امریکی خواتین سوکر ٹیم عالمی ریکارڈ بنانے کے باوجود مناسب معاوضوں سے محروم  

امریکا کی خواتین سوکر ٹیم نے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں ایک میچ میں 13 گول کر کے سوکر میچز کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کردیا، تاہم شاندار ریکارڈ بنانے کے باجود یہ ٹیم اپنے لیے جائز معاوضوں سے محروم ہے۔
امریکا کی ویمن سوکر ٹیم نے رواں برس فرانس میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کی جس میں تھائی لینڈ کے خلاف میچ میں انہوں نے 0-13 گولز سے نہ صرف میچ اپنے نام کیا بلکہ سوکر کی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ بھی بنا دیا۔
یہ ریکارڈ اس سے پہلے سوکر میں خواتین یا مردوں کی کوئی ٹیم نہیں بنا سکی۔
تاہم اس قدر شاندار ریکارڈ بنانے کے باجوود یہ ٹیم اپنے جائز معاوضوں کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہے۔
رواں برس مارچ میں امریکی خواتین سوکر ٹیم نے یو ایس سوکر فیڈریشن پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے اپنا معاوضہ مرد سوکر پلیئرز کے برابر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست میں 28 خواتین پلیئرز کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ ’کاروباری حقائق یہ ہیں کہ خواتین مردوں کے برابر معاوضے کی حقدار نہیں ہیں‘۔ پلیئرز نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مردوں کی ٹیم کے مقابلے میں زیادہ مقابلے کھیلے اور جیتے ہیں جبکہ ان کی وجہ سے فیڈریشن کے منافع میں بھی اضافہ ہوا، اس کے باوجود ان کے معاوضے مرد پلیئرز سے کم ہیں۔ امریکا کی خواتین سوکر ٹیم نے اس سے قبل بھی کئی بار فیڈریشن سے یکساں معاوضوں کا مطالبہ کیا تھا تاہم ہر بار ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا۔ اب اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں تاریخ ساز ریکارڈ بنانے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی لوگ ان کے ہم آواز ہوگئے، لوگوں نے مطالبہ شروع کردیا کہ ان پلیئرز کو ان کا جائز معاوضہ دیا جائے۔ ٹیم کے مارچ میں دائر کیے گئے مقدمے کے دوران ڈیزائن کمپنی ایڈیڈس نے کہا تھا کہ ان کے اسپانسر کیے ہوئے وہ تمام کھلاڑی جو ویمن ورلڈ کپ 2019 میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے انہیں مرد کھلاڑیوں کے برابر بونس دیا جائے گا۔
تاہم اس کے باوجود مرد کھلاڑیوں کے برابر معاوضے کا سوال جوں کا توں اپنی جگہ برقرار ہے۔
اس معاملے کی گونج وائٹ ہاؤس میں بھی سنائی دی جب ایک صحافی نے امریکی صدر ٹرمپ سے اس بارے میں سوال کیا۔ صدر ٹرمپ نے خواتین کی تاریخ ساز فتح پر خوشی کا اظہار تو کیا تاہم جب صحافی نے دریافت کیا کہ کیا ان خواتین کو مرد پلیئرز کے برابر معاوضہ دیا جانا چاہیئے؟ تو صدر ٹرمپ نے کہا، ’ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے‘۔
خواتین کا مردوں سے کم معاوضے کا مسئلہ صرف یہیں تک محدود نہیں، انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن فیفا میں بھی اس حوالے سے بدترین صنفی تفریق موجود ہے جہاں مردوں کی 32 ٹیمز کو 40 کروڑ ڈالر ادا کیے جاتے ہیں، اس کے برعکس خواتین کی 24 ٹیمز کو صرف 3 کروڑ ڈالر دیے جاتے ہیں۔
اب ورلڈ کپ کے میچ میں اس فتح کے بعد خواتین سوکر پلیئرز پرامید ہیں کہ اس بار وہ یہ مقدمہ ضرور جیتیں گی اور اپنا یکساں معاوضے کا حق حاصل کر کے رہیں گی۔
News Source : Ary news

YOU MAY ALSO LIKE :