شہید اسامہ صحرا سے دریا تک

1966 کی صبح ایک عرب بچہ فجر سے کچھ پہلے اپنے والد کو جگا کر کہتا ہے ابا جان میں آپ کو اپنا ایک خواب سنانا چاہتا ہوں ۔ والد نے سوچا شاید بچے نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے ۔ انہوں نے وضو کیا اور بچے کولے کر مسجد کی طرف چل پڑے ۔ راستے میں بچے نے بتایا کہ میں نےخواب میں خود کوایک وسیع میدان میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ سفید رنگ کے گھوڑوں پرسوار ایک لشکر میری جانب بڑھ رہا ہے ۔ اس لشکر میں سے ایک گھڑ سوار جس کی آنکھیں چمک رہی تھیں میرے برابر آکر رک گیا اور کہنے لگا: کیا آپ اسامہ بن لادن ہیں ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں۔ اس نے پھر سوال پوچھا کیا آپ اسامہ بن لادن ہیں؟

میں نے جواب دیا جی ہاں میں ہی ہوں۔ اس نے تیسری بار پھر پوچھا کیا آپ ہی اسامہ بن لادن ہیں؟ تب میں نے اسے کہا خدا کی قسم میں ہی اسامہ بن محمد بن لادن ہوں۔ اس نے میری طرف ایک جھنڈا بڑھایا اور کہا کہ یہ جھنڈا القدس کے دروازے پر امام مہدی(محمد بن عبداللہ ) کو دے دینا ۔ میں نے وہ پرچم لے لیا اور میں نے دیکھا کہ وہ لشکر میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ والد اس خواب پر بہت حیران ہوئے لیکن پھر کسی کام میں مصروفیت کی بنا پر خواب کو بھول گیے ۔ اگلی صبح نماز سےکچھ پہلے جگا کر بچے نے پھر وہی خواب سنایا۔ تیسری صبح پھر ایسا ہی ہوا تووالد کواپنے بچے کے بارے میں تشویش ہوءی وہ اسے لے کر ایک عالم کے پاس گیے جو خوابوں کی تعبیر جانتے تھے۔ انہوں نے خواب سن کر بچے کو غور سے دیکھا اور پوچھا کیا اس بچے نے خواب دیکھا ہے والد نے فرمایا جی۔ انہوں نے بچے سے پوچھا، بیٹے تمہیں وہ پرچم یاد ہے جو تمہیں اس گھڑ سوار نے دیا تھا ؟

اسامہ نے کہا، جی ہاں مجھےیاد ہے۔ وہ عالم کہنے لگے ذرا مجھے بتاؤ وہ کیسا تھا؟ اسامہ نے کہا، تھا تووہ سعودی عرب کے جھنڈے جیسا ہی مگر اس کا رنگ سبز نہیں تھا بلکہ سیاہ تھا اور اس میں سفید رنگ سے کچھ لکھا ہوا بھی تھا۔ عالم نے اسامہ سے پوچھا کبھی تم نے خود بھی لڑتے ہوءے دیکھا ہے اسامہ نے کہا، اس طرح کے خواب تو میں اکثر دیکھتا رہتا ہوں۔ پھر انہوں نے اسامہ سے کہا کہ وہ باہر جاءیں اور تلاوت کریں۔

پھر وہ والد کی طرف متوجہ ہوئے اورپوچھا آپ لوگوں کاآبایی تعلق کہاں سے ہے ؟ انہوں نےکہا، یمن کے علاقے حضرت موت سے ۔کہنے لگے کہ اپنے قبیلے کے بارے میں بتاءیں۔ انہوں نے کہا ہمارا تعلق قبیلہ شنوءۃ سے ہے جو یمن کا قحطانی قبیلہ ہے ۔ عالم نے زور سے تکبیر بلند کی پھر اسامہ کو بلایا اور ان کو روتے ہوءے چومنے لگے ساتھ فرمایا ، قیامت کی نشانیاں قریب آگیی ہیں اے محمد بن لادن آپ کا یہ بیٹا امام مہدی کے لیے لشکر تیار کرے گا اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے خطہ خراسان کی طرف ہجرت کرے گا۔ اے اسامہ مبارک ہے وہ جو آپ کے ساتھ جہاد کرے ، ناکام ونامراد ہو وہ جو آپ کو تنہا چھوڑ کر آپ کے خلاف لڑے ۔
بحوالہ : شہید اسامہ صحرا سے دریا تک

بشکریہ۔فیس بک .پیج ایڈمن.Aisha Siddiqa
Saeed ullah Saeed
About the Author: Saeed ullah Saeed Read More Articles by Saeed ullah Saeed: 112 Articles with 105326 views سعیداللہ سعید کا تعلق ضلع بٹگرام کے گاوں سکرگاہ بالا سے ہے۔ موصوف اردو کالم نگار ہے اور پشتو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب س.. View More