کب تک رہے گا استحصال سر زمین پاک پر

(Raja Muhammad Attique Afsar, Peshawar)

وطن عزیز کے باسیوں پہ روا معاشی ظلم کو آشکار کرتی تحریر

کچھ عرصہ قبل آزاد کشمیر کی ایک مؤقر یونیورسٹی میں خالی آسامیوں کا اشتہار دیکھا ۔سرکاری نوکری کی کشش نے ایک بار پھر دل ناداں کو دام میں لے لیا اور این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی نے اس کی شفافیت پہ مہر ثبت کر دی ۔ میرٹ پہ بھرتی کی امید کے ساتھ درخواست فارم پر کیا ۔اس آسامی کے لئے فیس 1500 روپے مقرر تھی یہ بارگراں اٹھانے کے لئے بادل ناخواستہ آمادگی ہوئی تو چالان فارم پر اس رقم کی تفصیل دیکھ کر حیرانی ہوئی ۔ اس میں مبلغ 1240 روپے فیس اور 260 روپے بمد سیلز ٹیکس واجب الادا تھے ۔ میرےحیرت کدہ ٔ دل میں چند محیر العقول خیالات نے جنم لیا ۔میں اس وقت سے محو حیرت ہوں کہ ایک بے روزگار کو بی 17 کی نوکری کی درخواست دینے کے لئے ڈیڑھ ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے اور یہ بھی کہ اس رقم میں سیلز ٹیکس بھی شامل ہے۔ذہن میں یہ گتھی اب تک نہ کھل سکی کہ نوکری کے لیے درخواست دیتے وقت درخواست گزار نے حکومت کے ساتھ کیا خرید و فروخت کی جس پہ سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہو۔اسی طرح حکومت خیبر پختون خوا نے اساتذہ کی بھرتیوں کا اعلان صادر فرما کر حاتم طائی کی قبر پہ لات ماری ۔ ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کو امید کی کرن نظر آئی وہاں بھی یہی معاملہ ہوا ۔ درخواست فیس پہ سیلز ٹیکس ادا کرنا ہر بے روزگار کا قومی فرض ٹھہرا۔اول تو یہ معاشی ظلم ہے کہ روزگار کے لئے درخواست دینے پر بھاری فیس وصول کی جائے اور اس پہ مستزاد یہ کہ سیلز ٹیکس بھی عائد کیا جائے ۔

ہمارے ایک دوست کو ریاست ہائے امریکہ میں مقیم پروفیسر صاحب کو تین سو ڈالر کی رقم بھجوانا تھی ۔ یہ رقم پی ایچ ڈی کے مقالے کی جانچ پڑتال کے عوض ادا کی جا رہی تھی ۔بیرون ملک رقم کی ترسیل کے لئے حکومت نے بینکوں کے علاوہ کچھ کمپنیوں کو بھی اجاز ت دے رکھی ہے جو قانونی طریقے سے رقم منتقل کرتے ہیں ۔ ان میں ویسٹرن یونین بھی ہے ۔ ہمارے دوست نے ویسٹرن یونین کے ذریعے رقم منتقل کی ۔ اس رقم کی ترسیل پہ مبلغ 2100 روپے کا خرچہ وصول کیا گیا ۔اور رسید میرے دوست کے ہاتھ میں تھما دی ۔ یہ دیکھ کمپنی نے کر ہمیں تکلیف ہوئی کہ پروفیسر صاحب کو صرف 284 ڈالرز موصول ہوئے ۔ ویسٹرن یونین کے دفتر فون کیا تو معلوم ہوا کہ کمپنی نے اپنے طریقہ کارکے تحت پہلے وہ تین سو ڈالر قیمت خرید پہ خریدے پھر وہی ڈالر اپنے طے کردہ قیمت فروخت پہ پروفیسر صاحب کو فروخت کیے اس طرح 16 ڈالر کی کمی رونما ہوئی ۔ ہم نے بہتیرا کہا کہ جب ترسیل ڈالر ہی کی کرنا تھی اور ہم نے ڈالر ہی مہیا کیے تو یہ خرید و فروخت کا کیا معاملہ ہے جبکہ کمپنی یہ رقم بھیجنے کی فیس وصول کر چکی ہے ۔ بہر حال یہی جواب ملا کہ یہ کمپنی کے اصول ہیں ۔ میری دانست میں تو یہ تجارت نہیں سود ہے اور زبردستی مال ہتھیانے کا ذریعہ اسلامی مملکت میں یہ کاروبار کیسے روا ہے ۔ شریعت اسلامی نے اسے حرام اسی لیے قرار دیا ہے کہ یہ معاشی ظلم ہے ۔ اسی استحصال کی وجہ سے اسے اللہ اور رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے ۔اس معاشی ظلم کے خلاف عدالت عظمیٰ میں مقدمہ پیش کیا گیا لیکن اس سودی معیشت کو یہ کہہ کر ڈھیل دے دی گئی کہ "جس کا دل کرے سود لے جس کا نہ کرے نہ لے " ۔

ایک دن پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کی ایک کمرشل مارکیٹ میں ایک بریانی سینٹر پہ بیٹھنے کا اتفاق ہوا ۔ اسی دن اس دکان کا شوکیس حکومتی انتظامیہ والے لے گئے اور تجاوزات کے ضمن میں جرمانہ بھی کیا اور کچھ اوپر کی آمدن لے کر واپس بھی کر دیا۔ دکاندار نے محکمہ فوڈز کی جانب سے جاری کردہ لائسنس بھی آویزاں کر رکھا تھا۔اس لائسنس کے علاوہ اسے محکمہ سیاحت کی جانب سے ایک لائسنس لینا پڑا اور اس پہ بھی ہزاروں روپے ادا کئے ۔ حالانکہ یہ علاقہ کوئی سیاحتی مقام نہیں اور نہ ہی ارد گرد کوئی ہوٹل وغیرہ ہیں جہاں سیاح آتے ہوں ۔ پھر یہ زبردستی محاصل کیوں ادا کرنا پڑتے ہیں ۔حالانکہ اسی حیات آباد میں ایک مارکیٹ کارخانو مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے اس مارکیٹ میں پورے ملک سے لوگ آکر خریداری کرتے ہیں ۔ یہاں بیرون ملک سے درآمد کیا گیا مال ارزاں نرخوں پہ دستیاب ہوتا ہے ۔ اس ارزانی کی وجہ یہ ہے کہ افغان تجارت کے نام پہ آنے والے اس مال پہ ٹیکس ادا نہیں کیا جا تا اور یہ ٹیکس چور اور کسٹم چور اشیا سرعام بکتی ہیں اور حکومت تماشائی بنی ہے ۔اسی طرح مالاکنڈ ڈویژن میں کسٹم چور گاڑیاں سڑکوں پہ دوڑتی پھرتی ہیں اور ان پہ حکومت کی طرف سے نمبر پلیٹ بھی لگی ہے ۔ یہ گاڑیاں ملاکنڈ ڈویژن میں حرکت کر سکتی ہیں اس سے باہر آجائیں تو قانون کی گرفت میں آجائیں گی ۔ اب خود سوچیں کہ بریانی فروش تو ہزاروں روپے کے لائسنس حاصل کرے اور اربوں کے مالک بغیر ٹیکس ادا کیے گھومتے رہیں۔کیا یہ استحصال نہیں ؟

دور مت جائیں اپنے بجلی اور گیس کے بل ہی دیکھ لیں ۔اس پہ یونٹ کی قیمت ، صرف شدہ یونٹ سرچارج اور اضافی سرچارج کی رقوم درج ہوتی ہیں ۔ بجلی اور گیس دوران ترسیل ضائع ہوتی ہے اس کی قیمت حکومت سرچارج کی صورت صارفین سے وصول کرتی ہے لیکن یہ سرچارج کی رقم اصل صرف شدہ یونٹوں کی قیمت سے کئی زیادہ ہوتی ہے ۔ تو کیا استعمال شدہ توانائی سے زیادہ ضائع ہوتی ہے ؟ نہیں ایسا نہیں اصل میں اگر بستی میں سو گھر ہوں اور ستر بجلی یا گیس چوری کرتے ہوں تو ان ستر گھروں کا بل بھی ان تیس صارفین کے سر ڈال دیا جاتا ہے جو باقائدگی سے بل ادا کرتے ہیں ۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جرم کوئی کرے اور جرمانہ کسی اور سے وصول کیا جائے ۔ ابھی تک ہم نے جو مثالیں بیان کی ہیں وہ حکومتی سطح پہ ہونے والے استحصال کی ہیں جو قانونی دائرہ ٔ کار کے اندر رہتے ہوئے کیا جا رہا ہے ۔ غیر قانونی اور پرائیویٹ استحصال اس کے علاوہ ہے ۔ مثلا حکومت نے کم سے کم تنخواہ مقرر کر رکھی ہے لیکن نجی اداروں میں اس سے کئی کم اجرت پہ ملازمین کام کر رہے ہیں ۔ بھٹہ خشت کے مزدور ہمیشہ سے زیر عتاب ہیں ۔فیکٹریوں اور کارخانوں میں مزدوروں کا استحصال ،کھیتوں اور کھلیانوں میں جاگیردار وں کے ہاتھوں کسانوں کا استحصال ، سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کا استحصال ،نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا استحصال ،ہسپتالوں میں مریضوں کا استحصال اور سودی قرضہ دینے والے مہاجنوں کے ہاتھوں قرضداروں کا استحصال ہمارے معاشرے میں عام ہے ۔

ہم لوگ ظلم صرف اس فعل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی دوسرے کو جسمانی اذیت پہنچے ، معاشرتی طور پہ اسے حقارت کا نشانہ بنایا جائے یا لوٹ مار کے ذریعے کوئی مال یا عزت ہتھیا لے ۔ اسکے علاوہ ہمیں ظلم نظر نہیں آتا خصوصا معاشی ظلم جو استحصال کہلاتا ہے ۔ یہ جو سیلز ٹیکس کے نام پہ وصول کیا جا رہا ہے سرا سر ظلم اور استحصال ہے ۔ٹیکس لینا حکومتوں کا کام ہے کیونکہ نظم حکومت چلتا ہی انہی محاصل پہ ہے لیکن مہذب دنیا میں امیر لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور رفاع عامہ پہ خرچ ہوتا ہے اس سے امیر و غریب سب ہی استفادہ کرتے ہیں ۔سیلز ٹیکس اصل میں تجارتی کمپنیوںکی فروخت پہ عائد ہوتا ہے لیکن سرمایہ دار اسے قیمت میں شامل کر لیتے ہیں اور یہ ٹیکس صارف کو ادا کرنا ہوتا ہے ۔پاکستانی عوام 17 فیصد ٹیکس ادا کر رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران ڈھٹائی سے کہ دیتے ہیں کہ ہمیں ٹیکس کلچر کو عام کرنا چاہیے ۔گویا عوام ٹیکس نہیں دے رہے ۔ دوسری جانب اشرافیہ ہے جو کروڑوں کے ٹیکس ہڑپ کر بیٹھے ہیں اگر قانوں کے ہاتھ ان تک پہنچتے بھی ہیں تو پلی بارگین کے ذریعے معافی دے دی جاتی ہے ۔ یہ سب استحصال ہے جس کا پاکستانی قوم شکار ہے ۔قوم کی اکثریت کو تو یہ معلوم ہی نہیں کہ اس کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے اور جن کو معلوم ہے وہ محض اس دلیل پہ خاموش ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ہم تو مجبور ہیں۔لیکن فی الحقیقت ظلم پہ خاموشی اختیار کرنا اس ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے بقول شاعر
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

ہر شخص خود کو بے بس قرار دے کر خاموش بیٹھا ہے حالانکہ چاہئے یہ کہ تقریر و تحریر کی آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ہر سطح پہ زیر بحث لایا جائے ۔ اسے اپنا اجتماعی مسئلہ بنایا جائے تاکہ ہر سیاسی جماعت اسے اپنے منشور کا حصہ بنائے۔سماجی تنظیموں کے پلیٹفارم سے اسے میڈیا پہ اجاگر کیا جائے تاکہ حکمرانوں کے کانوں تک اس ظلم کے خلاف فریاد پہنچے ۔اپنی تحریریں محتسب اور عدلیہ تک پہنچائی جائیں شاید کے زنجیر عدل میں جنبش آئے اور یہ دور استحصال ختم ہو ۔ اگر قوم مل کر اس جبر ناروا کے خلاف سربکف ہو جائے تو ان کی آواز ایون اقتدار تک پہنچ سکتی ہے تخت ہلا سکتی ہے اور اس ظلم سے نجات دلا سکتی ہے ۔ ہر شخص شکوہ ظلمت شب سے گریز کرتے ہوئے اپنے حصے کا چراغ جلاتا جائے تو وہ وقت دور نہیں جب وطن عزیز سے استحصالی شب کا خاتمہ ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ پاکستانی قوم کو ظالموں کے شر سے محفوظ فرمائے ۔ آمین ۔
ان چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو
ظلم کی رات کو ڈھلنا ہے فضا جیسی ہو
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Jan, 2018 Total Views: 98 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Raja Muhammad Attique Afsar

Read More Articles by Raja Muhammad Attique Afsar: 35 Articles with 11184 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Such baat kahi hai sir aap ne yahi hamara hal hai
By: Riaz Khan, Peshawar on Jan, 12 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB