مجھے بھی خبر ہے میں کیا ہو گیا ہوں
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Jhangمجھے بھی خبر ہے میں کیا ہو گیا ہوں
میں سب کی نظر میں برا ہو گیا ہوں
مجھے میری باتیں بھی چبھنے لگی ہیں
میں اب کس قَدَر چڑچڑا ہو گیا ہوں
مرے لفظ چبھتے ہیں نشتر کی مانند
کہ میں اب بہت کھردرا ہو گیا ہوں
مجھے لوگ ملنے سے ڈرتے ہیں ایسے
کہ میں کوئی جیسے وبا ہو گیا ہوں
مجھے اب کسی سے نہیں خوف کوئی
کہ میں اب سبھی سے جدا ہو گیا ہوں
بظاہر تو با حوصلہ جی رہا ہوں
میں اندر سے چاہے فنا ہو گیا ہوں
نئے جال میرے عدو بُن رہے ہیں
کہ میں قید سے پھر رہا ہو گیا ہوں
میں خود جان جوکھم میں ڈالے ہوں پھرتا
کہ میں اب بہت سر پھرا ہو گیا ہوں
مجھے دوڑتا پھر سے دیکھیں گے حاسد
کہ میں گر کے پھر سے کھڑا ہو گیا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






