یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaیہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
ایک سال کے کھونے کا احساس دلاتا ھے
محبوب کےعارض کی سرخیوں کو تھوڑا سا
چھپتے چھپاتے سے مدھم سا کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
لبوں کے پیالے میں اگر رس کو ناپو تو
کچھ فرق کا پیمانہ ابھر کے آتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
اسکی آنکھوں کی تپش کو محسوس تو کرتےھیں
مگر ترکش کے وہ خم کو ابھار کے لاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
کہتے تھے کہ حسن کا ثانی نہیں کوئی
اب تھوڑا سا خیالات کو تبدیل کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
خدوخال تو ممکن ھے سنجیدہ ھو ے لیکن
میرے محبوب کو ھزاروں میں جداگانہ بناتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
وہ سدا کا حسیں ھے حسیں ھی رھیگا.
یہ میرا آئینہ ھے جو میرا منہ چڑاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
اس سال کی گرد نے کیا اشر دیکھایا ھے
سرد ھو ے جزبات کو سردی میں جلاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
ایک سال کے کھونے کا احساس دلاتا ھے
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو







