انقلابی سٹی ناظم-کراچی

(Rashid Hasan, karachi)

ٹوٹی پھوٹی سڑکیں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اسٹریٹ لائیٹ مکمل طور پر بند گٹر ابلتی گلیاں ہریالی کا نام و نشان نہیں ویران اسکول اجڑے ہوئے پارک یہ حالت دیکھ کر امریکہ سے آئے ہوئے ایک بچے نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا پاکستان ابھی زیر تعمیر ہے؟

اس کا یہ سوال سن کر مجھے ہنسی بھی آئی اور کچھ شرمندگی بھی ہوئی، لیکن کہتے ہیں ہیں کہ بچے من کے سچے ہوتے ہیں ان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہوتی، کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی سرگرمیوں کا حب مانا جاتا ہے، کراچی کے انقلابی مئیر جناب نعمت اللہ خان صاحب حقیقت میں کراچی کے لئے نعمت ثابت ہوئے ٢٠٠١ میں بننے والے یہ کرچی کے پہلے سٹی ناظم تھے، ویسے تو کراچی میں ڈاکٹر فاروق ستار بھی میئر رہے ہیں لیکن نعمت اللہ خان صاحب نے مئیر شپ کا رخ ہی تبدیل کر دیا ٧٠ سالا بزرگ سے ایسی امید نہیں کی جاسکتی کہ اتنا پروایکٹیو ہو کر جس خوش اسلوبی کے ساتھ انہوں نے کام کیا ہے تاریخ ان کو اچھے لفظوں سے یاد رکھے گی۔

نعمت اللہ خان صاحب جماعت اسلامی کرچی کے امیر بھی رہے ہیں ان کی پیدائش یکم اکتوبر ١٩٣٠ کو اجمیر شریف انڈیا میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم انڈیا کے شاہ جہاں پور سے حاصل کی گریجوشن، ماسٹر اور لاء کی ڈگری انہوں نے کرچی ہونیورسٹی سے حاصل کی۔ ١٩٨٥ تا ١٩٨٨ سند اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی رہے، نعمت اللہ خان کراچی کے پہلے مئیر ہیں جن کا نام دنیا کے ٹاپ ٢٠ مئیرز میں آیا۔

نعمت اللہ خان صاحب نے ١٩٤٧ میں انڈیا سے ہجرت کی اور کراچی میں ایک جھگی سے اپنی زندگی کا آغاز کیا اس وقت کی حکومت نے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے انڈیا سے آنے والے مسلمانوں کو خیمے لگا کر دئیے تھے اور وہی نعمت صاحب کے بھی حصہ میں آیا۔

نعمت اللہ خان صاحب نے ٢٠٠١ میں کراچی کے لیئے ٢٩٠٠ ملین روپے کی مالیت کا ماسٹر پلان بنایا جس میں۔
١٨ فلائی اوور
٦ انڈر پاس
٢ سنگنل فری کوری ڈور
کراچی کیلیئے ترجیحی طور پر پانی کی سپلئی
سیوریج کا نظام
بے تحاشہ فیملی پارک
٣٠٠ سی این جی بسیں
ہر یو سی کو علیحدہ فنڈ کی فراہمی
گابیج کلکشن پروگرام

نیز یہ کہ بے تحاشہ ایسے کام ہیں کہ جس کا ذکر اس کالم میں کرنا ممکن نہیں

نعمت اللہ خان صاحب نے اپنی ایمان داری اور محنت سے ایک ایسے انقلاب کی ابتدا کی کہ جس کو روکنا آنے والی حکومتوں کے لیئے نا ممکن تھا، اور انہی کی بدولت کراچی میں ایک صحت مند مقابلے بازی کی ابتداء ہوئی نعمت اللہ خان صاحب کے بعد آنے والے سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کو بھی نعمت اللہ خان جیسی ہی پلاننگ کرنی پڑی۔ یہ بات یاد رہے کے حق پرست گروپ کے پاس پہلے بھی کراچی کی میئر شپ رہی ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
31 Dec, 2010 Total Views: 3560 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Rashid Hasan

simple .. View More

Read More Articles by Rashid Hasan: 42 Articles with 28380 views »
Reviews & Comments
انقلابی ناظم کہاں ہے بھائی ۔۔۔۔۔ یا تو کوئی بہت ایماندار ہے یا بے ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر لگے رہئے آپ سب اپنی اپنی کتھا سلجھانے میں ۔۔۔۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Mar, 10 2011
Reply Reply
0 Like
نعمت اللہ خان کراچی والوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں ، انہوں نے اس وقت نطامت سنبھالی جب ١٩٨٢ سے لیکر ٢٠٠٢ تک کراچی کو خون میں نہلایا گیا اور افغانی صاحب کے بعد اس شہر کو اجاڑا گیا اور کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں کروائے گئے لیکن نعمت اللہ صاحب نے ضعیف عمری میں وہ کام کیا جس کو زمانہ یاد رکھے گا
By: Awais Aslam Mirza, Wah on Mar, 10 2011
Reply Reply
0 Like
kamran sahab, shukar hay app nay yeh too qabool leya kay lyri waloo koo cheque deyay gaye thay. buss aqalmandoo koo ishara kafi hay. As as partner construction company chalana jrum nahee. app koo maloom hay saima builders aik nam hay quality ka jo kay internationally certified hay. Kia yeh imandari ka moo bolta saboot nahee. varna app super highway scheme 33 may rat ko flat book kara loo subha ko company gayab. by the way park ki zameen pay alloted plots may augar koi transferabe plot/makan hay too may khareedar hoon.
By: adil khan, karachi on Mar, 08 2011
Reply Reply
0 Like
راشد حسن صاحب
الزامات برائے الزامات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے ان میں کتنی ہی حقیقت ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان باتوں کے کرنے سے کیا نعمت اللہ صاحب کا "انقلابی" ثابت ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ آپ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔ یا تو آپ اپنے آرٹیکل کا نام پاک صاف سٹی ناظم رکھتے ۔۔۔۔ مضمون کا نام کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضمون کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کمنٹس کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اسی دھوکہ کا نام انقلاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
By: Kamran Azeemi, Karachi on Mar, 07 2011
Reply Reply
0 Like
عادل صاحب آپ کی معلومات نہایت ناقص ہیں۔ نارتھ ناظم آباد میں واقع صائمہ برج ویو جس کے پارٹنر محترم بابر غوری صاحب ہیں تقریبا پندرہ منزلہ یہ عمارت اس میں واقع ایک چھوٹے سے چھوٹے فلیٹ کی قیمت ساٹھ سے ستر لاکھ روپے ہے۔ لیاری ایکسپریس والوں کو تو سالوں انتظار کے بعد چیک دیئے گئے تھے۔
By: Rashid Hasan, Karachi on Mar, 07 2011
Reply Reply
0 Like
Haqiqat hay kay park ki zameen pay plot sirf or sirf un loogo ko milay hain jin kin zameen city government nay roads/pull banay kay vastay lee thee unki zameen kay budlay may zameen dee hay tub hee too lines area, katti pahari or lyri express way banay pur koi aitejaj nahee hoha. oor yeh kay un loogo ko makan banay kay vastay paisay bhee paid karay hain joo unka haq tha.katti phari pur too tamam qomiat kay loog thay is kay alava authorised houses bhee city government nay double price pur purchase karay or un loogoo koo zameen kay budlay zameen dee subject to condition of non transferability for some fixed period. koi voo zameen khareed lay maloom ho jayega kay uskay nam transfer hoti hay yah nahee. kidly note the position and understand the logic of development without any agitation. kia batt hay insaf ki
By: adil khan, karachi on Mar, 05 2011
Reply Reply
0 Like
موضوع سے ہٹنے کا خمیازہ اسی طرح بھگتنا پڑتا ہے کہ سلیم اللہ شیخ جیسے منجھے ہوئے کالم نگار کو بھی بے تکی باتوں کے جوابات دینے پڑ گئے۔ سلیم اللہ شیخ صاحب کی جماعت اسلامی سے دلی وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لہٰذا ان کے جوابات کی سیریز نے صورتحال کے بگڑنے نہیں دیا۔ اسی طرح ایم کیو ایم سے وابستگی کا اظہار کرنے والے بھی اپنی دلی کیفیات کے لحاظ سے غلط نہیں کر رہے ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے کتنے کام کئے اور کس نے کتنے بگاڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ اصل سوال یعنی آرٹیکل کا موضوع "انقلابی سٹی ناظم" ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Mar, 03 2011
Reply Reply
0 Like
اور سنئے جناب عالی : لیاقت آباد سندھی ہوٹل پر مین روڈ پر واقع ایک اجاڑ سے پلے گراؤنڈ کی تزئین و آرائش کی گئی، اس کی حالت کو سنوارا گیا،اور اس کی دیواریں اونچی کر کے اس کو صرف خواتین کے لئے مخصوص کردیا گیا اور مردوں کا داخلہ بند کردیا گیا اور اس کو پردہ باغ کا نام دیا گیا تاکہ خواتین بدمعاش اور اوباش لوگوں کی نظروں سے محفوظ رہتے ہوئے،بالکل پرسکون اور آزادنہ موحول میں مارننگ واک ،یا ورزش کرسکیں یا اپنے بچوں کے ساتھ سکون کے کچھ لمحات گزار سکیں ،نعمت اللہ صاحب کے دور میں لیاقت آباد سندھی ہوٹل کی خواتین کو یہ تحفہ دیا گیا اور مصطفیٰ کمال صاحب کے دور میں اس پارک کو عوام کے لئے بند کردیا گیا اور اس پردہ باغ کو ٹھیکے پر دیدیا گیا اور آج وہاں پارک کے بجائے شادی ہال قائم ہے۔ کیا یہی عوام کی خدمت ہے؟ کیا یہی لوگ انقلاب لائیں گے؟ شرم ان کو مگر نہیں آتی ۔جس فرد کو بھی اس میں کوئی شک ہے تو لیاقت آباد سندھی ہوٹل کے ایریا میں واقع اس شادی ہال کو دیکھ سکتا ہے۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 02 2011
Reply Reply
0 Like
اور سنئے عمر حیات صاحب : نارتھ ناظم آباد آئی بلاک میں واقع تاج محل پارک ،نعمت اللہ صاحب کے دور میں اس پارک کی حالت تبدیل کی گئی،اس کو بہترین قسم کا یک فیملی پارک بنایا گیا تاکہ اہل علاقہ یہاں جاگنگ،وغیرہ کرسکیں اور شام کو اپنی فیلمی کے ساتھ پر سکون ماحول میں کچھ وقت گزار سکیں لیکن ان کے بعد آنے والوں کے دور میں اس پارک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور آدھے حصے پر پلاٹنگ کی گئی اور یہاں چھوٹے چھوٹے مکانات بنا کر ایم کیو ایم کے کارکنوں میں تقسیم کئے گئے۔ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں یا کسی کو اس بات میں شک ہے تو میں اہلیان کراچی سے گزارش کرونگا کہ وہ اس جگہ کا بھی ایک دورہ کر کے دیکھ لیں سچ اور جھوٹ کا پتہ چل جائےگا۔ اہل ضمیر اور اہل دل حضرات سے میرا سوال ہے کہ مجھے بتائیں کہ کیا یہی عوام کی خدمت ہے کہ ان سے صحت مندانہ سرگرمیوں کے مواقع بھی چھین لئے جائیں؟ کیا یہی حق پرستی ہے؟ میرا یہ سوال اہل ضمیر لوگوں سے نام نہاد حق پرستوں سے نہیں کیوں کہ انہوں نے تو صرف مخالفت ہی کرنی ہے۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 02 2011
Reply Reply
0 Like
عمر حیات صاحب ،کراچی نے کم از کم یہ تو تسلیم کیا کہ نعمت اللہ صاحب نے پارکس وغیرہ بنائے تھے،شہر کے لوگوں کےلئے فیملی پارکس کا تحفہ بھی ایک اچھا کام تھا جو کہ انہوں نے کیا لیکن اس کے بعد آنے والوں نے کیا کیا؟ یہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ نارتھ ناظم آباد میں کے ڈی اے چورنگی کے ساتھ گرین بیلٹ پر سبزہ لگا کر اور بینچیں لگائی گئیں تاکہ غریب عوام کم از کم یہاں بیٹھ کر سستا لیا کریں ۔شام کے اوقات میں اس گرین بیلٹ پر لوگوں کی اچھی خاصی تعداد کچھ وقت گزارنے آتی تھی۔ لیکن متحدہ کے ناظم کے آتے ہیں یہ سب کچھ ختم ہوگیا اور یہ جگہ پیزا ہٹ والوں کو بیچ دی گئی۔ یقن نہ آئے تو اہل کراچی جاکر دیکھ سکتے ہیں ۔ کیا عوام کو ایک چھوٹا سا تحفہ بھی دینا ایم کیو ایم سے برداشت نہیں ہوا؟
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 02 2011
Reply Reply
0 Like
ماشاء اللہ کئی دوستوں نے بڑے دلچسپ تبصرے کئے ہیں مثلاً نعمت اللہ صاحب کی عمر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کی عمر اتنی ہوگئی تھی کہ وہ کام نہیں کرسکتے تھے۔ جو دوستوں ناظم کے دور میں تو الگ بات ،گزشتہ سال جب ملک میں سیلاب آیا تھا تو یہی بزرگ سیلاب زدہ علاقوں میں امداد لیکر گیا اور جہاں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی تھیں اور سیلاب کے باعث بہہ گئی تھیں جہاں گاڑیاں چلنا ممکن نہیں تھی ان علاقوں میں موٹر سائیکل پر سفر کر کے بھی پہنچا اور لوگوں کو ریلیف دیا۔
عادل صاحب نے سوال کیا ہے کہ جماعت اسلامی کسی نوجوان کو امارت کیوں نہیں دیتی؟ تو میرا ان سے سوال ہے کہ عظیم احمد طارق کے بعد ابھی تک ایم کیو ایم کا کوئی چئیرمین کیوں نہیں بنایا گیا؟ واضح رہے کہ عظیم احمد طارق صاحب کو اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوئے کم و بیش سترہ سال گزر چکے ہیں۔اور ابھی تک کوئی چئیرمین نہیں بنایا گیا
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 02 2011
Reply Reply
0 Like
جناب راشد حسن صاحب ،

آپ کے مکمل آرٹیکل سے ایک بات ثابت ہوئی کہ اگر کوئی کسی ذمہ داری کا اہل قرار پائے اور وہ اسے ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرے تو اسے ایسے القابات سے نوازا جائے کہ جس کا وہ بظاہر اہل بھی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے کہ انقلابی ۔۔۔۔

میرے بھائی میئر بننے کے بعد اگر نعمت اللہ صاحب یا مصطفےٰ کمال صاحب نے کراچی شہر کی ترقی کے لئے کچھ کام کئے تو اس کو انقلاب سے کیا نسبت ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو اس شہر کا حق تھا جو اسے ملا ۔۔۔۔۔۔ مگر یقیناً یہ لوگ قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے اس شہر قائد کو اس کا جائز حق دلانے میں مدد کی ۔۔۔۔۔۔ مگر انقلابی کا خطاب اس بات پر نہیں دیا جاسکتا ۔۔۔۔۔ وگرنہ دنیا کے تمام بڑے اور مشہور شہروں کے میئرز انقلابی قرار پائیں گے ۔۔۔۔۔

انقلاب اگر شہری ترقی سے منسلک ہی کرنا مقصود ہے تو پھر صرف کچھ بنا دینا انقلاب نہیں ہوسکتا بلکہ ایسا انفرااسٹریکچر ترتیب دینا کہ آنے والے لوگ بھی اس سے مستفید ہوں یہی نہیں بلکہ ایسا شعور بھی بیدار کرنا جس میں ہر شخص اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو کر اپنی بساط کے مطابق اس شہر کی ترقی میں کردار ادا کرسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے لفظوں میں ایک بیدار قوم جو ایک نقطہ پر خود کو مرکوز کر کے بہتری کی جانب پیش رفت کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا اس حوالے سے میں مصطفٰے کمال بھائی کو نعمت اللہ صاحب پر فوقیت دیتا ہوں کہ جن کے نعرے "آٓئی اون کراچی" نے دراصل انقلاب کی راہ ہموار کی۔ مثبت سوچ پیدا ہوئی ۔۔۔۔۔ طرز فکر میں تبدیلی نے حقیقتاً کراچی کو اپنا سابقہ حسن حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔ لہٰذا اگر انقلابی کی اصطلاح استعمال ہی کرنی ہے تو "مصطفٰے کمال بھائی" اس کے بہترین حقدار ہیں۔ اور ان کی جماعت ایم کیو ایم بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ اس کار خیر پر مبارکباد کی مستحق ہے۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Mar, 02 2011
Reply Reply
0 Like
سچ تو سچ ہوتا ہے اس کو سچ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ۔ نعمت صاحب نے اچھا کام کیا تو اس کے مقابلے میں ایم کیو ایم کو بھی کراچی کی بہتری کے لیئے کام کرنا پڑا ورنہ کراچی کی عوام جب جوتے مارنے پر آتی ہے تو یہ نہیں دیکھے گی کے ایم کیو ایم مہاجروں کی جماعت ہے
By: Rashid Hasan, Karachi on Mar, 02 2011
Reply Reply
0 Like
ایسی کوئی بات نہیں نعمت اللہ صاحب نے صرف پارک وغیرہ اور اسطرح کے دوسرے کاموں پر توجہ دی تھی جو عام انسان کو فوراً نظر آئیں پر انکی باقی کارکردگی صفر تھی جب کہ مصطفٰے بھائی نے تو پورے کراچی کا نقشہ ہی تبدیل کردیا ہے آپ اورنگی اور بلدیہ ٹاؤن وغیرہ جیسے ایسے علاقوں میں جاکر دیکھیں جہاں کوئی پھٹکتا تک نہیں تھا آج وہاں کا نقشہ ہی چینج ہے میں کافی عرصہ بعد جب وہاں گیا تو حیران رہ گیا۔ نعمت اللہ صاحب تو اپنے ذرا سے کام پر بھی شاباش نعمت اللہ کے بینر لگوا دیتے تھے تاکہ اگر کسی کو انکا کام نظر نہ آئے تو وہ کم از کم بینر پڑھ کر سمجھ جائیں کہ ہاں کوئی کام ہوا ہے جب کہ مصطفٰے بھائی کو کسی بینر کی ضرورت نہیں ہے ہر شہری کہ خود منہ سے نکلتا ہے۔۔۔شاباش مصطفٰے کمال شاباش
By: Ummar Hayat Khan, Karachi on Mar, 02 2011
Reply Reply
0 Like
Jamati tum loog atna jhoot kion boltay hoo Naimat ullah apnay app ko shanbal nahi sakhtay woo karachi ko kia handle kartay ???? jhooot woo bhi atna joo kaam mustufa kamal nay karwaiay woo naimat ullah kay khatay may dalna kitna bara jhoot hay ...kia logo nay ankhoo per patian bandhi hoe hay ?? unko nahi dikh raha kon kia karaha hay ???? jamation hamariweb.com per jhoot bolna bund karooo....
By: faysal ali , karachi on Mar, 01 2011
Reply Reply
0 Like
kaam ki baat kar yaar un buzrug ke bus ki baat nahi thi karachi ko develop karney ki ye tu haq parast nazim mustafa kamal they jinho ne karachi ko karachi banaya or world 2nd mayor ka award bhi hasil kia..
By: Mfarman khan, Karachi on Feb, 28 2011
Reply Reply
0 Like
راشد حسن صاحب لوگوں کہ تبصرے پڑھ کر آپ کو کچھ زرا برابر شرم تو محسوس ھوتی ھو گی۔ ایسا جھو ٹ ۔
By: S M Faisal, Karachi on Feb, 24 2011
Reply Reply
0 Like
kindly avoid un necessary debate. kam vo joo nazar aye, puri qoon us say mustafeed ho. kia nazar aaa raha hay kia nahee koi bavaqoof nahee joo nazar anay wali cheez say inkar karay sub nay appni appni basat kay mutabiq kam kia hay. baldiati election sir pay hay jis ko mustafa kamal ko defete kurnay ka shooq hay oor un say bhee baree kam kur sukta hay apna shooq pura kur lay is may fikr key kia bat hay sub nay bohat acha kia abb aane wali sabqa tamam nazmeen say acha karay too batt hay otherwise some thing is better then nothing.
By: adil khan, karachi on Feb, 19 2011
Reply Reply
0 Like
محترم ایم اے کیو صاحب
عبدالستار افغانی صاحب نے کراچی کے بنیادی مسائل حل کیئے، کراچی کا پرانہ انفرا اسٹرکچر جو کہ اس وقت کی آبادی اور فنڈ کے اعتبار سے بہترین تھا اور انہیں کے دور کی سیوریج اور پانی کی مضبوط لائنوں سے کراچی کی عوام ابھی تک مستفید ہو رہی ہے۔ ایم کیو ایم نے افغانی صاحب اور نعمت صاحب کے دور میں کئے گئے کاموں پر سے ان کے نام کی تختیاں ہٹا کر اپنے نام کی تختیاں لگائی ہیں۔ ثبوت کے لئے موجود ہیں وہ پارک جس پر ایم کیو ایم نے اپنے یونٹ آفس کھولے ہوئے ہیں۔
جزاک اللہ کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں تب آپ کو یقین آئے گا وہاں لندن میں بیٹھ کر آپ کراچی کا نقشہ تو دیکھ سکتے ہیں لیکن حالات سے واقف نہیں ہو سکتے
By: Rashid Hasan, Karachi on Feb, 19 2011
Reply Reply
0 Like
Dear Talha,
You are look like a positive thinker that's why you write the name of MQM in your good book. Dear talha I had seen many conspiracy and killing of the people by them side. you can evaluate that which people like MQM they have bad character around the city. they collect bhatta, snatching chirm e qurbani or any kind of phadda. 60% of the karachi people did not poll the vote MQM forceful fill the ballot box and win the election.
Come on Mr talha
By: Rashid Hasan, Karachi on Feb, 18 2011
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 81)
Page:1 - 2 - 3 - 4 - 5First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB