ہم سب کرپٹ ہیں

ہم سب کرپٹ ہیں!
جی ہاں! ہم سب کرپٹ ہیں سواۓ چند ایک کے-
آئیے آج اپنا تجزیہ کرتے ہیں، اپنی راۓ سے ضرور آگاھ کردیجیے گا-

ایک اسکول جانے والے بچے کی خواہش ہوتی ھے کہ ھر دوسرے دن اسکو چھٹی مل جاۓ، اسکو کم سے کم کام ملے-

ایک کالج کے طالب علم کو کالج جانا کبھی نہیں بھاتا، یھی وجہ ھے کہ آج کل طلباَ آپکو کالجوں میں نھیں بلکہ کالج کے اریب قریب کسی ہوٹل میں بیٹھے نظر آئیں گے-

اسی طرح ایک استاد بھی کالج آنے کے باوجود کلاس لینا پسند نہیں کرتا- استاد کہتا ھے کہ کلاس میں طلباَ نہیں اور طلباَ کہتے ہیں کہ اساتذہ نہیں-

اسی طرح جیسے ھم ایکشن میں دھاندلی پہ روتے ہیں تو بورڈ کے امتحانات میں ھونے والی ھیرا پھیری کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے!

الیکشن میں کروڑوں اور اربوں کا کھیل ھوتا ھے تو امتحانات میں ہزاروں اور لاکھوں کا!

آپ 15 سے 20 ہزار دیں اور 80+ حاصل کریں جسکو حاصل کرنے کے لیۓ لوگ دن رات ایک کردیتے ہیں. پھر ھم کس منہ سے حکمرانوں کو گالیاں دیتے ہیں؟
یہ تو صرف تعلیم کا شعبہ تھا، ہمارے یہاں ھر شعبے میں یہی حال ھے-
بجلی کا ادارہ ھو یا پانی کا، ھر شعبے میں کرپشن ھے- دودھ والا دودھ میں پانے بلکہ شاید پانی میں دودھ ملاتا ھے-

جہاں میرا بس چلتا ھے وہاں میں چودھری بنا پھرتا ھوں اور جہاں آپکا بس چلتا ھے وہاں آپ!

ہمارا حال بلکل ہاتھی کے دانتوں کی طرح ھے کہ کھانے کے اور ھیں اور دکھانے کے اور. ہمارے یہاں سبزی والے سے لیکر وزیر اعظم تک جسکا جہاں بس چلتا ھے وہ وہاں ہاتھ صاف کرلیتا ھے. افسوس کہ ہم ذاتی مفاد کو قومی مفاد پہ ترجیح دیتے ہیں-

ہم حکومت سے گلہ کرتے ہیں کہ سڑکیں صاف نہیں ھیں، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ھیں، یہ بات کوئ نہیں سوچتا کہ آخر یہ ڈھیر لگایا کسنے؟

آخر ہم کب تک کسی مسیحا کا انتظار کریں گے؟ کوئ نہیں بدلے گا ھمارے ملک کو، ھم ملک تو بدلنا چاھتے ھیں لیکن اپنے آپکو بدلنے کو تیار نہیں.
بقول اقبال:
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ھو!
Shobi
About the Author: Shobi Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.