Hamaeiweb.com
 
Urdu keyboard
(پیرآف اوگالی شریف, Khushab)

Rate it:
Total Views: 109
About the Author: پیرآف اوگالی شریف

Visit 754 Other Articles by پیرآف اوگالی شریف »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Share Comments Share Comments
Email to a Friend
Print Article Print Article
Read Article in Text
Reviews & Comments Reviews & Comments
منکرینِ سایہ یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ اِس لیے نہیں تھا کہ اگر کسی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ پر قدم آجا تا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی اِس لیے اﷲ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ پیدا ہی نہیں کیا ۔ جہاں تک پہلی بات کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے اور نور کا سایہ نہیں ‘ سراسر غلط ہے۔ نوریوں کا سایہ صحیح حدیث سے ثابت ہے جب سیّدنا جابر رضی اللہ عنہہ کے والد عبداﷲ رضی اللہ عنہہ غزوئہ اْحد میں شہید ہوگئے تو اْن کے اہل و عیال اْن کے گرد جمع ہوکر رونے لگے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کہ جب تک تم انہیں یہاں سے اْٹھا نہیں لیتے اْس وقت سے فرشتے اِس پر اپنے پرّوں کا سایہ کیے رکھیں گے۔‘‘(بخاری کتاب الجنائز ۲ / ۱۵)۔
اور دوسری بات بھی خلافِ واقع ہے کیونکہ سایہ پاؤں کے نیچے آہی نہیں سکتا جب کبھی کوئی شخص سائے پر پاؤں رکھے گا تو سایہ اْس کے پاؤں کے اْوپر ہوجائے گا نہ کہ نیچے ۔ لہٰذا ان عقلی اور نقلی دلائل کے خلاف یہ بے عقلی کی اور بے سند باتیں حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 20 2010
ReplyReply to this Comment
سیّد الانبیاء محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے برگزیدہ نبی اور انسان تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلسلہ انسانیت سے پیدا کیا تھا اور انسان ہونے کے اعتبار سے یہ بات عیاں ہے کہ انسان کا سایہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے ایک مقام پر فر ما یا ہے کہ : ’’اور جتنی مخلو قا ت آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی اور نا خوشی سے اﷲ تعالیٰ کے آگے سجدہ کر تی ہیں اور اْن کے سائے بھی صْبح و شام سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘(رعد :۱۵)۔

ایک اور مقام پر فرمایا : ’’کیا اْنہوں نے اﷲ کی مخلوقات میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ اْس کے سائے دائیں اور بائیں سے لوٹتے ہیں ۔ یعنی اﷲ کے آگے ہو کر سر بسجود ہوتے ہیں۔‘‘(النحل : ۴۸)۔
اِن ہر دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین میں اﷲ نے جتنی مخلوق پیدا کی ہے اْن کا سایہ بھی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اﷲ کی مخلوق ہیں لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی سا یہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سائے کے متعلق کئی احادیث موجود ہیں جیسا کہ :سیّدنا اَنس رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور بالکل نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ اچانک آگے بڑھایا مگر پھر جلد ہی پیچھے ہٹالیا ہم نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافِ معمول نماز میں نئے عمل کا اضافہ کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔بلکہ بات یہ ہے کہ میرے سامنے ابھی ابھی جنت پیش کی گئی میں نے اِس میں بہترین پھل دیکھے تو جی میں آیا کہ اِس میں سے کچھ اْچک لوں مگر فوراً حکم ملا کہ پیچھے ہٹ جاؤ میں پیچھے ہٹ گیا پھر مجھ پر جہنم پیش کی گئی۔
((حَتّٰی رَأَیْت ظِلِیّ وَظِلِیّ وَظِلَّلکْمْ)) اِس کی روشنی میں میں نے اپنا اور تمہارا سایہ دیکھا ۔ دیکھتے ہی میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ (مستدرک حاکم ۴ / ۴۵۶)۔
امام ذہبی نے تلخیص مستددک میں فرمایا : ھزا حدیث صحیح یہ حدیث صحیح ہے ۔اِسی طرح مسند احمد ۶/۱۳۲‘۶/۳۳۸طبقات الکبریٰ ۸/۱۲۷‘مجمع الزوائد۴/۳۲۳ پر ایک حدیث میں مروی ہے کہ سیدّہ زینب رضی اللہ عنہا اورسیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں‘ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک اْونٹ تھا اور وہ بیمار ہو گیا جب کہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس دو اونٹ تھے ۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایک زائد اونٹ صفیہ رضی اللہ عنہا کو دے دو تو اْنہوں نے کہا میں اْس یہودیہ کو کیوں دوں ؟ اِس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے ۔ تقریباً تین ماہ تک زینب رضی اللہ عنہا کے پاس نہ گئے حتیٰ کہ زینب رضی اللہ عنہا نے مایوس ہو کر اپنا سامان باندھ لیا۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :’’اچانک دیکھتی ہوں کہ دوپہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک آرہا ہے ۔‘‘
عقلی طور پر بھی معلوم ہوتا ہے کہ سایہ مرئیہ فقط اْس جسم کا ہوتا جو ٹھوس اور نگر ہو نیز سورج کی شعاعوں کو روک ہی نہیں سکتا تو اِس کا سایہ بلاشبہ نظر نہیں آتا ۔ مثلاً صاف اور شفاف شیشہ اگر دھوپ میں لایا جائے تو اْس اک سایہ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اِس میں شعاعوں کو روکنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ۔ بخلاف اِس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر نہایت ٹھوس اور نگر تھا اْس کی ساخت شیشے کی طرح نہیں تھی کہ جس سے سب کچھ ہی گزر جائے۔
لا محالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا ۔ اگر جسم اطہر کا سایہ مبارک نہ تھا تو کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لباس پہنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبلوسات کا بھی سایہ نہ تھا اگر وہ کپڑے اتنے لطیف تھے کہ اْن کا سایہ نہ تھا تو پھر اِن کے پہننے سے ستر وغیرہ کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی؟
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 20 2010
ReplyReply to this Comment
Post your Comments Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
Recent Religion Articles

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)


Article Categories
Politics (8920) سیاست
Society and Culture (4649) معاشرہ اور ثقافت
Religion (4498) مذہب
Other/Miscellaneous (1260) متفرق
Literature & Humor (1056) ادب و مزاح
Education (752) تعلیم
Famous Personalities (656) مشہور شخصیات
Health (574) صحت
Science & Technology (550) سائنس / ٹیکنالوجی
True Stories (278) سچی کہانیاں
Sports (217) کھیل
Books Intro (202) تعارفِ کتب
Kids Corner (181) بچوں کی دنیا
Poetry (170) شعر و شاعری
Entertainment (154) انٹرٹینمنٹ
Career (108) کیریر
Novel (90) افسانہ
Travel & Tourism (88) سیر و سیاحت
Arts (32) ہنر
Samaa TV Live at Hamariweb.com
Election 2013 Results

Recently Commented Articles
Aurton OR Mardon Ki Nmaz Main Koi Faraq Nahi?
Jadu Ka Asar Khatam Kerne K Liye
Most Commented Articles (Last 30 Days)
Jadu Ka Asar Khatam Kerne K Liye
More On Hamariweb
News Home
Latest News
Student News
Science & Technology
Sports
Entertainment
World News
Dictionary
English Urdu Dictionary
Arabic Urdu Dictionary
Spanish Urdu Dictionary
Hindi Urdu Dictionary
French Urdu Dictionary
German Urdu Dictionary
Cricket
Live Cricket
Cricket Highlights
Dream Team
Player Profiles
Sports News
Sports Games
Mobiles
Mobile Phones
Ringtones
Mobile Games
Mobile Softwares
SMS Messages
Web2SMS
Directories
Web Directory
Edu Directory
Important Phone No.
Postal Codes
Country Codes
City Codes
Islam
Online Audio Quran
Quran Recitation
Online Naats
Islamic Names
Islamic Articles
Islamic Wallpapers
Finance
Biz News
Stock Exchanges
Business Directory
Forex Rates
Gold Rates
Prize Bonds
Classifieds
Mobile Phones
For Sale
Vehicles
Real Estate
Matrimonial
Jobs
Articles
Politics
Society and Culture
Religion
Other/Miscellaneous
Literature & Humor
Education
Poetry
Love / Romantic
Sad
General
Life
Religious
Humorous
Other Sections
Urdu Search
My Report
Food & Recipes
Blogs
Forum
Academic Results

Career Counseling
Weather Updates
Free Softwares
Desktop Wallpapers
Greeting Cards
Urdu Editor
About us | Contact Us | Feedback | Advertising | Privacy Policy | Site Map | Jobs @ Hamariweb
Copyright © 2013 HamariWeb.com All Rights Reserved.


X
Post Article