جس خاتون نے بھی یہ تحریر لکھی ہے کمال کی لکھی ہے

(Asif Jaleel, All Cities)

اِسے ضرور پڑھیں۔۔
وہ لکھتی ہے
مجھے اچھا لگتا ہے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کہیں باہر جاتے ہوئے وہ مجھ سے کہتا ہے "رکو! میں تمہیں لے جاتا ہوں یا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھ سے ایک قدم آگے چلتا ہے۔ غیر محفوظ اور خطرناک راستے پر اسکے پیچھے پیچھے اسکے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے اس نے میرے خیال سے قدرے ہموار راستے کا انتخاب کیا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب گہرائی سے اوپر چڑھتے اور اونچائی سے ڈھلان کی طرف جاتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر مجھے چڑھنے اور اترنے میں مدد دینے کے بار بار اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کسی سفر پر جاتے اور واپس آتے ہوئے سامان کا سارا بوجھ وہ اپنے دونوں کاندھوں اور سر پر بنا درخواست کیے خود ہی بڑھ کر اٹھا لیتا ہے۔ اور اکثر وزنی چیزوں کو دوسری جگہ منتقل کرتے وقت اسکا یہ کہنا کہ "تم چھوڑ دو یہ میرا کام ہے"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ میری وجہ سے شدید موسم میں سواری کا انتظار کرنے کے لیے نسبتاً سایہ دار اور محفوظ مقام کا انتخاب کرتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے ضرورت کی ہر چیز گھر پر ہی مہیا کر دیتا ہے تاکہ مجھے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باہر جانے کی دقت نہ اٹھانی پڑے اور لوگوں کے نامناسب رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب رات کی خنکی میں میرے ساتھ آسمان پر تارے گنتے ہوئے وہ مجھے ٹھنڈ لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے میرے سارے غم آنسوؤں میں بہانے کے لیے اپنا مظبوط کاندھا پیش کرتا ہے اور ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ بدترین حالات میں مجھے اپنی متاعِ حیات مان کر تحفظ دینے کے لیے میرے آگے ڈھال کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے "ڈرو مت میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے غیر نظروں سے محفوظ رہنے کے لئے نصیحت کرتا ہے اور اپنا حق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ "تم صرف میری ہو"۔
لیکن افسوس ہم سے اکثر لڑکیاں ان تمام خوشگوار احساسات کو محض مرد سے برابری کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے کھو دیتی ہیں۔
شاید سفید گھوڑے پر سوار شہزادوں نے آنا اسی لئے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم نے خود کو مصنوعات کی طرح انتخاب کے لیے بازاروں میں پیش کر دیا ہے۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
*جب مرد یہ مان لیتا ہے کہ عورت اس سے کم نہیں تب وہ اسکی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا چھوڑ دیتا ہے۔ تب ایسے خوبصورت لمحات ایک ایک کر کے زندگی سے نفی ہوتے چلے جاتے ہیں، اور پھر زندگی بے رنگ اور بدمزہ ہو کر اپنا توازن کھو دیتی ہے*.
مقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجیے۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 Jan, 2018 Total Views: 1407 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More

Read More Articles by Asif Jaleel: 112 Articles with 56236 views »
Reviews & Comments
Hahahaha afsos bht afsos. likhney wali jaisey sb ko jala rahi aur ahsaas dila rahi hai k dekho mujhey to itna acha mard mila. jaisey sb pr hans rahi ho.
kaaash woh ye likhti k mujhey acha lagta... ye na likhti k mujhey acha lagta hai. bs sirf ap ik ' hai" is main se nikal kr parhain to shayad ap ko un aurton ka ahsaas ho jaye jis pr un k mard hr baat pr keh detey hain k khud hi kr lo. ya acha kr loon ga magar woh din kabhi aata nhi. thak haar kr time b waste kr k aakhir aurat ko hi zummedaari nibhaani hoti hai , bs ik hai hata kr parhain to apko kaisa mehromi ka ahsas hoga.
By: Farzana Perveen, Karachi on Mar, 12 2018
Reply Reply
0 Like
Asif Jaleel
waqaii bohat hi khoobsurat tahreer likhe ha ....ager log ye samjh jaen to pher bohat se larai jahgary hi ketam hojaen .....jab tk insan ye nhi sochy ga k har insan mujhe se acha ha jab tk wo kuch nhi kar sakta kuch nhi sekh sakta .......jab ap ye sochogy samjhogy k nhi mujhe se acha ha har samny wala pher ap ko bohat kuch sekhne k moqa milyga ....yaha jis mozu per bat ki ha tareef ky kabil ha .....ye mozu ye tahreer.....ALLAH pak ka har waqt shukar ada kartay rehna chahiya ..log ek naemat na hone ki waja se baqi 70 hazar naematon ko bhul jatay hain yahi waja hoti ha nashukri ki or pher barkat uth jati ha ALLAH PAK nazar hota ha naematon ki nakardi se.....ALLAH PAK hum sub ko jo hamre pass ha us per shukr krny or jo nhi ha us per sabr or ALLAH ki maslihat samjhni ki tofiq ata farmae ameen
By: shohaib haneef , karachi on Feb, 15 2018
Reply Reply
1 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB