میری خاطر اہتمام دار میں دیوانہ ہوں
Poet: سید عبد الستار مفتی By: سید عبد الستار مفتی, Samundri Faisalabadمیری خاطر اہتمام دار میں دیوانہ ہوں
بخش دیجے گا مجھے سرکار میں دیوانہ ہوں
کوئے جاناں سے مجھے آگے نہ لے جائے جنوں
روک لے اے سایہ ء دیوار میں دیوانہ ہوں
آپ پتھر پھینکیئے یا سنگ باری کیجئے
وحشتیں ہیں رونق بازار میں دیوانہ ہوں
چوس لے میرا لہو میری رگوں سے کھینچ لے
اے زبان نشتر خونخوار میں دیوانہ ہوں
اور بھی کچھ زخم باقی ہیں تو مجھ کو سونپ دے
مجھ کو کیا اندیشہ ء آزار میں دیوانہ ہوں
نفع سے مجھ کو غرض ہے نہ خسارے سے کوئی
مجھ سےکیا کرتے ہو کاروبار میں دیوانہ ہوں
آپ کیا کہتے ہیں مفتی کے لئے ، معلوم ہے
لوگ کہتے ہیں سرِ بازار میں دیوانہ ہوں
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






