موسمی فلوکاپھیلتاہوامرض :تشخیص ،حفاظتی اقدامات وتدابیر

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

ملتان سے خبرہے کہ سوائن فلومرض کے شبہ میں ۰۸ سے زائدمریض مختلف سرکاری ہسپتالوں میں لائے گئے ۔ہلاکتوں کے بعدمحکمہ صحت کوبھی ہوش آگیا ۔ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی۔اس بارے معلوم ہواہے کہ دن بدن سوائن فلوسے متاثرہ مریضوں کی تعدادمیں اضافہ ہورہاہے۔جبکہ محکمہ صحت کی طرف سے مریضوں کی تعدادکوچھپایاجارہا ہے تاکہ ان کی کارکردگی پرکوئی انگلی نہ اٹھاسکے۔جس کی وجہ سے محکمہ صحت اس مرض پرقابوپانے میں ناکام نظرآرہاہے۔ذرائع کاکہناہے کہ ملتان کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں دوسومریض سوائن فلوکے شبہ میں لائے گئے ہیں جن میں سے انتیس دسمبرتک سات مریض جان سے ہاتھ دھو چکے تھے۔اکتیس دسمبرکے اخبارات میں خبرہے کہ نشترہسپتال ملتان میں سوائن فلوسے متاثرہ ایک اورمریضہ دم توڑ گئی ہے۔نشترہسپتال ملتان میں سوائن فلوکے شبہ میں لائے گئے ۰۸ مریضوں میں سے اکیس مریضوں میں سوائن فلوکی تصدیق ہوچکی ہے۔ نشترہسپتال کے ایمرجنسی وارڈمیں سوائن فلوبیماری بارے شعور و آگاہی ،اختیاطی تدابیرجاننے اورمریضوں کومتعلقہ وارڈتک پہنچانے کے لیے کاؤنٹربھی بنایاگیا ہے جس پرچوبیس گھنٹے سہولت میسرہوگی۔دوسری جانب ملتان میں سوائن فلوکی وباشدت اختیارکرگئی ہے اوربے قابوہے۔محکمہ صحت کی طرف سے اس مرض سے متاثرہ مریضوں کے لواحقین اوررشتہ داروں کی ویکسی نیشن بھی نہیں کی گئی ہے۔جس سے مرض کے مزیدپھیلنے کے خدشات پیداہوگئے ہیں۔آئسولیشن وارڈزمیں صرف سوائن فلوکے مریض نہیں رکھے جارہے بلکہ ڈینگی، کانگو ،برڈفلو اور دیگروائرل امراض کے مریضوں کے ساتھ ہی سوائن فلوکے مریض بھی رکھے جارہے ہیں۔نشترہسپتال ملتان میںآئی سی یووارڈمیں انتہائی سنجیدہ نوعیت کے مریضوں کے لیے صرف ایک وینٹی لیٹربیڈرکھاگیاہے جوہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے۔سوائن فلوکے مریضوں کے تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولت ملتان میں نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کے خون کے نمونے لاہور،اسلام آبادبھیجے جاتے ہیں۔مگرٹسٹ رپورٹ میں غیرضروری تاخیرکی وجہ سے مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔پانچ جنوری کے قومی اخبارات میں خبرہے کہ نشترہسپتال ملتان میں سوائن فلوکے مرض سے متاثرہ مظفرگڑھ کی رہائشی خاتون انتقال کرگئی ۔ اس طرح اب تک نشترہسپتال ملتان میں سوائن فلوسے جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد۴۱ہوگئی ہے۔۳۳مریضوں میں مرض کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ اکتیس مریضوں کی رپورٹ منفی آئی ہے۔سوائن فلوکے شبہ میں دس ایسے مریض بھی فوت ہوئے ہیں جن کی رپورٹ منفی آئی تھی لیکن وہ دیگرامراض کے باعث جانبرنہ ہوسکے۔۶جنوری کے قومی اخبارات میں خبرہے کہ ملتان اورجنوبی پنجاب میں سوائن فلوبے قابوہوگیا۔نشترہسپتال سمیت دیگرسرکاری ہسپتالوں میں مذکورہ مرض کے متاثرہ مریضوں میں اضافہ ہونے لگاہے۔وائرس کے شبہ میں مزیدسولہ مریض نشترہسپتال میں داخل ہوگئے ہیں ۔وائرس نے تین ڈاکٹروں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔محکمہ صحت کے مطابق نشترہسپتال کے تین ڈاکٹروں میں بھی انفلوینزاایچ ون، این ون کی تصدیق ہوئی ہے۔ جن میں سے ایک ڈاکٹرکوآئی سی یو جب کہ دوڈاکٹروں کوآئسولیشن وارڈمیں داخل کردیاگیاہے۔ڈاکٹرزمیں تصدیق سے نشترہسپتال کے عملے میں تشویش کی لہردوڑگئی ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ انفلوئنزاکے باعث کئی ڈاکٹرزچھٹیوں پرچلے گئے ہیں۔دوسری طرف اس جان لیواوائرس کے باعث نشترہسپتال میں اب تک ۴۱مریض زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ۰۹ مریض سوائن فلوکے شبہ میں نشترہسپتال لائے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی ہدایت پرڈپٹی میئرمنوراحسان قریشی نشترہسپتال ملتان میں قائم سیزنل انفلوئنزاکے آٹومیشن وارڈ کادورہ کیااوروہاں ہسپتال انتظامیہ جانب سے دی جانے والی سہولیات کاجائزہ لیا۔اس موقع پرہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی میئرکوبریفنگ بھی دی گئی ۔جس پرڈپٹی میئرنے مریضوں کودی جانے والی سہولیات پراطمینان کا اظہار کیا اور طبی عملے کوبھی حفاظتی تدابیراختیارکرنے کی ہدایت کی۔اس موقع پرڈپٹی میئرنے سیزنل انفلوئنزاکی حفاظتی ویکسین بھی لگوائی۔ضلع ملتان سے ۵۵مریضوں کوسوائن فلوکے شبہ میں نشترہسپتال لایاگیاجن ،میں سے پچیس مریضوں میں مرض کی تصدیق ہوئی۔ملتان سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی ہلاکتوں کی تعدادگیارہ ہے ۔ڈیرہ غازی خان میں سوائن فلوکے شبہ میں پانچ مریض لائے گئے جن میں سے دومریضوں میں مرض کی تصدیق ہوئی۔خانیوال میں سوائن فلوکے شبہ میں لائے گئے سات مریضوں میں سے دومریضوں میں مرض کی تصدیق ہوئی۔جن مریضوں کی رپورٹ منفی آئی سوائن فلوکی تصدیق نہیں ہوئی ایسے مریضوں میں سے پانچ مریض بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔مظفرگڑھ میں دس مریضوں میں سے ۶ مریضوں کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔وہاڑی میں تین مریضوں میں سے ایک میں مرض کی تصدیق ہوئی۔نشترہسپتال میں لودھراں سے لائے گئے تینوں مریضوں اورراجن پورسے لائے گئے دونوں مریضوں میں مرض کی تصدیق ہوئی۔ جن میں سے ایک دم توڑگیا۔رحیم یارخان سے لائے گئے دونوں مریضوں میں مرض کی تصدیق ہوئی۔لیہ سے لائے گئے دومریضوں میں سوائن فلوکی تصدیق نہیں ہوئی۔اس طرح مختلف شہروں سے لائے گئے ۱۹مریضوں میں سے ۱۴مریضوں میں سوائن فلوکی تصدیق ہوئی۔ہلاک ہونے والوں کی تعدادسولہ ہوگئی۔سات جنوری کے قومی اخبارات میں خبرہے کہ سوائن فلوسے متاثرہ مریضوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے سوائن فلووائرس کی روک تھام کے لیے کئے گئے اقدامات کے باوجودجنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے لائے گئے سوائن فلوسے متاثرہ مریضوں کی تعدادایک سوچارہوگئی ہے۔ضلع ملتان سے سوائن فلوکے شبہ میں لائے گئے ساٹھ مریضوں میں سے اٹھائیس مریضوں میں مرض کی تصدیق ہوچکی ہے۔مجموعی طورپراکیس افرادہلاک ہوچکے ہیں۔ایک قومی اخبارکی خبرکے مطابق ۷۴مریضوں میں سوائن فلوکی تصدیق ہوئی ہے۔آٹھ جنوری کے قومی اخبارمیں خبرہے کہ بہاول پوروکٹوریہ ہسپتال میں داخل ۲۲ مریضوں کاٹیسٹ کیاگیا۔جن میں سے آٹھ مریضوں میں مرض کی تصدیق ہوئی ہے۔دس جنوری کے قومی اخبارات میں خبرہے کہ حکومتی اقدامات اورمحکمہ صحت کی تمام ترتدابیرسوائن فلوکے آگے بے بس نظرآرہی ہیں۔ملتان میں مجموعی طورپرہلاکتوں کی تعدادتیرہ جب کہ دیگراضلاع سمیت مجموعی تعداد۳۲ہوگئی ہے۔پندرہ دسمبرسال دوہزارسترہ سے ۹ جنوری سال دوہزاراٹھارہ تک نشترہسپتال میں سوائن فلوکے شبہ میں لائے گئے مریضوں کی تعدادایک سوتیس تک پہنچ گئی ہے۔جام پور کے نواحی قصبہ محمدپوردیوان کے رہائشی سکول ٹیچرکے دوسالہ صاحبزادے کوسوائن فلوکی وجہ سے نشترہسپتال لایاگیا۔سوائن فلوکے شدیدحملہ کے پیش نظربچے کے پھیپھڑوں میں بھی انفیکشن ہوگیاتھا۔جس پرنشترہسپتال کے ڈاکٹرنے بچے کواسلام آبادریفرکردیا۔اسلام آبادمیں دوسے تین دن تک زیرعلاج رہنے کے بعداس بچے کوگھرلایاگیا۔ گھرمیں اس بچے کاانتقال ہوگیا۔سرائے سدھوکے نواحی علاقہ کارہائشی لاہورمیں سوائن فلوکاشکارہواشیخ زیدہسپتال میں زیرعلاج ہے۔اس تحریر میں موسمی حوالے سے نمونہ کے طورپرخبریں اوررپورٹیں شامل کی گئی ہیں تاکہ مرض کی شدت اورپھیلاؤکے دائرہ سے آگاہی ہوسکے۔

لاہورکے نجی ہسپتال میں زیرعلاج سترسالہ خاتون میں سوائن فلوکی تصدیق ہوگئی ہے۔ اس خاتون کوشدیدبخارکی حالت میں نجی ہسپتال لایا گیا تھا ۔ اخبار میں لکھاہے کہ واضح رہے کہ سوائن فلوکاوائرس خنزیرکے ذریعے پھیلتاہے۔یہ انفلوئنزاوائرس کی ایک قسم ایچ وان این ون کہلاتاہے۔جوانسانی جسم میں داخل ہوکراس کے مدافعتی نظام کوکمزورکردیتاہے۔طبی ماہرین کاکہناہے کہ سوائن فلوکسی بھی عمرکے افرادکولاحق ہوسکتاہے۔لیکن حاملہ عورت، دوسال سے کم عمربچے،فربہ ،سانس اوردل کی بیماری میں مبتلاافرادکے متاثرہونے کاامکان زیادہ ہوتاہے۔سوائن فلومتاثرہ افرادکے کھانسنے یاچھینکنے سے دوسرے انسان کومنتقل ہوسکتاہے۔

چیف ایگزیکٹوآفیسرڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹرشاہدبخاری کاکہناتھا کہ سیزنل انفلوئنزاکے خلاف بھرپورآگاہی مہم چلائی جارہی ہے۔یہ وائرس مریضوں کے سانس سے تیزی سے پھیلتاہے۔جس سے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ان کاکہناتھا کہ یہ مکمل طورپرقابل علاج مرض ہے۔اس لیے اس مرض سے گھبرانے کی بجائے احتیاط کی ضرورت ہے۔سیزنل انفلوئنزاکے مریضوں کوہسپتالوں میں مفت علاج معالجے کی بہترین سہولیات مہیاکی جارہی ہیں۔وزیرصحت پرائمری اینڈ سیکنڈری اورڈائریکٹرجنرل ہیلتھ سروسزپنجاب کی ہدایت پرسیزنل انفلوئنزاکے حوالے سے شہریوں کومعلومات اورحفاظتی تدابیرسے آگاہ کرنے کے لیے چیف ایگزیکٹوآفیسرڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے دفترمیں خصوصی کنڑول روم قائم کردیاگیا ہے۔معمرافراد، حاملہ خواتین اوربچوں کے لیے خصوصی ویکسی نیشن مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ اس وباکوکنڑول کیاجاسکے۔چیف ایگزیکٹوڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بہاولپورڈاکٹرفیاض انورنے موسمی فلوکے حوالے سے ریڈالرٹ جاری کردیا ہے ۔ ان کاکہناہے کہ موسمی انفلوئنزاکی بیماری وائرس کے ذریعے پھیل رہی ہے۔یہ وائرس عمومی طورسردی میں زیادہ پایاجاتاہے۔جوایک سے دوسرے انسان میںآسانی سے منتقل ہوجاتاہے۔اس وائرس سے متاثرہ انسان نزلہ، زکام، کھانسی اوربخارکی شکایت کرتاہے۔احتیاطی تدابیرکے مطابق متاثرہ مریض کے ساتھ براہ راست تعلق اورہاتھ لگانے سے گریزکیاجائے۔ناک منہ کوفیس ماسک سے ڈھانپ کررکھاجائے۔چھینک اورکھانسی کے وقت منہ پررومال یاٹشوپیپرضروررکھاجائے ۔ صابن سے ہاتھ دھولینے سے تمام جراثیم کاخاتمہ ہوتاہے۔ایک ہزارکے قریب آنے والی ویکسین بہاولپوروکٹوریہ ہسپتال کے ڈاکٹروں اوردیگرسٹاف کولگادی گئی ۔ غریب افرادسوائن فلوکامہنگاٹیسٹ کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔پرنسپل قائداعظم میڈیکل کالج ڈاکٹرجاویداقبال نے بتایا کہ وائرس پرکنٹرول ہے۔تمام سٹاف کی ویکسی نیشن کردی گئی ہے۔پندرہ جنوری کے بعدسوائن فلوکازورٹوٹ جائے گا۔لوگ احتیاطی تدابیراختیارکریں۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ویکسین کی مقدار محدودہے۔ جس سے ہسپتالوں کے عملے اورڈاکٹروں کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے۔اس لیے ہسپتالوں کی ویکسین سے محروم رہ جانے والے لواحقین اپنی ویکسی نیشن کاخودانتظام کریں۔محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کیئرحکومت پنجاب کی جانب سے اخبارات میں شائع کرائے گئے موسمی فلوسے گھبرائیں نہیں ۔۔۔

ا حتیاط کریں کے عنوان سے شائع کرائے گئے اشتہارمیں لکھاگیا ہے کہ ،موسمی فلو(جسے پہلے سوائن فلوکہتے تھے) قابل علاج بیماری ہے۔اس کاوائرس متاثرہ شخص کے کھانسنے یاچھینکنے کی وجہ سے آلودہ ذرات اورمریض کے ہاتھوں کے ذریعے اردگردکی جگہوں پرپھیلتاہے۔یادرہے نزلہ زکام کاہرمریض موسمی فلوکامریض نہیں ہوتا۔بخار، کھانسی، سردرد، پٹھوں اورجوڑوں میں درد،گلاخراب ہونا، ناک بہنا موسمی فلوکی علامات لکھی ہیں۔پیچیدگی کی صورت میں یہ علامات لکھی ہیں سانس میں دشواری، سینے میں درد، الٹیاں اوردست۔موسمی فلوسے بروقت بچاؤکے لیے پانچ سال سے کم عمربچے، ۵۶ سال سے زائدعمرکے افراد،جگر، گردہ، دمہ، دل اور شریانوں کے دائمی مریض، حاملہ خواتین اورکسی بھی بیماری کی وجہ سے قوت مدافعت میں کمی کاشکارافراداس کی ویکسی نیشن کویقینی بنائیں۔اپنی اوردوسروں کی حفاظت کے لیے کھانستے یاچھینکتے وقت منہ اورناک کورومال یاٹشوپیپرسے ڈھانپ لیں۔استعمال کے بعدٹشوپیپرکومحفوظ طریقے سے ٹھکانے لگادیں۔مرض کی صورت میں گھررہیں اورعام لوگوں سے میل جول میں احتیاط کریں۔ماسک کااستعمال یقینی بنائیں۔گندے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں، منہ اورناک کونہ چھوئیں ۔ متاثرہ شخص سے ملتے وقت ہاتھ ملانے یاگلے ملنے سے گریزکریں۔پیچیدگی کی علامات پرقریبی ضلعی یاتحصیل ہسپتال سے رجوع کریں جہاں مفت تشخیص اورعلاج کی مکمل سہولیات موجودہیں۔اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹرشکیل لغاری نے کہا ہے کہ خشک سردی کی وجہ سے بچوں کوبھی سوائن فلوہوسکتاہے۔ماں باپ بچوں کوگرم لباس پہنائیں۔انہیں سردموسم میں سوپ اوریخنی کازیادہ استعمال کرائیں۔بچوں کی ویکسی نیشن کرائیں۔سوائن فلوکے بارے میں راجن پورمیں کی گئی واک سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنراشفاق احمدنے خطاب کیا۔اس حوالے سے ضلع کونسل ہال لیہ میں سیمینارکااہتمام کیاگیا۔

سوائن فلوہویاموسمی فلویہ پھیلتاہی جارہا ہے۔یہ مرض اب جنوبی پنجاب تک ہی محدودنہیں رہا بلکہ پنجاب کے دیگرعلاقوں میں بھی پھیل رہاہے۔حکومت پنجاب اورمحکمہ صحت کے تمام تراقدامات اورحفاظتی تدابیرکے باوجودموسمی فلوکامرض قابومیں نہیںآرہا ہے۔موسمی فلوکاوباکی شکل اختیارکرجاناسوچنے اورغورکرنے کی دعوت دے رہا ہے۔انسان اپنے طورپرعلاج معالجہ اورحفاظتی تدابیرتواختیارکرسکتاہے مگرقدرت کے فیصلوں کوتبدیل نہیں کرسکتا۔موسمی فلوکایہ بڑھتاہوامرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہوسکتی ہے۔محکمہ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ ویکسین محدودہے۔ ڈاکٹروں اورعملے کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ویکسی نیشن سے محروم افراداپنی ویکسی نیشن کاخودبندوبست کریں۔ویکسی نیشن محدودہے تویہ محکمہ صحت کی عدم تدابیرکانتیجہ ہے۔ویکسین محدودہے توضرورت کے مطابق منگوائی جائے۔محکمہ کی سستی کی سزامریضوں کوتونہ دی جائے۔اخبارات کی خبروں کے مطابق سوائن فلویاموسمی فلوکے مرض یاوائرس کی تشخیص کی سہولت ملتان میں بھی دستیاب نہیں ۔یہ تشخیص لاہوریااسلام آبادسے کرائی جاتی ہے۔ملتان جنوبی پنجاب کامرکزی شہرہے اگریہاں بھی نیشنل انفلوئنزاوائرس کی تشخیص کی سہولت موجودنہیں ہے توجنوبی پنجاب کے اورکس ہسپتال میں یہ سہولت دستیاب ہوسکتی ہے۔اس سے حکومت پنجاب اورمحکمہ صحت کی عدم دلچسپی ظاہرہوتی ہے۔ اس کی سزامریضوں کوبروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں مل رہی ہے۔پنجاب کے تمام ضلعی ہسپتالوں میں اس وائرس کی تشخیص کی سہولت موجودہوتی توبروقت تشخیص سے مریضوں کابروقت علاج ممکن بنایاجاسکتاتھا۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے جس طرح ڈینگی مچھرکے خلاف بھرپورمہم چلائی ۔موسمی فلوسمیت دیگر امراض کے خلاف بھی ڈینگی سے بھی زیادہ موثراوربھرپورمہم کی ضرورت ہے۔

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Jan, 2018 Total Views: 269 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 235 Articles with 65645 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB