کیا وقت کی گھڑیاں چھوٹ رہی ھیں؟

ہم وقت کے ساتھ چلنے کی خواہش اور اس دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے ڈر میں وقت سے آگے نکل جانے کی احمق ڈور میں لگ جاتے ھے، کیا یہ ممکن ھے؟

نہیں نا؟

پھر کیوں کبھی ھم مستقبل میں جیتے ھے تو کبھی ماضی میں رہ جاتے ھے۔ ھم آزادی سے اس پل میں رھنے کی کبھی کوشش ھی نہیں کرتے ھیں۔ ناجانے کیوں ایسا خیال ھوتا ھے کے جیسے گھڑیاں چھوٹ سی رھی ھیں۔ ھم اس وقت کو قید کرنے کی دوڑ کو زندگی سمجھ بیٹھے ھیں۔

کیا یہی زندگی ھے؟

کبھی سوچنے کا وقت ملتا تو جانتے ھم کہ، زندگی تو ٹھہر کے ھر پل کو جینے کا حوصلہ ھے۔ زندگی تو اتنی خوبصورت ھے کے ایک پل بیٹھ کے سوچ کر اپنے آس پاس اس ذات کی دی ہوی موجودہ بے شمار نیمتعوں میں سے کچھ نیمعتیں جان لینے اور اسکا شکر ادا کر دینے میں ھی ھماری زندگی کا آدھا مقصد مکمل ہوجاتا ھے۔ پھر اس پل میں ٹھر جانے کا حوصلہ مل جاتا ھے۔ جب کچھ نا کر سکنے کے قابل ہو تو بس یہ کہ دینا __*وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ*__ ، اس لفظ کا مطلب ھے، میں تجھ سے ھی مدد چاھتا ہوں۔ تجھ پر اپنا آپ چھوڑتا ہوں۔ تو ھی کار ساز ھے، تو جس طرف چاھتا ھے میری زندگی کی گاڑی کو موڑ سکتا ھے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ھے جب آپ کے اندر اپنے ماضی اور مستقبل کو چھوڑ کر صرف اپنے حال میں جینے کا حوصلا آ جاتا ھے۔ آپ کو ٹھہر جانے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسی لمحے میں، اسی بھاگتی ہوی زندگی کی ڈور میں تھوڑی سی زندگی جینے کا موقع مل جاتا ھے۔ ورنہ گزار تو سب ہی لیتے ہیں زندگی، تمنا تو جینے کی ہونی چاہیے۔ پر افسوس وہ خواہش ہم کھو بیٹھتے ہیں، زندگی کی بھیڑ میں۔۔

زندگی خوشی کا نام ہے۔ پر ہم خوشی کو مادی چیزوں میں ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔ ہر جگہ تلاش کرتے ہیں، بس اپنے اندر نہیں تلاش کرتے۔ خوشی ہمیں اپنے اندر ہی مل سکتی ھے۔ بس ھمیں ٹھہر کے وقت سے الگ ہو کر سوچنا ہے۔

پر وقت سے الگ ہونے کا مطلب یہ ھرگز نہیں کہ زمانے کہ تقاضوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔ یہی تو ہنر ہے موجودہ زمانے کے ساتھ چلتے ہوئے زندگی کو جینا۔

کیا آپ کو بھی میری طرح لگتا ہے کہ اب تک گزری آدھے سے زیادہ زندگی ہم جی نہیں سکے ہیں؟ کیوں کے ایک کے بعد ایک چیز کی تلاش اور اس کو پانے کی تمنا ہمیں بے سکون رکھتی ھے۔

وقت کی قید میں زندگی ہے مگر،
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں۔۔

آخر میں میرا یہ کالم پڑھنے والوں سے ایک سوال ہے،
کیا آپ اپنی اب تک گزاری ہوئی زِندگی سے مطمعن ہیں؟

 

Shanza Sharafat
About the Author: Shanza Sharafat Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.