عورتوں کے تحفظ کے لیے لڑنے والی خاتون پولیس افسر: 'کم از کم میں ان درندوں کو نہ چھوڑوں'  

 

کلثوم فاطمہ نے جب پنجاب پولیس میں شمولیت اختیار کی تو انھوں نے پختہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ کمسن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے مجرمان کو وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گی۔
پاکستان میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات تھم نہیں پا رہے تھے۔ کلثوم فاطمہ اس پر برہم تھیں۔ پھر چند برس قبل ایک کے بعد دوسرا واقعہ سامنے آنا شروع ہوا جس میں کمسن بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ زیادہ تر واقعات میں بچیوں کو قتل کر دیا جاتا تھا۔
صوبہ پنجاب کا شہر قصور توجہ کا مرکز بنا جہاں محض دو برس میں 12 کمسن بچیاں زیادتی کا نشانہ بنیں۔ کلثوم فاطمہ کے لیے یہ ناقابلِ برداشت تھا۔ مگر وہ کیا کر سکتی تھیں۔ صرف غصہ کرنے یا باتوں سے کمسن بچیاں محفوظ نہیں ہو سکتی تھیں۔
ہاں مگر ان کے دل میں 'یہ چیز آئی کہ ایک بار اللہ تعالٰی مجھے کسی ایسے عہدے پر پہنچا دے، تو کم از کم میں ان درندوں کو نہ چھوڑوں۔'
پھر انھیں موقع ملا۔ کلثوم فاطمہ نے مقابلے کے امتحان کے ذریعے پنجاب پولیس میں بطور سب انسپکٹر شمولیت اختیار کی۔ انہیں کام بھی وہی سونپا گیا جو وہ کرنا چاہتی تھیں۔
پاکپتن میں اپنے گھر پر ایک انٹرویو کے دوران کلثوم فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں 'تحقیقات بھی ان مقدموں کی سونپی گئیں جو ریپ یا عورتوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی سے متعلق تھے۔'
یہ بھی پڑھیے ’اب خاتون افسر والا تصور بالکل ختم ہو جانا چاہیے‘ ’فیلڈ میں کارروائی کر کے دل کو اطمینان ہوتا ہے‘ مشکلات کے باوجود کوئٹہ کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر پرامید
تین برس میں 200 مقدمات کی تحقیقات ضلع پاکپتن میں عارف والا کے قریب قبولہ کے مقام پر ایک پانچ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے لاش کو کھیتوں میں پھینک دیا گیا۔ اس واقعے کی ابتدائی تفتیش کے بعد تحقیقات سب انسکٹر کلثوم فاطمہ کے پاس پہنچیں۔
BBC وہ فخر سے بتاتی ہیں کہ 'اس واقعے کے ذمہ داران دو مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔' یہ واحد واقعہ نہیں۔ کلثوم فاطمہ گذشتہ تقریباً تین برس میں 200 سے زیادہ ریپ اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے مقدمات کی تحقیقات کر چکی ہیں۔ 'ہر کیس میں جو بھی قصور وار تھا اس کو گرفتار کیا ہے اور شواہد کے ساتھ عدالت سے اسے سزا دلوائی ہے۔' ریپ، جنسی زیادتی اور قتل جیسے جرائم کی روک تھام کا موزوں ترین طریقہ یہی مانا جاتا ہے۔
حال ہی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پاکپتن عبادت نثار نے انہیں ایک تھانے کو چلانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ کلثوم فاطمہ پاکپتن میں پہلی خاتون محتمم ہیں۔ وہ دیہی علاقے میں واقع ماڈل تھانہ ڈل وریام کی اسٹیشن ہاؤس آفیسر یعنی ایس اچ او ہیں۔
'خاتون ہے جرائم پر قابو نہیں پا سکے گی' ایس ایچ او کے اوقات کار سخت ہوتے ہیں۔ کلثوم فاطمہ خود بتاتی ہیں کہ 'ایک ایس اچ او 24 گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔'
عوامی رابطہ، امن و امان پر نظر، جرائم پیشہ افراد کا تعاقب کرنا، تحقیقات کے ساتھ عدالت میں پیشی اور ایسا کرتے ہوئے جرائم کی شرح پر مسلسل کنٹرول کرنا، یہ سب مہتم تھانہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
کلثوم فاطمہ یہ سب بھی کرتی ہیں۔ مگر وہ اس کے علاوہ وہ گھر پر بھی کام کرتی ہیں۔ ان کی نو ماہ کی ایک بیٹی ہے۔ ان کے شوہر بھی ٹریفک پولیس میں ملازم اور لاہور میں تعینات ہیں۔
پاکستان میں عمومی طور پر ایس ایچ او جیسے عہدے کو 'مردوں کا کام' مانا جاتا ہے۔ یہ تاثر عوام میں بھی پایا جاتا ہے۔
'منفی تاثرات بھی آتے ہیں۔ اکثر وہ (لوگ) کہتے ہیں کہ جی یہ تو خواتین ہیں ان سے تو جرائم کنٹرول نہیں ہوں گے۔ میں کہتی ہوں کیوں نہیں ہوں گے۔۔۔میں نے کر کے دکھایا ہے۔' BBC'فرض کے لیے قربانی تو دینی پڑتی ہے' کلثوم فاطمہ کا تھانہ پاکپتن شہر سے ہٹ کر تقریباً 25 کلو میٹر کے فاصلے پر ڈل وریام کے علاقے میں واقع ہے۔
زمانہ طالبِ علمی سے ان کے پاس ایک چھوٹی سی گاڑی ہے۔ اس کو خود چلا کر وہ روزانہ ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے تھانے آتی اور جاتی ہیں۔ بچی کی وجہ سے کئی بار دن میں ایک سے زیادہ چکر بھی لگ جاتے ہیں۔ 'میری بچی کی عمر بہت کم ہے، اسے میری ضرورت ہوتی ہے مگر اب ایس ایچ او کی ڈیوٹی کا فرض نبھانے کے لیے قربانی تو دینی پڑتی ہے۔' ان کی والدہ اور ایک ملازم ان کی غیر حاضری میں بیٹی کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
تاہم کلثوم فاطمہ سمجھتی ہیں کہ ان تمام تر مشکلات کے باوجود وہ اپنی ملازمت جاری رکھے ہوئے ہیں تو اس کی بڑی وجہ ان کے شوہر کی مدد ہے۔
'زندگی میں جب نئی چیزیں آتی ہیں تو اس کے ساتھ تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ میری شادی ہوئی لیکن مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ میرے شوہر بہت اچھے ہیں۔ انہی کی وجہ سے میں اب تک کام کر رہی ہوں۔'
BBC'چھاپے تو مارنے پڑتے ہیں' مہتمم بنے کلثوم فاطمہ کو ایک ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے۔ اس مختصر وقت میں وہ عدالتوں کو مختلف جرائم میں مطلوب درجن بھر سے زائد مجرموں کو گرفتار کر چکی ہیں۔ 'جرائم پیشہ افراد کو پکڑنا ہو تو جھاپے مارنے پڑتے ہیں۔ اس دوران آتشیں اسلحے کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔'
زیادہ تر چھاپے کلثوم فاطمہ پچھلے پہر یا رات کے وقت کرتی ہیں اور وہ خود نفری کی رہنمائی کرتی ہیں۔ تاہم تفتیش کی بات آئے تو کلثوم فاطمہ تشدد یا سخت رویے کے استعمال میں یقین نہیں رکھتیں۔ 'میرا اپنا ایک طریقہ ہے۔ ضروری نہیں کہ تشدد ہی کیا جائے، انسانیت کے اصولوں میں رہتے ہوئے بھی کسی سے بات نکلوائی جا سکتی ہے۔'
تھانے کے صحن میں کرسیاں لگائے وہ شام کے وقت ان لوگوں سے ملتی ہیں جو اپنی شکایات لے کر آتے ہیں۔ ان میں خواتین کی بھی کافی تعداد ہے۔
'جب سے میں ڈل وریام کے تھانے میں آئی ہوں، یہاں خواتین اور ان کے مسائل زیادہ آنے شروع ہو گئے ہیں۔' وہ سمجھتی ہیں کہ ایسی خواتین جنہیں پہلے یقین نہیں تھا کہ ان کی بات سنی جائے گی، اب وہ بھی آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی زیادہ تر شکایات گھریلو تشدد، ناچاکی یا پھر کبھی کبھار زیادتی جیسے واقعات سے متعلق ہوتی ہیں۔ BBC'وردی عورت اور مرد کا فرق مٹا دیتی ہے' ایس ایچ او کلثوم فاطمہ کے لیے پولیس میں شمولیت کا بنیادی مقصد لوگوں اور خصوصاً خواتین کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی یونیفارم یا وردی میں بہت طاقت ہے۔
'جب آپ یہ وردی پہن لیتے ہیں تو پھر کوئی مرد یا عورت نہیں رہتا۔ یہ عورت اور مرد کا فرق ختم کر دیتی ہیے۔ ایک عورت کا بھی اتنا ہی رعب اور دبدبہ ہوتا ہے جتنا ایک مرد کا۔' یونیفارم پہننے کا شوق انہیں اپنے والد سے ملا جو فوج میں ملازم تھے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
اپنے والد کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر وہ اب کلثوم فاطمہ بخش کہلانا پسند کرتی ہیں۔ ان کے لیے یہاں تک پہنچنا ہی سب کچھ نہ، وہ آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے وہ مزید تعلیم اور مقابلے کے امتحانات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
گھر پر اپنی بیٹی کے لیے کھانا تیار کر نے کے بعد دوبارہ وردی زیب تن کیے ملازمت پر جانے کو تیار ہیں۔ بچی کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے ہوئے کلثوم فاطمہ کہتی ہیں کہ 'عورت کسی بھی محکمے میں کام کر رہی ہو، اسے نامزد تو کیا جاتا ہے۔ لوگ باتیں بھی کرتے ہیں۔۔۔ کرتے رہیں۔'
پھر انھوں نے بیٹی کو ملازم کے حوالے کیا۔ چھوٹی بچی کو اچھا نہیں لگا۔ اس نے بلکنا شروع کر دیا۔ 'ہم (عورتیں) جو کام کر رہی ہیں ہم یہ منوا رہی ہیں کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ ہم بھی کر سکتی ہیں۔' ملازم کے حوالے کر کے وہ بیٹی کو ماتھے پر بوسہ دیے جلدی گھر واپس آنے کا دلاسہ دے کر ہاتھ ہلاتی مرکزی دروازے سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔
News Source : BBC

YOU MAY ALSO LIKE :