ربو (سود) قرآنی نظام کے خلاف جنگ ہے- حصہ اول

سود (ربو) سرمایہ دارانہ نظام کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا میں کم و بیش یہی نظام معیشت کا نظام چل رہا ہے۔ جو کہ ایک تباہ کن نظام ہے۔الله کے نظام کے خلاف جنگ ہے۔

“یاد رکھو ! ربو جس کے متعلق انسان بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ اس سے سرمایہ بڑھتا ہے، در حقیقت خود بھی مٹتا ہے اور اس قوم کو بھی مٹا دیتا ہے۔اس کے برعکس، جو کچھ دوسروں کی نشوونماں کے لئے دیا جاتا ہے اور جس کے لئے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے سرمایہ میں کمی آ جاتی ہے، خود بھی بڑھتا ہے اور اس قوم کے بڑھنے، پھولنے ، پھلنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

ربو (سود) سے یہ ذہنیت عام ہو جاتی ہے کہ، جہاں تک ہو سکے، سامان زیست کو لوگوں سے چھپا کر رکھا جائے تا کہ وہ اس کے لئے محتاج ہوں، اور قرض لینے پر مجبور اور قرض دینے والا، ان کی محنت کی کمائی پر عیش اڑائے۔ اس سے انسان کی قوت عمل مفلوج ہو جاتی ہے، اور وہ سفر زندگی میں آگے بڑھنے کے قابل نہیں رہتا۔ لہٰذا، نظام سرمایہ داری کی حامل قوم، تباہ و برباد ہو کر رہتی ہے“-سورت البقرہ آیت ٢٧٦
R.A.Dawood
About the Author: R.A.Dawood Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.