محبت کا پہلا پڑاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن اور وصل
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنیند میں خواب جاگ اٹھتے ہیں
پلکوں پہ دیپ جلنے لگتے ہیں
جھملاتی ہیں تتلیاں ہر سو
پھول بے وجہ کھلنے لگتے ہیں
ہر طرف دھنک بکھر جاتی ہے
رنگ غنچوں میں بھرنے لگتے ہیں
یاد آتا ہے ہر سمے کوئی
دل میں جذبے ابھرنے لگتے ہیں
زندگی خوشبوؤں سی لگتی ہے
بے خودی جگنوؤں سی لگتی ہے
زیست کی روح ترسی لگتی ہے
نارسائی زہر سی لگتی ہے
خود بخود بوئے حنا آتی ہے
آئنینوں سے بھی حیا آتی ہے
سہانے راستوں پہ دیر تلک
گھومتے پھرنا اچھا لگتا ہے
ہاتھ میں دے کے ہاتھ، فردا میں
جھا نکتے رہنا اچھا لگتا ہے
جانتے بوجھتے ساری باتیں
کسی سے سننا اچھا لگتا ہے
زندگی سے بھرے حسیں چہرے
اپنے اپنے سے لگنے لگتے ہیں
امنگیں جاتی ہیں شوخی میں
خواب شعروں میں ڈھلنے لگتے ہیں
ذھن کے ادھ کھلے دریچوں سے
ٹمٹماتی سی سوچیں آتی ہیں
کبھی انکار ۔ خوشبو ۔ خود کلامی
کبھی ساحر کی نظمیں آتی ہیں
گونجتے ہیں کبھی فراز کے گیت
کبھی امجد کی غزلیں آتی ہیں
نرم شاخوں کا سہارا لے کر
جھوم جانے کو دل مچلتا ہے
اڑتے ۔ گاتے ہوئے پرندوں کو
گدگدانے کو دل مچلتا ہے
شرارت کے حسین لمحوں میں
ٹھہر جانے کو دل مچلتا ہے
کھیل ہی کھیل میں گھڑی دو پل
روٹھ جانے کو دل مچلتا ہے
شجر کے اک گداز دامن میں
پرندہ جیسے کوئی سو جاتا ہے
ایسے ہی راہ محبت کا راہی
خوابگیں لمحوں میں کھو جاتا ہے
گزتے وقت کا ہر اک لمحہ
بیج یادوں کے کچھ بو جاتا ہے
بھول جاتے ہیں زخم کانٹوں کے
آدمی پھول سا ہو جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کا دوسرا پڑاؤ ۔۔۔آئیندہ انشاء الله۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: انکار ۔ خودکلامی اور خوشبو پروین شاکر کی انتہائی خوبصورت شاعری کے مجموعے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ساحر لدھیانوی ۔احمد فراز اور امجد اسلام امجد اردو شاعری کا عظیم سرمایہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






