تاریخ قرآن مجید - سوال مع جواب کے

( پہلے کاچوتھا)

سوال ٥:
خواتین کے مبعوث ہونے کے متعلق اپنی تحقیق سے مطلع فرمائیں تو ممنون ہوں گا۔

جواب:
قرآن مجید میں ایک آیت ہے کہ خدا نے مردوں کو نبی بناکر بھیجا ہے۔ اور عورت کو نبی بناکر بھیجنے کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے اپنی تقریر میں ابھی ذکر کیا تھا کہ یہودیوں کے ہاں عورت کے نبی ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے۔ خدا کا بیان تو یہ ہے کہ ہم نے کسی عورت کو نبی بنا کر نہیں بھیجا لیکن یہودی کہتے ہیں کہ نہیں، ہمارے ہاں نبیہ عورت ہوئی تھی تو اس کا فیصلہ خدا ہی کرے گا۔ میرے لیے یہ مشکل ہے کہ میں اس کا فیصلہ کروں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میری بہنیں جو یہاں موجود ہیں، الحمد اللہ سب دیندار اور مسلمان ہیں اور کوئی بھی نبوت کے منصب کی امیدوار نہیں ہے۔

سوال ٦:
انجیل برنا باس کی صحت کے متعلق آپ کی کیا تحقیق ہے؟

جواب:
میں سمجھتا ہوں کہ قرآن مجید کی تاریخ میں انجیل برناباس کی کم ضرورت ہے۔ قصہ یہ ہے کہ برنا باس حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہاتھوں دین قبول کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ اور ایک زمانے میں ان کی بڑی اہمیت تھی۔ سینٹ پال کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ان کا دشمن رہا، عیسائیوں کو تکلیف دیتا رہا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس دنیا سے سفر کرجانے کے بعد ایک دن اس نے کہا کہ مجھے کشف ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دین سچا تھا۔ اس دن سے وہ عیسائی بنا۔ مگر لوگوں کو اس پر اعتبار نہیں تھا۔ اکثر لوگ کہتے تھے کہ یہ منافق ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں جب یہ ہم کو تکلیفیں دیتا رہا تو اب ہم کیسے یقین کرلیں کہ وہ حقیقتاً کایا پلٹ ہوکر دین دار ہوگیا ہے۔

برناباس، جن کو میں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ سکتا ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا نہیں مجھے اطمینان ہے کہ یہ پال پکا اور سچا دین دار ہے۔ اس کے کچھ عرصے بعد شہر بیت المقدس میں ایک اجتماع ہوا۔ جہاں اس بات پر بحث ہورہی تھی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا جو قول ہے کہ میں "توریت کے ایک شوشے کو بھی تبدیل کرنے نہیں آیا ہوں آیا اس کی من وعن تعمیل کی جانی چاہیے؟، اس قانون کو ہم برقرار رکھیں گے یا لوگوں کو اپنے دین کی طرف مائل کرنے کے لیے اس میں کچھ نرمی کریں"۔ یہ یروشلم کونسل کہلاتی ہے۔ وہاں سینٹ پال کا اصرار تھا کہ اس کو باقی نہ رکھا جائے بلکہ توریت کے سخت احکامات کر نرم کردیا جائے۔ برنا باس نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس وقت شدت سے کہا تھا کہ یہ شخص منافق معلوم ہوتا ہے لیکن عیسائیوں نے برناباس کی تازہ ترین شہادت کو قبول نہیں کیا۔ برناباس کو کونسل سے نکال دیا اور سینٹ پال کی بات کو قبول کرلیا۔ عہد نامہ جدید کے ایک باب میں صراحت سے لکھا ہے کہ ہم لوگوں کو روح القدس کی طرف سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اب تم پر پرانے احکام باقی نہیں رہے، سوائے چار چیزوں کے۔ ایک تو یہ کہ خدا کو ایک مانیں، دوسرے یہ کہ اگر کسی بت پر جانور کو ذبح کیا گیا ہوتو اسے نہ کھائیں، تیسرے یہ کہ فحش کاری نہ کریں۔ اسی طرح ایک اور چیز کا بہ صراحت ذکر ہے۔ اس کے علاوہ باقی جتنی پابندیاں اور ممانعتیں تھیں اب وہ تم پر باقی نہیں رہیں۔ چنانچہ اب لوگ، عیسائی دنیا میں سینٹ پال کی اس رائے پر عمل کرتے ہیں اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ کہ "میں توریت کا ایک شوشہ بھی تبدیل کرنے نہیں آیا ہوں اس کی من و عن تعمیل ہونے چاہیے" اس پر عمل نہیں کرتے۔

انجیل برنا باس، جس کے متعلق سوال کیا گیا ہے، زمانہ حال کی دستیاب شدہ ایک چیز ہے۔ اس کا کوئی پرانا نسخہ نہیں ملا۔ اور وہ برنا باس کی مادری زبان آرامی زبان میں بھی نہیں ہے۔ بلکہ اطالوی زبان میں ہے اور اس کے قلمی نسخے کے حاشیے پر جابجا عربی الفاظ بھی لکھے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں عیسائی محققین کا خیال ہے بلکہ اصرار ہے کہ یہ مسلمانوں کی تالیف کردہ جعلی انجیل ہے اور یہ حضرت برنا باس کی انجیل نہیں ہے۔ مجھے اس کے متعلق کوئی علم نہیں ہے البتہ اس حد تک جانتا ہوں کہ انجیل برنا باس کے دو نسخے ایک زمانے میں ملتے تھے۔ ایک وہ جو آسٹریا میں تھا اور جو غالباً اب بھی محفوظ ہے۔ غالباً میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجھے ٹھیک علم نہیں ہے۔ دوسرا وہ نسخہ جو اسپین میں تھا۔ جب آسٹریا کا نسخہ انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع کیا گیا تو اسپین کا نسخہ یکایک غائب ہوگیا۔ غالباً اسے ضائع کردیا گیا بہر حال یہ مختصر سے حالات ہیں، مجھے شخصی طور پر انجیل برناباس کے متعلق معلومات نہیں ہیں۔ سوائے اس کے کہ اس میں جابجا ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو اسلامی عقائد سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں اور عیسائیوں کے جو عام عقائد ہیں اس سے بہت کچھ اختلاف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں اور کچھ نہیں جانتا۔ اس کو میں شخصی طور پر کوئی زیادہ اہمیت بھی نہیں دیتا کیونکہ میرے مطالعے کا جو موضوع ہے وہ اس سے ذرا ہٹا ہوا ہے۔ مجھے اس سے زیادہ کوئی واقفیت نہیں ہے۔ ادب سے معافی چاہتا ہوں۔

سوال ٧:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے کونسے سال میں قرآن کا پہلا نسخہ مدون ہوا۔ یہ کون سا ہجری سال تھا؟

جواب:
یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلیفہ بننے کے چند مہینے بعد ہی کا واقعہ ہے۔ یہ ١١ھ کے اواخر کا زمانہ ہوگا۔ یعنی مسلیمہ کذاب سے جو جنگ ہوئی تھی اس جنگ کے فوراً بعد کا ذکر ہے۔

سوال٨:
احادیث مبارکہ میں مختلف آیات کی شان نزول کے متعلق جو بعض اوقات متعارض روایات ملتی ہیں، ان کو کس طرح حل کیا جائے؟

جواب:
غالباً صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ شان نزول کے متعلق ہی نہیں اور چیزوں کے متعلق بھی اگر احادیث میں اختلاف پایا جاتا ہے تو جس طرح ہم ان کو حل کرتے ہیں اسی طرح اس کو بھی حل کیا جاسکے گا۔ اولاً ہم دیکھیں گے کہ یہ روایت صحیح ہے یا وہ روایت صحیح ہے۔ اس کے راوی زیادہ قابل اعتماد ہیں یا اس کے راوی زیادہ قابل اعتماد ہیں۔ احادیث کے تمام اختلافات رفع کرنے کا یہ طریقہ اس کے متعلق بھی استعمال کیا جائے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ شان نزول کے متعلق جو اختلاف ہیں انہیں کوئی بڑی اہمیت بھی حاصل نہیں ہے۔ ان معنوں میں فرض کیجئے ایک راوی یہ کہتا ہے کہ (اقرا باسم ربک الذی خلق) کے بعد سب سے پہلے سورہ "الم" نازل ہوئی۔ دوسرے راوی یہ کہتے ہیں کہ نہیں فلاں سورت نازل ہوئی تو اس اختلاف کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس سے صحابہ کی واقفیت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ انہیں جیسا یاد رہا انہوں نے ویسا ہی بیان کردیا۔ اس کے متعلق میں نے حقیقتاً غور نہیں کیا، کبھی مطالعہ نہیں کیا۔ اس لیے اس وقت اس پر اکتفا کرتا ہوں۔

سوال ٩:
ام ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کون تھیں؟ کیا صرف وہی حافظہ تھیں یا جناب ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی حافظہ قرآن تھیں؟

جواب:
حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک انصاری عورت تھیں جو بہت پہلے ایمان لائی تھیں چنانچہ ان کے متعلق لکھا ہے کہ جنگ بدر (٢ھ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں۔ میں اسلام کے دشمنوں سے جنگ کرنا چاہتی ہوں۔ ان کے متعلق ایک اور روایت ہے جو اس سے بھی زیادہ عملی یا علمی دشواریاں پیدا کرے گی وہ یہ کہ حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رسول اللہ نے ان کے محلے "اہل دارہا" نہ کہ "اہل بیتھا" کی مسجد کا امام مامور فرمایا تھا جیسا کہ سنن ابی داؤد اور مسند احمد بن حنبل میں ہے اور یہ بھی کہ ان کے پیچھے مرد بھی نماز پڑھتے تھے اور یہ کہ ان کا مؤذن ایک مرد تھا۔ ظاہر ہے کہ مؤذن بھی بطور مقتدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوگا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورت کو امام بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس حدیث کے متعلق یہ گمان ہوسکتا ہے کہ یہ شاید ابتدائے اسلام کی بات ہو اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منسوخ کردیا ہو لیکن اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک زندہ رہیں اور اپنے فرائض سر انجام دیتی رہیں۔ اس لیے ہمیں سوچنا پڑے گا۔ ایک چیز جو میرے ذہن میں آئی ہے وہ عرض کرتا ہوں کہ بعض اوقات عام قاعدے میں استثناء کی ضرورت پیش آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استثنائ ضرورتوں کے لیے یہ استثنائ تقرر فرمایا ہوگا۔ چنانچہ میں اپنے ذاتی تجربے کی ایک چیز بیان کرتا ہوں۔ پیرس میں چند سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک افغان لڑکی طالب علم کے طور پر آئی تھی۔ ہالینڈ کا ایک طالب علم جو اس کا ہم جماعت تھا، اس پر عاشق ہوگیا۔ عشق اتنا شدید تھا کہ اس نے اپنا دین بدل کر اسلام قبول کرلیا۔ ان دونوں کا نکاح ہوا۔ اگلے دن وہ لڑکی میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ بھائی صاحب میرا شوہر مسلمان ہوگیا ہے اور وہ اسلام پر عمل بھی کرنا چاہتا ہے لیکن اسے نماز نہیں آتی اور اسے اصرار ہے کہ میں خود امام بن کر نماز پڑھاؤں۔ کیا وہ میری اقتدا میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ میں نے اسے جواب دیا کہ اگر آپ کسی عام مولوی صاحب سے پوچھیں گی تو وہ کہے گا کہ یہ جائز نہیں لیکن میرے ذہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا ایک واقعہ حضرت امام ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہے۔ اس لیے استثنائ طور پر تم امام بن کر نماز پڑھاؤ۔ تمہارے شوہر کو چاہیے کہ مقتدی بن کر تمہارے پیچھے نماز پڑھے اور جلد از جلد قرآن کی ان سورتوں کو یاد کرے جو نماز میں کام آتی ہیں۔ کم از کم تین سورتیں یاد کرے اور تشہد وغیرہ یاد کرے۔ پھر اس کے بعد وہ تمہارا امام بنے اور تم اس کے پیچھے نماز پڑھا کرو۔ دوسرے الفاظ میں ایسی استثنائ صورتیں جو کبھی کبھار امت کو پیش آسکتی تھیں۔ ان کی پیش بندی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتخاب فرمایا تھا۔ ہمارے دوست سوال کرتے ہیں کہ کیا اور عورتیں بھی حافظہ تھیں؟ مجھے اس کا علم نہیں، ان معنوں میں کہ حافظ ہونے کا صراحت کے ساتھ اگر کسی کے بارے میں ذکر ملتا ہے تو صرف انہیں کے متعلق۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وغیرہ کے متعلق میں نے کبھی کوئی روایت نہیں پڑھی کہ وہ حافظہ تھیں۔ انہیں کچھ سورتیں یقیناً یاد ہوں گی اور ممکن ہے کہ بہت سی سورتیں یاد ہوں لیکن ان کے حافظہ قرآن ہونے کی صراحت مجھے کہیں نہیں ملی، اس کے سوا اور میں کچھ عرض نہیں کروں گا۔

خدا حافظ