وہ چھوٹی سی بات

Poet: SABA KOMAL By: SABA KOMAL, KSA

کچھ کہتے ھوئے
میں رک کیوں گئی
وہ چھوٹی سی بات
میں کہہ ناں سکی
کہ شرم و حیا کے
رنگیں ستارے
میری گالوں پے
یوں جگمگانے لگے
اور جھکی پلکوؤں کے
سائے تلے
وفا کے دئیے ٹمٹمانے لگے
اور وہ مشرق کی ساری
حسیں تیتلیاں
میرے گرد گھیرا بنانے لگیں
میرے آنچل کو سایہ
بنا کر میرے گیسوؤں کو
یوں چھپانے لگیں
اور میں پھر کہتے ھوئے
رک کیوں گئی
وہ چھوٹی سی بات کہہ نا سکی

لبوں پہ رواجوں کے
دلنشیں پہروں نے
بڑے ناز سے یہ بتایا مجھے
تو محبت کی دیوی مشہور ھے
مگر تیرے مذھب کا
دستور ھے
کہ پلکوؤں کے ہلکے
سے جھکاؤ سے
اپنے دل کی بات
اسطرح کہہ دے
کہ ھونٹوں کو ناں
ہلانے کی ضرورت پڑے
اور شرم و حیا کے
نرم آنچل نے
مجھے اپنی بانہوں میں
اسطرح لے لیا
کہ میں کچھ کہتے ھوئے
رک سی گئی
اور وہ چھوٹی سی بات
اسطرح کہہ گئی
کہ آنکھوں میں جگنؤ
جگمگانے لگے

Rate it:
Views: 1939
27 Nov, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL