Poetries by Mohammad shaukat mahmood
موجِ فكر موجِ فکرکرسکتی ھے ، انداذہ تخیّل کا
دکھاسکتی ھےوہ ، جومقدّرنہیں نظرکا Mohammad shaukat mehmood
دکھاسکتی ھےوہ ، جومقدّرنہیں نظرکا Mohammad shaukat mehmood
نافرمانى میں تووہ سگ ھوں ، جوکرلیتاھےکبھی نافرمانی بھی
یہ تومجھ پےمالک کافضل ھےکہ اسےمجھ سےپیارھے Mohammad shaukat mehmood
یہ تومجھ پےمالک کافضل ھےکہ اسےمجھ سےپیارھے Mohammad shaukat mehmood
جان لیا جس نے خود کو جنت ودووخ ھیں تیری خواھش کا کیا
میرا ھونا بھی توتیری خواھش ھی کاامرتھا
میں یہ سمجھا,کیوں ضروری تھاابلیس کاھونا
گرنہ ھوتایہ , توکسےدوزخ کا پتہ تھا
دے کے روح کو,مجھ پر نھیں احسان کیا
اپنی جنت کوبھی تو,تونے,کسی کودکھاناتھا
اس روح کوھی دیاتونےاختیارمیرےجنت جانےکا
ورنہ مجھے,کچھ علم نہ تھا,تیری جنت کا
روح کومیری ھیں معلوم,سب گرُاس منزل کے
ورنہ جسم میراتوباسی تھا,اس دنیا کا
دےکےنفس کودنیا , مجھےاس کاغلام کیا
بناکے روح کو مجھ کو بھی پریشان کیا
جان لیاجس نےخودکو,اس نےتجھ کوبھی جان لیا
جاناخودکوجس نےاس نےتجھ کو بھی پہچان لیا
خودکوپہچان لیاجس نے,ابلیس کوبھی,اس نےمان لیا
تیری جنت ودووخ کوسمجھا, جس نےخودکوجان لیا Mohammad shaukat mehmood
میرا ھونا بھی توتیری خواھش ھی کاامرتھا
میں یہ سمجھا,کیوں ضروری تھاابلیس کاھونا
گرنہ ھوتایہ , توکسےدوزخ کا پتہ تھا
دے کے روح کو,مجھ پر نھیں احسان کیا
اپنی جنت کوبھی تو,تونے,کسی کودکھاناتھا
اس روح کوھی دیاتونےاختیارمیرےجنت جانےکا
ورنہ مجھے,کچھ علم نہ تھا,تیری جنت کا
روح کومیری ھیں معلوم,سب گرُاس منزل کے
ورنہ جسم میراتوباسی تھا,اس دنیا کا
دےکےنفس کودنیا , مجھےاس کاغلام کیا
بناکے روح کو مجھ کو بھی پریشان کیا
جان لیاجس نےخودکو,اس نےتجھ کوبھی جان لیا
جاناخودکوجس نےاس نےتجھ کو بھی پہچان لیا
خودکوپہچان لیاجس نے,ابلیس کوبھی,اس نےمان لیا
تیری جنت ودووخ کوسمجھا, جس نےخودکوجان لیا Mohammad shaukat mehmood
حیرتِ انسان اس عالم میں , اک میں ھی کیوں , صاحبِ نظر ٹھرا
یہ کیارازِ حقیقت ھے , مجھے کوئی تو بتائے
چاند , زمین , سورج , اور ان جیسےکروڑوں اربوں
کس بحرکے موتی ھیں , مجھے کوئی تو بتائے
بحر کے اک موتی میں , رواں اک زندگی ھے , کیسے
اس موجِ رواں میں , کوئی میری حیثیت تو بتائے
ہنسی , مجھےآتی ھے , جیون کے تما شے پر
دنیا میں ھے جینا کیا ؟ مجھے کوئی توبتا ئے
عقل تومری , متفکر ھے , اس بحرِ عالم میں
کون ھوں , کیا ھوں , کوئی تو بتائے
یہ دنیاکاعالم آج , جواک ذرہ ھےنظرکےسامنے
بجز ذرے کے , باقی ھے کیا , کوئی تو بتائے
ھم توابھی خودکو , اک ذرےمیں ھیں , الجھائے
رواں کیسے ھےیہ عالم , کوئی تو بتائے
کیوں چھیڑےھےتری فکرسازِفطرت کو اے شوکت
ماورٰی عقل , ابھی ان رازوں سے , کوئی کیسے بتائے Mohammad shaukat mehmood
یہ کیارازِ حقیقت ھے , مجھے کوئی تو بتائے
چاند , زمین , سورج , اور ان جیسےکروڑوں اربوں
کس بحرکے موتی ھیں , مجھے کوئی تو بتائے
بحر کے اک موتی میں , رواں اک زندگی ھے , کیسے
اس موجِ رواں میں , کوئی میری حیثیت تو بتائے
ہنسی , مجھےآتی ھے , جیون کے تما شے پر
دنیا میں ھے جینا کیا ؟ مجھے کوئی توبتا ئے
عقل تومری , متفکر ھے , اس بحرِ عالم میں
کون ھوں , کیا ھوں , کوئی تو بتائے
یہ دنیاکاعالم آج , جواک ذرہ ھےنظرکےسامنے
بجز ذرے کے , باقی ھے کیا , کوئی تو بتائے
ھم توابھی خودکو , اک ذرےمیں ھیں , الجھائے
رواں کیسے ھےیہ عالم , کوئی تو بتائے
کیوں چھیڑےھےتری فکرسازِفطرت کو اے شوکت
ماورٰی عقل , ابھی ان رازوں سے , کوئی کیسے بتائے Mohammad shaukat mehmood
وصال یار مجھ میں اور اس میں ، اب کوئی دوری نہیں
میں ، اس کےپاس ھوں ، بڑی اماں سے
کون کرسکتا ھے ، جدا مجھ کو مری محبت سے
میں ، محبوب کےپاس ھوں اس کی نگاه کرم سے
مجھ میں اور ، اس میں ، اب کوئی فرق نہیں
جیے تو ، کوئی میری طرح ، اتنی شاں سے
اس کےفراق میں ، تو اک جیون بیت گیا
اب چند گھڑ یاں ھیں باقی ، جی لوں خوشی سے Mohammad shaukat mehmood
میں ، اس کےپاس ھوں ، بڑی اماں سے
کون کرسکتا ھے ، جدا مجھ کو مری محبت سے
میں ، محبوب کےپاس ھوں اس کی نگاه کرم سے
مجھ میں اور ، اس میں ، اب کوئی فرق نہیں
جیے تو ، کوئی میری طرح ، اتنی شاں سے
اس کےفراق میں ، تو اک جیون بیت گیا
اب چند گھڑ یاں ھیں باقی ، جی لوں خوشی سے Mohammad shaukat mehmood
فکر انسان اور بےبسی زمین و آسمان کی وسعتوں کومیں دیکھ تو چکا،لیکن
ان کی حقیقت ہے کیا پتامجھ کونہیں
سانسوں کا چلنا دل کا دھڑکنا میں دیکھ چکا لیکن
یہ عمل ہے کیسے ممکن پته مجھ کو نہیں
موت تو بظاہر عمل ہے میرے خود کے مرنےکا
اسں میں پوشیده راز کیا،پته مجھ کو نہیں
کوئلیں بلبلیں گنگناتی ہیں اس چمن میں لیکن
ان کے دل میں ھوتا ہے کیا،پته مجھ کو نہیں
دانے کے عمل کو تو میں جان چکا لیکن
اس میں پوشیده زندگی ھے کیسے، پتہ مجھ کو نہیں
میری آنکھ جو دیکھ رھی ھے،چمن کےنظاروں کو
یہ سب تخلیق ھے کس کی،پتہ مجھ کو نہیں
چمن کی زندگی کے چند سالوں میں دیکھ چکا لیکن
آگے ھو گی زندگی کیسی،پتہ مجھ کو نہیں
جنت جوتونے بنائی ہی،میرے لیے ہے
میرے نہ ھونےسے وه ھوگی کیسے،پتہ مجھ کو نہیں
آتے بھی اور جاتےبھی ہیں یہاں سے ہم
آتےہیں کہاں سے اور جاتے ہیں کہاں،پتہ مجھ کو نہیں
سوچ تو ٹکرا رہی ہے ان دیکھی حدوں سے،شوکت
دیکھنا کیا چاہتا ہے،پتہ تجھ کونہیں Mohammad shaukat mehmood
ان کی حقیقت ہے کیا پتامجھ کونہیں
سانسوں کا چلنا دل کا دھڑکنا میں دیکھ چکا لیکن
یہ عمل ہے کیسے ممکن پته مجھ کو نہیں
موت تو بظاہر عمل ہے میرے خود کے مرنےکا
اسں میں پوشیده راز کیا،پته مجھ کو نہیں
کوئلیں بلبلیں گنگناتی ہیں اس چمن میں لیکن
ان کے دل میں ھوتا ہے کیا،پته مجھ کو نہیں
دانے کے عمل کو تو میں جان چکا لیکن
اس میں پوشیده زندگی ھے کیسے، پتہ مجھ کو نہیں
میری آنکھ جو دیکھ رھی ھے،چمن کےنظاروں کو
یہ سب تخلیق ھے کس کی،پتہ مجھ کو نہیں
چمن کی زندگی کے چند سالوں میں دیکھ چکا لیکن
آگے ھو گی زندگی کیسی،پتہ مجھ کو نہیں
جنت جوتونے بنائی ہی،میرے لیے ہے
میرے نہ ھونےسے وه ھوگی کیسے،پتہ مجھ کو نہیں
آتے بھی اور جاتےبھی ہیں یہاں سے ہم
آتےہیں کہاں سے اور جاتے ہیں کہاں،پتہ مجھ کو نہیں
سوچ تو ٹکرا رہی ہے ان دیکھی حدوں سے،شوکت
دیکھنا کیا چاہتا ہے،پتہ تجھ کونہیں Mohammad shaukat mehmood
بادشاھوں کی بادشاھی اک بادشاھوں کی۔۔۔۔ بادشاھی ھو
وھاں ھو ھرشے ، وہ میسر
جو ضرورت باد شاھی ھو
شاھوں کی خواھشیں
وھاں ایسی ھوں پوری
کہ انہیں لا پرواہی ھو
شاھوں کی نہ ھو کوئی ایسی خواہش
یا کوئی ایسی حسرت
جس کےنہ ھونے سے
اس کا انہیں کوئی ملا ل ھو
ادھر دنیا میں ان کی جگہ
ایسے لوگوں کو ھو عطا
جو دنیا کی حقیقت سمجھیں
وہ امن کی حقیقت سمجھیں
جب ھو جائے دنیا میں امن قائم
پھر وہ دنیا میں رھنے کی
حقیقت سمجھیں
جب دنیا میں وہ رھنے کوسمجھ جائیں
پھر ، وہ خالق کو سمجھیں
ایسا ھونے سے۔۔۔۔شاید
دنیا بدل جائے
کوئی کسی کا قاتل نہ رھے
کوئی کسی کا حاسد نہ رھے
نہ کسی کو کسی سے ھو نفرت
نہ کوئی کسی کا ۔۔۔۔ناخدا رھے Mohammad shaukat mehmood
وھاں ھو ھرشے ، وہ میسر
جو ضرورت باد شاھی ھو
شاھوں کی خواھشیں
وھاں ایسی ھوں پوری
کہ انہیں لا پرواہی ھو
شاھوں کی نہ ھو کوئی ایسی خواہش
یا کوئی ایسی حسرت
جس کےنہ ھونے سے
اس کا انہیں کوئی ملا ل ھو
ادھر دنیا میں ان کی جگہ
ایسے لوگوں کو ھو عطا
جو دنیا کی حقیقت سمجھیں
وہ امن کی حقیقت سمجھیں
جب ھو جائے دنیا میں امن قائم
پھر وہ دنیا میں رھنے کی
حقیقت سمجھیں
جب دنیا میں وہ رھنے کوسمجھ جائیں
پھر ، وہ خالق کو سمجھیں
ایسا ھونے سے۔۔۔۔شاید
دنیا بدل جائے
کوئی کسی کا قاتل نہ رھے
کوئی کسی کا حاسد نہ رھے
نہ کسی کو کسی سے ھو نفرت
نہ کوئی کسی کا ۔۔۔۔ناخدا رھے Mohammad shaukat mehmood
عقل میری متفکر ھے گناہ ---گار ----ھوں ، نہیں معلوم
آگے مجھ سے
ھو گا کیا ؟ شکر ھے اس کا
جس نے جاننے کا ، مجھے شوق دیا
کسے معلوم ، جستجومیں اس کی
ملتی ھے مجھے لذت کتنی
جان گر لیا ، اس کو تو
ملے گی انتہاء لذت کیا
شوق میرا ----یہ کہتاھے کہ
لمحہ میں
ایک بھی نہ ضائع کروں
مگر
کر نہیں سکتا ایسے
معلوم نہیں
مجھ میں کمی ھے کیا
دل میرا چاھتا ھے کہ
ھر وقت وہ تصور میں رھے
مگر ، عقل میری متفکر ھے
اس کا تصور ھو گا کیا ؟ Mohammad shaukat mehmood
آگے مجھ سے
ھو گا کیا ؟ شکر ھے اس کا
جس نے جاننے کا ، مجھے شوق دیا
کسے معلوم ، جستجومیں اس کی
ملتی ھے مجھے لذت کتنی
جان گر لیا ، اس کو تو
ملے گی انتہاء لذت کیا
شوق میرا ----یہ کہتاھے کہ
لمحہ میں
ایک بھی نہ ضائع کروں
مگر
کر نہیں سکتا ایسے
معلوم نہیں
مجھ میں کمی ھے کیا
دل میرا چاھتا ھے کہ
ھر وقت وہ تصور میں رھے
مگر ، عقل میری متفکر ھے
اس کا تصور ھو گا کیا ؟ Mohammad shaukat mehmood
جنون مسلم لذت عشق حقیقی ، گرمیسر ھو ، اقوام مسلم کو
پھرکسی اور لذت میں کھونا ، مسلم کی ضرورت نہیں
دنیا سے تو اغیار ھیں ، محو لذت
مگرمسلم ھیں، کہ انہیں اپنی لذت کی خبر نہیں
لذت عشق حقیقی گر مل جائے ، مسلم کو
پھر دنیا میں ، مسلم کا کوئی ھمسر نہیں
غور و فکر پہ دنیا میں ، ھے جس قوم کا یقیں
بے مقصد جینا ، ان کا شیو ہ نہیں
بے مقصد راھوں پہ ، ھم خود کو ڈال چکے
کوئی ھمیں سمجھا ئے ، یہ دستور ھمارا نہیں
عشق حقیقی کا گر جنوں ھو ، مسلم کو
پھر سمجھے گا عالم ، کسے جینے کی خبر نہیں
تو تو اک ادنی سی فکر کا مالک ھے شو کت
جان لے ، بن مقصد دنیا میں ، کسی کا جینا نہیں Mohammad shaukat mehmood
پھرکسی اور لذت میں کھونا ، مسلم کی ضرورت نہیں
دنیا سے تو اغیار ھیں ، محو لذت
مگرمسلم ھیں، کہ انہیں اپنی لذت کی خبر نہیں
لذت عشق حقیقی گر مل جائے ، مسلم کو
پھر دنیا میں ، مسلم کا کوئی ھمسر نہیں
غور و فکر پہ دنیا میں ، ھے جس قوم کا یقیں
بے مقصد جینا ، ان کا شیو ہ نہیں
بے مقصد راھوں پہ ، ھم خود کو ڈال چکے
کوئی ھمیں سمجھا ئے ، یہ دستور ھمارا نہیں
عشق حقیقی کا گر جنوں ھو ، مسلم کو
پھر سمجھے گا عالم ، کسے جینے کی خبر نہیں
تو تو اک ادنی سی فکر کا مالک ھے شو کت
جان لے ، بن مقصد دنیا میں ، کسی کا جینا نہیں Mohammad shaukat mehmood
میری شاعری کیوں؟ تمنائے جیون نے ، ھر موڑ پر ، مجھےمایوس کیا
شاید ، شکست آرزو نے ، مجھے شاعر بنا دیا Mohammad shaukat mehmood
شاید ، شکست آرزو نے ، مجھے شاعر بنا دیا Mohammad shaukat mehmood
لمحہ فکر ناں ھے ، ھماری کوئى داستان محبت
اور ، نہ ھی کوئى قصہ کما ل کا
نفرت و بڑھائى ، دوقضیے ھیں ھمارے
یہی ھے ، قصہ ، ھمارے زوال کا
بے راہ روی کو ، تو ھم نے روک لیا
مگرنفرت و بڑھائى ، ھمیں لے ڈوبی
سوچو ، یہ کیسی بلا ئیں نکلیں
انہوں نے ، نہ چھوڑا کسی بھی کام کا
آج گر. ، فکر ھماری ان دونوں کے
حل پے ھو جائے متفکر
پھر ھو سکتا ھے شايد ، ماحول
ھماری بھی شا ن كا Mohammad shaukat mehmood
اور ، نہ ھی کوئى قصہ کما ل کا
نفرت و بڑھائى ، دوقضیے ھیں ھمارے
یہی ھے ، قصہ ، ھمارے زوال کا
بے راہ روی کو ، تو ھم نے روک لیا
مگرنفرت و بڑھائى ، ھمیں لے ڈوبی
سوچو ، یہ کیسی بلا ئیں نکلیں
انہوں نے ، نہ چھوڑا کسی بھی کام کا
آج گر. ، فکر ھماری ان دونوں کے
حل پے ھو جائے متفکر
پھر ھو سکتا ھے شايد ، ماحول
ھماری بھی شا ن كا Mohammad shaukat mehmood
جاں کی جانثاری قربانی جاں کا درد ، کوئی اس جاں سے پو چھے
کسی کی خواھش پہ،جوکرتی ھے خودکوجاں نثار Mohammad shaukat mehmood
کسی کی خواھش پہ،جوکرتی ھے خودکوجاں نثار Mohammad shaukat mehmood
شوق عشق رلا دیتا ھے شوق عشق دنیامیں ، اس کو
جس کے سینےمیں اٹھتی ھے،عشق کی یہ چنگاری Mohammad shaukat mehmood
جس کے سینےمیں اٹھتی ھے،عشق کی یہ چنگاری Mohammad shaukat mehmood
وسعت فکر انسان کائنات کی وسعتوں میں ، دکھ سکتانہیں لیکن
کائنات کی وسعتوں کی ، پہچان مجھ میں ھے Mohammad shaukat mehmood
کائنات کی وسعتوں کی ، پہچان مجھ میں ھے Mohammad shaukat mehmood
محبت کچھ لوگ محبت میں جاں تک لٹا دیتےھیں
کچھ لوگ محبت میں،جاں تک لٹادیتےھیں
کچھ لوگوں کو،اس جذبےکی پرواہ ھی نہیں
کچھ لوگ چاھت میں،سردھڑکی بازی ھیں لگائے ھوئے
کچھ لوگوں کوچاھت کی،پرواہ ھی نہیں
کچھ لوگ تومجبورن ھیں،نفرت میں الجھےھوئے
کچھ لوگوں کومحبت کےجذبےکی،پرواہ ھی نہیں
کچھ لوگوں کےدلوں میں،ھوتاھےمحبت کا یہ جذبہ
کہیں تقدیرکو،اس جذبےکی،پرواہ ھی نہیں Mohammad shaukat mehmood
کچھ لوگ محبت میں،جاں تک لٹادیتےھیں
کچھ لوگوں کو،اس جذبےکی پرواہ ھی نہیں
کچھ لوگ چاھت میں،سردھڑکی بازی ھیں لگائے ھوئے
کچھ لوگوں کوچاھت کی،پرواہ ھی نہیں
کچھ لوگ تومجبورن ھیں،نفرت میں الجھےھوئے
کچھ لوگوں کومحبت کےجذبےکی،پرواہ ھی نہیں
کچھ لوگوں کےدلوں میں،ھوتاھےمحبت کا یہ جذبہ
کہیں تقدیرکو،اس جذبےکی،پرواہ ھی نہیں Mohammad shaukat mehmood
نوائےانسان میرے شعورمیں ھے یہ ظاہریت لیکن
اور کیاجانیں،میرےباطن کی حقیقت کیا ھے
پاسکتاھوں اس سرنہاں کو،گرباطن میں جھانکوں زرا
اس دنیامیں،میرےھونےکی حقیقت کیاھے
علم ھر چیز کاپنہاں،میرےاپنےھی باطن میں ھے
چارہ گرکیاسمجھیں،میری اپنی حقیقت کیاھے
پروازمیری عقل کی اتنی ھےاےدنیاوالو
جان سکتاھوں میں،یزداں کی حقیقت کیاھے
ابھی تومیں نےخودکو،ان کہکشاؤںمیں رہ کےجاناھے
مجھےتوجانناھے،ان کےآگےکی حقیقت کیاھے
گرعلم مقدرھو،ھرنومولودکا اس دنیا میں
جلدجالےانسان،کائنات کی حقیقت کیاھے
دنیاتواس وقت،قتل وغارت میں ھےخودکوالجھائےھوئے
ان کوکیامعلوم،امن کی حقیقت کیاھے
ابھی توچندذھن ھیں اس فکرمیں خودکوالجھائےھوئے
کہ اس دنیامیں،قدرت کی حقیقت کیاھے
سوچ ھرذھن کی جب ھوجائیگی اس فکر کی مانند
پھرشایدکچھ سمجھ آئے،اس دنیاکی حقیقت کیاھے
مجھ پہ گرفضل ھومیرےمالک کا،اے شوکت
میری عقل بتاسکتی ھے،اسرارکی حقیقت کیا ھے Mohammad shaukat mehmood
اور کیاجانیں،میرےباطن کی حقیقت کیا ھے
پاسکتاھوں اس سرنہاں کو،گرباطن میں جھانکوں زرا
اس دنیامیں،میرےھونےکی حقیقت کیاھے
علم ھر چیز کاپنہاں،میرےاپنےھی باطن میں ھے
چارہ گرکیاسمجھیں،میری اپنی حقیقت کیاھے
پروازمیری عقل کی اتنی ھےاےدنیاوالو
جان سکتاھوں میں،یزداں کی حقیقت کیاھے
ابھی تومیں نےخودکو،ان کہکشاؤںمیں رہ کےجاناھے
مجھےتوجانناھے،ان کےآگےکی حقیقت کیاھے
گرعلم مقدرھو،ھرنومولودکا اس دنیا میں
جلدجالےانسان،کائنات کی حقیقت کیاھے
دنیاتواس وقت،قتل وغارت میں ھےخودکوالجھائےھوئے
ان کوکیامعلوم،امن کی حقیقت کیاھے
ابھی توچندذھن ھیں اس فکرمیں خودکوالجھائےھوئے
کہ اس دنیامیں،قدرت کی حقیقت کیاھے
سوچ ھرذھن کی جب ھوجائیگی اس فکر کی مانند
پھرشایدکچھ سمجھ آئے،اس دنیاکی حقیقت کیاھے
مجھ پہ گرفضل ھومیرےمالک کا،اے شوکت
میری عقل بتاسکتی ھے،اسرارکی حقیقت کیا ھے Mohammad shaukat mehmood
پیغام محبت محبت سےھےلاعلمی ؟يا كه ھےنفرت کی جیت
ره كےاپنوں میں لیکن ،هم شريك دردنهيں
ھم تونفرت کی تقلیدمیں،ھیں خودکوالجھائےھوئے
یہ تونہ تھاپیغام ھمارا،ھمیں کیوں اس کی خبرنھیں
یونہی گرنفرت کوملتی رھی نمو
یہ ھوگی نفرت کی جیت،محبت کی یہ جیت نہیں
محبت ھےوہ حقیقت،کہ ھے جس کو دوام
نفرت ھےوہ برائی،جس سےبڑی برائی نہیں
پیغام محبت مشکل نہیں،جسے نہ ھم سمجھ سکیں
یہ توواعظ کی ھےسخن فہمی،جسکی اسےفکرنہیں
نفرت سے نہیں امن سے رھناھے ھم کو
محبت سےھےدل کی خوشی،نفرت سے نہیں
محبت ھے پیغام الہی،اس سےبڑی حقیقت نہیں
ودودھےصفت معبود،شیطان کی یہ صفت نہیں
چھوڑنفرت اے شوکت،کرمحبت پےیقین
یہ وہ سرمایہ ھے،جس کی تمہیں قدر نہیں Mohammad shaukat mehmood
ره كےاپنوں میں لیکن ،هم شريك دردنهيں
ھم تونفرت کی تقلیدمیں،ھیں خودکوالجھائےھوئے
یہ تونہ تھاپیغام ھمارا،ھمیں کیوں اس کی خبرنھیں
یونہی گرنفرت کوملتی رھی نمو
یہ ھوگی نفرت کی جیت،محبت کی یہ جیت نہیں
محبت ھےوہ حقیقت،کہ ھے جس کو دوام
نفرت ھےوہ برائی،جس سےبڑی برائی نہیں
پیغام محبت مشکل نہیں،جسے نہ ھم سمجھ سکیں
یہ توواعظ کی ھےسخن فہمی،جسکی اسےفکرنہیں
نفرت سے نہیں امن سے رھناھے ھم کو
محبت سےھےدل کی خوشی،نفرت سے نہیں
محبت ھے پیغام الہی،اس سےبڑی حقیقت نہیں
ودودھےصفت معبود،شیطان کی یہ صفت نہیں
چھوڑنفرت اے شوکت،کرمحبت پےیقین
یہ وہ سرمایہ ھے،جس کی تمہیں قدر نہیں Mohammad shaukat mehmood