البزار ‘ محمد بن وضاح ‘ یحییٰ بن معین ‘ ابن المقلن ‘ امام حاکم ‘ امام النووی ‘ امام دارمی ‘ امام بیہقی ‘ محمد بن نصر المروزی ‘ ابن قدامہ المقدسی اور ابن عبدالبر نے ضعیف قرارد یا ہے۔

امام بخاری نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔( تلخیص الجبیر1/222)

یہ سب ائمہ حدیث ثقہ ‘ مستند اور غیر جانب داری و عدم تعصب میں سورج سے بھی زیادہ مشہور تھے۔ان کا اس روایت کومتفقہ طور پر ضعیف قرار دینا ہر لحاظ سے مقدم ہے ۔امام ترمذی و ابن حزم نے اس روایت کو صحیح قرارد یا ہے ۔
اگر وقت نے اجازت دی تو روایت پر تحقیق آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا۔ اللہ سب مسلمانوں کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرماۓ آمین! ع
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 26 2012
1 Like
• حضرت عبداللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے منع فرمادیا۔ اور فرمایا: ’’ یہ کام رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا پھر اس کو چھوڑ دیا تھا ‘‘۔ (اوجز المسالک ج ۲ ص ۱۶۱ بحوالہ
• خلفاء راشدین نے رفع یدین نہیں کیا : اس سے پہلے دار قطنی کے حوالے سے ذکر کیا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما رفع یدین نہیں کرتے تھے اور بھی کچھ حوالے ذکر کئے جاتے ہیں۔ * حضرت اسود سے مروی ، انہوں نے فرمایاکہ ’’ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ نماز میں صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے اور دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۲۳۷، شرح معانی الاثار ،ج ۱ ص ۱۱۱ مکتبہ رحیمیہ دیوبند) * عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز میں پہلی تکبیر میں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے اور اس کے بعد نہیں اٹھاتے تھے (شرح معانی الاثار ۱؍۱۶۳) محدث و فقیہ امام ابوجعفر طحاوی متوفی ۳۲۱ ؁ھ نے حضرت علی کے اثر مذکور کو نقل فرمانے کے بعد تحریر فرمایا ’’ ایسا نہیں ہوسکتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا پھر بھی انہوں نے رفع یدین اپنی مرضی سے چھوڑ دیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی کے نزدیک رفع یدین کا عمل منسوخ ہو چکا تھا۔ ‘‘ (طحاوی شریف ج۱ ص ۱۶۳) اکثر صحابہ کرام نے رفع یدین نہیں کیا : خلفاء راشدین کے علاوہ حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس ، حضرت ابن عمر، حضرت جابر بن سمرہ ، حضرت براء بن عازب ، حصرت ابن الزبیر ، ابوسعید الخدری وغیرہ ہم رضی اللہ عنہم نے رفع یدین نہیں فرمایا۔
By: Farooq, Saudi Arabia. on Nov, 25 2012
Reply Reply
0 Like
جامع ترمذی ،سنن ابو داؤد اور سنن نسائي میں ہے: ترجمہ:حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی نمازنہ پڑھادوں؟ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ کہہ کرنماز پڑھائی تو ایک ہی دفعہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھائے ۔(ترمذی ،ابوداود ،نسائی)
By: Farooq, Saudi Arabia. on Nov, 25 2012
Reply Reply
4 Like
مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی اپنے فتاویٰ نذیریہ جلد1 صفحہ 141 میں فرماتے ہیں

کہ رفع یدین میں جھگڑاکرنا تعصب اور جہالت کی بات ہے ، کیونکہ آنحضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دونوں ثابت ہیں ، دلایل دونوں طرف ہیں۔

نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی جماعتِ غیر مقلدین کے بڑے اونچے عالم اور مجدد وقت تھے ، ان کی کتاب روضہ الندیہ غیر مقلدین کے یہاں بڑی معتبر کتاب ہے، نواب صاحب اس کتاب میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب سے نقل کرتے ہوے فرماتے ہیں۔

۔"رفع یدین و عدم رفع یدین نماز کے ان افعال میں سے ہے جن کو آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کبھی کیا ہے اور کبھی نہیں کیا ہے ، اور سب سنت ہے ، دونوں بات کی دلیل ہے ، حق میرے نزدیک یہ ہے کہ دونوں سنت ہیں۔۔۔(صفحہ 148)"۔

اور اسی کتاب میں حضرت شاہ اسماعیل شہید کا یہ قول بھی نقل کرتے ہیں ولا یلام تارکہ و ان ترکہ مد عمرہ (صفحہ 150)۔ یعنی رفع یدین کے چھوڑنے والے کو ملامت نہیں کی جاے گی اگرچہ پوری زندگی وہ رفع یدین نہ کرے۔

غیر مقلدین کے بڑے اکابر بزرگوں کی ان باتوں سے پتا چلا کہ ان لوگوں کے نزدیک رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں آنحضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور دونوں سنت ہیں،
By: Farooq, Saudi Arabia. on Nov, 25 2012
Reply Reply
2 Like
رایت ابا ھریرة فقال:لا صلین بکم صلاة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا ازید فیھا ولا انقص ‘ فاقسم باللہ وان کانت لھی صلاتہ حتی فارق الدنیا قال فقمت عن یمینہ لانظر کیف یصنع فابتدا فکبر ورفع یدیہ ثم رکع فکبر ورفع یدیہ ثم سجد ثم کبر ثم سجد و کبر حتی فرغ من صلاة قال:اقسم باللہ ان کانت لھی صلاة حتی فارق الدنیا ۔

(کتا ب ا لمعجم لامام ابن الاعرابی)

”حضرت ابو ھریر ہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایامیں آپ کو ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاﺅں گا اس میں نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم ۔پس انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر کہا کہ آپ کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے ۔راوی نے کہا میں آپ کی دائیں طرف کھڑا ہو گیا تا کہ دیکھوں کہ آپ کیا کرتے ہیں پس انہوں نے نماز کی ابتدا کی۔اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ‘ پھر رکوع کیا ‘ پس رکوع کے بعد آپ نے اللہ اکبر اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے پھر سجدہ کیا پھر اللہ اکبر کہا اور پھر سجدہ کیا اور اللہ اکبر کہا حتی کہ آپ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا :میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے “۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 31 2011
Reply Reply
1 Like
عن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ رای النبی صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدیہ حین دخل فی الصلوة کبر و صف ھمام حیال اذنیہ ثم التحف بثوبہ ثم وضع یدہ الیمنی علی الیسری فلما اراد ان یرکع اخرج یدیہ من الثوب ثم رفعھما ثم کبر فرفع فلما قال سمع اللہ لمن حمدہ رفع یدیہ فلما سجد سجدبین کفیہ ۔

(صحیح مسلم کتاب الصلوة ۔باب وضع یدہ الیمنیٰ علی الیسریٰ۔۔۔۔۔۔)

”حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز میں تکبیر کہتے ہوئے داخل ہوتے تو رفع الدین کرتے (راوی حدیث) ھمام کا بیان ہے کہ دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے پھر چادر اوڑھ لی پھر دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا پھر رکوع کا ارادہ کیا تو چادر سے دونوں ہاتھ نکال کر رفع الیدین کیا اور تکبیر پڑھ کر رکوع کیا پھر سمع اللہ لمن حمدہ پڑھ کر رفع الیدین کیا پھر دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا “۔



عبدالحمید بن جعفر قال حدثنا محمد بن عمرو بن عطاءقال سمعت ابا حمید الساعدی فی عشرة من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیھم ابو قتادہ فقال ابو حمید :انا اعلمکم بصالة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قالو الم فواللہ ماکنت اکثر لہ تبعہ ولا اقدمنا لہ صحبة؟ قال بلی قالوا ! فاعرض قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قام الی الصلاة کبر ثم رفع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ و یقیم کل عظم فی موضعہ ثم یقراثم یر فع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ ثم یر کع ویضع راحتیہ علی رکبتیہ معتدلا لا یصوب راسہ ولا یفتح بہ (ثم یرفع راسہ فیہ) یقول سمع اللہ لمن حمدہ و یرفع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ (قال زبیر :فذکر الحدیث ثم قال)ثم اذا قام من الرکعتین رفع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ کما صنع عند افتتاح الصلوة (قال زبیر :ثم ذکر الحدیث و فیہ)فقالو ا :صدقت ھکذا کان یصلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم

(سنن الترمذی۔ سنن ابو داﺅد۔کتاب الصلوة۔باب افتتاح الصلوة)

”عبدالحمید بن جعفر نے کہا میں نے محمد بن عمرو بن عطاءسے سنا‘ اس نے کہا میں نے ابو حمید الساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے دس صحابیوں میں سنا جن میں ابو قتادہ بھی تھے ۔ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جانتا ہوں ۔انہوں نے کہا :(آپ نہ تو ہم سے پہلے مسلمان ہوئے )آپ نے ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار نہیں کی ہے اور نہ ہم سے زیادہ ان کی اتباع کی ہے ابو حمید نے کہا یہ ٹھیک ہے تو انہوں نے کہا:اچھا پیش کرو۔ ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر جاتی۔پھر قرا ت کرتے‘ پھر دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے ‘پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے ‘ رکوع میں نہ سر اونچا رکھتے اور نہ نیچا رکھتے پھر سر اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور دونو ں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے پھر جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے جیسے نماز کے شروع میں کرتے تھے ۔( دس کے دس ) صحابہ نے کہا آپ نے سچ کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے“۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 31 2011
Reply Reply
0 Like

عن عبداللہ ابن عمر قال ریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلوة رفع ید یہ حتی یحا ذی منکبیہ وقبل ان یر کع واذا رفع من الرکو ع ولا یرفعھما بین السجدتین

(صحیح مسلم کتاب الصلوة ۔باب استحباب رفع الیدین۔۔۔۔۔۔)

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روا یت ہے کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب نما ز شروع کر تے کندھو ں کے برا بر ہا تھ اٹھا تے ا و ر رکوع جا تے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے بھی رفع الید ین کر تے اور سجد وں کے درمیان رفع الید ین نہ کر تے “۔



عن عبدا للہ ابن عمر قال کان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذاقام للصلو ة رفع یدیہ حتی تکو نا بحذ و منکبیہ ثم کبر فاذا ارا د ان یر کع فعل مثل ذلک ولا یفعلہ حین یر فع راسہ من السجو د۔
(صحیح مسلم کتاب الصلوة ۔باب استحباب رفع الیدین۔۔۔۔۔۔)

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روا یت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نما ز کے لئے کھڑ ے ہوتے تو کند ھوں کے برابر ہا تھ اٹھا تے ہو ئے تکبیر کہتے اور جب رکو ع کا ارادہ فرماتے اسی طرح کر تے ا ور جب رکو ع سے اٹھتے تب بھی یسا ہی کر تے لیکن سجد وں سے سر اٹھا تے وقت یسا نہ کر تے تھے“۔


عن ابی قلا بہ انہ رای ما لک بن الحو یر ث اذا صلی کبر ثم رفع یدیہ واذا ارادان یر کع رفع یدیہ واذا رفع راسہ من الرکوع رفع ید یہ وحدث ان رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کان یفعل ھکذا ۔

(صحیح مسلم کتاب الصلوة ۔باب استحباب رفع الیدین۔۔۔۔۔۔)

”حضرت ابو قلا بہ فرما تے ہیں کہ انہو ں نے مالک بن حو یر ث رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا جب نما ز پڑھتے تکبیر کہتے پھر رفع الیدین کرتے اور جب رکو ع کا ارادہ کر تے تورفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھا تے تو بھی رفع الیدین کر تے اور فر ما یا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یسے ہی کیا کرتے تھے“۔



عن مالک بن الحو یرث ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا کبررفع ید یہ حتی یحاذی بھما اذ نیہ و اذارکع رفع یدیہ واذا رفع حتیٰ یحاذی بھما اذنیہ واذا رفع راسہ من الر کو ع فقا ل سمع اللہ لمن حمدہ فعل مثل ذلک۔

(صحیح مسلم کتاب الصلوة )

”حضرت مالک بن حو یرث رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کا نوں تک اٹھا تے اور جب رکوع کر تے تب بھی دونوں ہا تھ کانوںتک اٹھاتے اور رکوع سے سر اٹھا تے ہوئے سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور رفع الیدین کرتے “۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 31 2011
Reply Reply
0 Like
عن نافع ان ابن عمرکان اذا دخل فی الصلوة کبر ورفع ید یہ و اذا رکع رفع ید یہ و اذا قال سمع اللہ لمن حمدہ رفع ید یہ و اذا قام من الرکعتین رفع ید یہ ورفع ذلک ابن عمر الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم
• (صحیح البخاری ۔کتاب الاذان)

” حضرت نا فع سے مر وی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب نماز میں داخل ہو تے تو تکبیر کہتے اور رفع الیدین کرتے اور جب رکو ع کر تے تب بھی رفع الیدین کرتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تب بھی رفع الید ین کر تے اور جب دو رکعتیں پڑھ کرا ٹھتے تب بھی رفع الیدین کر تے اور ابن عمر نے فر ما یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یسا ہی کر تے تھے “۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 31 2011
Reply Reply
0 Like
برادر محترم محمد ثاقب رضا قادری صاحب، میرے دلائل کے جواب میں آپ کی طرف سے خاموشی ہے۔ بہر حال جواب نہ دینا آپ کی اپنی صوابدید ہے۔ میں اس پر اصرار نہیں کروں گا میں آج وہ تمام احادیث آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جن میں رفع الیدین کرنے کا عمل رسول اللہ صلی علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت ہے۔

عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یر فع ید یہ حذو منکبیہ اذا فتتح الصلو ة و اذا کبر للر کو ع و اذا رفع راسہ من الر کوع رفعھماکذ لک و قا ل سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد و کان لا یفعل ذلک فی السجود

(صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین فی تکبیر ة الاولیٰ مع الافتتاح سوائً)

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو دو نوں ہاتھ کند ھوں تک اٹھاتے اور جب رکو ع کی تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہتے اور سجدوں میں یسا نہ کرتے“۔

عن ابن عمر ریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قام فی الصلوة رفع ید یہ حتی تکونا حذو منکبیہ وکان یفعل ذلک حین یکبر للر کوع ویفعل ذلک اذا رفع راسہ من الر کوع ویقول سمع اللہ لمن حمدہ ولا یفعل ذلک فی السجود ۔

(صحیح البخاری ۔کتاب الاذان)

” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب نماز میں کھڑے ہو تے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے تکبیر کہتے تب بھی یسا ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی یسا ہی کرتے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور سجدوں میں یسا نہ کرتے“۔

عن ابی قلا بہ انہ رای مالک بن الحو یرث اذا صلی کبر ورفع ید یہ و اذا ارا دان یرکع رفع ید یہ و اذا رفع راسہ من الر کوع رفع ید یہ و حد ث ان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صنع ھکذا ۔

(صحیح البخاری ۔کتاب الاذان)

”حضرت ابی قلابہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا جب وہ نماز شروع کرتے اللہ اکبر کہتے اور رفع الید ین کرتے اور جب رکوع کرنے لگتے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے اور بیان کرتے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یسے ہی کرتے دیکھا “۔

عن عبداللہ ابن عمر ریت النبی صلی اللہ علیہ وسلم افتتح التکبیر فی الصلو ة فر فع ید یہ حین یکبر حتی یجعلھماحذو منکیبہ و اذا کبر للر کوع فعل مثلہ واذقال سمع اللہ لمن حمدہ فعل مثلہ وقال ربناولک الحمد ولا یفعل ذلک حین یسجد ولا حین یر فع راسہ من السجود ۔

(صحیح البخاری ۔کتاب الاذان)

”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے رویت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز کے شروع میں تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع کی تکبیر کے وقت بھی یسا ہی کیا اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو بھی یسا کیا اور ربنا ولک الحمد فرمیا اور سجدہ کو جاتے اور سر اٹھاتے وقت یسا نہ کرتے“۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 31 2011
Reply Reply
0 Like
دوسری بات۔ حیرت ہے کہ ہمیں ہماری فقہ اب وہ لوگ سمجھائیں گے جن کو فقہ سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ عرض یہ ہے کہ ہماری فقہ میں کیا لکھا ہے یہ بات ہم دوسروں سے زیادہ بہتر جانتے ہیں اور اپنے مسلک پر اٹھائے گئے بے سروپا اعتراضات کا جواب ہم انشاءاللہ دے سکتے ہیں۔ لیکن اتنا ضرور ذہن میں رہے کہ اعتراض کرنا بھی کسی قاعدے اور سلیقے کا متقاضی ہوا کرتا ہے۔ نامکمل عبارتیں بغیر کسی سیاق و سباق اور حوالے کے نقل کرنا اور اس بناء پر طعن وارد کرنا معقولیت کی نشانی تو درکنار، الٹا جہالت و خیانت کی آئینہ دار ہے۔ یہ بات میں گزشتہ کسی بحث میں بھی عرض کر چکا، لیکن ہٹ دھرمی کا کیا علاج۔
اور ہاں، دوسروں کی فقہ پر اعتراض زیب کس کو دیتا ہے؟ کیا ایسے شخص کو جس کے اپنے مسلک و مشرب کے بارے میں پوچھا جائے تو شرم سے نظریں جھکا لے؟ اور باوجود استفسار، بلکہ پیہم اصرار کے، جواب میں صرف آئیں، بائیں، شائیں۔ عرض یہ ہے کہ اگر وہ مسلک اس قابل نہیں کہ کسی کے سامنے بیان کیا جائے تو اس سے چھٹکارا کیوں نہ حاصل کر لیا جائے اور اسی سے چمٹے رہنے کا آخر کیا مطلب؟ اور اگر بالفرض وہ مسلک ایسا ہی عمدہ اور اعلیٰ ہے تو پھر اتنی پردہ پوشی کیوں اور اظہار میں ایسی گھبراہٹ کس لیے؟ دیکھئے، اسی کالم کے تحت محمد ثاقب رضا قادری نے لکھا تھا:
" بہر حال یہاں میں صرف یہ جاننا چاہوں گا کہ جناب بابر صاحب یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ آپ کن علما سے رجوع کرتے ہیں آیا وہ مقلد ہیں یا غیر مقلد؟ اور ان کی استنادی حیثیت کیا ہے؟"
اس پر میری رائے یہ تھی کہ بابر صاحب اس پوشیدہ راز سے پردہ اٹھانے کی حماقت نہیں کریں گے۔ اب ذرا جواب ملاحظہ فرمائیں:
"محترم جناب ثاقب رضا قادری صاحب آپ نے دریافت فرمایا تھا کہ میں کون سے علماء سے پوچھوں گا۔ یہاں آپ کی اطلا‏ع کے لئے عرض کردوں کہ جن علماء سے میں رجوع کرتا ہوں وہ اصل کتاب تک میری رہنمائی کرتے ہیں اور پھر اپنا نقطہ نظر قران اور صحیح احادیث کی رو سے بیان کرتے ہیں۔"
کس قدر قابل رحم حالت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کیسی بےبسی کا عالم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاروں ائمہ اہلسنت سے منسوب ہونا ان کے نزدیک فرقہ واریت،وہابیہ، اہل حدیث اور غیر مقلدین وغیرہ ان کے بقول اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے، رفض و خروج و اعتزال سے انتساب بھی مذہبی خوسوزی کے مترادف۔ تو پھر جائیں تو کہاں جائیں اور کریں تو کیا کریں؟ چنانچہ ٹال مٹول ہی آخری حربہ ٹھہرا ہے۔ لیکن عرض یہ ہے کہ جب اپنی حالت ایسی دگرگوں ہو تو دوسروں پر اعتراض نہیں کیا کرتے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر سنگ باری نہیں کرنی چاہئے۔
By: Ahmad, Lahore on Dec, 30 2011
Reply Reply
1 Like
میں عرض کر رہا تھا کہ روایات و آثار چونکہ دونوں طرف وارد ہیں تو ائمہ مجتہدین نے ان پر نظر کرنے اور غور و فکر کرنے کے بعد اپنا اپنا نظریہ بیان کیا اور یوں ان کی رائے میں اختلاف ہوا جو سراسر فرعی ہے۔ چنانچہ جو مجتہدین اپنی رائے میں صواب کو پہنچے تو ان کے لئے دوہرا اجر، اور اگر اس سلسلے میں کسی سے خطا ہوئی تو ایک اجر کا استحقاق تو اس کے لیے بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے عمل کس حکم پر کیا جائے؟ جواب ظاہر ہے کہ جو شخص شریعت کے ان فروعی اختلافی معاملات میں کسی مسلمہ شخصیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس کی پیروی کرے وہ اسی کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرے گا اور کسی دوسرے امام کے طریقے پر عمل کرنے والے پر طعن و تشنیع نہیں کرے گا۔
جو لوگ ان معاملات کی حقیقت کو سمجھتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ کسی مجتہد امام کے قول پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے احکام کا جو معنی اس امام نے بعد از تحقیق مراد لیا، اس پر عمل کرنا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ قرآن و حدیث کے مقابلے میں کسی امام کے قول کو ترجیح دینا (نعوذ باللہ من ذالک)۔ ایسا تو وہ کرے گا جس نے نعمان ابن ثابت یا محمد ابن ادریس کا کلمہ پڑھا ہو، یا جو خود کو مالک ابن انس یا احمد ابن حنبل کی امت سمجھتا ہو۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی کہلانے والا صرف اسی خاتم النبیین اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرے گا۔ البتہ یہ بالکل جائز ہے کہ کوئی شخص نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین تک پہنچنے اور ان کا مطلب سمجھنے کے لیے ان چاروں حضرات میں سے کسی کو اپنا مقتدا و پیشوا مان لے۔ لہذا اگر کسی شخص نے نماز میں رفع یدین کو اس لیے ترک کر دیا کہ اس کے امام کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کر دیا تھا، تو اس کا مطلب شرعی احکام کے مقابل امام کے قول کی پیروی نہیں بلکہ امام کے قول کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض خود پسند لوگ ان باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور اپنی جہالت یا محض بغض و عناد کی بناء پر امت مسلمہ کی اکثریت پر زبان طعن دراز کرتے اور ان کے درپے آزار ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ بعض سلیم الطبع حضرات ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا، لاکھوں احادیث زبانی یاد، سینکڑوں کتابوں کے مصنف، تفقہ فی الدین میں اپنی مثال آپ، زہد و تقوی ایسا کہ لوگ رشک کریں، لیکن اس سب کے باوجود کبھی اجتہاد مطلق کا دعوی نہ کیا اور اپنے سے زیادہ علم والوں کا ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کے مقلد کی حیثیت سے زندگی گزار دینے کو سعادت سمجھا۔ جبکہ دوسری طرف بعض مہم جو طبیعتیں ایسی بھی ملیں گی کہ ڈھائی کتابوں کا اردو ترجمہ پڑھ کر آپے ہی سے باہر ہو جائیں اور جھوٹے علمی زعم میں مبتلا ہو کر وہ دھما چوکڑی مچائیں کہ الامان الحفیظ۔ حتی کہ اکابرین بھی ان کی بے لگام زبان کے شر سے محفوظ نہ رہیں۔ ایسوں کے لیے کس قدر آسان ہے کہ عمل بالسنت کی نیت سے رفع یدین ترک کرنے کو "رفع یدین سے دشمنی" (اپنی دانست میں سنت سے دشمنی) قرار دے ڈالیں۔ بہرحال اس ڈگر پر چلنے والوں سے ایسی ہی ذہنی پستی، فکری پسماندگی اور شقاوت قلبی کی امید کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ جو قلوب خوف خدا ہی سے عاری ہو جائیں، بندوں کی شرم ان سے کسی طرح متوقع نہیں۔
By: Ahmad, Lahore on Dec, 30 2011
Reply Reply
0 Like
کہنے کو تو محض دو سطریں ہی لکھی گئیں، لیکن اسی میں گویا اندر کا کتنا ہی زہر اگل ڈالا۔
حقیقت یہ ہے کہ بعض سوالات یا الزامات اس قدر بیہودہ اور لغو ہوتے ہیں کہ ان کا جواب دیتے ہوئے کراہت محسوس ہوتی ہے، لیکن کیا کیا جائے کہ ان کو نظر انداز کرنا بھی طبیعت میں ایک طرح کا اضطراب پیدا کرتا ہے، چنانچہ مجبوراً یہ چند جملے لکھنا پڑ رہے ہیں۔
رفع یدین کیا ہے؟ یہ کیوں کیا جائے یا کیوں نہ کیا جائے؟ نماز جیسے اہم ترین فرض کی ادائیگی کا طریقہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اور ہم پر لازم ہے کہ اسی فرمودہ طریقے کے مطابق اس فرض کو بجا لائیں۔ اس سلسلے میں پہلا سوال یہ کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں رفع یدین کیا؟ اور دوسرا سوال یہ کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں رفع یدین ہمیشہ کیا، یعنی آخر تک اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل رہا؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو اہلسنت کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں رفع یدین کیا ہے اور اس بات پر تمام فقہاء متفق ہیں۔ رہا دوسرا سوال، تو اس میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ہمیشہ رفع یدین کیا جبکہ دوسروں کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کو ترک فرما دیا اور اس سے منع بھی فرما دیا۔ اور یہ اختلاف کچھ آج پیدا نہیں ہوا بلکہ صدیوں سے اس معاملے میں علماء کی رائے مختلف رہی ہے کیونکہ اس سلسلے میں روایات و آثار دونوں طرف وارد ہیں۔ آج اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ ترک رفع یدین کی تائید میں روایات کا کوئی وجود نہیں، یا یہ کہ کسی صحابی نے رفع یدین کے بغیر کبھی نماز ادا نہیں کی، میں کہتا ہوں کہ ایسا شخص اگر جاہل نہیں تو بددیانت ہے اور اگر بددیانت نہیں تو جاہل ہے۔
By: Ahmad, Lahore on Dec, 30 2011
Reply Reply
0 Like
بھائیو! دشمنی رفع یدین سے ہے جو کہ صحیع احادیث کے مطابق ہے۔

نماز کے دوران کتے یا بلی کو بلانا چاھے یا گدھے کو ہانکے تو اس سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ یہ بھی آپ ہی کی فقہ نے فرمایا ہے کسی اور نے نہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 28 2011
Reply Reply
0 Like
محمد ثاقب رضا قادری صاحب! مجھے آپ کے ساتھ دلی ہمدردی ہے کیونکہ میں اس بات سےبخوبی واقف ہوں کہ بابر صاحب کے ساتھ کسی مسئلے پر بحث کرنے کے لیے انتہائی درجہ کا ضبط اور کمال کا حوصلہ درکار ہے۔ ان کے طریقہ واردات کو دیکھ کر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حضرت نے مناظرانہ صلاحتیوں کے حصول کے لئے کسی انتہائی "ماہر" استاد کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ہے۔ اب یہیں دیکھئے، بابر صاحب نے کسی خاص "مصلحت" کے تحت مجھے تو جواب سے سرفراز ہی نہیں فرمایا، حالانکہ میں نے دو بہت ہی بنیادی سوال کئے تھے جو ان کی اپنی تحریر پر وارد ہوتے تھے، اور آپ کے دلائل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنی بات کو دہرانے پر اکتفا کیا اور پرانی باتوں کی وضاحت مکرر طلب فرما لی۔
مثلاً جناب نے سورہ مومنون کی آیات کے مختلف تراجم پیش فرمائے اور ان پر آپ کی رائے طلب کر رہے ہیں۔ حالانکہ آپ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ سے منقول تفسیر اس سلسلے میں اپنے کالم میں نقل فرما چکے ہیں۔ شاید حضرت کو ان کے علماء نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ قرآن مجید فرقان حمید کی کسی ایک آیت کریمہ سے ایک سے زائد مسائل بھی استنباط کئے جا سکتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو مفسرین کرام اور فقہائے عظام الفاظ قرآن سے ایسے ایسے نادر نکات نکالتے ہیں کہ عام آدمی کی عقل کی رسائی وہاں تک ممکن ہی نہیں۔ لیکن حضرت ہیں کہ ابھی تک الفاظِ تراجم ہی میں اٹکے ہوئے ہیں۔ اور پھر ابھی تک انہوں نے اپنے علماء سے آپ کی پیش کردہ تفسیر کے بارے میں استفسار بھی نہیں کیا۔ اور نہ ہی وہ کبھی ایسا کریں گے، کیونکہ یہ راستہ تو آپ نے ان کے لیے بند ہی کر دیا، یہ پوچھ کر کہ وہ کن علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے اس "پوشیدہ" راز سے پردہ اٹھانے کی حماقت بابر صاحب کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ تو آپ جیسے لوگ ہیں جو اپنے حنفی ہونے کا سرِ عام اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ بقول بابر صاحب، آپ کا حنفی ہونا ان کا درد سر نہیں ہے۔ بالکل درست فرمایا انہوں نے، کیونکہ ان کا درد سر تو بلا دلیل ہر معاملے کو فرقہ واریت کا رنگ دے کر دوسروں پر انگلیاں اٹھانا ہے اور یہی درد سر ہے جو انہیں کسی پل چین سے نہیں بیٹھنے دیتا اور وہ مسلسل اس درد سے چھٹکارا پانے کی سعی میں کوشاں رہتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ کہ "مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی"۔
چنانچہ رفع یدین جیسے فرعی معاملے کو انہوں نے عقائد سے متعلق قرار دے کر آپ کے دلائل کو ایک فرقہ کے اقوال تو قرار دے ڈالا لیکن جناب یہ بات شاید فراموش کر گئے کہ جب انسان کسی کی طرف ایک انگلی اٹھاتا ہے تو غیر شعوری طور پر اس کی تین انگلیاں خود اپنی طرف اٹھتی ہیں۔
By: Ahmad, Lahore on Dec, 19 2011
Reply Reply
0 Like
وقال الحسن البصري " خاشعون " أي خائفون وروي عنه أنه قال " خاشعون " الذين لا يرفعون أيديهم في الصلاة إلا في التكبيرة الأولى۔
محترم جناب ثاقب رضا قادری صاحب آپ نے دریافت فرمایا تھا کہ میں کون سے علماء سے پوچھوں گا۔ یہاں آپ کی اطلا‏ع کے لیۓ عرض کردوں کہ جن علماء سے میں رجوع کرتا ہوں وہ اصل کتاب تک میری رہنمائی کرتے ہیں اور پھر اپنا نقطہ نظر قران اور صحیح احادیث کی رو سے بیان کرتے ہیں۔ الحمد للہ میں تفسیر بحر العلوم ڈاؤن لوڈ کر چکا ہوں اور اوپر میں نے اصل کتاب سے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے۔
آپ کی پہلی بے ایمانی یہاں واضح کردوں۔
وقال الحسن البصري ( یعنی حسن بصری نے کہا) " خاشعون " أي خائفون۔ یہ حسن بصری کے قول کا پہلا حصہ ہے جسے آپ نے پیش نہیں کیا۔ اس کی وجہ بیان کیجیۓ۔
اب ذرا دوسرا حصہ ملاحظہ کیجیۓ۔
وروي عنه أنه قال ( یعنی ان سے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا) " خاشعون " الذين لا يرفعون أيديهم في الصلاة إلا في التكبيرة الأولى۔
آپ ذرا ان دونوں اقوال کا فرق یہاں پیش کیجیۓ۔ اور ان اقوال کو حسن بصری سے سند ثابت کیجیۓ۔ جو کہ آپ نہیں کر سکیں گے۔
ایک اور بات عرض کردوں کہ آپ کو حسن بصری سے روایت کیا گیا قول تو نظر آگیا مگر اس قول کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور امام زہری کے اقوال نظر نہیں آسکے۔ اگر ممکن ہو تو وہ بھی یہاں بیان کر دیجیۓ۔ آپ کا شکریہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 19 2011
Reply Reply
0 Like
محترم جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب، آپ کا حنفی ہونا یا نہ ہونا میرا درد سر نہیں ہے۔ یہ آپ کا اپنا مسئلہ ہے۔ آپ بخوشی اپنے لیے کوئی بھی لقب اختیار کیجیۓ۔
محترم میں نے آپ کی خدمت میں قران کے مختلف تراجم پیش کیۓ تھے۔ ان پر آپ کی رائے کا منتظر ہوں۔
میں مختصرا اپنا استدلال دوبارہ پیش کرتا ہوں۔
آپ کے نزدیک سورہ المومنون جو کہ مکی سورت ہے کی پہلی دو آیات کی تفسیر پیش کی ہے جس کی رو سے نماز میں رفع یدین کرنا اللہ تعالٰی کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس بات سے آپ تو کیا ہر مسلمان اتفاق کرے گا کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی حیات مبارکہ قرآن کریم کی ہی چلتی پھرتی تفسیر تھی۔ اور ان اللہ کے احکامات کے منافی کوئی بھی عمل سرزد ہونا نا ممکن تھا۔
میں نے آپ کی خدمت میں تین احادیث پیش کی تھیں اور ان کی صحت کا آپ انکار نہیں کرسکتے۔ ان کی رو سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے باوجود بھی رفع یدین کا ناپسندیدہ عمل کرتے رہے اور آپ کی وفات کے بعد صحابہ بھی اس عمل کو دھراتے رہے۔ مجھے یہ بتائیش کہ کیا یہ نبی کریم اور صحابہ کرام پر ایک بہتان نہیں ہے۔
آپ کی باقی تمام باتوں کا جواب انشاء اللہ ضرور دوں گا۔ پہلے آپ مندرجہ بالا امور کی وضاحت کر دیجیۓ۔ اور ہاں بات ڈھٹائی کی نہیں ہے۔ اللہ کے احکام اور نبی کریم کے فرمان کی ہے۔ جو کہ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیۓ ہیں۔ اور ان ہی کے رو سے میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 17 2011
Reply Reply
0 Like
شارح بخاری امام ابن حجر عسقلانی نے دوٹوک لکھا ہے:
تمسکوا بحدیث جابر بن سمرۃ ’’اسکنوا فی الصلوٰۃ‘‘ لترک رفع الیدین عندالرکوع…۔(فتح الباری کتاب النفقات ،باب وجوب النفقۃ علی الاہل والعیال ج۱۱ص۴۲۹)
انہوں (محدثین)نے سیدنا جابر بن سمرہ ص کی حدیث’’اسکنو فی الصلوٰۃ‘‘سے دلیل پکڑی ہے اوراسے رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کی دلیل بنایاہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حقیقت سے خوب پردہ اٹھادیا ہے کہ محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کورکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس سے استدلال کیا ہے۔والحمدللہ علیٰ ذلک۔
امام بدرالدین عینی کا فیصلہ:
شارح بخاری حضرت امام عینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
قلت فی الحدیث الاول انکار لرفع الید فی الصلوٰۃ وامر بالسکون فیھا۔(البنیایہ فی شرح الھدایہ ج۲ص۲۹۹)
میں کہتا ہوں کہ پہلی حدیث(سیدنا جابر بن سمرہ ص والی روایت) میں نماز میں رفع یدین کرنے کا انکار ہے اور سکون یعنی رفع یدین نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قاضی عیاض مالکی کا حوالہ:
علامہ قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے:
قد ذکر ابن القصارھذا الحدیث حجۃ فی النھی عن رفع الا یدی علی روایۃ المنع من ذالک جملۃ۔
(الاکمال المعلم بفوائد المسلم ج۲ص۳۴۴)
ابن قصار نے ذکر کیا ہے کہ رفع یدین منع کرنے والی روایتوں میں سب سے واضح طور پر یہ حدیث حجت اور دلیل ہے رفع یدین روکنے پر۔
یعنی اس حدیث میں دوٹوک کھلے لفظوں کے ساتھ رسول اللہ ا نے رفع یدین کرنے سے منع فرمادیا ہے۔والحمد للہ علیٰ ذلک۔
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore on Dec, 13 2011
Reply Reply
1 Like
ژ…ملا علی قاری علیہ الرحمۃ نے اس حدیث کو ’’نسخ رفع یدین‘‘کی دلیل بتایاہے۔ مرقاۃ ج۲ص۲۷۵ اورشرح نقایہ ج۱ص۷۸،موضوعات کبیر ص۵۹۴مترجم اور الاسرار المرفوعہ عربی ص۳۵۶ پر بھی نسخ کا قول کیاہے۔
ژ…ابن الملقن کے عمل سے بھی یہی واضح ہے کہ اس روایت کو عدم رفع کی بھی دلیل بنایا گیا ہے۔(البدرالمنیر ج۳ص۴۸۵)
ژ… امام جمال الدین ابوعبداللہ محمد بن یوسف زیلعی نے اس روایت کو ’’أحادیث اصحابنا ‘‘کے رفع یدین نہ کرنے پر استدلال کیا ہے۔
(نصب الرأیہ ج۱ ص۴۷۲)
ژ… علامہ ابو بکر بن مسعود کاسانی نے بدائع الصنائع ج۱ص۴۸۵۔
ژ… امام شمس الدین محمد بن احمدسرخسی نے المبسوط ج۱ص۱۴۔
ژ… امام بدرالدین عینی نے البنایہ شرح ھدایہ ج۲ص۲۹۴،اور عمدۃ القاری ج۵ص۳۹۸۔
ژ… علامہ زین الدین ابن نجیم المصری نے البحرالرائق ج۱ص۳۲۲۔
ژ…حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ احناف نے اس روایت کو اپنے مؤقف پر پیش کیا ہے۔ملاحظہ ہو! الدرایۃ علی الھدایۃ ص۱۱۲
ژ… علامہ عثمان بن علی زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق ج۱ ص۱۲۰۔
ژ… مولانا محمد ہاشم سندھی نے کشف الرین ص۶۸ مترجم۔
ژ… اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے فتاویٰ رضویہ ج ۶ ص۱۵۵ ۔
ژ…علامہ ظفرالدین بہاری نے جامع الرضوی ج۲ص۳۹۶۔
ژ… مولانامحمد اچھروی نے مقیاس صلوٰۃ ص۲۰۸،۲۰۷پر۔
اور دوسرے کئی حضرات نے اس روایت کو رفع یدین نہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore on Dec, 13 2011
Reply Reply
1 Like
مزید اس حدیث مبارکہ پر جو ایک اشکال وارد کیا گیا ہے کہ اس حدیث کی وضاحت اس کے آگے موجود دوسری حدیث کر دیتی ہے جیسا کہ بابر صاحب نے اپنے تبصرہ میں نقل کیا اور کہا کہ یہ حدیث تشہد کے بارے ہے۔ الحمدللہ ہماری بصارت نور مدینہ سے روشن ہے جبکہ بابر صاحب کی آنکھ میں کحل تنجد ہے جس سے نہ صرف بصارت چشم بلکہ بصارت قلبی بھی زائل ہو گئی ہے
فقیر یہاں علمائے اہل سنت کی تحقیق اس اشکال کے جواب میں پیش کر رہا ہے ملاحظہ فرمائیں:
یہ اشکال غلط ہے،کیونکہ کسی محدث کا کسی حدیث کو کسی باب کے تحت نقل کرنا۔یہ محدث کی اپنی ذاتی رائے اور تحقیق ہے۔جس سے اختلاف کیا جاسکتاہے۔اس کا یہ معنیٰ نہیں ہوتا کہ اس حدیث کا وہی مطلب ہے جووہ محدث بیان کررہا ہے،بعض مرتبہ ایک محدث کسی روایت کو ایک باب کے تحت نقل کرتا ہے اور دوسرا محدث اسی حدیث کسی دوسرے عنوان کے تحت لکھتا ہے یہ بات علم حدیث کے ایک عام طالبعلم سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
یہی بات حدیث مذکورہ کے متعلق بھی ہے ۔کیونکہ اس حدیث (جابر بن سمرہ ص والی روایت) کو اگر بعض محدثین نے تشہد وغیرہ کے باب میں نقل کیا ہے توکیا ہوا کئی دوسرے محدثین نے اسے خشوع وخضوع ، نمازمیں سکون اور حرکت نہ کرنے کے عنوان کے تحت بھی نقل کیا ہے۔اور اسے رفع یدین نہ کرنے کی بھی دلیل بنایا ہے۔مثلاً:
ژ…بخاری ومسلم کے استاذامام ابن ابی شیبہ نے اسے ’’ من کرہ رفع الیدین فی الدعا‘کے تحت لکھا ہے۔(مصنف ج۲ص۳۷۰ طبع ملتان)
ژ…امام سراج نے اسے ’’باب فی السکون فی الصلوٰۃ ‘‘میں نقل کیا ہے۔(مسند سراج ص ۲۴۳،۲۴۲)
ژ…امام بیہقی نے اسے ’’جماع ابواب الخشوع فی الصلوٰۃ والاقبال علیہما ‘‘ کے تحت ’’باب الخشوع فی الصلوٰۃ‘‘میں درج کیا ہے۔ (سنن کبریٰ ج۲ص۲۷۹)
ژ…امام ابوعوانہ نے اسے’’بیان النھی عن الاختصار فی الصلوٰۃ وایجاب الانتصاب والسکون فی الصلوٰۃ الا لصاحب العذر‘‘کے تحت لکھا ہے۔(مسند ابی عوانہ ج۲ص۸۵)
ژ…،قاضی شوکانی نے اسے رفع یدین نہ کرنے کی روایات میں نقل کیا ہے۔
(نیل الاوطار ج۲ص۱۸۴ باب رفع الیدین وبیان صفتہ ومواضعہ)
ژ…امام بخاری کی طرف منسوب کتاب’’ جزء رفع الیدین ‘‘سے ثابت ہے کہ اسے ’’رفع یدین‘‘نہ کرنے کی دلیل اس دور میں بھی بنایا گیا تھا۔ملاحظہ ہو! ص۳۲ طبع گرجاکھی کتب خانہ گوجرانوالہ۔
ژ… ابن حجر عسقلانی نے بھی اس روایت کو رفع یدین نہ کرنے کی روایات میں ذکر کرکے اس چیز کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے زمانے یا اس سے بھی قبل کے لوگوں نے اس روایت سے رفع یدین نہ کرنا مراد لیا ہے۔
( تلخیص الحبیر ج۱ص۲۲۱)
ژ…علامہ نووی کے عمل سے بھی یہ بات ظاہر ہے۔ملاحظہ ہو! المجمو ع شرح المہذب ج۳ص۴۰۳،السندھی علی النسائی ج۱ص۱۷۶۔
ژ…امام ابن حبان نے اس حدیث کو ’’ذکر مایستحب للمصلی رفع الیدین عند قیامہ من الرکعتین من صلوٰ تہ‘‘میں درج کیا ہے۔
(صحیح ابن حبان ج۴ ص۱۷۸)
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore on Dec, 13 2011
Reply Reply
1 Like
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

بابر صاحب آپ کی ڈھٹائی کے بارے کیا کہا جائے ، تسلیم کرنا تو آپ کا شیوہ ہی نہیں صرف بحث برائے بحث اور میں نا مانوں آپ حضرات کا شیوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ پیشہ ہے۔

جناب اگر آپ نے میرے مضمون کا ابتدائیہ پڑھا ہوتا تو شاید یوں تبصرہ نہ کرتے خیر آپ کے لئے یہاں دوبارہ پیسٹ کر رہا ہوں؛
جسے اس وقت ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بنا دیا گیاہے اورمخالفین کی طرف سے اس پر یوں اودھم مچایا جاتا ہے ،جیسے ’’اسلام اورکفر‘‘ کا فیصلہ ایک اسی مسئلہ پر ہو،حالانکہ وہابی حضرات کے اپنے ’’جید‘‘ اور ’’اجل‘‘ قسم کے ’’علماء وفضلاء‘‘ نے بھی اس حقیقت کو اب چاروناچار تسلیم کرہی لیا ہے کہ ’’رفع یدین‘‘نہ کرنا بھی سنت ہے،اور اگر کوئی نمازی ساری عمربھی ’’رفع یدین‘‘ نہ کرے تو اس پر کوئی ملامت اور اعتراض نہیں ہے بلکہ انہوں نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اس مسئلہ میں لڑنا جھگڑنا تعصب اور جہالت سے خالی نہیں ہے۔
فروعی مسائل میں اختلاف تو ہمیشہ سے چلتا آ رہا ہے لیکن آپ حضرات کا دھندا انہی مسائل کو ہوا دینے سے چلتا ہے۔
الحمدللہ ہم حنفی ہیں اور احناف کے نزدیک رفع یدین متروک ہے جب کہ اہل سنت کا دوسرا گروہ حنبلی حضرات کے نزدیک راجح ہے تو اہل سنت کی بالغ نظری ، پختہ شعوری تو یہیں سے واضح ہے کہ ہم امام احمد بن حنبل اور ان کے مقلدین کو بھی اہل سنت گردانتے ہیں ۔
فروعی مسائل میں بحث کرنے کو میں تضییع اوقات جانتا ہوں اور خاص طور پر آپ سے بحث خواہ عقائد قطعیہ ہی میں کیوں نہ ہو آپ نے تو نہ ماننے کی قسم کھائی ہے۔
بہرحال آپ نے جو آیت کی تفسیر پر اعتراض کیا ہے تو جناب میں نے تفسیر بالرائے نہیں کی بلکہ امام حسن بصری تابعی بزرگ سے نقل کی ہے ۔
یہاں ایک بات قارئین کی توجہ کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بابر صاحب نے پہلے تو جھٹ سے اس تفسیر کا انکار کر دیا اور پھر لکھتے ہیں کہ میں اس تفسیر کی حقیقت کا علما سے پوچھ کر ہی بتاؤں گا۔ ۔۔۔۔۔واہ کیا شان ہے جناب ۔۔یعنی حضرت کو تربیت ہی یہ دی گئی ہے کہ جو بھی بات تمہیں خلاف مزاج لگے اس کا انکار کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہر حال یہاں میں صرف یہ جاننا چاہوں گا کہ جناب بابر صاحب یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ آپ کن علما سے رجوع کرتے ہیں آیا وہ مقلد ہیں یا غیر مقلد؟ اور ان کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
کیا ان کی بیان کردہ تفسیر ائمہ مفسرین کی تفسیر پر فوقیت رکھتی ہے۔؟
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore on Dec, 13 2011
Reply Reply
1 Like
Displaying results 1-20 (of 28)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB