یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم۔۔ گیت

Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
چمن میں فصل کانٹوں کی کبھی بونے نہ دیں گے ہم

یہ وعدہ ہے نبھائیں گے وفا کی ریت کو جانم
تمھیں بانہوں میں لے کر پیار دیں گے ہر گھڑی،ہر دم

کسی بھی بات پر تم کو کبھی رونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم

سفر میں چور ہو کر ہم کبھی واپس نہ آئیں گے
پکڑ کر ہاتھ منزل کی طرف بڑھتے ہی جائیں گے

تمھیں گرد سفر میں پل کو بھی کھونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم

ملن کی رات قسمت پاس لائے گی تمھیں جاناں
رہے گی بے قراری صبح ہونے تک ہمیں جاناں

یہ سوچاہے تمھیں بھی رات بھر سونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم

یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
چمن میں فصل کانٹوں کی کبھی بونے نہ دیں گے ہم

Rate it:
Views: 1764
20 Oct, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL