کیا کرنا ہے ایسی اولاد کو ۔۔۔۔۔؟

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)

 دنیا ترسے جنت نوں
میں سڑکاں تے رُلدی ویکھی
جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں باپ اس بات سے قطع تعلق کہ یہ بڑا ہو کر کیسا ’’نکلے‘‘ گا، اس کا کتنا خیال رکھتے ہیں ،اس کی تمام ضروریاتِ زندگی پوری کرتے ہیں ،اس کی خواہشات کا خیال رکھتے ہیں ، بچہ بیمار ہو جائے تو رات کو جاگتے رہتے ہیں،اسے ہر صورت خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کی تعلیم وتربیت پر بھر پور توجہ دیتے ہوئے اسے پڑھاتے لکھاتے ہیں تاکہ وہ بڑا ہوکر ایک باعزت شہری کے طور پر زندگی گزارسکے ،وسائل کی کمی بھی اس کے ارمانوں کے آڑے نہیں آنے دیتے اور وہ اپنے تمام فرائض بخوبی نبھاتے ہیں،حتیٰ کہ اس کی شادی بھی بڑی دھوم دھام سے کرتے ہیں ۔ دنیا میں شائد تمام رشتوں کا نعم البدل مل جائے مگر والدین کا نہیں ،بقولِ شاعر:
٭ ممتا کی تعریف نہ پوچھو
چڑیا سانپ سے لڑ جاتی ہے

اکثر و بیشتر دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی کے بعد اولاد کا والدین سے رویہ بتدریج تبدیل ہو جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ جا تی ہے : ’’چھٹی والے دن میرا اکثر یہ معمول ہوتا ہے کہ صبح کی نماز کے بعد’’ لمبی سیر اور گپ شپ ‘‘کے لئے نکل جاتا ہوں ،تقریباًنو بجے واپسی کے بعد ناشتہ کرتا ہوں اور پھردیگر دوستوں کیساتھ ایک بزرگ دوست’’چاچے ‘‘کے ڈیرے پر جا کر بیٹھتے ہیں،ہنسی مذاق،بزرگ ’’بابوں ‘‘کی اپنی زند گیوں سے ماخوذسنہری باتیں،جگ بیتیاں،ماضی کے قصے اور اخبار کے مطالعہ کیساتھ ساتھ ہفتہ بھر کی ’’علاقائی خبروں‘‘سے مستفید ہوتے ہیں۔ آج جب حسبِ معمول ’’چاچے کے ڈیرے ‘‘ پر پہنچا تو ’’ڈیرہ ‘‘بند تھا،ادھر اُدھر سے دریافت کیا مگر کوئی پختہ جواب نہ ملا ۔ بالآخر ’’چاچے ‘‘ کو فون کیا ، پھولی ہوئی اور لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے جواب ملا: کون؟میں تھوڑا چونکا ،بولا: چاچا!اب ہمیں پہچاننے سے بھی گئے ہو، میں نے بلا مزید تاخیر، اپنا تعارف کروایا اور’’ ڈیرہ‘‘ بند ہونے کی وجہ پوچھی،’’چاچے‘‘کے جواب نے مجھے آبدیدہ کر دیا اور دل خون کے آنسو رونے لگا،بولے: ’’میں تو کل کا ہسپتال میں ہوں ،بیما ر ہوں(پیشاب بند ہو گیا تھا ) ، اس لئے ‘‘۔ میں نے دریافت کیا :چاچا! ہسپتال کون لے کر گیا تھا اور اب ساتھ کون ہے ؟ جواب ملا:ــ ’’خود ہی گیا تھا اور ساتھ کوئی بھی نہیں ‘‘،چاچے کے جواب نے مجھے مزید جھنجھوڑ ا ۔۔ ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کے تین چار بیٹے ہوں ،جن کے بیوی بچے تو ’’موجیں‘‘ کر رہے ہوں مگرماں باپ دربدر دھکے کھائیں، بہوؤں،پوتے ،پوتیوں کے طعنے سنیں ، بڑھاپے میں بھی اپنی خود داری قائم رکھنے کیلئے کام کریں ،محنت مزدوری کریں اور ذلیل و خوارہوں ، مگر اپنی اولاد کا ’’بھرم ‘‘رکھنے کیلئے اور اپنے آپ کو ’’دلاسہ‘‘ دینے کیلئے یہ کہیں کہ یہ’’ڈیرہ‘‘تو محض آپ لوگوں کے بیٹھنے کا ’’ٹھکانہ‘‘ بنایا ہوا ہے ،ورنہ مجھے یہ سب کرنے کی تو کوئی ’’ضرورت‘‘ نہیں ہے ۔‘‘

ماں باپ ایسے ہوں اور اولاد پھر بھی ان کی خدمت نہ کرے ،تو اس اولاد سے زیادہ بدقسمت ،بد نصیب اور بے حس کوئی نہیں ہو سکتا ۔ پتہ نہیں کیوں ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہماری بھی اولاد ہے اور ہم نے بھی بوڑھا ہونا ہے ،جیسے ہم اپنے بچوں کو پال رہے ہیں ویسے ہی ہمارے ماں باپ نے ہمیں پالا تھا،یاد رکھو! یہ دنیا مکافات ِ عمل کا دوسرا نام ہے :جیسا کرو گے ، ویسا بھرو گے ،بس تھوڑا صبر کرو ، اس دنیا میں بڑے بڑے’’فرعون ‘‘ آئے،جو دنیا میں خدائی دعوے کرتے تھے،وہ سب اپنے غرور و تکبر سمیت خاک میں مل گئے اوردنیا کیلئے ’’سبق‘‘ چھوڑ کر چلے گئے ۔جب ماں باپ زندہ ہوتے ہیں تو ہم ان سے بات چیت ،صلاح مشورہ تودور انکو بلانا تک گوارہ نہیں کرتے ،اگر والدین بیمار پڑ جائیں تو ان کے’’ دوائی دھارو‘‘ کی بجائے جائیداد کی فکر پڑ جاتی ہے ،بقولِ شاعر:
٭ ذرا سی طبیعت کیا ناساز ہوئی میری
بچے وکیل بلا لائے ،طبیب سے پہلے

جب پھروہ فوت ہوجاتے ہیں توپھر وہی بیٹے (جن کی شکلیں دیکھنے کیلئے ماں باپ ترستے تھے) بیرون ِ ملک سے’’منہ ‘‘ دیکھنے کیلئے آجاتے ہیں ،دنیا کو دکھانے کیلئے خوب’’ رونا دھونا ،آہ و بکا اور بین ‘‘ کرتے ہیں ،پنجابی کی ایک مشہور کہاوت ہے :’’جیوندیاں ڈانگاں،تے مویاں بانگاں ‘‘۔پھر دنیا میں ’’ناک‘‘رکھنے کے لئے فروٹ کی پیٹیاں،دیگیں اورمسجدوں میں والدین کے نام کے اعلانات کرواتے ہیں،میں اکثر یہ کہتا ہوں کہ جتنے پیسے ہم اپنے کسی بزرگ کے ’’رسم ِ قُل ودسواں ‘‘پرفروٹ اور دیگوں کی مد میں ’’ناک‘‘ رکھنے کیلئے لگا دیتے ہیں ،اتنا پیسہ اگر اس مرنے والے پر اس کی زندگی میں لگادیتے تو شائد مرنے والا دوچارسال اور ’’جی‘‘ لیتا(بے شک زندگی اور موت اﷲ کے ہاتھ میں ہے اور اس کا ایک وقت مقرر ہے )،یاد رکھنا! رب سے اور ماں باپ سے دور رہ کر ،انسان پریشان ہی رہتا ہے اورزندگی میں دو بندوں کا بہت خیال رکھنا : پہلا وہ ،جس نے تمہاری جیت کے لئے اپنا سب کچھ ہار دیا ، یعنی تمہارا باپ ۔دوسرا وہ، جس کی دعاؤں سے تم سب کچھ جیت گئے ،یعنی تمہاری ماں :
٭ دعائیں بھی راستے میں ٹھہر جاتی ہیں
دل دکھا کر والدین کا ،خدا سے بھی امید نہ رکھنا

اگر ہم جان لیں کہ اولاد تو بڑھاپے میں ماں باپ کا سہارا ہوتی ہے ،بوڑھے والدین کیلئے ’’پنشن ‘‘ ہوتی ہے ،ایسی اولادسے تو ریاست اچھی ہے جس کااس فرد سے کوئی خونی رشتہ تونہیں ہوتا مگر پھر بھی جوانی کی خدمت کے بدلے، بڑھاپے میں ’’پنشن ‘‘ دیتی ہے ۔میں تو پھر یہی کہوں گا کہ اگراولادکے ہوتے ہوئے بھی بوڑھے والدین در بدر دھکے کھائیں،ذلیل و خوار ہوں ،جیب خرچ کیلئے ’’کام ‘‘ کریں اور اولاد کے ’’ڈراور خوف ‘‘ کی وجہ سے اپنی اولاد کے سامنے حق بات کرنے سے بھی ڈریں اورتو پھر کیا کرنا ہے ایسی اولاد کو ۔۔۔۔۔؟
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
30 Aug, 2016 Total Views: 2199 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Prof Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof Talib Ali Awan: 50 Articles with 29867 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Prof Talib Ali Awan:
haqiqt likhe ha ap ni bohat ache tahreer ha ...jo olad dunia main maa bap ky kam nhi asakti un ki khadmat nhi kar sakti us olad ko ALLAH pak hidayat ata farmae or reham farmae ase olad per... maa bap ki zindagi main un kay pass bethna us ky hath paoun dabana un ka hal hawal pouchty rehna un ki zindagi ky kuch din barha deta ha maa bap ki zindagi ky dino ko khoobsurat bana deta ha ,...is lia maa bap kay pass din main ek dafa kam ez kam ek dafa zaror bethen ky kia bat hay kuch cheya kuch khana ha hath paoun dabaen or is amal se dikhen ap .ap ky dil ko khud bohat rahat sukon milyga...ALLAH pak reham farmae ameen ..
By: shohaib haneef , karachi on Mar, 26 2018
Reply Reply
1 Like
جناب شعیب حنیف صاحب
خوبصورت کمنٹس کی صورت میں عزت افزائی کا بہت بہت شکریہ
By: TALIB ALI Awan, SIALKOT on Jun, 13 2018
0 Like
It's evergreen article.
By: TALIB ALI AWAN, SIALKOT on Mar, 25 2018
Reply Reply
2 Like
جی بہت بہت شکریہ جناب قاسم علی صاحب خوبصورت الفاظ کی صورت میں نہایت مفید کمنٹس دینے پر
By: Prof. TALIB ALI AWAN, Sialkot on Jul, 15 2017
Reply Reply
5 Like
سر آپ نے تو کمال کردیا ہے. ہمارے معاشرے کے زوال کی ایک بڑی وجہ کی طرف آپ نے نشاندہی کی ہے. نئی نسل میں والدین کے احترام کا فقدان ہے,ایسے آرٹیکلز وقت اور معاشرے کی ضرورت ہیں. اشعار کے موزوں انتخاب کی بدولت اس آرٹیکل کو بہترین آرٹیکل کہا جا سکتا ہے
By: قاسم علی, سیالکوٹ on Jul, 11 2017
Reply Reply
6 Like
Buht Buht Shukria Janab Sohaib Sadiqi Sb.
By: Prof. Talib Ali Awan , Sialkot on Nov, 16 2016
Reply Reply
1 Like
Bohat zabardast mozo ko uthaya ha.
By: Sohaib Siddiqui, Pasrur on Nov, 13 2016
Reply Reply
6 Like
خوبصورت اور قیمتی کمنٹس دینے کا تمام احباب کا بہت بہت شکریہ......
By: Pro. Talib Ali Awan , Sialkot on Oct, 21 2016
Reply Reply
2 Like
Well done brother. Keep it up, We all proud of you.
By: Liaqat Ali, Sialkot on Oct, 20 2016
Reply Reply
4 Like
Well done jnb
By: Waleed Khan, Daska on Oct, 20 2016
Reply Reply
1 Like
Buhat aham topic per likha ap ney
Allah bless you.
By: Malik Khizer Awan, Sialkot on Oct, 20 2016
Reply Reply
1 Like
بہت خوب..... جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے پروفیسر صاحب
By: Dr Ansar Javed, Sialkot on Oct, 17 2016
Reply Reply
5 Like
Buht Buht Shukriya Janab Muhtram Ansar Javed Sb
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Oct, 18 2016
2 Like
کیا بات ہے سر،آپ نے تو کمال کردیا ہے! اللہ تعالیٰ آپ کے زورقلم میں مزید اضافہ کرے۔ہمارے معاشرے کا یہ بہت بڑا المیہ ہے اور آپ نے اس کی بہترین عکاسی کی ہے ۔
By: Shamshir Abbas , Al Riyaz (Saudi Arabia) on Oct, 10 2016
Reply Reply
4 Like
Elahi Aameen
aur
Buht buht Shukaria Janab Shamshir Abbas Sb.
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Oct, 13 2016
1 Like
بہت ہی پرتاثر اور دلسوز تحریر ۔ ھمارے معاشرے میں پائے جانے والے ایک المیےکی بہترین عکاسی ۔ کیسا ستم ھے کہ ایک اکیلا باپ آٹھ بچوں کو پالتا ھے انہیں پڑھاتا لکھاتا ھے اپنے پیروں پر کھڑا کرتا ھے مگر بعد میں یہی اولاد ساری مل کر بھی اپنے ایک باپ کو نہیں پال سکتی ۔ اس بے چارے کی بیٹوں کے ہاں رہنے کی باریاں لگتی ھیں پھر بھی بہوؤں کے اس کی خدمت کرتے ہوئے منہ بنتے ھیں ۔ اور ایسی ہی بےرخی اور بےاعتنائی وہ اپنی ساس کے معاملے میں بھی دکھاتی ہیں بلکہ انہیں تو موقع ملتا ہے ماضی میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کا بدلہ لینے کا ۔ اور ایسی صورتحال میں اکثر ہی مرد خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں ان میں اتنی جرأت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بوڑھے اور بےبس والدین کو اپنی بیوی اور بچوں کی ان کےخلاف محاذ آرائی سے محفوظ رکھ سکیں ۔ سو فیصد تو نہیں مگر بیشتر گھرانوں میں یہ افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آتی ھے خصوصاً اپر کلاس اور لوئریسٹ کلاس ۔ متوسط طبقے میں پھر بھی کچھ لحاظ شرم نظر آتی ھے ۔ خدا سب والدین کو ان کے بڑھاپے میں اولاد کی بے حسی اور احسان فراموشی سے محفوظ رکھے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Oct, 06 2016
Reply Reply
13 Like
G bilkul Muhtram Rana sb.
Buht Buht Shukria Janab qeemti comments karnay ka.
By: Pro. Talib Ali Awan , Sialkot on Oct, 07 2016
1 Like
Buht zabardast article hai
By: Liaqat Ali , Sialkot on Oct, 05 2016
Reply Reply
3 Like
Thanks a lot Janab for appreciating
By: Pro. Talib Ali Awan , Sialkot on Oct, 06 2016
1 Like
Great article. It's the need of the hour to awaken the new generation.
By: Usama, Lahore on Oct, 05 2016
Reply Reply
3 Like
Thanks a lot Janab for appreciating........
By: Pro. Talib Ali Awan , Sialkot on Oct, 06 2016
1 Like
نیک خواہشات کے اظہار کے لئے اور قیمتی کمنٹس دینے کے لئے بہت بہت شکریہ جناب شاہد رضا صاحب
By: Pro. Talib Ali Awan , Sialkot on Sep, 28 2016
Reply Reply
3 Like
Thanks a lot Shanza for giving precious comments and appreciating...........
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Sep, 26 2016
Reply Reply
3 Like
Excellent Keep it up Shahid Raza Islamic Scholar
By: Shahid Raza, Karachi on Sep, 26 2016
Reply Reply
3 Like
a nice article a lesson article for everyone who will read this you are marvillous
By: shanza, karachi on Sep, 25 2016
Reply Reply
3 Like
بہت بہت شکریہ جناب محمد عامر صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Sep, 21 2016
Reply Reply
3 Like
Displaying results 1-20 (of 29)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB