پیار کی مشکل راہوں میں
Poet: Naeem Ahmed Malik By: Naeem Ahmed Malik, Sambrialپھول کے بدلے ملے انگارے پیار کی مشکل راہوں میں
کر گئے تنہا ساتھی ہمارے پیار کی مشکل راہوں میں
ےاد آتا ہے قسمیں کھا کر اس ساتھی کا ےہ قول
سدا ر ہیں گے ساتھ تمہارے پیار کی مشکل راہوں میں
بچھڑا ساتھی ہمارا اپنا خون جگر ہم پیتے ہیں
ہیں دل پہ چلتے غم کے آرے پیار کی مشکل راہوں میں
یاد آتا ہے رہ رہ کر وہ ہنسی خوشی سے اس کے ساتھ
گزرے ہیں جو موسم پیا رے پیار کی مشکل راہوں میں
پھر بھی سنا دے آ کر مجھ کو جنھوں نے کر دیا تھا مست
میٹھے نغمے پیارے پیارے پیا ر کی مشکل راہوں میں
جگمگ جگمگ شیش محل میں کیا بسیرا چھوڑ کے ساتھ
پھرتے ہیں ہم مارے مارے پیار کی مشکل راہوں میں
پھول کے بدلے ملے انگارے پیار کی مشکل راہوں میں
کر گئے تنہا ساتھی ہمارے پیار کی مشکل راہوں میں
یاد آتا ہے قسمیں کھا کر اس ساتھی کا ےہ قول
سدا ر ہیں گے ساتھ تمہارے پیار کی مشکل راہوں میں
بچھڑا ساتھی ہمارا اپنا خون جگر ہم پیتے ہیں
ہیں دل پہ چلتے غم کے آرے پیار کی مشکل راہوں میں
یاد آتا ہے رہ رہ کر وہ ہنسی خوشی سے اس کے ساتھ
گزرے ہیں جو موسم پیا رے پیار کی مشکل راہوں میں
پھر بھی سنا دے آ کر مجھ کو جنھوں نے کر دیا تھا مست
میٹھے نغمے پیارے پیارے پیا ر کی مشکل راہوں میں
جگمگ جگمگ شیش محل میں کیا بسیرا چھوڑ کے ساتھ
پھرتے ہیں ہم مارے مارے پیار کی مشکل راہوں میں
پھول کے بدلے ملے انگارے پیار کی مشکل راہوں میں
کر گئے تنہا ساتھی ہمارے پیار کی مشکل راہوں میں
یاد آتا ہے قسمیں کھا کر اس ساتھی کا ےہ قول
سدا ر ہیں گے ساتھ تمہارے پیار کی مشکل راہوں میں
بچھڑا ساتھی ہمارا اپنا خون جگر ہم پیتے ہیں
ہیں دل پہ چلتے غم کے آرے پیار کی مشکل راہوں میں
یاد آتا ہے رہ رہ کر وہ ہنسی خوشی سے اس کے ساتھ
گزرے ہیں جو موسم پیا رے پیار کی مشکل راہوں میں
پھر بھی سنا دے آ کر مجھ کو جنھوں نے کر دیا تھا مست
میٹھے نغمے پیارے پیارے پیا ر کی مشکل راہوں میں
جگمگ جگمگ شیش محل میں کیا بسیرا چھوڑ کے ساتھ
پھرتے ہیں ہم مارے مارے پیار کی مشکل راہوں میں
زخم دیئے ہیں فر قت کے جو تو نے مجھ کو دوست
ٹیس رہے ہیں اب وہ سارے پیار کی مشکل راہوں میں
تھم تھم کر ہے لیتا کروٹ تری فرقت کا احساس
اشکوں کے ہیں بہتے دھارے پیار کی مشکل راہوں میں
چاند سے مکھڑے والے ہو پھر نعیم کا سچا ساتھی
باہم ہو ں پھر وہی نظارے پیار کی مشکل راہوں میں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






