ایلا: قرآن وحدیث کی روشنی میں

 ’’میاں بیوی کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار نہیں رہتے ۔بعض اوقات ان کے آپس کے تعلقات میں رنجشیں اور تلخیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں ۔اگر یہ تلخیاں اس حد تک بڑھ جائیں کہ شوہر بیوی کو خود پر حرام کردے ۔تو اس نوعیت کی قسم کو ایلا کہا جاتاہے ۔ قرآن وحدیث میں ایلا سے متعلق متعدد احکامات موجود ہیں جس کی بجا آوری ضروری ہے ۔یہ مقالہ اسی تناظر میں تحریر کیا گیا ہے‘‘۔

ایلا قرآن کی روشنی میں:
للذین یؤ لون من نسآء ھم تربص اربعہ اشھر فان فآء وفان اﷲ غفورالرحیم ۔ وان عزموا الطلاق فان اﷲ سمیع علیم۔(۱)
ترجمہ: جو لوگ عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھالیں ،ان کے لئے چار مہینے کا انتظار ہے۔ پھر اگر انہوں نے رجوع کرلیاتو اﷲ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو اﷲ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

سید ابو الاعلی مودودی تفہیم القرآن میں کچھ اس انداز سے رقم طراز ہیں کہ’’ میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات ہمیشہ خوش گوار تو نہیں رہ سکتے ۔بگاڑ کے اسباب پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں‘‘۔(۲)

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورتوں کو اذیت دینے کی غرض سے ایسی روش اختیار کرلی جائے جوان کے لئے تکلیف کا باعث ہو جیسا کہ مذکورہ بالاآیت کے حوالے سے ضیاء القرآن میں بیان کیا جارہا ہے کہ’’ بعض لوگ اپنی عورتوں کو ستانے کے لئے قسم اٹھا لیا کرتے تھے کہ وہ ان سے ہمبستری نہ کریں گے ۔اس طرح عورت نکاح میں بھی رہتی اور حقوق زوجیت سے محروم بھی ہوجاتی‘‘۔ (۳)

’’ ایسے بگاڑ کو خدا کی شریعت پسند نہیں کرتی کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ قانونی طور پر رشتۂ ازدواج میں تو بندھے رہیں ، مگر عملاً ایک دوسرے سے اس طرح الگ رہیں کہ گویا وہ میاں اور بیوی نہیں ہیں۔ایسے بگاڑ کے لئے اﷲ تعالیٰ نے چار مہینے کی مدت مقرر کردی ‘‘۔(۴)

’’اور فرمایا کہ اگر چار ماہ کے اندر تم نے اپنی یہ قسم توڑ دی تو عورت تمہارے نکاح میں رہے گی تمہیں صرف کفارہ اد اکرنا ہوگا ۔ اور اگر تم نے چار ماہ گزرنے پر بھی اپنی قسم نہ توڑی تو نکاح ٹوٹ جائے گا ۔ اور عورت کو حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم عورت کو اپنے نکاح میں بھی جکڑبند رکھو اور اس کے حقوق زوجیت بھی ادا نہ کرو ۔ ہاں اگر اپنی خوشی سے پھر اس خاوند سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے‘‘۔ (۵)

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلا کرلے تو چار ماہ کی اس مدت کے اندر یا تو وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے گا یعنی قسم توڑے گا اور اسے پھر سے اپنی بیوی بنائے گا یا اگر شوہر نے اس مخصوص عر صے کے دوران رجوع نہ کیا تو ان کے مابین طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

ایلا احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں:
ترجمہ: عبد اﷲ بن عباس کہتے ہیں۔کہ جب کوئی اپنی بیوی کو کہے تومجھ پرحرام ہے۔تو یہ قسم ہے۔ کہ اس میں کفارہ دینا ضروری ہے ۔اور حضرت ابن عباس نے کہا۔ کہ بے شک تمہارے لئے اچھی چال ہے ۔ رسول اﷲ ﷺ میں۔(۶)

حضور ﷺ نے ازواج مطہرات سے جو ایلا فرمایا تھا۔ اگر اس کا تاریخی حوالے سے جائزہ لیاجائے۔ تواس کاپس منظر کچھ یوں ہے ۔کہ’’ رسول ﷺ زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے ۔دو دو مہینے آپﷺ کے کاشانہ اطہر میں آگ نہیں جلتی تھی ۔ تمام عمر دو وقت برابر سیر ہوکر کھانا نصیب نہیں ہوا ۔ اس زاہدانہ زندگی میں آپ ﷺکی ازواج مطہرات بھی آپ ﷺ کے ساتھ برابر کی شریک تھیں ۔ جب فتوحات اسلامیہ کا دائرہ بڑھا اور غنیمت کا مال مختلف علاقوں سے مدینہ طیبہ میں آیا تو ازواج مطہرات کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ بھی راحت و آرام سے اپنی بقیہ زندگی بسر کریں۔ ۹ھ ؁ میں ازواج مطہرات نے رسول اﷲ ﷺ سے توسیع نفقہ کے لئے درخواست کی‘‘۔ (۷)

’’اورساتھ ہی ازواج مطہرات کا رویہ فی ا لواقع ایسا ہی قابل اعتراض ہوگیاتھا۔کہ رسول ﷺ اس پر ناراض ہوجانے میں حق بجانب تھے ۔ کیونکہ نبی ﷺ کی بیویوں نے آپس کے رشک ور قابت میں مل جل کرحضورﷺ کو تنگ کردیا تھا‘‘۔(۸)
’’ رسول اﷲﷺ کو سکون خاطر میں یہ تنگ طلبی اس قدر خلل انداز ہوئی کہ آپ ﷺ نے عہد فرمالیا کہ ایک مہینہ تک ازواج مطہرات ؓ سے نہیں ملیں گے۔

اتفاق سے اسی زمانہ میں گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے آپ ﷺ کی پنڈلی مبارک پر زخم آگیاتھا ۔ آپ ﷺ نے بالاخانہ پر تنہائی اختیار فرمالی۔اس سے صحابہ کرام ؓ نے خیال کیا کہ رسول اﷲﷺ نے تمام ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے‘‘۔(۹)

’’یہاں پر یہ واقعہ جو حضور ﷺ کے ایلا کرنے سے متعلق ہے ۔حضرت عمر ؓکے الفاظ میں بیان کرنا ضروری سمجھتی ہوں۔ جو کچھ یوں ہے کہ ’’ مجھے خبر پہنچی کہ امہات المومنین اور نبی کریم ﷺکے درمیان کچھ ناچاقی ہوگئی ہے ۔اس پر میں ان میں سے ایک ایک کے پاس گیا۔اور ان سے کہا۔ کہ تم رسول اﷲ ﷺ کو تنگ کرنے سے باز آجاؤ۔ ورنہ اﷲ تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں حضور ﷺ کو عطا فرمادے گا۔

یہاں تک کہ جب میں امہات المومنین میں سے ا ٓخری کے پاس ( اور یہ بخاری کی ایک روایت کے بموجب حضرت سلمہ ؓ تھیں)تو انہوں نے مجھے جواب دیا ۔ اے عمر کیا! رسول اﷲ ﷺ عورتوں کی نصیحت کے لئے کافی نہیں ہیں ۔کہ تم انہیں نصیحت کرنے چلے ہو؟اس پر میں خامو ش ہو گیا‘‘۔

حضور ﷺ نے ایک مہینہ تک کے لئے اپنی بیویوں سے علیحدہ رہنے کا عہد فرمالیا تھا۔اور اپنے بالا خانے میں بیٹھ گئے ۔۲۹ دن گزر جانے پر جبرائیلؑ نے آکر کہا۔ آپ ﷺ کی قسم پوری ہوگئی ہے۔مہینہ مکمل ہوگیا ہے ۔ ازواج اگرچہ معاشرہ کی بہترین خواتین تھیں ۔مگر بہرحال وہ انسان ہی کیا۔ جو بشریت کے تقاضوں سے مبّرا نہ ہو۔تبھی ان کے لئے مسلسل عسرت کی زندگی بسر کرنا دشوار ہوجاتا تھا۔اور وہ بے صبر ہوکر حضور ﷺ سے نفقہ کا مطالبہ کرنے لگتیں۔

ان باتوں سے جب یہ اندیشہ پیدا ہواکہ رسو ل اﷲ ﷺ کی خانگی زندگی کہیں تلخ نہ ہوجائے ۔ اور اسکا اثر کار عظیم پر مترتب نہ ہو۔ جو اﷲ تعالیٰ حضور ﷺ سے لے رہا تھا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہٓ ازواجاً خیرا منکن مسلمت مومنت قنتت
تئبت عبدت سٰئِحت تیبت و ابکارا․(۱۰)
ترجمہ: بعید نہیں کہ اگرنبی تم سب بیویوں کو طلاق دیدے۔ تو اﷲ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرمادے ۔ جو تم سے بہتر ہوں۔ سچی مسلمان ، یا ایمان ، اطاعت گزار، توبہ گزارعبادت گزاراور روزہ دار خواہ شوہر دیدہ ہوں یاباکرہ۔

اس آیت میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو تلقین فرمائی ۔کہ اگر تمہیں دنیا کی خوشحالی مطلوب ہے ۔تو ہمارا رسول تم کو بخیرو خوبی رخصت کردے گا۔ اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہوتو پھر صبروشکر کے ساتھ ان تکلیفوں کو برداشت کرو ۔جو رسول کی رفاقت میں پیش آئیں ۔

اس طرح ان کی اصلاح فرمائی گئی۔تاکہ ازواج مطہرات کے اندر اپنے اس مقام اور مرتبے کی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو۔ جو اﷲ کے آخری رسول کی رفیق زندگی ہونے کی حیثیت سے ان کو نصیب ہوا تھا ۔ اور وہ اپنے آپ کو عام عورتوں کی طرح اور اپنے گھر کو عام گھروں کی طرح نہ سمجھ بیٹھیں ۔

اول تو نبی کریم ﷺ سے طلاق مل جانے کا تصور ہی ان کیلئے نا قابل برداشت تھا۔ اس پر یہ بات مزید کہ تم سے امہات المومنین ہو نے کا شرف چھن جائے گا۔اور دوسری عورتیں جو اﷲ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کی زوجیت میں لائے گا۔وہ تم سے بہتر ہوں گی ۔ اس کے بعد تویہ ممکن نہ تھا ۔ کہ ازواج مطہرات سے پھر کبھی ایسی بات کا صدور ہوتا۔ جس پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آفت کی نوبت آتی ‘‘۔(۱۱)

ترجمہ: ابن عباس کو بیان کرتے ہوئے سناکہ میں ایک سال تک اس انتظار میں رہا ۔ کہ حضرت عمر بن خطاب سے اس آیت کے متعلق پوچھوں ۔ لیکن میں ان کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے ان سے نہ پوچھ سکا۔ یہاں تک کہ وہ حج کے ارادہ سے نکلے ۔تو میں بھی ان کے ہمراہ نکلا، جب میں واپس ہوا ۔اور ہم لوگ را ستے میں تھے ۔تو وہ ایک پیلو کے درخت کے پاس رفع حاجت کے لئے گئے ۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے ۔کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا۔ حتیٰ کہ وہ فارغ ہوئے۔ پھر میں ان کیساتھ چلا۔ تو میں نے کہا۔اے امیر المومنین ! نبی ﷺ کی بیویوں میں وہ کونسی دو عورتیں تھیں ۔جنہوں نے آپ کے متعلق اتفاق کرلیا تھا۔انہوں نے کہا وہ حفصہ اور عائشہ ؓ تھیں۔ابن عباس کا بیان ہے کہ میں نے کہا خدا کی قسم میں ایک سال سے یہ ارادہ کررہا تھا ۔ کہ اس کے متعلق آپ سے دریافت کروں ۔لیکن آپ کے ڈر سے میں دریافت نہ کرسکا۔ انہوں نے کہا۔ ایسا نہ کرو ۔ جس چیز کے متعلق معلوم ہو کہ مجھے اسکا علم ہے ۔تو مجھ سے پوچھ لو ۔اگر مجھے علم ہوگا ۔ تو میں تمہیں ضرور بتلاؤں گا۔ ابن عباس کا بیان ہے۔کہ پھر حضرت عمرؓنے کہا ۔ بخدا ہم جاہلیت کے زمانہ میں عورتوں کا کوئی حق نہ سمجھے تھے ۔یہاں تک کہ اﷲ نے ان کے حق میں نازل فرمایا۔ جو نازل فرمایا۔اور ان کے لئے مقرر کرنا تھا۔ جو کچھ مقرر کیا۔حضرت عمرؓ نے کہا۔ کہ ایک دن جبکہ میں اپنے معاملہ میں کچھ سوچ رہا تھا ۔اس وقت میری بیوی نے کہا کہ کاش تم اس طرح اور اس طرح کرتے۔میں نے اس سے کہا۔کہ تجھے کیا اور کیوں میرے معاملہ میں دخل دیتی ہے ۔ جو میں کرنا چاہتا ہوں۔اس نے کہا کہ اے ابن خطاب مجھے تم پر تعجب ہے ۔تم نہیں چاہتے کہ تمہاری باتوں کا جواب دیاجائے۔

حالانکہ تمہاری بیٹی رسول اﷲ ﷺ کی باتوں کا جواب دیتی ہے۔ یہاں تک کہ دن بھر آپ غصہ رہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ ایک چادر لے کر کھڑے ہوئے ۔یہاں تک کہ حفصہؓ کے پاس گئے اور کہا اے بیٹی ! تو رسول اﷲ ﷺ کی باتوں کا جواب دیتی ہے۔ حتیٰ کہ آپ ایک دن بھر غصہ رہے ۔حفصہؓ نے کہا۔ خدا کی قسم! ہم آپ ﷺ کی باتوں کا جواب دیتے ہیں ۔میں نے کہا تو جان لے کہ میں تجھے اﷲ کی سزا اور رسول اﷲ ﷺکے غضب سے ڈراتا ہوں ۔اے بیٹی ! تجھے وہ دھوکہ میں نہ ڈال دے ۔ جس کو اس کے حسن نے رسول اﷲ ﷺکی محبت کے سبب سے مغرور کردیا ہے اس سے حضرت عائشہ ؓ مراد تھیں ۔حضرت عمرؓ کا بیان ہے ۔کہ پھر میں وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ قرابت کے سبب سے میں ام سلمہ کے پاس گیا ۔میں نے ان سے گفتگوکی ۔تو انہوں نے کہا کہ اے ابن خطاب تم ہر چیز میں دخل دیتے ہو۔حتیٰ کہ رسول اﷲ ﷺ اور انکی بیویوں کے معاملہ میں بھی دخل دیتے ہو۔چنانچہ انہوں نے بخدا اس سختی سے میری گرفت کی ۔ کہ میرا غصہ جاتا رہا۔ ان کے ہاں سے باہر نکلا ،اور انصار میں سے میرا ایک دوست تھا۔جب میں آنحضرت ﷺ کے پاس موجود نہ ہوتا۔تو وہ میرے پاس آکر حالت بیان کرتا۔اور جب وہ نہ ہوتا۔ تو میں اس سے بیان کرتا۔ اس زمانہ میں ہمیں غسان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کے حملے کا اندیشہ تھا۔ہم سے بیان کیاگیا ۔کہ وہ ہم پر ( حملہ کی غرض سے ) روانہ ہو رہا ہے ۔چنانچہ ہمارے سینے ڈر سے بھرے ہوئے تھے ۔ایک دن میرے انصاری دوست نے دروازہ کھٹکھٹایااور کہنے لگا۔ کہ دروازہ کھولو،دروازہ کھولو۔ میں نے پوچھا، کیا غسانی آگئے ؟ اس نے کہا اس سے بھی سخت معاملہ ہے۔ نبی ﷺ نے ا پنی تمام بیویوں سے علیحدگی اختیار کرلی۔میں نے کہا عائشہ اور حفصہ کی نا ک خاک آلود ہو۔پھر میں اپنے کپڑے لیکر روانہ ہوگیا۔ حتیٰ کہ میں آیا اور آپ ﷺ اس وقت اپنے ایک بالاخانہ میں تھے ۔جس پر چڑھنے کے لئے ایک زینہ لگا تھا۔اور آپکا ایک سیاہ غلام سیڑھی کے سرے پر تھا۔ میں نے اس سے کہا۔کہ جاکر کہہ کہ یہ عمر بن خطاب ہے ۔چنانچہ مجھے اجازت ملی ۔ حضرت عمرؓ کا بیان ہے ۔ اندر پہنچ کر میں نے آپ سے یہ قصہ بیان کیا۔ جب ام سلمہ کی بات بتائی ۔ تو آپ ﷺمسکرائے ۔ اس وقت آپ ﷺ ایک بوریئے پر لیٹے ہوئے تھے ۔آپ ﷺکے جسم اور بوریئے کے درمیان کچھ بھی نہ تھا۔ اور آپﷺ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔اور پاؤں کے پاس سلم کے پتوں کا ڈھیر تھا۔ اور سر کے پاس کچے چمڑے لٹکے تھے ۔میں نے آپﷺ کے پہلو میں بوریئے کا نشان دیکھا۔ تو میں رو پڑا آپ ﷺ نے فرمایا۔ تم کیوں روتے ہو ۔ میں نے کہا یا رسول اﷲﷺ قیصرو کسریٰ تو اس طرح آرام میں گزارتے ہیں اور آپ ﷺ اﷲ کے رسول ہوکر اس حالت میں ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا کیا ۔تم یہ پسندنہیں کرتے ۔ کہ ان کیلئے دنیاہو اور ہمارے لئے آخرت ہو۔(۱۲)

ترجمہ: سیدنا ابن انس ؓ سے مروی ہے کہ حضور سرور کونین ﷺ نے ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرہ کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ۔اور آپﷺ اسی دوران بالا خانے میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے ۔اس کے بعد آپ ﷺ اتر آئے ۔ لوگوں نے عرض کیا ۔
یا رسول اﷲ ﷺآپ نے تو ایک ماہ کا ایلا کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ۔مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (۱۳)
ایلا ایک قسم ہے ۔جس میں شوہر بیوی سے جنسی تعلق کو مخصوص مدت تک کے لئے خود پر حرام کردیتا ہے ۔ یہ مدت چار ماہ یا اس سے کم یا پھر زیادہ پر بھی مشتمل ہوسکتی ہے۔ اس قسم سے بیوی شوہر پرحرام نہیں ہوجاتی۔بلکہ بیوی کے ساتھ جنسی تعلق مخصوص عرصے تک کے لئے حرام ہوجاتا ہے ۔اگر شوہر نے چار ماہ کا ایلا کیا ہوگا اور وہ چار ماہ تک بیوی سے علیحدہ رہا تو بیوی کو طلاق بائن ہوجائے گی اور اگر ایلا کی مدت ختم ہوجانے سے پہلے رجوع کرلیا تو ایسی صورت میں شوہر پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا اور عورت پر طلاق نہیں ہوگی ۔اور اگر شوہر نے ایک ماہ کا ایلا کیا اور وہ اسے توڑ دے تو قسم کا کفارہ لازم آئے گا ۔اور اگرایک ماہ کا ایلا پورا کیاتو پھر کچھ نہیں ہوگا نہ قسم کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا اور نہ طلاق واقع ہوگی۔اگر مہینہ انتیس دن کا ہوگاتو انتیس دن پورے ہوتے ہی ایلا ختم ہوجائے گا۔ اور اگر مہینہ تیس دن کا ہوگا توتیس دن یعنی جب مہینہ ختم ہوگا تو ایلا بھی ختم ہوجائے گا۔

ترجمہ: حضرت ابو یعفورؓ فرماتے ہیں ۔ کہ ہم لوگوں نے ابو الضحیٰ کے پاس مہینہ کے ایام کاتذکرہ کیا ۔ تو ہم میں سے بعض کہنے لگے کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے ۔جبکہ بعض نے کہا کہ انتیس دن کا ۔اس پر ابو الضحیٰ نے ابن عباس کا قول بیان کیا ۔ کہ ایک روز صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا ۔کہ ازواج مطہرات رو رہی ہیں ۔اور ہر ایک کے پاس اس کے گھر والے موجود ہیں ۔پھر میں مسجد میں گیا ۔دیکھا کہ وہ بھی لوگوں سے بھری ہوئی ہے ۔اتنے میں عمر بن خطاب آئے۔اور اوپر( بالا خانے )میں چڑھ گئے۔ اس وقت نبی کریمﷺ بالا خانے میں تھے ۔ حضرت عمرؓ نے رسول کریم ﷺکو سلام کیا۔ تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا ۔ تو انہوں نے دوبارہ سلام کیا ۔ اس مرتبہ بھی جواب نہ ملا ۔ پھر انہوں نے تیسری مرتبہ سلام کیا ۔اس مرتبہ بھی جواب نہ ملا ۔تو وہ واپس آگئے ۔اور پھر انہوں نے حضرت بلال کو بلایا۔وہ رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔اور پوچھا۔آپ ﷺنے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا۔ نہیں ایک مہینہ کا ایلا کیا ہے ۔ پھر آپ ﷺ انتیس دن تک وہی رہیں اور اس کے بعد پنی ازواج مطہرت کے پاس تشریف لے گئے۔ (۱۴)

ترجمہ: حضرت عائشہؓنے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اس بات کی قسم کھائی کہ وہ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے پاس نہ جائیں گے ۔ آپ ﷺ انتیس دن تک ٹہرے جب تیسویں رات شرع ہوئی تو میرے پاس تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا ۔آپ ﷺ نے تو ایک ماہ کی قسم کھائی تھی ۔آپ ﷺ نے فرمایا۔ مہینہ اس طرح ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ ہاتھ اٹھاکر نیچے چھوڑ ے ۔اور تیسری بار ایک انگلی بند فرمائی۔(۱۵)

ترجمہ : ابن عمر ؓ اس ایلا کے بارے میں جسکا ذکر اﷲ تعالیٰ نے کیا ہے۔ فرماتے ہیں ۔کہ مدت پوری ہونے کے بعد کسی کے لئے جائز نہیں ۔ سوائے اس کے کہ قاعدہ کے مطابق ( اپنی بیوی کو ) اپنے پاس ہی روک لے۔یا پھر طلاق کا ارادہ کرلے ۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔(۱۶)

ترجمہ: ابن عمر نے بیان کیا کہ جب چار مہینے گزرجائیں ۔ تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ طلاق دے دے۔ اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوئی ۔جب تک طلاق دی نہ جائے۔ (۱۷)

مذکورہ حدیث کے مطابق یہ رائے کافی نہیں ہوگی ۔کہ مسلہ ایلا کے مقررہ وقت کے اختتام کے بعد محض شوہر کو قاضی کے سامنے پیش کردیا جائے ۔ یہاں کئی طرح کے ذہنوں میں اشکالات پائے جاتے ہیں الغرض ان اشکالات کو فقہا کی رائے کو بھی سامنے رکھ کر پیش کرنا ضروری ہے ۔ کیونکہ کسی بھی مسلہ کی جانب فریق اول اور فریق ثانی کے درمیان معاملہ کی ثالثیت اسی وقت ظاہر ہوسکتی ہے ۔ جب کسی ایک فریق کی جانب سے مسلہ کی درستگی یا پھر ختم کرنا منحصر ہو۔

مولانا منہاج الدین مینائی اپنی کتاب’’ اسلامی فقہ ‘‘میں کچھ اس طرح سے ایلا کے مسئلہ کو بیان کرتے ہیں کہ ’’فقہ حنفی کے مطابق خدا کی قسم کھا کر ایلا کرنے والا اگر چار مہینے گزرنے سے پہلے بیوی سے مباشرت کرلے تو اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گااور ایلا ختم ہوجائے گا، اگر چار مہینے گزر گئے اور جس بیوی سے ایلا کیا ہے اس سے مباشرت نہ ہوئی تو بیوی پر ایک طلاق پڑ جائے گی بغیر اس کے کہ یہ معاملہ حاکم شرع کے پاس لایا جائے یا شوہر خود طلاق دے پھر اگر وہ ساری مدت جس کا ایلا کرتے وقت گزر گیا تھا ، گزر جائے اور شوہر مباشرت نہ کرے تو طلاق بائنہ پڑ جائے گی یعنی رشتہ نکاح ٹوٹ جائے گا اور جب تک دونوں پھر سے نکاح نہ کریں یہ رشتہ قائم نہیں ہوگا۔

ایلا دو طرح سے کیا جاتا ہے۔(۱) بقید وقت یا (۲) مطلق بغیر وقت کا تعین کئے ہوئے ۔دونوں قسم کے ایلا کا عام حکم یہ ہے کہ اگر غصے میں یا بطورِ تنبیہ شوہر نے ایسا کہا تھا تو شوہر کو چار مہینے کے اندر ہی اپنی قسم توڑ دینا چاہیئے یعنی بیوی سے بیوی جیسے تعلق کو قائم کرلینا اور قسم کا کفارہ دے دینا چاہیئے، اگر ایسا نہ کیا تو چار مہینے گزر تے ہی طلاق بائن پڑ جائے گی ۔اگر شوہر نے کوئی مدت ایلا کی مقررنہیں کی تھی بلکہ یوں کہا تھا کہ ’’ خدا کی قسم میں کبھی تجھ سے مباشرت نہ کروں گا ‘‘ تو بھی چار مہینے گزر جانے کے بعد طلاق پڑ جائے گی اور دوبارہ نکاح کے بعدہی تعلق قائم ہوسکے گا، اب دونوں قسم کے ایلا میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں اگر دوبارہ نکاح کرلینے کے بعد وہ چار چھ مہینے یا سال بھر تک بھی مباشرت نہ کرے تو دوبارہ طلاق نہیں پڑے گی ، مگر دوسری صورت میں اگر وہ چار مہینے مباشرت نہ کرے تو دوبارہ طلاق پڑ جائے گی۔اب اگر دوبارہ نکاح پڑ ھانے کے بعد پھر چار ماہ مباشرت نہیں کی تو تیسری طلاق پڑ جائے گی ۔ اب بغیر حلالے کے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتا۔

اگر اس نے خدا کی قسم کھائے بغیریوں کہا تھاکہ ’’ اگر میں تجھ سے مباشرت کروں تو مجھ پر حج کرنا یا ایک مہینے کے روزے رکھنا یا ایک سو روپیہ کا صدقہ کرنا واجب ہے‘‘ اگر اس عہد کے بعد چار مہینے کے اندر مباشرت کرلی تو عہد کا پورا کرنا ضروری ہوگا۔ قسم کا کفارہ نہ ہوگا ۔لیکن اگر چار مہینے تک مباشرت نہ کی ہوگی تو چار مہینے پورے ہوتے ہی طلاق بائن پڑ جائے گی اوردوبارہ نکاح کے بعد ہی اس سے تمتع کرسکے گا۔ (۱۸)

Conclusion:
قرآن وحدیث کے تحقیقی مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے ۔کہ ایلا کے لئے اﷲ تعالیٰ نے چار ماہ کی مدت مخصوص فرمائی ہے ۔اگر اس مدت کے دوران غوروفکر کے بعد شوہر اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ وہ پھر سے بیوی کو اپنے پاس رکھنے پر آمادہ ہوجائے ۔تو شرعی اصول وضوابط کے مطابق یعنی کفارہ ادا کرکے بیوی کو روک لے۔ ورنہ شرعی احکامات کے مطابق بیوی کو رشتہ زوجیت سے آزاد کردے۔

ایلا کا کفارہ کچھ اس نوعیت کا ہے کہ ایلاکرنے والا ۶۰ روزے لگاتار رکھے گایعنی بیچ میں کوئی بھی روزہ نہیں چھوڑے گااور جب تک روزے ختم نہیں ہوجائیں گے بیوی کے ساتھ دن یا رات میں کسی وقت بھی صحبت نہیں کریگا ورنہ دوبارہ سے روزے رکھنے پڑیں گے۔ اور اگرچاندکی پہلی تاریخ سے روزے رکھنا شروع کریگا تو مہینے کے حساب سے ۳۰ دن کا مہینہ ہوتو ۳۰ روزے اور انتیس روزکا مہینہ ہو تو ۲۹ روزے رکھے گااور اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہوتو پھر۶۰مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے گا۔یا کچا اناج دے گا۔(ایک دن کا اناج صدقہ فطر کے حساب سے ایک کلو ۶۳۳ گرام گیہوں ہے۔)

حوالہ جات:
۱۔ القرآن ،۲: ۲۲۶ تاـ۲۲۷۔
۲۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی، تفہیم القر آن ، لاہو ، ادارہ ترجمان القرآن ،۱۹۹۴؁ء ، ص۱۷۱،جلد اول۔
۳۔ پیر محمد کر م شاہ ، ضیاء القرآن ، لاہور، ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، ۱۳۹۹؁ھ،ص۱۵۵، جلداول۔
۴۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی، تفہیم القر آن ، محولہ بالا،ص۱۷۱ ۔ ۱۷۲،جلد اول۔
۵۔پیر محمد کر م شاہ ، ضیاء القرآن ، محولہ بالا،ص۱۵۵، جلداول۔
۶۔القشیری ، ابی الحسین مسلم بن الحجاج ، صحیح المسلم ،بیروت لبنان ،دارالکتاب العربی ،۲۰۰۴؁ء،کتاب: الطلاق ۔
۷۔ حکیم محمود احمد ظفر،خلفائے راشدین، ، تخلیقات ، لاہور ،۲۰۰۲؁ء، ص ۱۳۳۔
۸۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ، تفہیم القرآن ، محولہ بالا،ص ۲۵ ، جلد ششم۔
۹۔حکیم محمود احمد ظفر، خلفائے راشدین، محولہ بالا، ص ۱۳۳۔
۱۰۔ القرآن ، ۶۶: ۵۔
۱۱۔سید ابوالاعلیٰ مودودی ، تفہیم القرآن ،محولہ بالا، ص ۲۵،۲۷ ،۲۹، جلد ششم۔
۱۲۔ بخاری، محمد بن اسماعیل ، صحیح البخاری ، بیروت، دارا لکتب العلمیۃ،۲۰۰۴ء ،۶۵۔کتاب تفسیرالقرآن۔
۱۳۔بخاری، محمد بن اسماعیل ، صحیح البخاری ، بیروت ، دارا لکتب العلمیۃ،۲۰۰۴ء ،۶۸۔کتاب الطلاق۔
۱۴۔ النسائی ،احمد بن شعیب ، سنن النسائی ،بیروت ،دارالکتب العلمیۃ،۲۰۰۵؁ء ،۲۷۔کتاب الطلاق۔
۱۵۔ابن ماجہ ، عبداﷲ محمد بن یزید ، سنن ابن ماجہ ، بیروت ، دارالکتب العلمیۃ، ۲۰۰۴؁ء ،۱۰۔ کتاب الطلاق۔
۱۶۔بخاری، محمد بن اسماعیل ، صحیح البخاری ، بیروت، دارا لکتب العلمیۃ،۲۰۰۴ء ،۶۸۔کتاب الطلاق۔
۱۷۔بخاری، محمد بن اسماعیل ، صحیح البخاری ، بیروت ، دارا لکتب العلمیۃ،۲۰۰۴ء ،۶۸۔کتاب الطلاق۔
۱۸۔مولانا منہاج الدین مینائی، اسلامی فقہ، لاہور، اسلامک پبلی کیشنز،۲۰۰۲؁ء، ص۳۶۰۔۳۶۱۔
Dr Naseem Akhtar
About the Author: Dr Naseem Akhtar Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.