پاکستان کا مطلب کیا

(Naghma Habib, Peshawar)

غلامی سے آزادی تک سفر طے کرتے کرتے قومیں بہت سے مشکل حالات کا سامنا کرتی ہیں اور یہی کچھ برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ بھی ہوا آزادی کی راہ میں بے تحاشا مصائب و آلام کا سا منا کیا اور قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ چلتا رہا لیکن یہاں قائداعظم جیسے لیڈر اور اقبال جیسے شعلہ نوا رہنما موجود تھے۔ محمد علی جو ہر، شوکت علی، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، ہیرے موتی جیسے لیڈروں کی موجودگی میں یہ قافلہ چلتا رہا 23 مارچ1940 کو نصب العین کا تعین کرنے کے بعد کسی رہرو نے پلٹ کر نہ دیکھا اور منزل پر پہنچ کر دم لیا یہ کہانی اس قدر سادہ اور مختصر نہ تھی وقت بھی لگا اور خون بھی بہا تب جا کے کہیں یہ گھر ملا جس کا نام پاکستان ہے۔

پاکستان کا حصول زمین کے ایک ٹکڑے کا حصول نہیں تھا بلکہ بقول قائداعظم یہ تجربہ گاہ اس لئے قائم کرنا چاہتے تھے کہ جہاں مسلمان اسلامی اصولوں کو آزما سکیں اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ان اصولوں کو خلوص دل سے کاروبار زندگی اور کاروبار حکومت میں آزمایا جائے تو ایک بہترین معاشرہ اور بہترین حکومت تشکیل پا سکتی ہے لیکن افسوس کہ قائد کی عمر نے وفا نہ کی اور پاکستان صرف ایک سال کی عمر میں اپنے رہنما سے محروم ہوگیا اور آج جب کہ ملک کو قومی یکجہتی اور اسلامی اصولوں کی ضرورت ہے ہم موجود مسائل کے ساتھ ساتھ مزید کئی دوسرے مسائل کو بھی ابھار رہے ہیں یوں لگتا ہے جیسے پچھلے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں اور فارغ رہنا ہمیں پسند نہیں لہٰذا ہم نے یہ ذکر چھیڑ دیا ہے کہ آیا قائداعظم کا تصوّر سیکولر پاکستان کا تھا یا اسلامی مملکت کا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قائداعظم اور برصغیر کے مسلمانوں نے ایک سیکولر ملک کے لئے ہی اپنی جانوں کی قربانی دی تو پھر تو حکومت بر طانیہ سے آزادی ہی کافی تھی اُس کے لئے الگ ملک حاصل کر نے کی کیا ضرورت تھی اور پھر اُن تریسٹھ لا کھ مسلمانوں کو پاکستان آنے کی کیا ضرورت تھی جو ہجرت کر کے پاکستان آئے نہ صرف اپنا گھر چھوڑا بلکہ کئی بار تو ایسا ہوا کہ پورے پورے خاندان راستے ہی میں شہید کردیئے گئے۔ اور کبھی اس قربانی اور شہادتوں کی کہانی سنانے کو کو ئی ایک فرد اپنے خوابوں کی سرزمین تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ پاکستان کا حصول اسلام اور پاکستان کا مطلب لَا اِ لَہَ اِ لَا الَّلہ ہی قرار دیا گیا تھا اس میں کوئی دوسرا تیسرا نکتہ نظر تھا ہی نہیں اور یہی نکتہ نظر حصول پاکستان کے بعد بھی رہا اور اب بھی ایک عام پاکستانی کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہا ں کچھ نام نہاد روشن خیال لیکن حقیقتاََ بے مہار لوگ اور بزعم خود انسانی حقوق کے علمبردار اس تاثر کو عام کر نے کی کو شش میں مبتلا ہیں بلکہ محسوس کیا جائے تو یہ ایک سازش ہے ورنہ پوپ بینڈ یکٹ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ناموس رسالت کے قانون پر رائے زنی کیوں کرتا جبکہ یہی پوپ تاریخ کی اٹل حقیقت کو یہ کہہ کر جھٹلا رہا ہے کہ حضرت عیسٰی(ع) کو بقول انکے مصلوب کرنے میں یہودیوں کا کوئی قصور نہیں اور یہ فرمان اخوت بین المذاہب کے لئے جاری کیا گیا اسکی جگہ اگر وہ یہودیوں کے لیے اپنے نبی(ع) کو مصلوب کر نے پر معافی کا اعلان فرماتے تو زیادہ مناسب تھا۔دوسری طرف یہ سب قوتیں اسلام کو بدنام کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں اور دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے دین سے بے خبر نماز روزہ سے آزاد برائے نام مسلمان روشن خیالی کے نام پر ان لوگوں کی خوشامد کرتے ہوئے بڑی آسانی سے ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور یہ بحث چھیڑ دیتے ہیں کہ پاکستان کا مطالبہ سیکولر یا پھر اسلامی ریاست کے لئے تھا چاہیئے تو یہ کہ یہ خود کو پڑھے لکھے باشعور کہنے والے پاکستانی ان امپورٹڈ این جی اوز کو بھی چپ کرواتے اور انہیں اسلام کے زرین اصولوں سے آگاہ کرتے مگر یہ خود اُن سے زیادہ بلند بانگ اور لایعنی نعرہ بازی شروع کر دیتے ہیں آج کل قائداعظم کو سیکولر اور مطالبہ پاکستان کو ایک سیکولر ملک کا مطالبہ ثابت کرنے پر اقلیتوں کے حقوق کی آڑ میں زور دیا جا رہا ہے اور یہ سب ایک سازش کے تحت پاکستان کی اسلامی حیثیت ختم کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے جبکہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو مذہبی رواداری کا سب سے زیادہ حامی ہے بلکہ دوسرے کے دین کو نہ چھیڑنے کی تلقین کرتا ہے قرآن پاک میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے رسول ö کو تسلی دی کہ تمہارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے انکے اعمال کی ذمہ داری سے آپکو آزاد قرار د یا اور یہ بھی کہ تمہارے لئے تمہارا دین اور ہمارے لئے ہمارا دین اگر تبلیغ پر بھی کوئی اسلام قبول نہ کرے تو اسلام نے اس کو مارنے کا اختیار نبی ö کو بھی نہیں دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ دنیا کا ہر شخص ایک مذہب پر نہیں ہو سکتا چاہے وہ سچا ترین مذہب اسلام ہو۔ اسلام، اسلامی ملک میں رہنے والے غیر مسلم عوام کی حفاظت کی ذمہ داری بھی مکمل طور پر اسلامی حکومت پر ڈالتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر(رض) جیسے ثقہ راویُ سے مروی ہے کہ ’’ جس نے کسی اسلامی حکومت کے غیر مسلم شہری کی جان لی وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آنے لگتی ہے‘‘ اب جو مذہب غیر مسلم کی جان لینے کے بدلے میں اتنی سخت و عید سناتا ہے کیا وہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری نہ لے گا آج کل پاکستان میں جو حالات پیدا کئے گئے ہیں اس میں نہ تو کسی مسلمان کی جان محفوظ ہے نہ کسی غیر مسلم کی ۔یہ کہنا کہ صرف غیر مسلموں کو خطرہ ہے انتہائی زیادتی ہے اور یہ بھی کہ یہ سب کچھ مسلمان کر رہے ہیں ایک اور بڑی زیادتی ہے اگر کوئی غیر مسلم خاندانی دشمنی کا بھی شکار ہو جائے تو انکے حقوق کا واویلا کر کے شور مچا دیا جا تا ہے تاکہ پاکستان کی اسلامی حیثیت کو چیلنج کیا جا سکے جبکہ یہاں ہر روز مسلمان کبھی مسجد میں کبھی نماز جنازہ میں اور کبھی بازاروں میں مارا جا رہا ہے اور کم از کم نوے فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ یہ سب فارن فنڈڈ ہے اور اب تو یہ ثابت بھی ہو رہا ہے اس لئے پاکستان کے وجود کو سیکولر اور اسلامی کے درمیان پسینے سے بہتر ہے کہ بیرونی دشمن طاقتیں اپنے ہاتھ روک لیں اور ہمارے روشن خیال پڑھے لکھے اور صرف زبانی کلامی مسلمان دنیا کی نظروں میں اچھا بننے سے پہلے اپنے ملک کی بہتری کا سوچیں اور وہ پروپیگنڈا چھوڑ دیں جو وہ کر رہے ہیں بلکہ وہ یورپ کے اسلام مخالف اقدامات کا نوٹس لینا شروع کر دیں کہ خود کو فرد کی آزادی کا علمبردار کہنے والے یورپ میں مسلمان عورتوں کے سکارف، مساجد کے مینار امریکہ میں گراؤنڈ زیرو پر مسجد کی اجازت نہ دینے والے امریکہ کے اعمال کو قابل توجہ اور قابل اعتراض سمجھنا شروع کر دیں۔

قائداعظم یقیناً کو ئی مذہبی شخصت نہ تھے لیکن ان کی کئی تقاریر اس بات کی گواہ ہیں کہ پاکستان کے لئے ان کی جدوجہد صرف ملک نہیں بلکہ اسلامی ملک کے حصول کے لئے تھی اور اسلامی ملک لینے کا مقصد ہرگز یہ نہ تھا کہ یہاں سے دوسرے مذاہب کے ماننے والے نکال دیئے جائیں یہ سب تو sons of the soil ہیں اس زمین پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ایک مسلمان کا اور اس ملک کے لئے تکلیف اٹھا نا اُتنا ہی ان کا بھی فرض ہے جتنا ایک مسلمان کا۔ یہ بحث ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چھیڑی گئی ہے اور اس کو ختم کرنے کے لئے ہم سب کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا اور دنیا کے سامنے آج کے پاکستان اور اُس پاکستان کے درمیان فرق ختم کرنا ہوگا جس کا مطالبہ برصغیر کے مسلمانوں نے 23 مارچ1940 کو کیا اور اسے 14 اگست1947 کو حاصل کر لیا۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Mar, 2011 Total Views: 2089 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Naghma Habib

Read More Articles by Naghma Habib: 406 Articles with 191252 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
پاکستان زندباد
By: Behram Khan, Malakand on Jul, 16 2011
Reply Reply
0 Like
()()______######################
()()______######################
()()______######################
()()______######################
()()______#######_#####*########
()()______######_#####***#######
()()______#####__####*****######
()()______#####__#####***#######
()()______#####__######*########
()()______#####__###############
()()______#####___##############
()()______#####____#############
()()______######____#####_######
()()______#######_________#######
()()______#########_____#########
()()______######################
()()______######################
()()
()()
()()
()()
()()
()()

PAKISTAN ZINDABAD
By: Habib Ullah Khan, Swat, Pakistan on May, 08 2011
Reply Reply
0 Like
آپ سب کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس مضمون کو اتنی توجہ سے پڑھا مجھے امید ہے کہ اس نظریے کے کچھ مخالفین نے اپنے خیالات پر سوچا ضرور ہوگا ۔ تاہم جن قارئین نے باکستان کے مختلف مطالب بیان کیے ہیں اور قومیتوں کے مسائل کی وجہ سے پاکستان کے مطلب پر شک کیا ہے تو عرض ہے کہ مسائل اپنی جگہ لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ ملک کا مطالبہ اسلام ہی کی بنیاد پر کیا تھا اب اگر یہاں قومیتوں کو ہوا دی جارہی ہے تو اس میں نہ تو پاکستان کا قصور ہے نہ اس کی اساس کا یہ سب ملک دشمن عناصر کر رہے ہیں جو نہ تو پنجابیوں کے دوست ہیں نہ پٹھانوں, سندھیوں اور بلوچیوں کے بلکہ یہ ایک صوبے کو دوسرے سے بدظن کر کے اپنا کاروبار چمکانے کی کوشش میں مصروف ہیں لہٰذا اہل وطن سے اپیل ہے کہ ان سے ہوشیار رہیں بلکہ ان کو سختی سے مسترد کر دیجئے ۔ اپنی کوشش کیجئے اور اللہ سے دعا کہ وہ اس ملک کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین
By: Naghma Habib, Peshawar on Apr, 14 2011
Reply Reply
0 Like
we love Pakistan its our country and we our free to do any thing . Pakistan zindabad Pakistan zindabad Pakistan zindabad . we love pakistan
By: abdullah, Kharian on Apr, 09 2011
Reply Reply
0 Like
I am 10 year old boy. I love my country, beacuse i am free in my country to do anything which i want. Pakistan Zindabad.
By: Abdullah, Kharain on Apr, 09 2011
Reply Reply
0 Like
@ Hameed from Banglore.

With all due respect, there is no point of arguing with you because this is a PAKISTANI matter but still. Pakistan is our country not yours. You are no one to decide whether we are democratic or not. We are very much happy here. We may have a little trouble in finding basic necessities of life but you know what our each and every breath thank Almighty Allah for bestowing us with this GREAT state of Pakistan.

You mentioned our waderas, mafia etc. Why don't you look at your own country.The so called world's biggest democracy. First it was Rajiv, then Sonia and now Rahul Gandhi is balancing to take over. It seems that India is not a country but a property of Gandhis.

As far as Jamat-e-Islami and other Islamic political parties are concerned yes they were opposing the creation of Pakistan but once this great country was craeted they accepted it from the bottom of their heart. Al -Shams and Al-Badr organisations during the 1971 Indo-Pak war were run by the same Jumat-e-Islami. No wonder we lost, but these organisations spilled their blood like any other patriot.


By: Shaheer, Kharian on Apr, 08 2011
Reply Reply
0 Like
Nor pakistan is islamic state nor democratic. Its is ruled by people with strong background of mafia n wadera's. Pakistan islamic parties are represented by Jamath e Islam which was against the creation of pakistan n there founder was supporter of british rule n even he told yazid is their amir
By: hameed, bangalore on Apr, 02 2011
Reply Reply
0 Like
nehayat afsos aur mazarat kay sath kay ajj pakistan may musalman musalman say muzhab ki bat kurtay hoye durta hay kay koi bayan may zurra baraber gulti ho gayee too road pay koi bhee kuch ilzam laga kur koie mamla na khara kur day. yeh halat hay hamari.
By: adil khan, karachi on Mar, 19 2011
Reply Reply
0 Like
پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک ہے اس کے عوام نہایت خودار,غیرت مند اور پاکستان کے وفادار ہیں پاکستانی عوام میں سیاستدان شامل نہیں ہیں۔اس وقت پاکستانی عوام سوئی ہوئی ہیں عنقریب جاگ جائے گی۔اور اس سوئی ہوئی قوم کو جگانا آپ اہل قلم کا کام بلکہ ذمہ داری ہے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ رات ختم ہونی والی ہے مستقبل انشااللہ ہمارا ہے نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی
By: Habib Ullah Khan, Swat, Pakistan on Mar, 19 2011
Reply Reply
0 Like
پاکستان کو قائد اعظم کے تصورات کہ مسلمان اس ریاست میں اسلامی اصولوں کو آزما سکیں۔ نہ ہونے دیا گیا۔ اس ملک کو انگریز کے حاشیہ اپنی دسترس قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ اور اصل مقصد سے دور کر دیا۔ بیرونی مداخلت اتنی بڑھی کہ ملک شکنجے میں جکڑا سسکیاں لے رہا ہے۔ ڈرون حملے۔ بم دھماکے۔ چوری لٹیرا پن۔اکاؤنٹیبلیٹی ناپید۔ اب تو سیاسی میچ فکسنگ۔ حلف کی توہین بلکہ اس کے ساتھ مذاق۔ کس جانب اشارے کرتا ہے۔ اب کون سی ایسی قوت ہے جو ان سب کو صحیح جگہ فکس کرے۔ قوم مایوسی کی حالت میں ہے۔ عسکری لیڈر شپ بھی زخموں کا مداوہ نہ کر سکی باقی کیا رہ گیا۔ ہے قائد کا پاکستان غیر ملکی ایجنٹوں کے رحم و کرم پر ہے۔ تو کس طرح اسلامی اصولوں و آزمایا جا سکتا ہے۔

ایک منظم انقلاب جس کی جڑیں عوام میں ہوں۔ اس مسئلہ کا حل نظر آتا ہے۔ حکمران دوسو سے زائد ڈرون حملے کروا کر بھی ا حتجاج سے عاری ہے۔ جس میں ہزاروں بے گناہ مرتے رہے ہیں۔ امریکہ نے ایک ریمنڈ کے لئے پاکستان کو نچا کر رکھ دیا۔ ہم اپنے عوام کو کتے بلی کی طرح مرتے دیکھتے ہیں۔ اسلامی اصولوں اور معاشرہ کا قیام بہت دور نظر آتا ہے۔
By: Mehmood Khan, Karachi on Mar, 19 2011
Reply Reply
0 Like
We are sick and sleeping nation who don't want to face bravely that Pakistani is not a Islamic country.
Does any one can prove that Pakistan is an Islamic state in which sense????
By: Bilal, Africa on Mar, 18 2011
Reply Reply
0 Like
سب لوگ اپنی زمین کی بات کرتے ہیں ہم مہاجر
یا اردو بولنے والے اس پاکستان کیا کریں یا اپنا وطن بنائیں سوچو میری قوم کے لوگوں سوچو وقت بھت کم ھے
By: M.ZAFAR, KARACHI on Mar, 17 2011
Reply Reply
0 Like
اگر کوئی بھی با شعور شخص تحریک پاکستان آغاز سے لیکر قیام پاکستان اور آج تک کے درپیش حالات کا بغور مطالعہ کرے تو روزروشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ پاکستان کوئی عام سرزمین اور معمولی قوم کا نام نہیں ہے۔ اس پر کبھی تفصیلی بحث ہوگی انشاءاللہ مگر آج صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان صرف پاکستانیوں کا ہے اور باقی سب شناختیں “پنجابی،سندھی۔بلوچی،پٹھان،مسل،غیر مسلم“ ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ علاقائی لحاظ سے میں اور میرے آبء و اجداد ازلی پنجابی ہیں۔لدھیانہ سے ہجرت کرکے پاکستان صرف اس لئے آئے کہ ایک اسلامی ملیک بن رہاتھا اور الحمدللہ پاکستان اسلامی ملک ہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مدینہ ثانی فی الحال اولادِابلیس کے ہاتھوں میں ہے جو اس قوم کے خون اور وسائل سے یہود ونصاریٰ کی خواہشوں کے مطابق کھیل رہی ہے مگر مدینہ ثانی قائم رہنے کے لئے بنا ہے فنا ہونے کے لئے نہیں۔ شائد ابھی ہم اس نعمت کبریٰ کا حق ادا نہیں کرپائے انشاءالل بق بھی ادا ہوگا اور مدینہ ثانی شیطان اور اس کی ذریت سے بھی پاک ہوگا۔ پھر نفرت، تعصب، کینہ اور تفرقہ پھیلانے والےاور اللہ کی امانت اسلامی جمہوریہ پاکستان اور بدر منیر اسد۔ حائل سعودی عرب اس کے باسیوں کے ساتھ خیانت کرنے والے اپنا انجام سوچ لیں۔
By: B.M.Asad, Hail Saudi Arabia on Mar, 17 2011
Reply Reply
0 Like
پاکستان کا مطلب اس دور میں ڈالر ڈالر ھے
By: asghar abbasi, dubahi on Mar, 16 2011
Reply Reply
0 Like
پاکستان کا مطلب پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کرنا- لوگوں کو اسلام کے نام پے بیوقوف بنانا-
سرحد کے بھولے پٹھانوں پنجاب کے پیٹ کی خاطر کھبی اسلام کے نام پے مروانا تو کھبی دہشت گردی کے نام پے مروانا- یہی ہے اس ملک کا نام اور کچھ نہیں-
By: Gorgain Baloch, Balochistan on Mar, 16 2011
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB