پھر کسی روز ملو
Poet: Fida Sherazi By: Fida Sherazi, islamabadرات پھر ٹوٹ گیا میرے خوابوں کا نقاب
رات پھر میں نے تصور میں تجھے جان لیا
تیرے ہونٹوں کی ہنسی تیرے حسین لب کا ملاپ
جیسے اُجڑے ہوئے باغوں میں کوئی کھلتا گلاب
رُخ پہ جلتے ہوئے انگاروں کی سی لالی اور تپش
ہاتھ چھو کر بھی کئی بار جلائے میں نے
تو نے جُوڑے بندھی زلفوں کو جو آزادی دی
تیرے شانوں پہ بکھر آئے حسین ساز کے تار
میں نے انگلی کی شرارت سے سراہا جو انہیں
چھڑ گیا خود ہی سے دیپک کی طرح کوئی سا راگ
میرا ماتھا بھی پسینے میں شرابور ہوا
تیرے ہونٹوں کے کناروں پہ بھی شبنم پھیلی
میری آنکھوں میں بھی تسکین کی مستی آئی
تیری آنکھوں میں بھی گلرنگ سے ڈورے پھیلے
تیرے لب میرے لبوں میں جونہی پیوست ہوئے
میرے مخمور بدن میں وہ حرارت آئی
میں نے خود اپنے بدن کو ایسے بے باک کیا
تو نے پھر اپنے گریبان کو صد چاک کیا
تیرے تن میرے بدن میں ایسی مستی آئی
راستے خود ہی سے پاتال کے کھلتے ہی گئے
ہوش اُڑتے ہی گئے جسم ملتے ہی گئے
خواب پھر خواب، حقیقت کو فسانہ نہ کرو
پھر کسی روز ملو، پھر کسی روز ملو
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






