ہم آج بھی ہیں مُرْشِد و سَیَّد ہزار کے
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAروکے عدو کے وار جو خود کو ہی وار کے
جیتا ہوں ہار پیار کے ، میں خود کو ہار کے
تو ہی بتا کہ چھوڑ کے میں عشق کیا کروں
دوچار ہی تو دن ملے ، دنیا میں پیار کے
بیچے ہیں ہاتھ، مرتبہ بیچا نہیں حضور
ہم آج بھی ہیں مُرْشِد و سَیَّد ہزار کے
انسانیت کا درس جو دل سے نکال دے
ہیں بوجھ وہ عبادتیں ، سجدے ادھار کے
آتے ہی اسکے آتے ہیں قوس قزح کے رنگ
جاتے ہی اسکے جاتے ہیں موسم بہار کے
بچوں کا میرے دیس کے کچھ ایسا حال ہے
مرجھائے جیسے پھول ہوں اجڑے مزار کے
بے اختیار کب تمہیں بھیجا گیا یہاں
ہم نے تو دن دئے تھے تمہیں اختیار کے
تاعمر عَطر بیز یوں کرکے مرا چمن
لو چل دیا ہے سانس کی مالا اتار کے
کچھ ایسے تیری یاد نے سرشار کردیا
غم جیسے مٹ گئے ہوں سبھی روزگار کے
جی بھر کے ظلم جان پر مفتی کئے مگر
توبہ کے در کُھلے رہے ، پروردگار کے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






