تسمیہ سے ہرکام کے آغاز کا حکم (تاریخی پس منظر)

شریعتِ اسلامیہ میں ہمیشہ سے یہی تعلیم دی جاتی رہی ہے کہ ہر جائز اور مشروع کام کا آغاز خدا کے نام سے کیا جائے۔

1۔ جب نوع علیہ السلام نے طوفان سے بچاؤ کے لیے اِذنِ الٰہی کے مطابق کشتی تیار کرلی اور اپنے ساتھیوں کو اس میں سوار کرلیا تو کشتی چلانے سے قبل فرمایا :

وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO

(هود، 11 : 41)

اور نوح نے کہا تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ ہی کے نام سے اسکا چلنا اور اسکا ٹھہرنا ہے بے شک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

2۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ صبا کو جو تبلیغی خط لکھا۔ اس کا آغاز بھی انہی مبارک کلمات سے کیا گیا تھا۔

إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO

بے شک وہ(خط) سلیمان کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ (اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےo

(النمل، 27 : 30)

3۔ عہد عیسوی میں بھی ان کلمات کی برکات و تاثیرات کا پتہ چلتا ہے۔ اسرائیلیات میں ایک روایت مذکور ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کا ایک قبر پر گزر ہوا۔ آپ نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ صاحب قبر پر عذاب کررہے ہیں۔ جب دوسری مرتبہ گزر ہوا تو دیکھا کہ رحمت کے فرشتے نور کے طبق اس پر پیش کر رہے ہیں۔ آپ کو بہت تعجب ہوا، نماز پڑھی اور کشف حال کے لیے دعا کی۔

فاوحي اﷲ تعالٰي إليه : يا عيسٰي، کان هذا العبد عاصياً و مذمات کان محبوسا في عذابي، وکان قد ترک إمراة حبلٰي فولدت ولدا وربته حتٰي کبر، فسلمته الٰي الکتاب فلقنة المعلم بسم اﷲ الرحمن الرحيم فاستحييت من عبدي إن أعذبه بناري في بطن الأرض وولد يذکر إسمي علي وج الارض.

(التفسيرالکبير، 1 : 172)

پس اﷲ تعالیٰ نے وحی کی انکی طرف کہ اے عیسٰی علیہ السلام یہ بندہ گناہ گار تھا اور اپنی موت کے دن سے میرے عذاب میں گرفتار تھا۔ وقتِ مرگ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ جس نے بعد میں ایک بچہ پیدا کیا۔ اس کی ماں نے اسے پالا اور معلمِ دین کے سپرد کر دیا۔ اس معلم نے جب اس بچے کو بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھائی تو ہم کو شرم آگئی کہ اس کا باپ قبر میں عذاب میں مبتلا رہے اوراس کا بیٹا زمین پر ہمارے نام کا ذکر کرے پس ہم نے اس کو بخش دیا۔

4۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ہرکام سے پہلے بسم اﷲ پڑھنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ یہ حکم بعض معاملات میں ’’واجب،، کا درجہ رکھتا ہے۔ بعض میں ’’سنت،، کا اور بعض میں ’’مستحب،، کا۔ قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا :

فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ.

(الانعام، 6 : 118)

سوتم اس(ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔

اس سے آگے مزید حکم دیا گیا۔

وَمَالَکُمْ اَلَّا تَاکُلُوْا مِمَّا ذُکِرِاسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ.

(الانعام، 6 : 119)

اور تمہیں کیا ہے کہ تم (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

کل أمر ذي بال لايبداء فيه بسم اﷲ الرحمن الرحيم فهو أجزم.

جو کام بسم اﷲ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے یعنی اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔

1. سنن ابن ماجه، 1 : 610، رقم : 1894
2. المعجم الکبير، 19 : 68، رقم : 141
3. کنزالعمال، 1 : 555، رقم : 2491

اس حدیث کا مفہوم اس طرح سمجھیں جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لا وضوء لمن لم يذکر اسم اﷲ عليه.

اس شخص کا وضو نہیں جس نے اس پر بسم اﷲ نہ پڑھی۔

مسند احمدبن حنبل، 2 : 418
مسند احمدبن حنبل، 3 : 41
مسند احمدبن حنبل، 4 : 70
مسند احمدبن حنبل، 5 : 381
مسند احمدبن حنبل، 6 : 397

اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ بسم اﷲ کے نہ پڑھنے سے وضو کی فرضیت ہی ناقص رہ جاتی ہے بلکہ فرض توادا ہو جاتا ہے۔ لیکن سنن و مستحبات کی شمولیت سے جوکمال نصیب ہوتا ہے اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح ہر فعل جو بغیر بسم اﷲ کے شروع کیا جائے۔ ممکن ہے کہ دینوی لحاظ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں تو ناکام نہ ہو لیکن اپنے اجرو ثواب کے اعتبار سے عنداﷲ کامل نہ ہوگا۔ اسی روحانی کمال اور نقص کی طرف متذکرہ بالا حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔

آپ غور فرمائیں کہ کلام الٰہی جو سراسر خیر وبرکت ہے۔ جب اس کے پڑھنے سے بھی پہلے بسم اﷲ کا پڑھنا بطور شرط لازم ہے تو دیگر امور حیات سے قبل تسمیہ کا پڑھا جانا کس قدر ضروری ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی عملی مداومت بھی اسی اصول پر تھی۔

5۔ حتٰی کہ باری تعالیٰ نے خود اپنے کلام مبارک کے نزول کے آغاز و افتتاح کے لیے جو کلمات منتخب فرمائے وہ بھی ’’تسمیہ،، کی نوعیت کے تھے۔ غارحرا میں گونجنے والی سب سے پہلی قرآنی صدا بھی یہ تھی۔

اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَO

اے محمد آپ پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے آپ کو اور سب کو پیدا کیاo

(العلق، 96 : 1)

گویا آداب قرات میں سب سے پہلا قرینہ بسم اﷲ سے شروع کرنا تھا اور اسی قرینہ کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرات کا آغاز کرایا گیا۔ مفسرین عام طور پر بسم اﷲ کو معنوی وسعت کے اعتبار سے تمام قرآنی علوم کی جامع قرار دیتے ہیں۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

کل العلوم مندرج فی الکتب الاربعة وعلومها فی القرآن، وعلوم القرآن فی الفاتحة وعلوم الفاتحة فی (بسم اﷲ الرحمن الرحيم) و علومها فی الباء من بسم اﷲ

تمام علوم و معارف چار الہامی کتابوں میں درج کیے گئے ہیں اور ان کے تمام علوم قرآن میں اور قرآن کے تمام علوم سورۃ الفاتحہ میں اور سورۃ الفاتحہ کے تمام علوم بسم اﷲ الرحمن الرحیم میں، اور اس کے تمام علوم بائے بسم اﷲ میں۔

(تفيسر کبير، 1 : 99)

چنانچہ تسمیہ کی ہمہ پہلو تفسیر اسی طرح ناممکن ہے جیسے پورے قرآن کی۔

لنک:
https://www.minhajbooks.com/english/control/btext/cid/1/bid/8/btid/708/read/txt/متن.html