خوف خدا

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islalmabad)

ایک رئیس اپنے باغ میں پہنچا ، وہاں اس نے مالی کو اُس کی بیوی کے سا تھ بیٹھے دیکھا۔ عورت کے حسین وجمیل ہونے کی بناء پر رئیس کا دل اُس کی طرف مائل ہو گیا اور برائی کا ارادہ دل میں جڑ پکڑنے لگا۔ اُس نے مالی کو کسی کام کے لئے روانہ کر دیا۔ جب دونوں تنہا رہ گئے، تو اُس نے عورت سے کہا ”باغ کے سب دروازے بند کر دے“۔ عورت فوراََ اُس کی نیت بھانپ گئی ، بہرحال تھوڑی دیر بعد اُس کے پاس پہنچی، تو اس نے پوچھا ، سب دروازے بند کر دیئے؟۔۔۔۔اُس نے جوا ب نے دیا ”ہاں“، لیکن ایک دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔ رئیس نے پوچھا ، وہ کونسا؟۔۔۔۔اُس نے کہا وہ، جو میرے اور میرے رب کے درمیان ہے ۔ یہ بات سنتے ہی رئیس پر زبردست خوف خد ا طاری ہوا اور وہ گناہ سے توبہ کر تا اور روتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا۔(بحوالہ:کشف المجوب)

ایک مرتبہ حضرت داﺅد طائی(رضی اللہ عنہ) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ چونکہ آپ ؑاہل بیت میں ہیں ، لہٰذا مجھے کوئی نصیحت ارشاد فرمائیں ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام جواباََ خاموش رہے ۔ حضرت داﺅد طائی(رضی اللہ عنہ) نے دوبارہ عرض کی ،حضور! اہل بیت ہونے کے اعتبار سے اللہ تعالی ٰ نے آپؑ کو جو فضلیت عطا فرمائی ہے ، اس اعتبار سے آپؑ کا نصیحت فرما نا ضروری ہے ۔ یہ سن کر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تو یہ خوف لگا ہوا ہے کہ بروز قیامت میرے جدا علی ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر یہ ارشاد نہ فرما دیں کہ تو نے خود میرا اتباع کیوں نہیں کیا؟۔۔۔۔کیونکہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں ، بلکہ اعمال صالحہ پر موقوف ہے۔“

یہ سن کر حضرت داﺅد طائی (رضی اللہ عنہ) کو بے حد عبرت حاصل ہوئی ۔ اس واقعے کے بعد آپ کہا کرتے تھے ، ”جب اہل بیت اطہار پر غلبہ خوف خدا کا یہ عالم ہے تو میں کس گنتی آتا ہوں اور کس چیز پر فخر کر سکتا ہوں؟۔۔۔۔“

عام طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات سے ڈرنا خوف خدا مراد لیا جاتا ہے حالانکہ ذات سے ڈرنا تو اس وقت ممکن ہونا تھا جب اس کی ذات کا ادراک ممکن ہوتا، جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور بھی محال ہے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی بے نیازی ، اسکی خفیہ تدبیر ، غضب اور اسکے نتیجے میں ایمان کی بربادی سے خوف زدہ رہنے کا نام خوف خدا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ سے خوف و ڈر کا واضح حکم ملتا ہے۔اس سلسلے میں چند آیات ذیل میں بیان کی جا رہی ہیں:۔

اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔(حجرات:12)

اے ایمان والوں! اللہ سے ڈر و ، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔(آل عمران:102)

ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے ، جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔(اعراف:154)

کیا ہم میں آج خوف خدا ہے ؟ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے کیا واقعی یہ صفت ہم میں موجود ہے ؟اگر ہے تو آج ہم کیوں فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم ایک اللہ، ایک رسولﷺ اور ایک قرآن کے پیروکار ہو کر، کلمہ گو مسلمانوں کی زندگیوں کو مسلمان ہوتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کیوں کافر کہنے پر تلا ہوا ہے؟اپنی بیٹیوں کو غیرت کے نام پر قتل کر کے اور ڈالرز کے عوض فروخت کرنے والے کیا سوچ کر اسطرح کے گھناﺅنے فعل سرانجام دے رہے ہیں؟کیوں سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپانے کی ناکام کوشش کر تے ہیں؟کیا سوچ کر اور کیوں ایک دوسرے کے خلاف ایسا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ اختلافات بڑھتے ہیں؟ کیوں ہمارے دلوں سے خوف خدا ختم ہو تا جا رہا ہے ؟ کیا ہم اپنے کسی عمل کے جواب دہ اپنے پروردگار کو نہیں ہیں ؟حیرت تو اس بات کی ہے کہ بہت سے ناعاقبت اندیش لکھاری حضرات علم اور خوف خدا رکھتے ہوئے بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام اخلاقی حدیں پار کر جاتے ہیں اور پھر بھی سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر ہیں جو کہ سراسر گمراہی کہلائی جاسکتی ہے کہ دوسروں کو سمجھا نے والے حوالے دیتے وقت حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے اپنے مطلب پر لاتے ہیں اور گمراہی کی جانب دھکیلتے ہیں اور من گھڑت باتوں یا حقائق سے انکاری ہونے پر اپنے فتویٰ جاری کر تے ہیں حالانکہ وہ اسکا قطعی اختیار نہیں رکھتے ہیں۔ حالانکہ سچ بات دل سے نکل جائے تو سامنے والے کو آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے اور اس کے دل میں اتر جاتی ہے چاہے وہ کسی کمزور دلیل سے ہی کیوں نہ پیش کی جائے، چاہے وہ اسے دل سے قبول کرے یا نہ کرے یہ اور بات ہے۔لیکن کیا کریں جناب! ہر کسی کو آج کل عالم بننے کاشوق ہے ہر کسی نے دین کے معاملے میں اپنی دکانداری چلا رکھی ہے۔ حالانکہ دین کے معاملات اس قدر مشکل نہیں ہیں کہ آسانی سے سمجھدار انسان کو سمجھانے سے سمجھ میں نہ آسکیں۔ ہمارا دین تو بہت ہی سادہ تعلیمات پر مشتمل ہے ۔شاید انہی جیسے فتنہ پرداز لوگوں کی وجہ سے ہم مسلمان لوگ صراط المستقیم سے دور ہوکر آج دربدر ہو رہے ہیں،بدنامی اور مسائل کا شکار ہو رہے ہیں؟اللہ تعالیٰ ہم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے نیز یہ کہ ہم خوف خدا کے سبب راہ حق پر چل پائیں اور ان ناسمجھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ خاص طور پر ہدایت عطا فرمائیں جو دوسروں کی زندگیوں کو گمراہی میں مبتلا کر رہے ہیں۔(آمین)
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
23 May, 2011 Total Views: 1152 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share what I learn and feel!

I'm an original, creative Thinker, Teacher
.. View More

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 217 Articles with 115748 views »
Reviews & Comments
very very nice
By: abrish anmol, sargodha on Mar, 10 2017
Reply Reply
0 Like
پسندید گی اور تبصرے کا بے حد شکریہ۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 17 2017
0 Like
پسندید گی اور تبصرے کا بے حد شکریہ۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 17 2017
0 Like
پسندید گی اور تبصرے کا بے حد شکریہ۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 17 2017
0 Like
پسندید گی اور تبصرے کا بے حد شکریہ۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 17 2017
0 Like
bohat hi acha or informative artical tha bhai welldone :)
By: Zeena, Lahore on Mar, 10 2017
Reply Reply
0 Like
پسندید گی اور تبصرے کا بے حد شکریہ۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 11 2017
0 Like
جناب خالد محمود اور الطاف شاہ صاحب

پسندید گی اور تبصرے کا بے حد شکریہ۔
By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, Bahwalpur on Jun, 18 2011
Reply Reply
0 Like
Jazak Allah.
Boht acha Allah ap ko ajar de.
By: Altaf shah, islamabad on Jun, 16 2011
Reply Reply
0 Like
سبحان الله۔ اگر ہم الله کو اور خوف خدا کو سمجھ لیں تو تمام مسائل حل ہو جائیں۔
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on May, 31 2011
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB