ویلنٹائن ڈے - پیار و محبت کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینے والا تہوار

(Amjid Abbasi, Rawalpindi)

یہ تحریر ویلنٹائن ڈے کے بارے میں ہے جس مٰیں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس تہوار کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسے منانا چاہیئے۔۔۔

ارشاد ربانی ہے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا {المائدة/3}
“آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔”

دین اسلام صرف ایک دین ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات بھی ہےجو کی اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر شعبے میں مکمل راہنمائی کرتا ہےاور کوئی ایسا لمحہ نہیں جس کے بارے میں ہمیں اسلام نے اصول و ضوابط نہ بتائے ہوں جبکہ دوسرے ادیان ان باتوں سے خالی ہیں یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کو خود اللہ تعالیٰ نے بھی پسند فرمایا ہے۔ دین اسلام پر عمل کر کے انسان دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔لیکن آج کل مسلمان طرح طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہر طرف بے حیائی، بدامنی اور بے اطمینانی ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو اپنانا اور ان پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے جن کا قرآن و سنت سے کوئی بھی تعلق نہیں۔اگر انسانیت کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اغیار نے ہمیشہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہےاور اسی کمزوری کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر اپنے رسوم و رواج کو پروان چڑھایا ہےاور مسلمانوں کو اپنی تہذیب سے کوسوں دور کر دیا ہے۔جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بے حیائی ، بےغیرتی اور بے عزتی فروغ پا رہی ہے اور غیروں کی محبت اور ان کا طریق کار ہمارے دلوں میں رچ بس گیا ہے۔جب سے ٹی وی، دش اور انٹرنیٹ عام ہوا ہے تب سے غیر مسلموں نے اپنی تہذیب اور ثقافت کو مسلمانوں پر مسلط کرنا شروع کر دیا ہے۔کبھی بسنت کے نام پر مسلمانوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں کبھی اپریل فول منا کر جھوٹ جیسی لعنت کو عام کیا جا رہا ہےاور کبھی ویلنٹائن ڈے کےنام پرشرم و حیا کے رشتوں کو تارتار کیا جاتا ہے لیکن بجائے اس کے کہ ہم ان تہوارات کی مذمت کریں ہم انہیں منا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم بھی اس معاملے میں غیر مسلموں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
میں نے دیکھا ہےبے پردگی میں الجھ کر اکثر
ہم نے اسلاف کی عظمت کے کفن بیچ دیئے
نئی تہذیب کی بے روح بہاروں کے عوض
اپنی تہذیب کے شاداب چمن بیچ دیئے

آج مسلمانوں کے اندر جو سب سے زیادہ غیر مسلم تہوارات منائے جاتے ہیں ان میں سے ایک ویلنٹائن ڈے ہے۔ یہ تہوار 14 فروری کومنایا جاتا ہے ۔اس دن غیر شادی شدہ جوڑے تمام اخلاقی حدوں کو توڑ کراپنے چاہنے والوں کو محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا تہوار ہے جس نے شرم و حیا کو بلکل ختم کر دیا ہےاور نبی ﷺنے فرمایا
"جب تم میں شرم و حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کرو"۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب)

ویلنٹائن ڈے کی تاریخ:
ویلنٹائن ڈے کا آغاز کہاں سے ہوا ؟ اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں ملتی۔انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کے مطابق اس کا تعلق رومیوں کے دیو لوپر کالیا (Luper Calia) سے ہے۔ جہاں بطور تہوار کے یہ دن منایا جاتا تھااور بعض کے مطابق اس کا تعلق سینٹ ویلنٹائن سے ہے۔بہر حال یہ بات تو تصدیق شدہ ہے کہ اس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ ہے۔ ویلنٹائن ڈے سے متعلقہ مختلف روایات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ دن رومن سینٹ ویلنٹائن کی مناسبت سے منایا جاتا ہےجسے محبت کا دیوتا بھی کہتے ہیں۔ اس روایت کے مطابق ویلنٹائن نامی اس شخص کو مذہب تبدیل نہ کرنے کے جرم میں قید رکھا گیا لیکن بعد میں سولی چڑھا دیا گیاقید کے دوران ویلنٹائن کی جیلر کی بیٹی کے ساتھ دوستی ہو گئی۔سولی پر چڑھائے جانے سے پہلے ویلنٹائن نے جیلر کی بیٹی کے نام ایک الوداعی محبت نامہ چھوڑاجس پر دستخط سے پہلے لکھا تھا:"تمہاراویلنٹائن"اور یہ واقعہ 14 فروری 469ء کو رونما ہوا۔یوں محبت کرنے والوں کیلئے پیش رو تسلیم کیا جانے لگااور اس کی یاد میں 14 فروری تجدید محبت بن گیا۔

ایک اور روایت یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ایک رومی پادری تھا اور پادری چونکہ عیسائیوں کے ہاں مقدس باپ کا درجہ رکھتا ہےجو گناہوں سے لوگوں جو پاک کرتا ہےاور کلیساؤں میں مقیم کنواری لڑکیاں راہبائیں کہلاتی ہیں جو عمر بھر شادی نہیں کرتیں اور راہبہ کا کسی سے کوئی تعلق مذہبی جرم سمجھا جاتا تھا۔لیکن پادری ویلنٹائن ایک راہبہ پر عاشق ہو گئے جبکہ راہبہ سے تعلق استوار نہیں ہو سکتے تھے۔چنانچہ پادری نے راہبہ کو گناہ میں ملو ث کرنے کیلئے بتایاکہ مجھے خواب میں اس بات کی اطلاع دی گئی کہ اگر 14 فروری کو راہب اور راہبہآپس میں زنا کر لیں تو ان پر کوئی گنا ہ نہیں ہو گا۔آخر دونوں نے ایک دوسرے سے منہ کالا کر لیااور یوں کلیسا کے مذہبی تقدس کو پامال کیا۔ چنانچہ دونوں کو اس جرم کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد لوگوں نے ویلنٹائن کو شہید کا درجہ دے کر 14فروری ویلنٹائن ڈے کے نام سے منانا شروع کر دیا۔ویلنٹائن ڈے کا سب سے پرانا کارڈلندن کی لائبریری میں موجود ہے یہ کارڈ 500 سال قبل ایک لڑکی نے اپنے منگیتر کو بھیجا تھا۔ اس کارڈ میں لکھا ہے کہ اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو ا کر مجھ سے شادی کر لو۔اور جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کا تعلق رومی تہوار لوپر کالیا سے ہے وہ کہتے ہیں کہ اس تہوار پر مرد حضرات اپنی قمیصوں پر اپنی دوست محبوباؤں کے نام لگا کر چلتے ہیںاسی دن سے یہ تہوار مختلف شکلیں اور روپ بدلتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔ بہرحال اس معلومات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کا تعلق خواہ رومیوں سے ہو یا مغرب لوگوں سے اسلام سے اس کا بہرحال کوئی تعلق نہیں۔

ویلنٹائن ڈے کس طرح منایا جاتا ہے؟
شروع شروع میں ویلنٹائن ڈے منانے والے ایک دوسرے کو تحفے میں سرخ گلاب دیتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقی تہواروں کی طرح اس تہوار کی روایات میں اضافہ ہو گیا اور اب اس موقعہ پر ایک دوسرے کو قیمتی تحائف دیئے جاتے ہیں اور کیک بھی کاٹے جاتے ہیں۔اسی طرح اخباریت میں بھی اپنے محبوب کے نام شاعر و شاعری میں انہیں محبت کا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔چونکہ ہمارا میڈیابھی اس حوالے سے کسی سے بھی پیچھے نہیں ہے لہذا اس موقع پر ٹی وی پر خصوصی پروگرامات منعقدکئے جاتے ہیں اور اخبارات میں خصوصی ایڈیشن بھی شائع کئے جاتے ہیں۔جبکہ اس موقع پر ایک دوسرے کو ویلنٹائن کارڈ بھی دیئے جاتے ہیں جن پر عام طور پر “From Your Valentine” درج ہوتا ہے جو کہ سینٹ ویلنٹائن کی یاد میں لکھا جاتا ہے۔ (غیر مسلم تہوار، بے حیائی کا بازار۔ تفضیل احمد ضیغم)

بے حیائی پھیلانے والوں کا انجام:
اگر دیکھا جائے تو ویلنٹائن ڈے بے شرمی اور بے حیائی کا دوسرا نام ہے کیونکہ ایک باحیاآدمی ایسی غلط حرکات کا مرتکب نہیں ہو سکتا جو کہ ویلنٹائن ڈے پر ہوتی ہیں۔ قرآن کریم نے بےحیائی پھیلانے والوں کو دنیا و آخرت میں سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ {النور/19}
ترجمہ: " جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں کے گروہ میں بے حیائی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں سخت سزا کے مستحق ہیں اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے"۔
مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کے الفاظ بے حیائی پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں ان کا اطلاق عملا بے حیائی کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بداخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کیلئے جذبات کو اکسانے والےقصوں ،اشعار،گانوں اور کھیل تماشوں پر بھی"۔ (تفہیم القرآن۔جلدسوم۔صفحہ370،371)
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حیا ایمان کا ایک جزو ہےاور ایماندار جنت میں جائے گااور بےحیائی بدی میں سے ہے اور بدکار شخص دوزخ میں جائے گا"۔(ترمذی)

مسلمانوں کا غیر مسلموں کے تہواروں میں شریک ہونا اور اس کی مبارکباد دینا:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ {المائدة/51}
"اے ایمان والو !یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤوہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں"۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع کیا ہے اب جو لوگ ان کے تہواروں میں شرکت کرتے یا اس کی مبارکباد دیتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا؟
اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے"۔ (سنن ابوداؤد۔مسنداحمد)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اپنی معرکۃ الآراء کتاب " اقتضاءالصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب الجحیم" میں لکھتے ہیں کہ
" کفار کی عیدیں اور تہوار بہت ہیں ہم پر ان کی تحقیق واجب نہیں البتہ اس خاص کام یا دن کی تعظیم اسلام میں نہیں ہے بلکہ لوگوں نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہےیا کفار سے اخذ کر لیا ہے لہذا اس کا حکم کم از کم یہ ہو گا کہ یہ بدعت ہے"۔
کاش ان فرامین کی روشنی میں ہم مسلمان اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ۔مگر
لٹ گئی دولت ایماں یہ احساس نہیں
کچھ بھی فرمان محمدﷺ کاہمیں پاس نہیں
ہم وہ پہلی سی روش اور ادا بھول گئے
کیا ہیں محبت میں آداب وفا؟بھول گئے

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
02 Feb, 2018 Total Views: 149 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Amjid Abbasi


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Masha Allah. Bht khoob
By: Ahtesham, Rawalpindi on Feb, 08 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB