تعظیم مصطفٰے ۔ حکم خدا ۔ سنت صحابہ ۔ تو شرک کیسا؟ آخری قسط

(Kamran Azeemi, Karachi)

 صحابہ کرام علیھم الرضوان کی جانب سے تعظیم حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مظاہرے :
1-سن 06 ہجری کو جب کفار مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روک دیا تو اس وقت مسلمانوں اور کافروں کے درمیان صلح نامہ طے پایا۔ اس موقع پر عروہ بن مسعود بارگاہ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کفار کا وکیل بن کر آیا۔ اس نے صحابہ کرام علیھم الرضوان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حد تعظیم کرتے ہوئے دیکھا۔ اور جو اس نے محبت و ادب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حیران کن مناظر دیکھے تو واپس جا کر اپنے ساتھیوں کے سامنے ان کی منظر کشی کی۔ ان تفصیلات کو حضرت مسعود بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مروان نے درج ذیل الفاظ میں روایت کیا ہے ؛ " عروہ بن مسعود صحابہ کرام علیھم الرضوان کو غور سے دیکھتا رہا ۔ راوی کہتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی قسم ! جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا لعاب مبارک پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اسے اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کسی بات کا حکم دیتے تو وہ فوراً تعمیل میں لگ جاتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرماتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرماتے تو صحابہ کرام علیھم الرضوان ہمہ تن گوش ہو کر اپنی آوازوں کو پست کرلیتے۔ اور تعظیم کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نظر جما کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا : اے قوم ! خدا کی قسم میں (بڑے بڑے) بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں۔ میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم ! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے درباری اس کی اس طرح دل سے تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ "
( البخاری ، کتاب الشروط ، 2581 ۔۔۔۔۔۔ المسند امام احمد بن حنبل 04:329)

2-حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علالت کے آخری ایام کے اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں جس میں صحابہ کرام علیھم الرضوان نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت کے بجائے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں حالت نماز میں تھے مگر جیسے ہی حجرہ مبارک کا پردہ اٹھا کر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ " حضور نبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ چناچہ پیر کے روز لوگ صفیں بنائے نماز ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھایا اور کھڑے کھڑے ہم کو دیکھنے لگے۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور قرآن کے اوراق کی طرح روشن معلوم ہوتا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جماعت کو دیکھ کر) مسکرانے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پر انوار کی خوشی میں قریب تھا کہ ہم نماز توڑ دیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں تشریف لارہے ہیں ۔ اس لئے انھوں نے ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ کر مقتدیوں میں مل جانا چاہا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ تم لوگ اپنی نماز پوری کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔"
( بخاری کتاب الاذان 648 ، 721 ، کتاب التھجد 1147 ، کتاب المغازی 4183 ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلم کتاب الصلوۃ 419)

غور کیجئے ۔۔۔۔۔ اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان بحالت نماز دیدار مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لذتوں سے فیضیاب ہورہے تھے۔ یعنی بحالت نماز آمد و مسکراہٹ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر توجہ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیچھے کی طرف ہوجانے کا عمل اور شوق دیدار میں نماز توڑنے تک کی کیفیات اگر کسی عام سے منسوب ہوتیں تو لائق جراح بن جاتیں مگر اسے کیا کہئے کہ یہ اعمال خود صحابہ کرام علیھم الرضوان سے منسوب و ثابت ہیں۔ لہٰذا کہنے دیجئے کہ ادب و تعظیم مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیکھنا ہو تو صحابی کی طرف رجوع کرو کسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی کیا اوقات کہ وہ تعظیم حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سمجھ سکے۔ بے شک صحابہ کرام علیھم الرضوان ہی نے سب سے بہتر سمجھا اور ہمارے لئے لائق تقلید اعمال کا ایک خزانہ چھوڑا۔

3-حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے طویل واقعہ مروی ہے کہ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کفار کی طرف سفیر بنا کر روانہ کیا گیا اور کفار نے مذاکرات کے بعد انھیں طواف کعبہ کی دعوت دی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً انکار کرتے ہوئے فرمایا ؛ " اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک کعبہ کا طواف نہیں کروں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا طواف نہیں کرلیتے۔ "
(بیہیقی ، السنن الکبری 09:221)

4-حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ " نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہورہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر اقدس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے ۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا لہٰذا اس پر سورج واپس لوٹا دے۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں : میں نے اسے غروب ہوتے ہوئے دیکھا تھا اور اسی کو دیکھا کہ وہ غروب ہونے کے بعد دوبارہ طلوع ہوا۔"
(طبرانی ، المعجم الکبیر 390 ۔۔۔۔۔۔۔ ابن کثیر ، البدایۃ والنہایۃ 06:83)

میرے عزیز ساتھیوں ! ایک بار اس حدیث کو دوبارہ پڑھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھئے کیا واقعہ ہوا یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غور تو کیجئے ۔۔۔۔۔۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی ہستی نماز کو جان بوجھ کر قضا فرما رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بتائیے جان بوجھ کر نماز قضا کرنے والوں پر عذاب کا ہمیں علم نہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ علم کا دروازہ ہیں ان کو علم نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا یقیناً تھا بے شک علم تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ایک طرف علم تھا اور دوسری طرف تعظیم مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھی۔ آج کل کے ثواب کو تول تول کر نیک کام کرنے والوں جیسا کوئی ہوتا تو شاید محرومی ہی اس کا مقدر ہوتی مگر سامنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی باکردار و باادب شخصیت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دوسری طرف یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بھی سرزنش نہیں فرمائی گئی کہ اے علی تم نے نماز قضا کردی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف میرا آرام تھا دوسری طرف تمھاری نماز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلمات ادا فرمائے مگر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " اے اللہ ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا لہٰذا اس پر سورج واپس لوٹا دے۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیسا مقام ہے کہ جان بوجھ کر نماز قضا کی گئی مگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فعل پر گرفت فرمانے کے بجائے رب کی بارگاہ میں اسے اپنی اور اپنے رب کی اطاعت سے تعبیر فرمارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر ہم کیوں نہ کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
شرک ٹھرے جس مذہب میں تعظیم حبیب
ایسے برے مذہب پر لعنت کیجئے

5-حضرت عبد الرحمن بن ابو لیلی سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ " ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بوسہ دیا۔"
(السنن ابو داود کتاب الادب 5223 ، بیہقی السنن الکبری 13362 ، شعب الایمان 8965)

6-اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں تھے۔ کہ لوگ بری طرح بکھر کر محاذ سے پیچھے ہٹ گئے۔ تو ہم نے کہا کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے۔ ہم لوگ (جنگ سے) بھاگ گئے۔۔۔ اس پر آیت نازل ہوئی " بجز ان کے جو جنگی چال کے طور پر رخ بدل دیں۔" ہم نے کہا اب مدینہ میں چلے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز کے لئے باہر تشریف لائے۔ ہم نے عرض کیا "ہم بھاگے ہوئے ہیں" آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " نہیں بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو۔" پس ہم قریب ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست مبارک چوم لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " میں ہر مسلمان کی پناہ گاہ ہوں۔"
(البخاری فی الادب المفرد 972 ، ابو داود السنن کتاب الجھاد 2647 ، ابن ابی شیبۃ فی المنصف 33676 ، المسند احمد بن حنبل ۔ 100۔5384 ، جامع ترمذی 01:205 ، اسنن ابن ماجہ 271 )

7-حضرت زارع رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ وفد عبد القیس میں شامل تھے بیان کرتے ہیں " جب ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو تیزی سے اپنی سواریوں سے اُتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس اور پاؤں مبارک کو چومنے لگے۔ "
(السنن ابو داود کتاب الادب 5225 ، امام بخاری الادب المفرد 975 ، طبرانی فی المعجم الکبیر 5313 ، شعب الایمان 7729 ، البیہقی السنن الکبری 10267)

میرے عزیز ساتھیوں۔۔۔۔ صحابہ کرام علیھم الرضوان نے آقائے نامدار دو جہاں کے سردار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک و مقدس پاؤں شریف کو بوسہ دیتے ہوئے کیا انداز اختیار کیا ہوگا ؟ جلسہ ، قعود یا قیام ۔۔ ؟؟؟ تا کہ ان کا یہ عمل سجدہ سے مشابہ ہوکر شرک کے زمرے میں نہ آئے۔ سنن ابوداود کی اس صحیح روایت کی کیا تعبیر ہوگی ؟؟؟ کیا مذکورہ صحابہ کرام علیھم الرضوان نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کیا تھا ؟؟؟ نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔ ایسا کہنا ان پر بہتان طرازی ہوگا۔ لہٰذا اس حدیث مبارکہ کی درست تعبیر یہی ہے کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا و مافیہا سے بڑھ کر محبوب سمجھتے تھے۔ یہ ان کا اظہار عقیدت و محبت تھا کہ ادب و تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وہ ہر جائز طریقہ و انداز اپناتے تھے۔

8-امام بخاری نے "الادب المفرد" میں ایک باب "تقبیل الرجل" قائم کیا یعنی "پاؤں کو بوسہ دینے کا بیان"۔ اس حدیث کو حضرت وازع بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان الفاظ میں روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں " ہم مدینہ حاضر ہوئے تو (ہمیں) کہا گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں اور قدموں سے لپٹ گئے اور انھیں بوسہ دینے لگے۔"
(البخاری فی الادب المفرد 01:339 ۔ 975)

9-حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا ۔۔۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ میں اسلام لانا چاہتا ہوں مجھے کوئی ایسی چیز دکھائیے جس سے میرا یقین زیادہ ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "تو کیا چاہتا ہے" اس نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس درخت کو اپنے پاس بلالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " تو جا کر اسے بُلا لا"۔ وہ اس (درخت) کے پاس گیا اور کہا کہ رسول اللہ صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے بلاتے ہیں۔ یہ سن کر وہ (درخت) ایک طرف کو جھکا اور اس کی جڑیں اکھڑیں ۔ پھر دوسری طرف کو جھکا اور جڑیں اکھڑیں۔ اسی طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یہ دیکھ کر اعرابی نے کہا مجھے کافی ہے۔ مجھے کافی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس درخت کو اپنی جگہ پر جانے کا حکم دیا تو وہ چلا گیا اور اپنی جڑوں پر قائم ہوگیا۔ اعرابی نے عرض کی ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے سر مبارک اور دو پائے مبارک کو بوسہ دوں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی۔ اور اس نے سر مبارک اور دو پائے مبارک کو چوم لیا۔ پھر اس نے عرض کی مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک شخص دوسرے شخص کو سجدہ نہ کرے۔ اگر میں ایسے سجدے کی اجازت دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیوں کہ شوہر کا اس پر بڑا حق ہے۔
(زرقانی علی المواھب ۔ وفد عبد القیس ، الادب المفرد للبخاری ۔ باب التودۃ الامور)

10-امام ترمذی نے اس مضمون پر ایک حدیث حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قوم یہود کے بعض افراد نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کرنے کے بعد اعلانیہ گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ کے سچےرسول ہیں۔۔ " انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں مبارک کو بوسہ دیا۔ اور کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہیں۔"
(ترمذی کتاب الاستئذان و الآداب باب فی قبلۃ الید و الرجل 05:77 ۔ 2733 ، ابن ماجہ کتاب الادب باب الرجل یقبل ید الرجل 02:1221 ۔ 3705 ، ابن ابی شیبۃ 6258 ، المسند احمد بن حنبل 04:239 ، المستدرک الحاکم 09:01)

نوٹ: اما م حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا جبکہ امام ذہبی نے بھی اس کی تائید کی۔

یہاں کوئی معتصب کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک یہودی کا فعل تھا۔ ہم اسے کس طرح لازمی شہادت کا درجہ دے سکتے ہیں۔ اس سوچ پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے کہ معترض کو یہودی کا فعل تو نظر آگیا مگر جس کے ساتھ کیا جارہا ہے وہ بابرکت و معظم ہستی نظر نہیں آتی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو اس فعل سے منع نہیں فرمایا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تقریری ہوا۔

اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے احادیث کا ایک بیش بہا خزانہ موجود ہے جو ہمیں تعظیم مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام آداب و اصول سکھاتا ہے اور دعوت فکر دیتا ہے کہ جب بھی ہم اس عظیم ہستی کا نام نامی اسم گرامی یا حالات زندگی سنیں یا تصورات و تخیلات کی دنیا میں محو پرواز ہوں تو کسی طور اپنے فہم ناقص کو زور آور نہ بنا بیٹھیں اور نہ تعظیم مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرک و بدعت کے فلسفے میں پرکھیں کہ جس عمل کا حکم رب کائنات نے دیا ہو اور جس پر عمل صحابہ علیھم الرضوان کی جماعت نے کیا ہو ایسا عمل کیونکر شرک و بدعت ہوسکتا ہے۔ ہاں ہماری عقل ناقص ہے ۔ ہمارا فہم ادھورا ہے۔ لہٰذا تعظیم مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اگر صحابہ کرام علیھم الرضوان نے ہاتھ مبارک اور پاؤں مبارک کو بوسے دیئے تو کیا عجیب کیا ۔ یاد رکھئے چومنے اور پوجنے میں بہت فرق ہے ۔ عشاق غلاف کعبہ و جزوان قرآن و حجر اسود کے چوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوجتے نہیں ۔

دعوت فکر ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے عزیز ساتھیوں۔۔۔۔ !!! غور کیجئے ۔۔۔۔۔ اعمال صحابہ علیھم الرضوان کی ہر لمحہ سند چاہنے والوں کو کیا یہ کافی نہیں کہ حکم خدا عزوجل کو اعمال صحابہ علیھم الرضوان کی تائید حاصل ہے۔ اور اثبات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات۔

واللہ و رسولہ اعلم
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Mar, 2011 Total Views: 762 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Kamran Azeemi

Read More Articles by Kamran Azeemi: 19 Articles with 11832 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments

اسلام علکیم بھائی جی ماشا اللہ بہت اچھی پوسٹ ہے بھائی جی اپکی پوسٹ کی حدیث نمبر ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-سن 06 ہجری کو جب کفار مکہ نے حدیبیہ کے مقام اس حدیث کا حوالہ نمبر ( البخاری ، کتاب الشروط ، 2581 ۔۔۔۔۔۔ المسند امام احمد بن حنبل 04:329)
بھائی جی یہ حوالہ مل نہیں رہا ہے برائے مہربانی کیا اپ میرے رہنمائی فرمائیں گے۔
اسلام علکیم

By: Asif Rao, Sargodha on Jun, 18 2011
Reply Reply
0 Like

محترم جناب کامران عظیمی صاحب۔

مجھ میں تو کچھ بھی نہیں ہے جسکی تعریف کی جائے۔ میرا سب کچھ حاصل بعد از غلامی کی راہ پے چلنے سے کچھ کچھ معلوم ہو رہا ہے۔ ورنہ میں بھی آزاد لوگوں کی راہ پے چلتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح سمجھتے سمجھتے ہی پار لگ جاتا۔

مگر میرے پیارے بڑے ہی مہربان رب تعالیٰ نے ایک ایسی راہ پے چلا دیا اور ایسے وسیلہ حق سے نوازا ہے جسکا میں قابل نہیں تھا یہ سب میرے مرشد(پیشوا) کی نظر کرم ہے کہ مجھ جیسے ناقص العمل حقیر پے کرم کر دیا اور رضائے رب کی راہ بتلائی جو کہ خالصتاً رب تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے ہے اور سارے کام “ فی سبیل لله“ چل رہے ہیں۔

“ ذرا غور سے پڑھیں اور سمجھیں“

جے تو چاہویں وحدت رب دی
تاں مل مرشد دیاں تلیاں ہو

مرشد لطفوں کریں نظارہ
گل تھیون گل کلیاں ہو

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں

نبی کریم، خاتم الانبیاء، رحمتہ اللعالمین، محبوب رب، نور مجسم حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شان میں سب ہی اپنے اپنے انداز میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں مگر جس کے دل میں تڑپ ہی جدا ہو اور متلاشی حق ہو تو اسکا انداز عشق بھی جداگانہ ہوتا ہے۔

یہ کوئی چھوٹا سا شعر نہیں ہے کہ آسانی سے پڑھ لیا جائے بلکہ ایک ایک لفظ غور طلب ہے۔۔۔

کی محمد (صلی الله علیہ وآلہ وسلم) سے وفا تو نے ------- تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ------------- لوح قلم تیرے ہیں۔
(حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ)

رب سب پے فضل کرے (ساری مخلوق اسی ایک واحد ہو لا شریک کی ہے) ۔ امین۔

By: Azeem, RWP on Mar, 26 2011
Reply Reply
0 Like
اللہ اکبر ۔۔۔۔ اللہ اکبر

میرے انتہائی قابل احترام بھائی عظیم ، ماشاءاللہ آپ کا تبصرہ دراصل خود ایک "بہترین آرٹیکل" کا درجہ رکھتا ہے جس میں سراسر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاشنی نظر آتی ہے۔ بے شک رب کریم عزوجل کے محبوب دانائے غیوب سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان و رفعت کا کیا کہنا کہ جس کی مدحت تو خود رب عزوجل کی سنت ہے۔

اللہ کریم آپ کے ان جزبات و احساسات کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ عطا فرما کر آُپ کی بخشش کا سامان فرمائے اور آپ کے طفیل مجھ عاصی کی بھی مغفرت فرمائے۔

آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
By: Kamran Azeemi, Karachi on Mar, 25 2011
Reply Reply
0 Like

جناب کامران عظیمی صاحب۔

بہت ہی پیارا آرٹیکل رب تعالیٰ سے تمام جہانوں سے بڑھ کے محبت و عشق بووسیلہ نبی کریم، خاتم الانبیاء، رحمتہ اللعالمین، محبوب رب، نور مجسم حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کرنے والوں کے بارے میں پیش کیا ہے۔ الله آپ کو صدا خوش رکھے۔

درحقیقت ہمارے سادے لوگوں کو ان باتوں کا علم ہی نہیں اور نہ ہی اپنے پیارے رب تعالیٰ اور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عشق کرنے کا پتہ ہے اور نہ ہی پتہ لگانے کیلئے تگو دو کرنا گوارا کرتے ہیں (کیونکہ مفت خوریاں پسند ہیں نا)۔ اگر کسی چیز کا پتہ ہے تو صرف بدعتوں وغیرہ کا پتہ ہے، جو کہ آج کل کے پڑھے لکھوں کے ناقص علم و فہم کی ذرا نوازیاں ہیں، جو اپنے آپ کو اور اپنے علم کو منوانے کیلئے کسی بات سے پیچھے نہیں ہٹتے چاہے کسی مسلمان بھائی کو اپنے علم کی بنیاد ناقص پے کافر ہی کیوں نہ کہ دیں، کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ایسے علما کیلئے!

یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ اس آیت کریمہ کی حقیقت جاننا گوارا کرتے ہی نہیں ہیں اور نہ ہی اس کا رخ کرتے ہیں کہ شاید کوئی حق راستے کی پنک پڑ جائے- کیونکہ اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو شاید ان لوگوں کو اپنا مسلک بھولنا پڑے جس پے سالوں سال چلے آ رہے ہیں کہ کہیں نفس کو چوٹ نہ لگ جائے جسکو بڑی مدت سے سمبھالے بچائے آ رہے ہیں۔

ترجم و مفہوم آیت پاک: “ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے“-

یہاں سوال تو یہ ہے کہ علم کی تعریف کیا ہے۔ یہ جو آج کل کے کم فہم اور کم علم لوگوں کے جتھے نظر آتے ہیں کتابیں پڑھ پڑھ پڑھ کے یہ سمجھتے ہی نہیں کہ پہلے سے ہی یا پچھلے زمانوں میں سامنے آ جانے والا علم کی بوندیں دوبارہ سے دیکھ کر اپنے آپ کو عالم کہلوانے کا شوق رکھتے ہیں کیا ایسے لوگ واقعی عالم ہیں یا کہ صرف ہسٹری کو ریفریش کیا جا رہا ہے؟

کیا نبی کریم، خاتم الانبیاء، رحمتہ اللعالمین، محبوب رب، نور مجسم حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کوئی آکسفورڈ یا کوئی ہاورڈ یونیورسٹیاں تھیں؟ نہیں نہ تو پھر کون سا ایسا علم ہے جسکی انتہا سرکارے دو عالم ہی جانتے ہیں یا پھر رب تعالیٰ جن کو اذن خاص سے نواز دے اور اپنے علم میں سے جتنا اور جس قدر چاہے علم عطا فرما دے!

اس حدیث پاک پے انتہائی غور کیجئے گا اپنی اپنی سوچوں کو دور رکھ کے:

حدیث پاک: میں (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم) علم کا شہر ہوں اور حضرت علی (کرم الله وجہ) اس کا دروازہ ہیں۔

درج بالا حدیث پاک سے صاف واضح ہے کہ اہل بیت میں سے اول مقام حضرت علی کرم الله وجہ کو عطا ہوا اور نبی کریم رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو الله رب اللعالمین سے حد درجہ علم عطا ہوا وہ اپنی مکمل جامعیت و اکملیت کے ساتھ حضرت علی کرم الله وجہ کو چشمئہ نبوت صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے نصیب ہوا (والله اعلم) اور بار امانت (امامت) اور نور ہدایت سر چشمہ ولایت کے سپرد ہوا۔

تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل علم تو چیز ہی کچھ اور ہے یعنی جس ہستی کو رب تعالیٰ چن لیتا ہے اپنے اپنے زمانوں میں اور عطا کر دیتا ہے اپنے علم میں سے جتنا چاہے! تو وہ ہستی خاص وخاص علم سے اور عاجزی و انکساری سے پر ہوتی ہے چاہے کوئی سمجھے یا نہ سمجھے!

تو پھر ہمارے ذمے کیا ہوا کہ اگر کسی کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے یا سمجھ سے بالاتر ہو تو تکرار کرنے، جھگڑنے یا فساد برپا کرنے کی بجائے انتہائی عاجزی و انکساری سے وہ علم سیکھا جائے یا کم از کم انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے نفس کے غرور و تکبر جیسے شیطانی فعل یا شیطانی کلمات سے بچنے کیلئے یہ کہ دیا جائے کہ رب العالمین بہتر جانتے ہیں۔ تاکہ راستے سبھی کیلئے کھلے رہیں اور پھر نصیب کی بات ہے کہ کس کے نصیب میں کیا ہے-

جہاں حضور پاک رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ

حدیث پاک: مفہوم: " فقر میرا فخر ہے "

اور قرآن پاک میں “سورہ رحمن میں میں دو دریاؤں کا ذکر ہے کہ دونوں کا پانی ایک ساتھ بہہ رہا ہے، دونوں کے رنگ جدا جدا ہیں، دونوں ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہوتے۔ دونوں کے درمیان ایک برزخ (پردہ) ہے۔“

یہ نشانیاں ہیں اس علم کی کہ جس کا محور و مرکز نبی کریم رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہیں، کو ہر طرح کے علوم اپنی جامعیت و اکملیت الله رب العالمین کی ذات اقدس سے ہی عطا ہوئے ہیں تو الله کریم کی عطا سے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ ہر قسم کے علوم کا مرکز و محور ہیں اور آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے توسل یا وسیلہ خاص سے آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ہر دور میں آنے والے تمام اولیاء الله کو اپنے اپنے دور میں کبھی اکٹھے اور کبھی الگ الگ عطا ہوتے رہیں گے۔

اسی لئے تو جو بھی نبی کریم رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی اسوہ حسنہ “عفوو درگزر ، برداشت، نرمی، رحمدلی اور معافی“ کے بارے جان لیتا ہے تو نبی کریم رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کا گرویدہ ہو جاتا ہے یہی تو بات تھی کہ نبی کریم رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اس قدر محبت و احترام و عشق تھا اصحاب کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین کو کہ کبھی بیٹا باپ کے مد مقابل ہے اور کبھی باپ بیٹا کے مد مقابل۔

تو پھر ایسی شان والے ہمارے پیارے نبی کریم رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ و پاؤں مبارک کے بوسے دیں تو دنیا بدعتی کہے تو پھر کہتی رہے ہمارا نصیب کہ کاش خاک پا ہو پلکوں پے باقیوں کا نصیب ہمیں پتہ نہیں۔

By: Azeem, RWP on Mar, 24 2011
Reply Reply
0 Like
محترم راحیل احمد سلام

اس پذیرائی کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔۔ اس موضوع پر میں نے دو اقساط لکھیں ہیں اور یہ دوسری اور آخری قسط تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد "آداب مشائخ" پر لکھنے کا ارادہ ہے اللہ کریم ہمت و اسباب عطا فرمائے۔ آمین۔ والسلام
By: Kamran Azeemi, Karachi on Mar, 15 2011
Reply Reply
0 Like
Aslam o alaikum.

Kamran bhai,

Aap ne bahut acha data collect ker k likha he jazak ALLAH.
Kush aur likhiye please.
By: RAHEEL AHMAD, JUBAIL, KSA on Mar, 15 2011
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB