وطن ثانی کے لوگ (کینیڈا )

(Mona Shehzad, Calgary)

آج میں اپنے قارئین کو اپنے دوسرے وطن عزیز کی کہانی سناتی ہوں.میں پاکستانی ہوں اس پر مجھے بڑا فخر ہے مگر کینیڈا بهی میرا دوسرا وطن ہے.میں پاکستانی ہونے کے ساته ساته کنیڈین بهی ہوں.مجهے اپنی دونوں ماوں سے پیار ہے. پاکستان میں اکثر لوگ مجه سے پوچهتے ہیں ارے کافروں کے ملک میں رہتے ہو.لوگوں کے مطابق اس "کافر معاشرے " کے لوگ مجھے ہم سے زیادہ بہتر انسان لگتے ہیں. میں نے یہاں ہسپتالوں میں موجود terminally sick patients کو بھی شگفتہ مزاجی کا مظاہرہ کرتے دیکھا ہے. یہاں بیمار اور تهکی ہوئی روحوں کا سامنا کم ہی ہوا ہے. لوگوں میں ایک دوسرے کا احساس ہے. یہاں کے لوگ چھوٹی نوکری کرکے پیسے کمانا بہتر سمجھتے ہیں بہ نسبت حکومت کا داماد بن کر unemployment fund سے پیسے اینٹینے کے اپنے زور بازو پر یقین رکھتے ہیں.یہاں بچہ، بوڑھا، مرد ،عورت سب ورک فورس کا حصہ ہیں.. ہر انسان وقت کا پابند ہے. زندگی چوبیس گھنٹے یہاں چاک و چوبند رہتی ہے. چوبیس گھنٹے تین شفٹوں کے مابین متقسم ہیں. صبح کاذب رات کی شفٹ کرنے والے واپس آتے ہیں اور صبح کی شفٹ والے چل پڑتے ہیں.سہ پہر کی شفٹ والے عام طور پر دوپہر تین بجے سے رات باره بجے تک کام کرتے ہیں. بجلی،گیس،پانی ،سیوریج، انٹرنیٹ کا maintenance crew رات بھر کام کرتا ہے تاکہ دن میں ٹریفک اور دوسرے معاملات زندگی متاثر نہ ہوں. ستره سال میں ان لوگوں کو دن میں کام کرتے نہیں دیکھا. تعمیراتی کام حفاظتی جنگلوں اور انتظامات کے بغیر نہیں ہوسکتے. سٹیل ٹو جوتے اور ہیلمٹ کا سر پر ہونا ضروری ہے.

وزیراعظم ہمارا جسٹن ٹروڈو ہے. اس کا مقابلہ میاں نواز شریف یہ کسی بھی سیاستدان سے کیا کروں. ملنگ آدمی ہے. جنتا کے چناو سے وزیراعظم بنا ہے.مجال ہے کہ الیکشن کے دوران کوئی ہلڑ بازی ہو.عام لوگوں سے ملکر اپنی کمپین چلاتے ہیں.ٹی وی پر آکر اپنی پارٹی کا ایجنڈا بتاتے ہیں.کوئی جلسہ جلوس نہیں ہوتا. کوئی ریلی نہیں نکلتی.کوئی نوٹ تقسیم نہیں ہوتے کوئی بریانی کا انتظام نہیں ہوتا. وزیراعظم ہاوس کا یہ حال ہے کہ 1930 میں کہیں اس کی مرمت کی گئی تھی. اس کے باته روم بھی لیک کرتے ہیں. مسٹر ٹروڈو کے کوئی باڈی گارڈ نہیں. وه اکثر عام لوگوں سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں. وه مسجدوں،مندروں ،گرودواروں سب میں جاتے ہیں. ساری اقلیتوں کو ان کے تہواروں کی مبارکباد دیتے نظر آتے ہیں.اپنے بچوں کو گود میں لیے ایک عام شہری نظر آتے ہیں.

یہاں پر کسی بھی اندوهناک واقعہ پر فیس بک پر آنافانا Go fund me بن جاتا ہے اور دنوں میں متاثرین کے لئے بے شمار پیسہ اکٹھا ہوجاتا ہے.

لوگ خوش مزاج ہیں ،مسکرانا ایک قومی تحفہ ہے. لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر دوستانہ مسکراہٹ سے نوازنا پسند کرتے ہیں.اگر کسی مدد کی ضرورت ہو تو راستہ چلتے لوگ بھی ایک دوسرے کی مدد کردیتے ہیں.

اگر کسی کے گھر میت ہوجائے تو ان کے لئے امداد جمع کرنے کے علاوہ کهانا بهی بهیجنگے. میموریل سروس پر گهر والے درخواست کرینگے کے پھولوں کے گلدستے لانے کے بجائے متوفی کی یاد میں ایک درخت لگادئجئے . متمول لوگ پبلک پارکوں اور بس سٹاپ پر مرحوم کے نام تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کے ساته بینچ لگوا دیتے ہیں.

سسرال اپنا بهرم رکتا ہے. ساس اور بہوئیں اکثر اکٹھے شاپنگ کرتی، کھاتی پیتی قہقہے مارتی نظر آتی ہیں. اگر یہ لوگ کلمہ پڑھ لیں تو ہم سے بہتر قرار پائیں. میں نے یہاں رشوت لیتے ستره سال میں کسی کو نہیں دیکھا. سرخ فیتہ کا کوئی تصور نہیں ہے. پولیس جنتا کی خادم ہے. چالان کرنے کے لیے پولیس والا چل کر آپ کے پاس آتا ہے ، آپ کو گاڑی سے اترنے کی ضرورت نہیں وہ آپ کے کاغذات اور رجسٹریشن دیکھے گا. چالان کاٹنے کی وجوہات بتا کر آپ کو چالان دیے گا. وقت رخصت وه آپ کو
Have a good day Sir/Mam.
بهی کہے گا. کسی بھی سٹور پر چلے جائیں کیشئر صبح بخیر یا دوپہر بخیر سے بات شروع کریگا.
اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو
I am sorry.
نہ صرف کہا جاتا ہے بلکہ دل سے کدورت نکال دی جاتی ہے .

گهومنے پھرنے کے تو کنیڈین لوگ بہت شوقین ہیں. ہر کوئی اپنی اوقات کے مطابق کچھ لوگ اگر میکسیکو یا امریکہ اور یورپ جاتے ہیں تو کچھ مقامی جگہوں پر جا کر خوش ہوتے ہیں. ناشکری کا عنصر ان لوگوں میں عنقا ہے. بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک رنگ و نسل اور ایک مذہب کے نہیں ہیں. کنیڈین لوگوں کے مختلف مذاہب ہیں ان میں مسلمان، ہندو،سکھ؛ عیسائی، یہودی، لادین اور آتش پرست سب موجود ہیں.رنگ میں ان میں زرد فام ،سیاہ فام، سفید فام اور براون نزاد سارے رنگ ہیں. مگر دل ان سب کے کنیڈین ہیں. اتحاد اور اتفاق ان کی خوبی ہے. بعض اوقات اپنی دوسری ماں کی ترقی میرے دل میں ایک کسک سی جگاتی ہے. کاش میرے وطن کے رہنے والے بھی پابندی وقت، محنت، رواداری، اخوت کا دامن تھام لیں.
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 May, 2018 Total Views: 149 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Read More Articles by Mona Shehzad: 74 Articles with 41594 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB